مفتی محمدسعدجاویددرالافتاء،جامعہ بنوریہ عالمیہ
پروفائل | تمام کالمزیعنی فلسطینی ریاست کو نہ فوج رکھنے کی اجازت ہوگی، نہ خود مختار ہوائی اڈے، اور نہ ہی کوئی بین الاقوامی سرحدی کنٹرول۔ 3. بیت المقدس کے اطراف فلسطینی دارالحکومت "The capital of the State of Palestine will be in eastern Jerusalem, in areas located in all areas east and north of the existing security barrier." (فلسطینی ریاست کا دارالحکومت مشرقی یروشلم کے ان علاقوں میں ہوگا جو موجودہ سیکورٹی دیوار کے باہر ہیں) یعنی القدس کے نواح میں ایک "نام نہاد علامتی دارالحکومت" کی پیشکش کی گئی تھی ۔ 4. مہاجرین کی واپسی کا حق ختم "There shall be no right of return by, or absorption of, any Palestinian refugee into the State of Israel." (کسی فلسطینی مہاجر کو اسرائیل میں واپسی یا بسنے کا حق نہیں ہوگا) فلسطینیوں کے سب سے بنیادی انسانی حق کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا۔ 5. اسرائیل کا مغربی کنارے کے 30 فیصد حصے پر مستقل قبضہ مستحکم کیاگیا۔ یہ علاقے غیر قانونی بستیوں پر مشتمل ہیں، جنہیں اقوامِ متحدہ بھی ناجائز سمجھتی ہے۔ "Israel will apply its laws to the Jordan Valley and Israeli settlements." (اسرائیل اپنی خودمختاری کو اردن کی وادی اور بستیوں پر نافذ کرے گا) 6. معاشی رشوت: 50 ارب ڈالر کا وعدہ • امریکہ اور کچھ خلیجی ریاستوں نے فلسطینیوں کو 50 ارب ڈالر کی "ترقیاتی امداد" کا لالچ دیا تاکہ وہ اپنے حقِ مزاحمت اور آزادی سے دستبردار ہو جائیں۔ • ان تمام مندرجات سے یہ واضح ہواکہ ڈیل آف دی سنچری دراصل ایک قبضے کو قانونی رنگ دینے کی کوشش تھی۔جب ڈیل آف دی سنچری کو کھلے عام تسلیم نہ کیا جا سکا، تو اس کے نفاذ کے لیے ایک نیا راستہ اختیار کیا گیا جس سےمقصود عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لاناتھا،اسے ایک مذہبی اور روحانی رنگ دیاگیاتاکہ عوامی ردعمل کو کم سےکم کیا جا سکے۔"ابراہیم معاہدات"دراصل ایک مذہبی لبادہ ہے تاکہ اسے تینوں ابراہیمی مذاہب (یہودیت، عیسائیت، اسلام) کے درمیان امن کا تاثر دیا جا سکے۔لیکن حقیقت میں یہ یہودی بالادستی کو قبول کرنے کا معاہدہ ہے۔یہ معاہدے بظاہر "امن" اور "ترقی" کے نام پر کیے گئے، لیکن ان کا اصل ہدف اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں مکمل قبولیت دلوانا اور فلسطینیوں کی تحریک کو تنہا کرنا تھا۔ معاہدے کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ، بیت المقدس اور فلسطین کی خودمختاری کے سوالات پسِ پشت چلے گئے، اور اسرائیل کو مزید جری بنایا گیا۔ابراہیم معاہدات کی ابتداء اگست 2020ء میں ہوئی، جب امریکی سرپرستی میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے سفارتی تعلقات قائم کیے۔ جن ممالک نے معاہدات کیے: 1. امارات (2020) 2. بحرین (2020) 3. سوڈان (2020) 4. مراکش (2020) ابراہیم معاہدات صرف ایک وقتی سیاسی فیصلے نہیں، بلکہ ایک گہری تہذیبی اور نظریاتی تبدیلی کی کوششیں ہیں جن کے نتائج امت مسلمہ کی وحدت، غیرت ایمانی، اور فلسطین کی آزادی کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔کیونکہ ان معاہدات نے اسرائیل کو عرب خطے میں نقل وحمل کی کھلی اجازت دےدی،جس کے نتیجہ میں درج ذیل مفاسد سامنے آناشروع ہوگئے۔ 1. اسرائیلی تاجر، سیاح، سیکیورٹی ادارے، اور انٹیلیجنس نیٹ ورکس اب خلیجی ریاستوں میں آزادانہ نقل وحرکت کرسکتے ہیں۔ 2. اسرائیل کے ساتھ فوجی مشقیں، دفاعی معاہدے، اور جدید ٹیکنالوجی کی شراکت داریاں ہو رہی ہیں۔ 3. ان معاہدات کے تحت نئی نسلوں کو باور کرایا جا رہا ہے کہ: • اسرائیل "دشمن" نہیں بلکہ "اتحادی" ہے۔ • فلسطینی جدوجہد فرسودہ ہے، اسرائیل سے "امن" ہی ترقی کا راستہ ہے۔ • یہ ذہن سازی فکری ارتداد کا راستہ ہموار کر رہی ہے۔ 4.فلسطینی مزاحمتی قوتیں بے سہارا ہو رہی ہیں۔ 5.اسرائیلی جارحیت کو "اندرونی مسئلہ" قرار دے کر عرب ریاستیں خاموش تماشائی بن گئی ہیں۔ 6.مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر اب عرب دنیا سے کوئی سنجیدہ ردعمل نہیں آتا۔ 7.یہ معاہدات صہیونی نظریہ کے تحت ایک نیا "مفاہمتی اسلام" پیدا کرنے کی کوشش ہیں: • ایسا اسلام جو مزاحمت سے خالی ہو، • جو قبلہ اول کے غاصب کو تسلیم کرے، • اور جس کے لیے جہاد و شہادت بے معنی ہو جائے۔ 8."ابراہیمی فیملی ہاؤس" جیسے منصوبے (جیسے ابوظہبی میں) اس بات کا مظہر ہیں کہ: • دین اسلام کو یہودیت و عیسائیت کے برابر لا کر "توحید" کے تصور کو مٹایا جائے۔ • "سب دین ایک جیسے ہیں" کے نعرے سے عقیدہ ختم نبوت، امتیاز اسلام، اور وحدت دین پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ابراہیم معاہدات امت کی نظریاتی، تہذیبی، اور سیاسی بنیادوں کو ہلا دینے والی عالمی صہیونی سازش ہیں۔ ان کا مقابلہ صرف نعرے بازی سے نہیں بلکہ علم، عمل، بیداری، اور مزاحمت سے کیا جا سکتا ہے۔
کالم نگار : مفتی محمدسعدجاویددرالافتاء،جامعہ بنوریہ عالمیہ