(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
سیڑھی چھوڑو،اڑان بھرو
انسانی زندگی کا ہر شعبہ،چاہے وہ فنونِ لطیفہ ہو یا تجارت، تعلیم ہو یا روحانیت؛درحقیقت ایک مسلسل سیکھنے، سمجھنے، اور بالآخر بلند ہونے کا سفر ہے۔ یہ سفر محض معلومات حاصل کرنے یا تکنیکی مہارت سیکھنے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ انسان جب کسی شعبے میں سنجیدگی سے داخل ہوتا ہے، تو ایک خاص داخلی تبدیلی، ایک باطنی ارتقاء بھی اس کا حصہ بن جاتا ہے۔ سیکھنے کی اس داخلی راہ کو بہت سے فلسفے بیان کرتے ہیں، لیکن جاپان کے قدیم فلسفے کا ایک منفرد اور فکرانگیز تصور ہے: شو، ہا، ری (Shu-Ha-Ri)۔یہ تصور بتاتا ہے کہ کسی بھی فن، مہارت یا راستے میں پختگی حاصل کرنے کے تین لازمی مراحل ہوتے ہیں: اطاعت، انحراف، اور انفرادیت، یا یوں کہیے: تقلید، تجربہ، اور تخلیق۔

پہلا مرحلہ:اطاعت اور تقلید کا مرحلہ ہے۔کسی بھی میدان میں داخل ہونے والے شخص کی پہلی منزل تقلید ہوتی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں طالبِ علم یا نو آموز فرد اپنے استاد یا ماہر کی رہنمائی میں سیکھتا ہے۔ ہر بات کو جیسے کا تیسا قبول کرتا ہے، ہر قاعدے کو بغیر سوال کے اپناتا ہے۔ یہ وہی مرحلہ ہے جہاں سیکھنے والا یہ طے کرتا ہے کہ وہ ابھی خود کو "خالی" کر کے استاد کے علم سے بھرنے کو تیار ہے۔یہ اطاعت ظاہری طور پر شاید صرف نقل دکھائی دے، لیکن یہی وہ بنیاد ہے جو کسی شخص کو آگے بڑھنے کے قابل بناتی ہے۔ جس طرح ایک بچہ ابتدا میں بولنا سیکھنے کے لیے بڑے لوگوں کے الفاظ دہراتا ہے، یا کوئی خطاط پہلے پرانے نستعلیق کے نمونے نقل کرتا ہے، اسی طرح ہر فنکار کو پہلے اپنے سے پہلے والوں کی پیروی کرنی پڑتی ہے۔ اس میں جھجھک محسوس کرنا یا اپنی انفرادیت کھو بیٹھنے کا خوف رکھنا درست نہیں — کیونکہ یہ منزل صرف ایک عبوری مرحلہ ہے، مستقل مقام نہیں۔

دوسرا مرحلہ ’’ہا‘‘کاہے۔جب انسان ایک فن یا علم میں کچھ مہارت حاصل کر لیتا ہے، تو اس کے اندر سوال اٹھنے لگتے ہیں۔ کیا یہ واحد راستہ ہے؟ کیا اس میں کچھ بہتری آ سکتی ہے؟ یہ وہ مقام ہے جہاں سیکھنے والا استاد کے اصولوں پر غور کرتا ہے، ان میں اپنی فہم شامل کرتا ہے، اور ان کے دائرے سے باہر جھانکنے کی جرأت کرتا ہے۔یہاں تقلید کا رشتہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ اس کی شکل بدلتی ہے۔ اب وہ اصول جنہیں کبھی جامد سمجھا جاتا تھا، ایک زندہ روایت میں بدل جاتے ہیں، جس میں نیا خون دوڑتا ہے۔ یہ مرحلہ تخلیقی آزادی کا پہلا دروازہ کھولتا ہے۔ فنکار، ادیب، یا طالب علم اب فقط نقل نہیں کرتا، بلکہ نئے سوال اٹھاتا ہے، اور جوابات کی تلاش میں اپنے قدموں کے نشان خود چھوڑنے لگتا ہے۔یہ مرحلہ بہت حساس بھی ہوتا ہے۔ اگر سیکھنے والا خود کو وقت سے پہلے "ماہر" سمجھ لے، تو وہ راستہ بھٹک سکتا ہے۔ اور اگر وہ دیر تک پہلی منزل پر جما رہے، تو اس کی تخلیقی پرواز رک سکتی ہے۔ اس لیے ہا کا مرحلہ دراصل توازن کا مطالبہ کرتا ہے — تقلید اور تجربہ، روایت اور جدت، استاد کی رہنمائی اور ذاتی فہم کے درمیان۔

