(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
واقعۂ غدیرِ خم اور عیدِ غدیر: تحقیقی مطالعہ
واقعۂ غدیرِ خم اسلامی تاریخ کے ان کلیدی واقعات میں سے ہے جس کے وقوع پر امتِ مسلمہ کے دونوں بڑے مکاتبِ فکر، اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کا اتفاق ہے۔ تاہم، اس واقعے کی تعبیر، اس کے پس منظر، مقصد اور اس سے اخذ ہونے والے نتائج میں علمی و کلامی اختلاف پایا جاتا ہے۔ اہلِ سنت والجماعت اس واقعے کو سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی جلالتِ قدر، فضیلت اور ان سے اظہارِ محبت و نصرت کا ایک عظیم الشان موقع قرار دیتے ہیں، جبکہ اہلِ تشیع اسے امامت اور خلافتِ بلا فصل کی نصِ صریح تصور کرتے ہیں۔ زیرِ نظر تحریر میں اس مسئلے کا علمی و تحقیقی جائزہ فریقین کے مستند مصادر کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔

غدیرِ خم: جغرافیائی و تاریخی تناظر:
"غدیرِ خم" مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان، جحفہ کے قریب ایک تالاب یا چشمے کا نام ہے۔ 18 ذوالحجہ 10 ہجری کو، حجۃ الوداع سے واپسی کے دوران، رسول اللہ ﷺ نے اس مقام پر قیام فرمایا اور صحابۂ کرامؓ کے ایک عظیم اجتماع سے خطاب فرمایا۔ یہ واقعہ تاریخ اور حدیث کی کتب میں اس قدر تواتر اور شہرت کے ساتھ منقول ہے کہ اس کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس کی تفصیلات مسند احمد، سنن ترمذی، سنن نسائی، المعجم الکبیر للطبرانی اور مستدرک حاکم جیسی معتبر کتبِ حدیث میں موجود ہیں۔

حدیثِ غدیر اور اس کے الفاظ:
سیدنا زید بن ارقمؓ اور سیدنا براء بن عازبؓ سمیت متعدد صحابہ کرامؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑ کر بلند فرمایا اور ارشاد فرمایا:

"مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ"

ترجمہ:جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔

بعض روایات میں ان الفاظ کا اضافہ بھی ملتا ہے:اللّٰهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ

ترجمہ: اے اللہ! جو علی سے محبت کرے تو اس سے محبت فرما، اور جو ان سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔

واقعے کا پس منظر:
اہلِ سنت کے نزدیک اس خطاب کا ایک خاص پس منظر ہے جو یمن کی اس مہم سے جڑا ہے جس میں حضرت علیؓ لشکر کے امیر تھے۔ واپسی پر بعض افراد نے حضرت علیؓ کے چند انتظامی فیصلوں پر ناگواری کا اظہار کیا اور رسول اللہ ﷺ تک شکایات پہنچیں۔ آپ ﷺ نے محسوس فرمایا کہ ان شکایات سے پیدا ہونے والی بدگمانیوں کا ازالہ ضروری ہے، چنانچہ مجمعِ عام میں حضرت علیؓ کی فضیلت اور ان سے محبت کا اعلان فرما کر تمام اشکالات کو ختم کر دیا۔ اس پس منظر کی تفصیلات امام احمد بن حنبل، امام نسائی اور حافظ ابن کثیر جیسے جلیل القدر علماء نے بیان کی ہیں۔

اہلِ سنت کا مؤقف اور علمی استدلال:
اہلِ سنت کے نزدیک واقعۂ غدیر سیدنا علیؓ کی منقبت اور ان کے مقامِ بلند کی دائمی سند ہے۔ اہلِ سنت اس حدیث سے درج ذیل امور ثابت مانتے ہیں:

1 حضرت علیؓ کی عظمت و جلالتِ قدر کا اعتراف۔

2 حضرت علیؓ سے ایمانی محبت کا وجوب۔

3 ان کی حمایت، نصرت اور ان کے خلاف بدگمانیوں کا مکمل ازالہ۔

لفظ ’’مولا‘‘ کی تشریح:
اہلِ سنت کے نزدیک یہاں ’’مولا‘‘ سے مراد سیاسی اقتدار یا خلافت نہیں، بلکہ محبت، دوستی اور نصرت ہے۔ عربی زبان میں لفظ ’’مولا‘‘ کے بیسیوں معانی ہیں:دوست، مددگار، محبوب، حلیف،آزاد کردہ غلام ،آقا وغیرہ۔ امام ابن تیمیہؒ (منہاج السنۃ)، حافظ ابن کثیرؒ (البدایہ والنہایہ) اور علامہ ابن حجر ہیتمیؒ (الصواعق المحرقہ) کے مطابق یہاں ’’ولایتِ ایمانی‘‘مراد ہے۔ اگر مقصد خلافت کا اعلان ہوتا تو رسول اللہ ﷺ خلیفہ یاامیرجیسے صریح الفاظ استعمال فرماتے، جو کسی ابہام کی گنجائش نہ چھوڑتے۔ مزید برآں، سقیفہ بنی ساعدہ کے موقع پر کسی صحابی (بشمول انصار و مہاجرین)نے اس حدیث کو خلافتِ بلا فصل کی نص کے طور پر پیش نہیں کیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کا فہم بھی اسے فضیلت ہی تک محدود سمجھتا تھا۔

