(+92) 319 4080233
کالم نگار

حافظ انوارالحسن

حافظ انوارالحسن

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
نام طیبؒ کام طیب، روح طیب
نام طیب کام طیب روح طیب
یاد طیب پیغام طیب خو طیب
علم و حکمت کے تھے وہ روشن چراغ
فکر طیب سیرت طیب گفتار طیب
رخصت ہوئے تو ہر آنکھ ہوئی اشکبار
ذکر طیب نقش طیب آثار طیب
رب کریم ان کی مغفرت فرمائے
حشر میں ہو ان کا انجام طیب

مولانا طیب کشمیری رحمہ اللہ کی رحلت سے ایک جہاں سو گوار ہے یادوں کے سمندر میں ایک طلاطم ہے۔ اہل علم و اہل دین حزین و غمگین ہیں۔ علمی دینی سیاسی سماجی حلقوں میں افسردگی اور پژ مردگی کی کیفیت ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو مولانا طیب کشمیری رح ایک باغ و بہار شخصیت تھے ان کی پوری زندگی علم و عمل کی خوشبو دین اور اہل دین کی محبت اعلی اخلاق و کردار کی مٹھاس سے عبارت تھی۔ ان کا وجود اہل کشمیر بالخصوص کراچی میں دینی تعلیم کے لیے مقیم علماء طلباء دینی طبقے کے لیے ایک شجر سایہ دار کی مانند تھا جس کے سائے میں بے شمار تشنگان علم نے سکون اور رہنمائی پائی۔ اعلی علمی ذوق تحقیقی مزاج گفتگو میں علم کی گہرائی دلوں کو موہ لینے والی سادگی تھی طرز زندگی اور مزاج میں انکساری اور سلف صالحین کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ طنز مزاح آپ کی شخصیت کا ایسا پہلو تھا جس نے آپ کی مجلس میں بیٹھنے والے ہر فرد کو ایسا گرویدہ بنایا کہ وہ مجلس کبھی بھول نہ پایا۔ چٹکلوں لطیفوں اور برمحل اور برموقع جملوں سے آپ کی مجلس کشت زعفران رہتی۔ 21ویں صدی کی ابتدائی اور مروجہ تعلیمی سفر کے آخری تین سال کراچی میں اور پھر اپ کے پڑوس جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں گزارنے کا موقع ملا کراچی میں آپ ہی ہمارے سرپرست رشتہ دار میزبان اور نگران تھے جب کبھی دل پریشان ہوتا گھر کی یاد آتی آپ کی مجلس میں پہنچتے سب غم دور پریشانی ختم ہو جاتی ایک نئی قسم کی انرجی ملتی جس کے باعث پورا پورا سال وہیں گزارنا آسان ہو جاتا ۔ ماضی کے دریچوں سے جب جھانک کر وہ مناظر آنکھوں کے سامنے آتے ہیں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں دل پریشان ہو جاتا ہے۔

وہ کیا شامیں ہوا کرتی تھی مولانا الحمدللہ صحت مند تھے عوارضات اور حادثات کا سلسلہ ابھی شروع نہ ہوا تھا کئی کئی گھنٹوں مجالس اور بار بار چائے کے ادوار، مسائل حاضرہ پر بحث، تحقیقی علمی مباحث کا سلسلہ چلتا رہتا تھا۔ وہ علماء کی دینی سیاسی تحاریک ،تحریک آزادی کشمیر اور علماء کی تاریخ اورخدمات کے حوالے سے انسکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے تھے ان کا کتب خانہ علمی تحقیقی کتب اخبارات و جرائد کا ایک مخزن تھا۔ اس سے قبل کاجو دور اور زمانہ تھا وہ جس میں آپ متحرک اور جاندار کردار کے ساتھ کراچی کے ہنگامہ خیز دور میں کراچی کے افق میں سب سے نمایاں اور سرم گرم رہنما رہے۔