تیسرا اور آخری مرحلہ وہ ہے: جسے جاپانی فلسفے میں "ری" کہا گیا ہے، یعنی ماورا ہو جانا۔ یہاں سیکھنے والا اب کسی استاد، اصول یا روایت کا پابند نہیں رہتا۔ اب وہ خود اپنی روشنی بن چکا ہوتا ہے۔ وہ فن، جسے اس نے کبھی کسی اور سے سیکھا تھا، اب اس کی اپنی آواز، اس کا اپنا رنگ بن چکا ہوتا ہے۔ اب وہ نئی راہیں تراشتا ہے، نئی مثالیں قائم کرتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقی فنکار پیدا ہوتا ہے۔ جہاں شاعر اپنا لہجہ تخلیق کرتا ہے، مصور اپنے برش کو نئی زبان دیتا ہے، تاجر نئے اصولِ تجارت بناتا ہے، اور راہِ سلوک کا مسافر وہ نور تلاش کرتا ہے جس کی کوئی کتاب مکمل ترجمانی نہیں کر سکتی۔یہ مرحلہ سب سے اعلیٰ ہے، مگر سب سے مشکل بھی۔ یہاں تنہائی ہے، اپنی ذات کا سامنا ہے، اور خطرات کا سامنا بھی۔ کیونکہ اب آپ کسی پرانے نقشِ قدم پر نہیں چل رہے، بلکہ اپنے قدموں سے نقش بنا رہے ہیں۔

یہ فلسفہ صرف فنون یا مشقوں تک محدود نہیں۔ ہماری ذاتی زندگی، روحانی سفر، تعلیمی میدان، حتیٰ کہ ازدواجی زندگی یا والدین کا کردار بھی انہی مرحلوں سے گزرتا ہے۔ ابتدا میں ہم بزرگوں کی ہدایات پر چلتے ہیں، کتابوں سے سبق لیتے ہیں۔ پھر ہم اپنی فہم سے چیزوں کو برتنے لگتے ہیں، آزماتے ہیں۔ اور بالآخر وہ وقت آتا ہے جب ہم اپنی روشنی سے راستہ تلاش کرتے ہیں۔یہی اصول ایک ادارے کی تعمیر میں کارگر ہے، ایک قوم کی فکری ترقی میں معاون ہے، اور ایک فرد کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔زندگی ہمیں سیکھنے کے کئی مواقع دیتی ہے۔ ہمیں اچھے استاد ملتے ہیں، رہنما اصول ملتے ہیں، اور ہم ان کی مدد سے سیڑھی در سیڑھی اوپر چڑھتے ہیں۔ مگر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب یہی سیڑھی ہمیں روکنے لگتی ہے۔ کیونکہ سیڑھیاں ہمیں بلندی تک تو لے جاتی ہیں، لیکن پرواز نہیں دے سکتیں۔

لہٰذا جب تم محسوس کرو کہ تم نے سیکھ لیا ہے، جذب کر لیا ہے، اور تمہاری اندر کی آواز تمہیں نئی سمتوں کی طرف بلا رہی ہے — تو جھجکنا نہیں۔ پرانی سیڑھیوں کو سلام کہو، اور اپنے پروں پر اعتماد کرو۔ یہی اصل پرواز ہے، یہی اصل کامیابی۔کسی بھی سفر میں اصولوں کو بنیاد بنانا عقل مندی ہے، لیکن ان پر رک جانا کم زوری۔ سیکھنا عظمت ہے، مگر صرف سیکھتے رہنا، بغیر تخلیق کیے — ادھورا سفر ہے۔اب وقت ہے…سیڑھی کو چھوڑ کر، اُڑان بھرنے کا!

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
42