(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی سفیان بلند

مفتی سفیان بلند

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
زندگی کا غیر ضروری بوجھ
انسان کی زندگی کا ایک بڑا فتنہ "طولِ امل" یعنی لمبی اور بے انتہا امیدیں ہیں، یہی وہ بیماری ہے جو انسان کو حال کی ذمہ داریوں سے غافل کرکے ایسے منصوبوں میں الجھا دیتی ہے جن کا اختتام اسے خود بھی معلوم نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:لَا يَزَالُ قَلْبُ الْكَبِيرِ شَابًّا فِي اثْنَتَيْنِ: فِي حُبِّ الدُّنْيَا وَطُولِ الْأَمَلِ (البخاری: 6420)یعنی بوڑھے آدمی کا دل دو چیزوں میں جوان ہی رہتا ہے: دنیا کی محبت اور لمبی امیدوں میں۔

یہ انسانی فطرت کا ایک عجیب پہلو ہے کہ جسم تو کمزور ہو جاتا ہے، بال سفید ہوجاتے ہیں، قوتیں جواب دے دیتی ہیں، چال میں کمزوری آجاتی ہے، لیکن دنیا کی محبت اور مستقبل کے خواب اکثر ویسے ہی باقی رہتے ہیں، بعض اوقات انسان کی عمر ڈھل جاتی ہے، پیر قبر میں لٹک رہے ہوتے ہیں، مگر منصوبوں اور خواہشوں کی فہرست ختم نہیں ہوتی۔

اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے اہلِ علم فرماتے ہیں کہ "غیر ضروری بوجھ" اپنے اوپر لاد لینا بھی طولِ امل کی ایک صورت ہے، مثلا بعض لوگ اپنی ضرورت، اپنی اولاد اور اپنے دائرہ ذمہ داری سے آگے بڑھ کر پوتوں، نواسوں بلکہ آنے والی کئی نسلوں کے لئے جائیدادیں بنانے اور دولت کے انبار جمع کرنے میں اپنی پوری زندگی کھپا دیتے ہیں۔

یہ بات ہرگز نہیں کہ اولاد کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہ کی جائے یا انہیں تنگ دستی میں چھوڑ دیا جائے، اسلامی تعلیمات ہمیں ذمہ داری، کفالت اور دور اندیشی کی طرف رہنمائی کرتی ہے، لیکن دین اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ انسان اپنی حیثیت اور اپنے دائرہ اختیار کو پہچانے، وہ اتنا ہی بوجھ اٹھائے جس کا وہ واقعی مکلف ہے، تکلیف مالا یطاق جب دینی امور میں جائز نہیں تو دنیاوی اور عارضی زندگی کے امور میں کیونکر جائز ہوگا ؟ انسان کسی ایسی امیدوں اور منصوبوں میں کھو جائے جو اس کو آخرت بھلا دیں، یہی تو "طول الأمل" ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْهَوَى وَطُولُ الْأَمَلِ، فَأَمَّا الْهَوَى فَيَصُدُّ عَنِ الْحَقِّ، وَأَمَّا طُولُ الْأَمَلِ فَيُنْسِي الْآخِرَةَ (البيهقي في شعب الإيمان : 10616)یعنی مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ دو چیزوں کا خوف ہے: خواہشِ نفس اور طولِ امل، خواہشِ نفس حق سے روک دیتی ہے اور طولِ امل آخرت کو بھلا دیتا ہے۔

اگرچہ اس روایت کی سند پر محدثین نے کلام کیا ہے، لیکن اس کا معنی قرآن و سنت کے عمومی مزاج کے عین مطابق ہے، لمبی امیدوں کا سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ انسان موت کو دور سمجھنے لگتا ہے، حساب و کتاب کو بھول جاتا ہے اور دنیا کی تعمیر و تزئین میں ایسا مشغول ہوجاتا ہے کہ آخرت کی تیاری پس منظر میں چلی جاتی ہے، یہ سخت دلی اور شقاوت قلبی کا بھی سبب ہے :ایک روایت میں ارشاد نبوی ہے :أَرْبَعٌ مِنَ الشَّقَاءِ: جُمُودُ الْعَيْنِ، وَقَسْوَةُ الْقَلْبِ، وَطُولُ الْأَمَلِ، وَالْحِرْصُ عَلَى الدُّنْيَا (البزار : 6442)یعنی چار چیزیں بدبختی کی علامات ہیں: آنکھ کا نہ رونا، دل کا سخت ہونا، لمبی امیدیں اور دنیا پر حرص۔

