*① جنت کی بشارت —*
عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي حَائِطٍ مِنْ حَائِطَاتِ المَدِينَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالجَنَّةِ... ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ: افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ. فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ.(صحیح بخاری: 3695 — صحیح مسلم: 2403)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینے کے ایک باغ میں تھا۔ ایک شخص نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ ﷺ نے فرمایا: "دروازہ کھولو اور انہیں جنت کی بشارت دو۔" وہ حضرت ابوبکر تھے۔ پھر دوسرے نے دستک دی، آپ ﷺ نے فرمایا: "دروازہ کھولو اور جنت کی بشارت دو۔" وہ حضرت عمر تھے۔ پھر تیسرے نے دستک دی، آپ ﷺ نے فرمایا: "دروازہ کھولو اور انہیں جنت کی بشارت دو، ایک آزمائش کے ساتھ جو انہیں پہنچے گی۔" وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔
*② ملائکہ کی حیا —*
عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ كَانَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِهَا كَاشِفًا عَنْ فَخِذِهِ أَوْ سَاقِهِ، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الحَالِ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ كَذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ وَسَوَّى ثِيَابَهُ... فَقَالَ: أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ المَلَائِكَةُ؟(صحیح مسلم: 2401)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ ان کے گھر میں لیٹے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر آئے تو آپ ﷺ اسی حال میں رہے۔ پھر جب حضرت عثمان نے اجازت مانگی تو آپ ﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے اور کپڑے درست فرمائے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟"
*③ بئر رومہ اور جنت —*
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ فَيَكُونَ دَلْوُهُ فِيهَا كَدِلَاءِ المُسْلِمِينَ وَلَهُ الجَنَّةُ؟ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي.(سنن ترمذی: 3703 — وقال: حسن صحيح)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص بئر رومہ (کنواں) خریدے اور اسے مسلمانوں کے لیے وقف کرے، اس کے لیے جنت ہے۔" تو میں نے اسے اپنے ذاتی مال سے خرید لیا۔
*④ جیش العسرہ (غزوہ تبوک)* —
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ رضي الله عنه قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ ﷺ وَهُوَ يَحُثُّ عَلَى جَيْشِ العُسْرَةِ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، عَلَيَّ مِائَةُ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ. ثُمَّ حَضَّ فَقَامَ فَقَالَ: عَلَيَّ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذَا.(سنن ترمذی: 3701 — مسند احمد — وسنده حسن)
حضرت عبدالرحمٰن بن خباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جیش العسرہ (غزوہ تبوک) کے لیے لوگوں کو ترغیب دے رہے تھے۔ حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور کہا: "میری طرف سے سو اونٹ سازوسامان سمیت اللہ کی راہ میں۔" پھر آپ ﷺ نے مزید ترغیب دی تو حضرت عثمان پھر کھڑے ہوئے اور کہا: "میری طرف سے دو سو اونٹ سازوسامان سمیت۔" اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "آج کے بعد عثمان جو بھی عمل کریں، اس سے ان کا کوئی حساب نہیں۔"
*⑤ قرآن جمع کرنے کی فضیلت*
قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رضي الله عنه: جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ أَرْبَعَةٌ، كُلُّهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ... وَجَمَعَهُ عُثْمَانُ بَعْدَ ذَلِكَ .اور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللّٰهِ عُمَرُ، وَأَشَدُّهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ.
(سنن ابن ماجہ: 154 — مسند احمد — صححه الألباني)
"میری امت میں سب سے زیادہ مہربان ابوبکر ہیں، اللہ کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں، اور سب سے زیادہ باحیا عثمان ہیں۔"
*⑥ نبی ﷺ کا عثمان رضی اللہ عنہ کو دامادی کا شرف*
قَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِعُثْمَانَ: لَوْ كَانَ عِنْدِي عَاشِرَةٌ لَزَوَّجْتُكَهَا.(المستدرك للحاكم: 4480 — وقال: صحيح الإسناد)
: نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمان سے فرمایا: "اگر میرے پاس دسویں بیٹی بھی ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی تم سے کرتا۔"
*⑦ عثمان رضی اللہ عنہ کا مقام*
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ: كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللّٰهِ ﷺ حَيٌّ: أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ.(صحیح بخاری: 3655)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: "ہم نبی کریم ﷺ کی حیات میں (صحابہ میں) افضل ترین کا ذکر کرتے تو کہتے: ابوبکر، پھر عمر، پھر عثمان۔"
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وہ عظیم ہستی ہیں جن کے فضائل خود نبی رحمت ﷺ کی زبانِ مبارک سے بیان ہوئے، جنہیں فرشتوں نے حیا کی نظر سے دیکھا، اور جو قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔اللہ رب العزت ہمیں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہل بیت عظام کی حقیقی محبت اور اطاعت کی توفیق عطا فرمائے اور قیامت والے دن ہمارا حشر بھی ان ہستیوں کے ساتھ فرمائے امین!