سوال:
سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے مختلف مکاتبِ فکر کے مابین امامت و اقتدا کا مسئلہ معرکۂ بحث بنا ہوا ہے۔ مختلف گروہ اعتقادی و کلامی اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے کے پیچھے نماز کے عدمِ جواز کے قائل ہیں، اور ان کا مناظرانہ لٹریچر اور کتبِ فتاویٰ اس پر شاہد ہیں۔ اس تناظر میں عرض ہے کہ نماز، جو اسلام کا سب سے نمایاں شعیرہ، مسلمانی کی سب سے بڑی عملی علامت اور توحید و بندگی کا اجتماعی اظہار ہے، کیا مختلف اعتقادی، کلامی اور نظریاتی اختلافات کی بنا پر مسلمانوں کے مختلف فرقوں اور مکاتبِ فکر کے درمیان ایک دوسرے کے پیچھے نماز کو ناجائز قرار دینا درست ہے، یا شریعتِ اسلامیہ کا اصل اصول اس سے مختلف ہے؟ (عبد الاحد ندوی)
جواب:
اس سوال کا جواب کسی ایک مکتبِ فکر کے مناظرانہ ادب یا کسی خاص دور کے فتاویٰ میں نہیں، بلکہ قرآنِ مجید کے عمومی مزاج، سنتِ نبوی ﷺ کی مجموعی تعلیمات، تعاملِ صحابہؓ، فہمِ سلف اور جمہور فقہاء کے متفقہ اصولوں میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ شریعت کے کسی مسئلے کو سمجھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اسے دین کے کلی مقاصد اور مجموعی نظامِ فکر کے اندر رکھ کر دیکھا جائے، نہ کہ جزوی اور استثنائی مباحث کی روشنی میں۔
نماز اسلام کا سب سے نمایاں شعیرہ، بندگیِ الٰہی کا سب سے عظیم عملی مظہر اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و اجتماع کی سب سے بڑی علامت ہے۔ اسلام نے عقیدۂ توحید کے بعد جس عبادت کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے، وہ نماز ہے، اور نماز کی بھی وہ صورت جسے جماعت کے ساتھ ادا کیا جائے۔ نمازِ باجماعت کا مقصد محض یہ نہیں کہ چند افراد ایک ہی وقت میں ایک جگہ جمع ہو جائیں، بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ مختلف طبقات، قبائل، علاقوں، زبانوں، مزاجوں اور فکری رجحانات سے تعلق رکھنے والے مسلمان اپنے تمام امتیازات اور اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک صف میں کھڑے ہوں، ایک امام کی اقتدا کریں، ایک قبلے کی طرف رخ کریں اور ایک رب کے سامنے اپنی بندگی کا اظہار کریں۔ اسی لیے نمازِ باجماعت اسلام میں محض ایک عبادت نہیں بلکہ امت کی وحدت، مساوات، اخوت اور اجتماعی شعور کا عملی مظہر ہے۔
قرآنِ مجید کا عمومی مزاج مسلمانوں کو اجتماع، اتفاق اور باہمی ربط کی طرف بلاتا ہے اور افتراق و تنازع سے روکتا ہے۔ اسی طرح سنتِ نبوی ﷺ میں جماعت کے التزام، مسلمانوں کے اتحاد اور تفرق سے اجتناب پر غیر معمولی زور دیا گیا ہے۔ اگر نماز، جو امت کے اتحاد کی سب سے بڑی عملی علامت ہے، خود فرقہ وارانہ تقسیم کا شکار ہو جائے تو اس سے اسلام کے ایک عظیم مقصد کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امامت و اقتدا کے مسئلے کو محض فقہی یا کلامی اختلاف کے محدود دائرے میں نہیں بلکہ وحدتِ امت اور مقاصدِ شریعت کے وسیع تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے زمانے میں اختلافِ رائے کو اس حد تک بڑھا دیا گیا ہے کہ بعض حلقوں میں دوسرے مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنا ہی محلِ نزاع بن گیا ہے۔ کچھ لوگ دیوبندی مکتبِ فکر کے پیچھے نماز پڑھنے سے اس لیے اجتناب کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک وہ قطبیت، غوثیت، توسل، وحدت الوجود، تقلیدِ شخصی اور اکابر کی تعظیم کے تصورات کے قائل ہیں یا اہلِ قبور سے استفادہ کا نظریہ رکھتے ہیں۔ بعض لوگ بریلوی مکتبِ فکر کے پیچھے نماز پڑھنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک وہ میلاد النبی ﷺ کے اہتمام، علمِ غیبِ نبوی کے بعض تصورات یا اولیاء و بزرگان کی تعظیم میں غلو کے مرتکب ہیں۔ بعض حلقے اہلِ حدیث کی اقتدا سے اس بنا پر اجتناب کرتے ہیں کہ وہ تقلیدِ شخصی کے قائل نہیں یا ائمۂ فقہ کے مقام و مرتبے کے متعلق ان کا زاویۂ نظر دوسروں سے مختلف ہے۔ غرض جس جماعت کے پاس جائیے، وہ اپنے مخالفین کی بعض آراء اور تعبیرات کو بنیاد بنا کر انہیں بدعت، ضلالت یا گمراہی سے متہم کرتی ہے اور پھر اسی بنیاد پر ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع کرتی ہے۔
