(+92) 319 4080233
کالم نگار

-ایک قاری کاانتخاب

-ایک قاری کاانتخاب

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/15
موضوعات
استاد سے بغاوت کرنے کے نقصانات
دلائل، مثالیں اور گہرائی کے ساتھ:
“با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب” صرف کہاوت نہیں، یہ علم کی دنیا کا اٹل قانون ہے۔ استاد اور شاگرد کا رشتہ روحانی ہے، اور جہاں ادب ٹوٹا، علم کی برکت بھی رخصت ہو گئی۔

1️⃣ علم سے برکت اٹھ جانا :
بغاوت کرنے والا ڈگری تو لے لیتا ہے مگر وہ علم اس کے دل کو نرم نہیں کرتا، زبان کو سچا نہیں کرتا، عمل کو خوبصورت نہیں بناتا۔ مثال: امام شافعیؒ فرماتے ہیں: “میں نے مالک بن انسؒ کے پاس بیٹھ کر جتنا ادب سیکھا، اتنا علم نہیں سیکھا۔” جس نے ادب چھوڑا، وہ برکت سے محروم ہوا۔

2️⃣ فہمِ صحیح سے محرومی :
الفاظ تو یاد ہو جاتے ہیں، مگر مراد نہیں کھلتی۔ کتاب پڑھ کر بھی بندہ گمراہ ہو جاتا ہے۔ واقعہ: خوارج نے قرآن پڑھا مگر استاد کی تربیت کے بغیر اسے اپنی خواہش پر ڈھال لیا، نتیجہ؟ تکفیر اور خونریزی۔

3️⃣ ادب کے ختم ہونے سے علم کا رخصت ہونا :ادب علم کا ظرف ہے۔ ظرف ٹوٹ جائے تو علم بہہ جاتا ہے۔ قول: “علم کے تین حصے: ثلث ادب، ثلث فہم، ثلث حفظ” – علم کا ایک تہائی ادب ہے۔

4️⃣ گمراہی کا راستہ کھل جانا :
استاد کے بغیر ہر آدمی اپنی عقل کو نبی بنا لیتا ہے۔ مثال: معتزلہ نے عقل کو استاد پر مقدم کیا، نتیجہ قرآنِ مجید کو “مخلوق” کہہ دیا۔

5️⃣ غرور اور خودپسندی :
بغاوت کرنے والا سمجھتا ہے میں سب جانتا ہوں۔ یہ “انا” علم کا قاتل ہے۔ حدیث کا مفہوم: “جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں نہ جائے گا۔

6️⃣ اصلاح سے محرومی :
استاد وہ آئینہ ہے جو غلطی دکھاتا ہے۔ بغاوت کرنے والا یہ آئینہ توڑ دیتا ہے، پھر غلطی پر غلطی کرتا جاتا ہے۔ مثال: ایک طالب نے استاد کی تصحیح کو انا پر لے لیا، آج وہی غلطی منبر پر دہراتا ہے۔

7️⃣ علم بے عمل ہو جانا :
باتیں لمبی لمبی، زندگی کھوکھلی۔ کیونکہ استاد کی تربیت سے عمل کی روح نہیں ملی۔ قولِ سلف: “ہم حدیث سیکھنے سے پہلے 20 سال ادب سیکھتے تھے۔

8️⃣ علمی بے وزنی اور عدمِ وقار :
اہلِ علم ایسے شخص کی بات کو وزن نہیں دیتے۔ لوگ کہتے ہیں: “یہ تو استاد کا نافرمان ہے، اس سے کیا لیا جائے؟

9️⃣ فیضِ استاد سے محرومی :
استاد کی دعا، توجہ، نسبت – یہ علم کی اصل جان ہے۔ بغاوت سے یہ دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ مثال: امام بخاریؒ نے اپنے ہر استاد کا ادب کیا، اسی لیے ان کی کتاب کو “اصح الکتب” کہا گیا۔

???? دنیا و آخرت میں نقصان :
دنیا میں مقام نہیں ملتا، آخرت میں بھی شرمندگی، کیونکہ نبیﷺ نے فرمایا: “جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑے کا حق نہ پہچانے وہ ہم میں سے نہیں۔

مزید گہرے نقصانات:
11️⃣ شاگردوں کا بگاڑ :
استاد کا نافرمان جب خود پڑھاتا ہے تو وہی بغاوت اگلی نسل میں منتقل کرتا ہے۔ ایک گندہ نالہ پوری نہر خراب کر دیتا ہے۔

12️⃣ فتنوں کا شکار ہونا :
استاد کی چھتری اٹھ جائے تو ہر نیا فتنہ اسے بہا لے جاتا ہے۔ آج سوشل میڈیا پر گمراہ کن آئیڈیاز کا شکار ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن کی تربیت ادب پر نہیں ہوئی۔

13️⃣ برکتِ وقت کا ختم ہونا :
بغیر استاد کے پڑھنے والا 10 سال میں وہ نہیں سیکھ پاتا جو باأدب شاگرد 2 سال میں سیکھ لیتا ہے۔ وقت ضائع، محنت ضائع۔

14️⃣ دل کی سختی اور بصیرت کا اندھا پن :
ادب دل کو نرم کرتا ہے۔ بغاوت دل کو پتھر کر دیتی ہے۔ پھر حق سامنے ہو تو بھی نظر نہیں آتا۔ قرآن: “ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُمْ” – پھر ان کے دل سخت ہو گئے۔

15️⃣ مرنے کے بعد بد دعا کا وارث بننا :
اگر استاد دل سے ناراض ہو کر چلا گیا، تو اس کی بد دعا نسلوں تک پیچھا کرتی ہے۔ اس کے برعکس، استاد کی راضی ہونے کی دعا قبر تک کام آتی ہے۔ مثال: امام احمد بن حنبلؒ اپنے استاد امام شافعیؒ کے لیے ہر نماز میں دعا کرتے تھے۔

خلاصہ:
استاد کے آگے جھکنا، علم کے آگے جھکنا ہے۔ جو سرکشی کرتا ہے، وہ دراصل علم کی عظمت کو ٹھکرا رہا ہوتا ہے۔ امام مالکؒ جب حدیث پڑھاتے تو خوب خوشبو لگاتے، بہترین کپڑے پہنتے، اور کہتے: “میں رسول اللہﷺ کی حدیث کی تعظیم کرتا ہوں۔اللہ ہمیں باأدب طالبِ علم بنائے، اور ہمیں اپنے اساتذہ کی قدر کرنے کی توفیق دے۔ آمین!

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : -ایک قاری کاانتخاب
| | |
28