(+92) 319 4080233
کالم نگار

مجاہد فَرساد رانجھا

مجاہد فَرساد رانجھا

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
قانون ِ مباشرت
مباشرت کب نقصان دہ ثابت ہوتی ہے؟
بہت سے لوگ اس بات سے لاعلم ہیں کہ بعض خاص حالات میں مباشرت (جماع) صحت کے لیے فائدے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ لاپروائی کی وجہ سے معمولی کمزوری بھی آگے چل کر بڑی بیماریوں میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس لیے درج ذیل باتوں کو ضرور سمجھیں اور شادی کے آغاز ہی سے احتیاط کریں:۔

کھانا کھانے کے فوراً بعد مباشرت نہ کریں ، نظام ہضم خراب ہو گا اور پیٹ نکل آئے گا۔ کھانے کے چار گھنٹے بعد مشغول ہوا جا سکتا ہے؛ البتہ نیند پوری کرنے کے بعد رات کا پچھلا پہر بہترین ہے۔

بخار کی حالت یا کسی بھی وقتی بیماری کے وقت پرہیز کریں۔

شدید پیاس کی حالت میں مباشرت کرنے سے جسمانی کمزوری اور سانس کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

بھوک کی حالت میں مباشرت کرنے سے جسم کے اہم اعضا (اعضاء رئیسہ) کمزور پڑ جاتے ہیں اور طاقت متاثر ہوتی ہے۔

ہیضہ یا دست (اسہال) کی حالت میں مباشرت کرنے سے بیماری بڑھ سکتی ہے اور جسم شدید کمزوری کا شکار ہو سکتا ہے۔

شدید گرمی کے موسم میں مباشرت کرنے سے نکسیر، نزلہ یا جسمانی خشکی پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ورزش یا سخت جسمانی محنت کے فوراً بعد مباشرت کرنے سے پٹھوں میں کھچاؤ، کمزوری یا تشنج جیسی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔

غسل کے فوراً بعد مباشرت کرنے سے دل کی دھڑکن متاثر ہونے اور گھبراہٹ (خفقان) کا خدشہ رہتا ہے۔

غم، پریشانی یا شدید خوف کی حالت میں مباشرت کرنے سے ذہنی دباؤ اور جسمانی کمزوری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پاخانے یا یورین کی شدید حاجت کے وقت مباشرت کرنے سے پیشاب کی نالی اور نظامِ اخراج متاثر ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔

خود بہ خود فطری خواہش (تناؤ) پیدا ہونے کے بعد ہی مباشرت کریں، ورنہ مزید کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔

طبِ قدیم و جدید کے مطابق 72 گھنٹوں میں منی پختہ ہوتی ہے؛ لہذا اک بار صحبت کرنے کے 72 گھنٹوں بعد ہی دوبارہ صحبت کرنی چاہیے۔

مباشرت کے لیے نشہ آور ادویات کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : مجاہد فَرساد رانجھا
| | |
67