(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرعبدالباسط عابد

ڈاکٹرعبدالباسط عابد

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
ڈاکٹریٹ کامقالہ کیساہو؟
ہمارے ہاں شیخ وہبہ الزحیلیؒ کے تفردات پر ہونے والی تحقیقات ایسی مثالیں ہیں جن میں ایک مکمل علمی مکتب فکر، اجتہادی منہج اور فقہی امتیازات کا تجزیہ کیا گیا، مقاصدِ شریعت کی تعبیر، اور جدید قانونی مسائل کے حل میں ان کی علمی انفرادیت کا تجزیہ کیا گیا۔ ایسے علمی اثرات، نظریات اور منفرد خدمات تحقیق کا مرکز بنتی ہیں۔میرا مؤقف یہ ہے کہ پی ایچ ڈی کا بنیادی مقصد نئے

Original Contribution to Knowledge

کا اضافہ ہے، نہ کہ کسی زندہ شخصیت کی خدمات کا تذکرہ۔البتہ کوئی بہت بڑی مہان متوفی شخصیت پر کر لیا جائے تقابلی یا تجزیاتی جیسے امام بخاری، مولانا مودودی یا ان جیسی دیگر شخصیات تو بات اور ہے۔

لیکن آج ہماری جامعات میں بعض اوقات ایسے موضوعات دیکھنے کو ملتے ہیں : فلاں عالم کی دعوتی خدمات کا مطالعہ

فلاں خطیب کے خطبات کا تجزیہ

فلاں شاعر کی ادبی خدمات

فلاں موٹیویشنل اسپیکر کی نوجوانوں پر اثرات

فلاں یوٹیوبر کی سماجی خدمات

فلاں سیاسی رہنما کی قیادت کا جائزہ

فلاں ادارے کے فلاحی کردار کا مطالعہ

سوال یہ ہے کہ اگر یہی طالب علم پانچ یا دس سال بعد کسی بین الاقوامی علمی کانفرنس میں شریک ہو تو وہ اپنے تحقیقی نتائج سے علمی دنیا کو کیا نیا دے گا؟

کیا وہ کوئی نیا نظریہ پیش کرے گا؟کیا وہ کوئی قانونی اصول دریافت کرے گا؟کیا وہ کسی فقہی، لسانی، تاریخی یا سماجی مسئلے کا نیا حل فراہم کرے گا؟یا صرف یہ بتائے گا کہ فلاں شخصیت اچھی تھی، اس نے خدمات انجام دیں اور معاشرے پر اثرات مرتب کیے؟

اسلامیات میں اصل تحقیقی میدان تو کہیں زیادہ وسیع اور گہرے ہیں، مثال کے طور پر:

مصنوعی ذہانت (AI) اور اسلامی قانون

ڈیجیٹل پرائیویسی اور اسلامی فقہ

سائبر کرائمز اور شریعت

توہینِ مقدسات کے قوانین کا تقابلی مطالعہ

مذہبی آزادی اور اسلامی قانونی روایت

جدید بایو ٹیکنالوجی کے فقہی مضمرات

اسلامی سیاسی فکر اور قومی ریاست

بین الاقوامی انسانی حقوق اور اسلامی قانون

اسلامی قانونِ شہادت کی ڈیجیٹل دور میں تطبیق

سوشل میڈیا، مذہبی اتھارٹی اور جدید افتاء

شیخ یوسف القرضاوی کے اجتہادی منہج کے تفردات

علامہ تقی عثمانی کے اسلامی مالیاتی نظریات کا تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر محمد حمیداللہ کے بین الاقوامی قانون میں امتیازات

ابن عاشور کے مقاصدی منہج کی معاصر تطبیقات

یہ وہ موضوعات ہیں جن پر کام کرنے والا محقق واقعی علمی دنیا میں اپنا مقام پیدا کر سکتا ہے۔

افسوس یہ ہے کہ بعض جامعات میں پی ایچ ڈی کا معیار اس قدر نرم ہو چکا ہے کہ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تحقیقی مسئلہ پہلے منتخب نہیں کیا جاتا بلکہ شخصیت منتخب کر لی جاتی ہے، پھر اس کے گرد ایک تھیسس تیار کر دیا جاتا ہے۔

تحقیق کا اصول یہ ہونا چاہیے کہ:
۔ مسئلہ (Problemمرکز ہو،شخصیات تاریخ کا حصہ ہوتی ہیں، لیکن تحقیق کا اصل مقصد نظریات، مسائل، قوانین، تصورات اور ان کے اثرات کو سمجھنا ہے۔"اگر کل کو کسی جامعہ میں 'فلاں معروف یوٹیوبر کی دعوتی خدمات' یا 'فلاں موٹیویشنل اسپیکر کے خطبات کا تجزیاتی مطالعہ' کے عنوان سے پی ایچ ڈی منظور ہو جائے، تو سوال یہ ہوگا کہ اس تحقیق کا علمی وزن کیا ہوگا؟ کیا اس سے کوئی نیا نظریہ پیدا ہوگا یا صرف ایک شخصیت کا تعارف مزید تفصیل سے سامنے آئے گا؟اگر جامعات نے موضوعات کے انتخاب میں سخت علمی معیار قائم نہ کیے تو آنے والے برسوں میں ہمارے پاس پی ایچ ڈی ہولڈرز تو بہت ہوں گے، مگر ایسے محققین کم ہوں گے جو علمی دنیا میں کوئی نئی فکری جہت متعارف کرا سکیں ۔

مأخَذ

نوٹ: یہ صرف میری ناقص رائے ہے، آپ کھلے دل سے اتفاق یا اختلاف کرسکتے ہیں۔

کالم نگار : ڈاکٹرعبدالباسط عابد
| | |
85