اہلِ تشیع کا موقف اور استدلال:
اہلِ تشیع کے نزدیک غدیر کا واقعہ محض فضیلت کا بیان نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے حضرت علیؓ کی بطورِ امام اور خلیفہِ بلا فصل باقاعدہ تقرری کا دن تھا۔ ان کے اہم دلائل درج ذیل ہیں:

• نبی ﷺ نے "من کنت مولاہ" کہنے سے پہلے اپنی اولویت کا ذکر فرمایا :الست اولیٰ بالمؤمنین من انفسہم، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مولا کا معنی وہی "اولیٰ بالتصرف" ہے جو نبی ﷺ کو حاصل تھا۔ • ان کے نزدیک سورہ مائدہ کی آیت 67 اسی اعلان کے لیے نازل ہوئی تھی۔

• ان کا مؤقف ہے کہ "الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ" کا نزول اسی اعلانِ ولایت کے بعد ہوا، جس سے دین کی تکمیل ہوئی۔(اس موضوع پر شیعہ مصادر میں "الغدیر" (علامہ امینی)، "الکافی" (شیخ کلینی) اور "بحار الانوار" (علامہ مجلسی) بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔)

علمی نقد اور جواب:
صحیح بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایات کے مطابق یہ آیت یومِ عرفہ (9 ذوالحجہ) کو نازل ہوئی تھی، نہ کہ 18 ذوالحجہ کو غدیر کے مقام پر۔ اگر یہ خلافت کی نص ہوتی تو حضرت علیؓ نے خلفائے ثلاثہ کی بیعت کیوں کی؟ ان کے ساتھ مکمل تعاون اور ان کے مشیر کے طور پر فرائض کیوں انجام دیے؟ صحابہ کرامؓ کا اجماع اس بات کی قوی دلیل ہے کہ غدیر کا مفہوم سیاسی خلافت نہیں تھا۔

عید غدیر اور شہادتِ عثمانؓ: ایک اہم وضاحت
عیدِ غدیر (18 ذوالحجہ) کے حوالے سے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا یہ حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کی خوشی میں منائی جاتی ہے؟ اس کا تحقیقی جواب درج ذیل ہے:

واقعۂ غدیر 18 ذوالحجہ 10 ہجری کو ہوا، جبکہ سیدنا عثمانؓ کی شہادت 18 ذوالحجہ 35 ہجری کو ہوئی۔ دونوں کے درمیان 25 سال کا طویل فاصلہ ہے۔اہلِ تشیع کی کسی بھی مستند کتاب میں یہ اشارہ نہیں ملتا کہ وہ اس دن کو شہادتِ عثمانؓ کی خوشی میں مناتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ جشن خالصتاً 10 ہجری کے واقعے اور حضرت علیؓ کی ولایت کی یادگار ہے۔اگرچہ اہلِ سنت اس دن کو عید کے طور پر منانے کو بدعت سمجھتے ہیں، کیونکہ اس کا ثبوت عہدِ نبوی اور عہدِ صحابہ میں نہیں ملتا، لیکن کسی فرقے پر ایسا الزام لگانا جو ان کے اپنے عقائد و کتب سے ثابت نہ ہو، علمی دیانت کے خلاف ہے۔

واقعۂ غدیرِ خم ایک تاریخی حقیقت ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عظمت اور ان سے محبت و نصرت کا ابدی پیغام دیتی ہے۔ اہلِ سنت کے نزدیک یہ منقبت کا مقام ہے اور اہلِ تشیع کے نزدیک امامت کا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حساس مسئلے کو جذبات اور الزام تراشی کے بجائے علمی دیانت اور تاریخی شواہد کی روشنی میں سمجھا جائے۔ سیدنا علیؓ کی ذاتِ گرامی امتِ مسلمہ کے لیے اتحاد کا مرکز ہے، وہ رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ دار، داماد اور خلیفہ راشد،باب العلم،اسداللہ الغالب اورجلیل القدر صحابی ہیں ،جن کی محبت ایمان کا لازمی جزو ہے۔

مأخَذ

اہل سنت واہل تشیع کے مصادر،جن کامضمون میں ذکرہے۔

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
71