یہ صورتِ حال کئی پہلوؤں سے قابلِ افسوس ہے۔ اولاً اس لیے کہ اس میں نماز، جو اتحادِ امت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، خود تفریق اور تنازع کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ ثانیاً اس لیے کہ اس طرزِ فکر میں اکثر اختلافات کو ان کے حقیقی علمی مقام سے بڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اور ثالثاً اس لیے کہ بہت سے ایسے مسائل جن کی بنیاد پر ایک دوسرے کی اقتدا سے انکار کیا جاتا ہے، درحقیقت اجتہاد، تاویل اور فہمِ نصوص کے اختلافات سے متعلق ہیں، نہ کہ اسلام کے ان قطعی اور معلوم من الدین بالضرورۃ اصولوں سے جن کے انکار پر کسی شخص کے ایمان کا فیصلہ موقوف ہو۔
اس پورے مباحثے میں سب سے پہلے اس تاریخی حقیقت کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ امتِ مسلمہ میں فقہی، کلامی اور اجتہادی اختلافات کوئی نئی چیز نہیں ہیں۔ صحابۂ کرامؓ کے درمیان متعدد مسائل میں اختلافات موجود تھے۔ تابعین اور تبع تابعین کے دور میں یہ اختلافات مزید منظم صورت اختیار کر گئے۔ بعد ازاں ائمۂ مجتہدین، فقہاء، محدثین اور متکلمین کے درمیان عبادات، معاملات، اصولِ استنباط اور بعض اعتقادی تعبیرات کے حوالے سے گہرے اختلافات پیدا ہوئے۔ لیکن ان تمام اختلافات کے باوجود مسلمانوں نے کبھی نمازِ باجماعت کو فرقہ وارانہ تقسیم کا ذریعہ نہیں بنایا۔ امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے درمیان بے شمار مسائل میں اختلاف تھا، لیکن کسی نے دوسرے کی اقتدا کو ناجائز قرار نہیں دیا۔ علمی اختلافات اپنی جگہ موجود رہے، مگر صفِ نماز میں وحدتِ امت برقرار رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں مساجد امت کے اتحاد کی علامت بنی رہیں، نہ کہ فرقہ وارانہ شناختوں کے قلعے۔
شریعتِ اسلامیہ نے امامت و اقتدا کے باب میں جو اصول قائم کیا ہے، وہ نہایت واضح اور سادہ ہے۔ اصولی طور پر جس شخص کا اسلام ثابت ہو، جو اہلِ قبلہ میں شمار ہوتا ہو، جو نماز کا اہتمام کرتا ہو اور جس کی اپنی نماز شرعاً صحیح ہو، اس کے پیچھے نماز ادا کرنا بھی جائز ہے۔ فقہاء کا معروف اصول ہے: "من صحت صلاته لنفسه صحت إمامته لغيره"، یعنی جس شخص کی اپنی نماز صحیح ہے، اس کی امامت بھی صحیح ہے۔ اسی بنا پر اہلِ سنت کے مشہور عقیدۂ طحاویہ میں یہ اصول بیان کیا گیا ہے: "ونرى الصلاة خلف كل بر وفاجر من أهل القبلة"، یعنی ہم اہلِ قبلہ میں سے ہر نیک اور فاجر شخص کے پیچھے نماز کو جائز سمجھتے ہیں۔ اس عبارت کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں معیارِ اقتدا کو "اہلِ قبلہ" قرار دیا گیا ہے، نہ کہ کسی مخصوص فقہی، کلامی یا مسلکی وابستگی کو۔
اس اصول کی روشنی میں محض فقہی ترجیحات، کلامی تعبیرات یا مسلکی وابستگیوں کی بنیاد پر اقتدا کو ناجائز قرار دینا شریعت کے عمومی مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مزید برآں، ہر مکتبِ فکر اپنے موقف کی تائید میں کسی نہ کسی شرعی استدلال اور تاویل کا دعویٰ رکھتا ہے۔ ممکن ہے ہم ان استدلالات سے اتفاق نہ کریں، ان پر علمی تنقید کریں یا انہیں مرجوح سمجھیں، لیکن جب تک معاملہ ایسی تاویل اور اجتہاد کا ہو جس کے لیے کسی نہ کسی درجے میں شرعی استناد کا دعویٰ موجود ہو، اس وقت تک دوسروں کو اسلام سے خارج کرنا یا ان کے پیچھے نماز کے عدمِ جواز کا فتویٰ دینا نہایت خطرناک رویہ ہے۔ اختلافِ رائے کو اختلافِ دین بنا دینا اور اجتہادی نزاع کو ایمان و کفر کے معرکے میں تبدیل کر دینا امت کے لیے ہمیشہ تباہ کن ثابت ہوا ہے۔
