(+92) 319 4080233
کالم نگار

ماسٹرمحمدفہیم امتیاز

ماسٹرمحمدفہیم امتیاز

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
پلاٹوں کے چکر سے نکلیں
اگر کامیاب ہونا ہے تو کامیاب لوگوں کو سٹڈی کریں۔۔۔ دیکھیں کہ کون کون سی غلطی انہوں نے نہیں کی۔۔۔!! جو بظاہر ہمارے ہاں لوگ تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے یا گائیڈ لائن نہ ہونے کی وجہ سے یا دیکھا دیکھی میں کر لیتے۔۔۔!!

ان میں سے ایک غلطی ہوتی ہے، پیسے کو باونڈ کرنا، سٹک کرنا، ہولڈ کر دینا۔۔۔ کبھی بھی یہ کام نہ کریں۔۔۔کیش کو ہمیشہ سرکولیٹ کریں، اس طرح سے جو آپ کو پیسو کیش فلو فراہم کرے۔۔۔!

بزنس مائنڈ سیٹ نہ رکھنے والے احباب اکثر یہ کرتے ہیں، کہ ایسٹ بلڈنگ کے نام پر لاکھوں روپے سٹک کر لیتے ہیں، اوکھے سوکھے ہو کر بیس تیس لاکھ اکٹھا کیا اور اس کا پلاٹ لے لیا، مکان لے لیا، دوکان لے لی، یا بڑا تیر مارا تو بینک میں رکھوا دیے کہ محفوظ رہیں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔دیکھیے دنیا بھر میں بڑی بڑی ملٹائی نیشنل کمپنیز اور فارن آفسز کام کر رہے ہوتے ہیں، جو کرائے کی چیزیں استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔کیا ان کے پاس پیسہ نہیں ہوتا خریدنے کا۔۔؟؟
بالکل موجود ہوتا ہے لیکن وہ اس پیسے باونڈ کرنے کے بجائے مزید کیش جنریشن کے لیے استعمال کرتے ہیں۔۔۔کروڑوں کا ٹرن اوور کرنے والی دودھ کی کمپنیاں ترسیل لیے دودھ والیاں گاڑیاں خریدنے کے بجائے ہر مہینے سینکڑوں گاڑیوں کا لاکھوں میں کرایہ دیتی ہیں۔۔کیا وہ گاڑیاں خرید نہیں سکتیں۔۔؟؟

اربوں کا ریونیوں جنریٹ کرنے والی ٹیلی کام کمپنیز اپنے ٹاورز کو لگانے کے لیے ایک ہی بار جگہ خریدنے کے بجائے کرائے پر جگہ لے کر ٹاورز کھڑے کرتی ہیں اور لگاتار کرایہ ادا کرتی ہیں۔۔۔!!

بڑے بڑے بینک دیکھ لیں، حبیب، الائیڈ، یو بی ایل، یونائیٹڈ اپنی برانچز کرائے کی جگہ پر کھولتے ہی خریدنے کے بجائے۔۔۔وجہ کیا ہے۔۔!!
وجہ یہ کہ وہ کیش کو سٹک نہیں کرنا چاہتے، وہ پیسے کو باونڈ نہیں کرتے بلکہ اسی پیسے کو انویسٹ کر کے اس سے کئی گناہ زیادہ کما لیتے ہیں جتنا انہوں نے کرایہ دینا یا جو بھی کاسٹ آنی ان کو۔۔۔!!

مثال دیتا ہوں۔۔۔فنانشل لیٹریسی نہ رکھنے والا بندہ کام شروع کرنے سے پہلے کروڑ روپے کی دوکان خرید لے گا، کہ ہر مہینے کرایہ نہ دینا پڑے چالیس پچاس ہزار۔۔۔!!(اپنی طرف سے بڑی عقلمندی کرتے ہوئے ہر مہینے کا 50 ہزار بچا لیا اس نے)

لیکن ایک بزنس مائنڈ سیٹ رکھنے والا بندہ اس کروڑ روپے کو باونڈ کرنے کے بجائے اپنے کاروبار میں اس طرح سے انویسٹ کرے گا، انوینٹری کے لیے، مارکیٹنگ کے لیے، پراڈکٹ لائن کے لیے، سیلز چینل کے لیے یا کسی بھی طریقے سے کہ جس سے اس کا کاروبار کہیں زیادہ پھیل جائے، اس کی سیلز کئی گناہ بڑھ جائیں، سالانہ ٹرن اوور ڈبل ٹرپل ہو جائے ، اور کئی لاکھ کا ایکسٹرا ریونیو ہر مہینے جنریٹ کرنے لگے۔۔۔۔!!

بڑی بڑی ملٹائی نیشنل کمپنیز یہی کرتی ہیں، یہ ٹیلی کام ایجنسیزز یہ بینک ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔۔۔!!

لہٰذا پیسے کو سٹک کرنے کے بجائے، اسے انویسٹ کریں ایسی جگہ اور ایسے طریقے سے کہ آپ کا پرمانینٹ بیسز پر اور مختلف سورسز سے کیش فلو بنا رہے۔۔۔!!

دو ٹرمز کو ذہن میں رکھیے ۔۔۔پیسے سے کیش سیور ایسٹس(cash saver asset) بنانے کے بجائے۔۔۔کیش جنریٹر ایسٹ(cash generator assets) بلڈ کریں۔۔۔۔جب آپ کے کیش جنریٹر سورسز اچھے ہوں گے، ملٹی پل سورسز سے آپکو انکم آ رہی ہوگی ، پیسیو انکم کے کئی دروازے کھلے ہوں گے، مین بزنس زیادہ مستحکم ہوگا۔۔۔۔تو یہ چھوٹے موٹے خرچے اور چھوٹی موٹی بچت والے چکروں سے ویسے ہی نکل جائیں گے آپ۔۔۔!!

کالم نگار : ماسٹرمحمدفہیم امتیاز
| | |
108