تحریک آزادی کشمیر اور کشمیر میں اسلامائزیشن اور دیگر سماجی بنیادی مسائل کے حل کے لیے جمعیت علمائے اسلام کے پلیٹ فارم سے آپ کی جدوجہد ایک سنہری باب ہے۔ تقریر تحریر و تدریس ہرفن میں خصوصی ملکہ اور صلاحیت رکھتے تھے مگر اپنی طبیعت افتاد کی وجہ سے کسی شعبہ سے مستقل وابستہ نہ ہو سکے جس کا ہم عصر اور آپ کی صلاحیتوں سے واقف کو ہمیشہ افسوس رہا ۔

اس کے باوجود آپ کی کاوشوں سے بہت سا علمی ذخیرہ وجود میں آیا اور محفوظ ہوا۔ حیات امیر شریعت مولانا عبداللہ رح ماہنامہ بینات کے بہت سے مضامین مولانا یوسف لدھیانوی کی شہرہ آفاق تصنیف اختلاف امت اور صراط مستقیم کی تالیف اور بہت سی کتب میں آپ کا نمایاں حصہ رہا۔

علمائے کشمیر کے تعارف پر خصوصی نمبرز اور اور اہم شخصیات کے انٹرویوز وغیرہ ریکارڈ کا حصہ بنے۔تاریخ دارالعلوم دیوبند میں علماء کشمیر کا تعارف اور خدمات شامل کروانا آپ کا بہت اہم کارنامہ ہے اگرچہ اس حصے میں بہت سی معلومات تحقیق کے معیار پر پوری نہیں اترتی کچھ تضادات اور تفاوت بھی موجود ہیں جن سے کچھ حضرات نے غلط فائدہ اٹھایا افتراق و انتشار اور علماء کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی اور کر رہے ہیں ۔ حضرت کشمیری بلا کے ذہین اپنے اکابر و اسلاف کی دیوانے تھے ان کے منہج و مسلک کو ہی کامیابی کا معیار سمجھتے تھے ان کے واقعات ان کی زندگی کے نمایاں اوصاف ان کی گفتگو کا موضوع رہتے تھے۔

حضرت والدی محترم کے ساتھ ان کا تعلق وابستگی فریفتگی کی حد تک تھی۔ فرمایا کرتے تھے کہ ہم عصروں میں ان سے بڑھ کر کوئی صاحب تقوی اور صاحب علم نہیں۔ اور حضرت والدی محترم کا فرمانا ہے کہ ہم عصروں میں حضرت کشمیری سے زیادہ ذہین فطین اور با صلاحیت کوئی نہیں اس نسبت سے ہمارے ساتھ ان کا رویہ بہت ہی مشفقانہ ہم دردانہ اور پیارانہ رہا شومئ قسمت کہ باوجود کوشش اور خواہش کے علالت میں عیادت ملاقات اور زیارت نہ ہو سکی راقم کی بہت ہی ادنی حیثیت کے باوجود بارہا فون پر بات ہوتی رہتی جو بھی یہاں سے ان کے پاس جاتا ان سے پوچھتے ان کے فون سے بات کرتے اور حضرت والد محترم کی خیریت اور حال احوال لیتے رہے۔

مولانا طیب کشمیری بہت سے اوصاف واخلاق میں اپنے ہم عصروں سے ممتاز اور منفرد تھے ۔ان کی شخصیت و کردار پر اہل قلم ان شاءاللہ خوب لکھیں گے یہ چند کلمات آپ کی شخصیت کا احاطہ کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ یہ صرف خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں اپنا نام شامل کروانا ہے آپ کی رحلت آپ کے خاندان احباب شاگرد عقیدت مند اور اہل محبت کے لیے ناقابل تلافی صدمہ ہے۔ غم کی اس گھڑی میں ان کی شفقت نصیحتیں اور علمی مجالس کو شدت سے یاد کر رہے ہیں۔ اللہ رب العزت حضرت کی کامل مغفرت فرمائے ان کی خدمات کو قبول فرمائے ان کی قبر کو نور سے بھر دے درجات بلند فرمائے جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے ان کے اہل خانہ شاگرد متعلقین اور اہل محبت کو صبر جمیل نصیب فرمائے آمین!

مأخَذ

مولانامحسن عزیز کشمیری،فاضل جامعہ بنوریہ عالمیہ کاانتخاب

کالم نگار : حافظ انوارالحسن
| | |
109