اس مسئلے میں صحابۂ کرامؓ کا تعامل خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ دین کے مزاج کو سب سے بہتر سمجھنے والے لوگ تھے۔ صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت انس بن مالکؓ حجاج بن یوسف کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے، حالانکہ حجاج ظلم، جور اور فسق میں مشہور تھا۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور دیگر صحابہ ولید بن عقبہ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے، حالانکہ اس کے فسق کے واقعات معروف تھے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ اس نے فجر کی نماز چار رکعت پڑھا دی، پھر نمازیوں سے پوچھا: "کیا مزید پڑھاؤں؟" حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا: "آج تو آپ نے ہمیں پہلے ہی کافی زیادہ پڑھا دی ہے!" ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابۂ کرامؓ جماعت اور اجتماع کی حفاظت کو اس قدر اہم سمجھتے تھے کہ وہ ائمہ کے فسق و فجور کے باوجود جماعت کو ترک نہیں کرتے تھے۔
اسی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد سے مزید وضاحت حاصل ہوتی ہے: "يصلون لكم، فإن أصابوا فلكم ولهم، وإن أخطأوا فلكم وعليهم"، یعنی "وہ تمہیں نماز پڑھائیں گے؛ اگر درست کریں تو تمہارے لیے بھی اجر ہے اور ان کے لیے بھی، اور اگر خطا کریں تو تمہارا اجر برقرار رہے گا اور خطا کا وبال ان پر ہوگا۔" اس حدیث سے واضح ہے کہ امام کی خطا کا بوجھ لازماً مقتدی پر منتقل نہیں ہوتا۔ مقتدی اپنے اخلاص اور صحیح اتباع کی بنیاد پر اجر کا مستحق رہتا ہے، جبکہ امام اپنی ذمہ داری کا جواب دہ ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے اس مسئلے پر اہلِ علم کا موقف نہایت وضاحت سے بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: اگر کوئی شخص بدعت یا فسق میں مبتلا ہو لیکن وہی جمعہ یا جماعت کا مقرر امام ہو تو عام سلف و خلف کے نزدیک اس کے پیچھے نماز ادا کی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ لکھتے ہیں: "ومن ترك الجمعة والجماعة خلف الإمام الفاجر فهو مبتدع عند أكثر العلماء"، یعنی جو شخص فاسق امام کے پیچھے جمعہ اور جماعت ترک کر دے، وہ اکثر علماء کے نزدیک بدعتی ہے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ جب سلف نے کھلے فسق کے باوجود جماعت کے ترک کو پسند نہیں کیا، تو محض مسلکی اور اجتہادی اختلافات کی بنیاد پر جماعت سے علیحدگی اختیار کرنا کس قدر زیادہ قابلِ مذمت ہوگا۔
اسی مفہوم کی بہترین تعبیر حضرت عثمان بن عفانؓ کے اس قول میں ملتی ہے۔ محاصرے کے زمانے میں جب ایک شخص نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو کسی نے اس کے متعلق حضرت عثمانؓ سے دریافت کیا۔ انہوں نے فرمایا: "يا ابن أخي، إن الصلاة من أحسن ما يعمل الناس، فإذا أحسنوا فأحسن معهم، وإذا أساؤوا فاجتنب إساءتهم"۔ یعنی "بھتیجے! نماز لوگوں کے بہترین اعمال میں سے ہے؛ جب لوگ اچھا کام کریں تو تم بھی ان کے ساتھ شریک رہو، اور اگر وہ برائی کریں تو ان کی برائی سے بچو۔" اس قول میں گویا پورا مسئلہ سمٹ آیا ہے: نماز اور جماعت بذاتِ خود ایک عظیم خیر ہے؛ افراد کی کوتاہیوں کی وجہ سے اس خیر کو ترک نہیں کیا جاتا۔
بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اگر امام کے عقائد یا اعمال میں کوئی کمی ہو تو مقتدی کی نماز یا اس کا اجر بھی متاثر ہوگا۔ یہ تصور شرعی نصوص سے ثابت نہیں۔ قبولیتِ نماز کا تعلق بنیادی طور پر بندے کے اخلاص، تقویٰ، خشوع اور اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے باطنی حال سے ہے۔ امام کو اپنی نماز اور امامت کا اجر ملے گا، مقتدیوں کو اپنی نماز کا اجر الگ ملے گا، اور ہر شخص اپنے عمل کا خود جواب دہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کسی شخص کے اخلاص اور خشوع کا فیصلہ دوسرے کے عمل کی بنیاد پر نہیں فرمائیں گے۔ نبی کریم ﷺ کے مذکورہ فرمان کا مفہوم بھی یہی ہے کہ اگر امام درست کرے تو اجر سب کو ملے گا، اور اگر وہ خطا کرے تو اس کی ذمہ داری خود اس پر ہوگی۔
اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ احادیثِ صحیحہ میں نمازِ باجماعت کی فضیلت غیر معمولی انداز میں بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جماعت کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز اکیلے پڑھی جانے والی نماز سے پچیس یا ستائیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ یہ فضیلت اس بات کا اعلان ہے کہ اسلام انفرادی دینداری کے ساتھ ساتھ اجتماعی دینداری کو بھی فروغ دینا چاہتا ہے۔ جماعت کا مقصد صفوں کو جوڑنا ہے، توڑنا نہیں؛ مساجد کا مقصد دلوں کو قریب کرنا ہے، دور کرنا نہیں؛ اور امامت کا مقصد امت کو متحد کرنا ہے، تقسیم کرنا نہیں۔
اس لیے محض مسلکی، فقہی یا کلامی اختلافات کی وجہ سے جماعت کو ترک کرنا، مسلمانوں کے درمیان نفرت اور دوری کو فروغ دینا، یا ایک دوسرے کی اقتدا سے بلا ضرورت اجتناب کرنا ایک نہایت سنگین رویہ ہے۔ نمازِ باجماعت کی مؤکد حیثیت اور اس کے متعلق وارد شدید تاکیدات کو سامنے رکھا جائے تو بلا عذر جماعت سے الگ رہنا خود ایک قابلِ مواخذہ عمل ہے، اور اگر اس کی بنیاد فرقہ وارانہ تعصب، گروہی عصبیت یا دوسروں کو حقیر سمجھنے کا جذبہ ہو تو اس کی قباحت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات لوگ ایسے اختلافات کی وجہ سے جماعت چھوڑ دیتے ہیں جنہیں وہ خود بھی قطعی اور یقینی نہیں سمجھتے، حالانکہ جس عمل کا وجوب یا تاکید نصوصِ شرعیہ سے واضح ہو، اسے ایسے ظنی اور اجتہادی اختلافات کی نذر کرنا شرعی توازن کے خلاف ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ شریعتِ اسلامیہ کا اصل اصول اتحادِ امت، اجتماعِ مسلمین اور شعائرِ اسلام کی حفاظت ہے۔ جس شخص کا اسلام ثابت ہو، جو اہلِ قبلہ میں شمار ہوتا ہو اور جس کی نماز شرعاً صحیح ہو، اس کے پیچھے نماز ادا کرنا جائز ہے۔ محض فقہی، کلامی، اجتہادی یا مسلکی اختلافات کی بنیاد پر اقتدا کو ناجائز قرار دینا نہ قرآن و سنت کے عمومی مزاج سے ہم آہنگ ہے، نہ تعاملِ صحابہؓ سے، نہ جمہور فقہاء کے اصولوں سے، اور نہ ہی امت کے اجتماعی مصالح سے۔
نماز کی قبولیت کا مدار اللہ تعالیٰ کے ہاں اخلاص، تقویٰ اور خشوع پر ہے؛ امام اپنے عمل کا ذمہ دار ہے اور مقتدی اپنے عمل کا۔ جماعت کی برکت، اس کا زائد اجر اور اس کے روحانی و اجتماعی ثمرات امام و مقتدی سب کو حاصل ہوتے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے علمی اختلافات کو علمی حدود میں رکھیں، تکفیر و تضلیل میں جلد بازی سے اجتناب کریں، اور صفِ نماز میں کھڑے ہو کر اس حقیقت کا عملی اعلان کریں کہ امت کی وحدت ہر اس اختلاف سے بڑی ہے جس میں اجتہاد اور تاویل کی گنجائش موجود ہو۔ یہی قرآن و سنت کا مزاج ہے، یہی سلفِ امت کا طریقہ ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو امت کو انتشار سے نکال کر اجتماع، اخوت اور باہمی احترام کی طرف لے جا سکتا ہے۔