اگرچہ یہ روایت بھی سنداً ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم بھی دیگر نصوصِ شریعت سے ثابت اور معروف ہے، حقیقت یہ ہے کہ جب دل، آخرت سے غافل ہوجاتا ہے تو آنکھیں پتھرا جاتی ہیں، خشیت کے آنسو خشک ہوجاتے ہیں، قلب؛ قساوت (سختی) کا شکار ہوجاتا ہے اور پھر انسان کی ساری دوڑ دھوپ دنیا کے گرد گھومنے لگتی ہے۔

دانائی یہ ہے کہ انسان مستقبل کے لئے جائز منصوبہ بندی بھی کرے اور آخرت کی تیاری کو بھی مقدم رکھے، وہ اپنی اولاد کے لئے سہولت کا سامان بھی مہیا کرے، مگر اپنی پوری زندگی ایسی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے نہ گزار دے جس کا اسے مُکلَّف نہیں بنایا گیا، وہ دنیا کو بقدر ضرورت ہاتھ میں رکھے، مگر دل اس پر جما نہ رہے۔

بہت سے ماہرینِ صحت آج "طولِ امل" کو ذہنی تناؤ، اضطراب اور ڈپریشن جیسے امراض کے اسباب میں شمار کرتے ہیں، جبکہ انسانیت کے مربیِ اعظم اور طبیبِ کامل ﷺ نے صدیوں پہلے ہی اس بیماری کے خطرات سے آگاہ فرما کر راہِ اعتدال، حالیہ ذمہ داری کے اہتمام، تکلیف مالا یُطَاق سے اجتناب اور فکرِ آخرت کی تعلیم دی ہے۔

آج ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے شب و روز میں جو بوجھ اٹھائے پھر رہے ہیں، کیا وہ واقعی ہماری ذمہ داری ہیں یا محض ہماری لمبی امیدوں کا نتیجہ ہے؟ہم جو منصوبے بنا رہے ہیں، کیا وہ ہماری ضرورت کے دائرے میں ہیں یا خواہشات کے دائرے میں آتے ہیں؟ہم جو وقت، صلاحیت اور توانائیاں صرف کررہے ہیں، کیا وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب لے جارہی ہیں یا آخرت سے غافل کر رہی ہیں؟زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ انسان اپنی موجودہ ذمہ داری بحسن خوبی ادا کرے، بقدر ضرورت تدبیر اختیار کرے، مگر اپنے دل کو دنیا کی بے انتہاء آرزوؤں کا قیدی نہ بنائے، کیونکہ کامیاب وہی ہے جو آخرت کو یاد رکھ کر زندگی گزارے اور دنیا میں رہتے ہوئے "ما بَعدَ المَوت" والی زندگی کے لئے زادِ راہ جمع کرتا رہے۔

حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ نے اپنے زمانے میں مشکوة المصابیح کے چند ابواب کو منتخب کرکے اس کے مطالعہ کرنے کی ترغیب دی تھی جس کو بعد میں "الأبواب المنتخبة" کے نام سے چھاپا بھی گیا، یہ ابواب ہر فرد کو خاص تبلیغ میں نکلنے والوں کو پڑھنے چاہیئے تاکہ زندگی صفات سے آراستہ ہوں، طول الأمل اور اس جیسے دوسرے مہلک امراض سے بچاؤ بھی ہو، اللہ تعالی ہمیں اپنے دین کی جد و جہد کے لئے قبول فرمائے آمین!

کالم نگار : مفتی سفیان بلند
| | |
58