(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
جامع القرآن، امیر المؤمنین عثمان غنی رضی اللہ عنہ: حیات اور عظیم شہادت

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بلند مقام و مرتبہ :
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ مقدس و برگزیدہ ہستیاں ہیں جنہوں نے حالتِ ایمان میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبتِ بابرکت سے فیض اٹھایا (اگرچہ یہ ساتھ ایک لمحے کے لیے ہی کیوں نہ ہو) اور ان کا خاتمہ بھی ایمان پر ہی ہوا۔ یہ جامع اور مستند تعریف حافظ ابن الصلاح کی مقدمہ علوم الحدیث، حافظ ابن حجر عسقلانی کی نخبۃ الفکر اور علامہ ابن الاثیر کی اسد الغابۃ جیسی امہات الکتب میں صراحت کے ساتھ موجود ہے۔

امتِ مسلمہ کا اس اصولی عقیدے پر کامل اجماع ہے کہ انبیاءِ کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بعد کائنات کی تمام انسانیت میں سب سے افضل اور اعلیٰ مقام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہے۔ یہ نفوسِ قدسیہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور امت کے درمیان دین کی منتقلی کا واحد مقدس واسطہ ہیں۔ قرآن و سنت کی نصوصِ قطعیہ نے انہیں "عدول" (سچے اور عادل) قرار دیا ہے اور وہ پوری امت کے لیے ہدایت کا روشن منارہ ہیں۔ اہل السنۃ والجماعت کا اساسی عقیدہ: کسی بھی صحابیِ رسول پر تنقید یا طعن و تشنیع کرنا دراصل نبی علیہ السلام کی تربیت اور تزکیہِ نفوس پر اعتراض کرنے کے مترادف ہے، جس کا کوئی سچا مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ لہٰذا، تمام صحابہ کرام کا ذکر ہمیشہ انتہائی تعظیم، محبت اور خیر ہی کے ساتھ کرنا واجب ہے۔

ولادت، نسب اور حلیہ مبارک
ولادت اور نسب

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی ولادت عام الفیل کے چھ سال بعد (بمطابق 576ء) مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ کا شجرہ نسب یوں ہے: عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف اموی قریشی۔ آپ کا نسب چوتھی پشت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء و اجداد سے جا ملتا ہے۔

حلیہ مبارک
مورخین نے آپ کا حلیہ مبارک ان الفاظ میں بیان کیا ہے: آپ کا قد درمیانہ، رنگ گندمی اور چہرہ حسن و جمال کا شاہکار تھا۔ داڑھی مبارک گھنی اور لمبی تھی، جسے آپ زرد خضاب (مہندی) سے رونق بخشتے تھے۔ آپ کے اعضاء اور ہڈیاں مضبوط و چوڑی تھیں، سر کے بال گھنے اور گھنگریالے تھے، دونوں کندھوں کے درمیان نمایاں فاصلہ تھا، جلد نہایت نرم اور دندانِ مبارک انتہائی خوبصورت اور چمک دار تھے۔

القابِ گرامی اور ان کی وجوہات
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بارگاہِ رسالت سے کئی جلیل القدر القاب عطا ہوئے، جن میں سے دو کثرت سے مشہور ہیں:

1۔ ذوالنورین (دو نوروں والے)

آپ کو یہ منفرد لقب اس لیے ملا کیونکہ آپ کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے آئیں۔ پہلے سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا آئیں، اور ان کے انتقال کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو آپ کے عقد میں دیا۔ یہ ایسا بے مثال اعزاز ہے جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک کسی اور انسان کو حاصل نہیں ہوا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"اگر میری چالیس (اور ایک روایت کے مطابق سو) بیٹیاں بھی ہوتیں اور وہ یکے بعد دیگرے انتقال کرتیں، تو میں انہیں عثمان ہی کے نکاح میں دیتا رہتا۔" (نوٹ: علمی و حدیثی نقطہ نظر سے اگرچہ اس مخصوص روایت کی سند پر محدثین کے ہاں کلام ہے، تاہم اس کا مفہوم اور روح اہل السنۃ والجماعت کے ہاں بالکل مسلم ہے، جو سیدنا عثمان پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل اعتماد اور فدا کاری کو ظاہر کرتی ہے)۔

آپ کو فرشتوں کی مجلس (ملائے اعلیٰ) میں بھی "ذوالنورین" کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس لقب کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ آپ نے اسلام کی خاطر دو ہجرتیں کیں؛ پہلی ہجرتِ حبشہ اور دوسری ہجرتِ مدینہ منورہ۔

2۔ غنی (سخی اور بے نیاز)

آپ کا دوسرا مشہور لقب "غنی" ہے، جس کی وجہ آپ کی بے پناہ حلال دولت اور اس دولت کو اللہ کی رضا کے لیے بے دریغ اور فیاضی سے خرچ کرنا تھا۔ جب بھی اسلام پر کوئی کٹھن وقت آیا، آپ نے اپنی سخاوت سے امت کی وہ خدمت کی جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔

فضائل و مناقب (قرآن و سنت کی روشنی میں)
قرآنی شہادت (بیعتِ رضوان)

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفتح میں ارشاد فرمایا:

لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا(سورۃ الفتح: 18)

ترجمہ: "بلاشبہ اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے، پس اللہ کو معلوم تھا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا، تو اس نے ان پر سکون نازل فرمایا اور انہیں ایک قریبی فتح انعام میں دی۔"

یہ آیتِ کریمہ صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی۔ جب مکہ میں یہ افواہ پھیلی کہ سفیرِ رسول سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو کفار نے شہید کر دیا ہے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شدید جلال میں آ کر 1400 صحابہ کرام سے موت پر بیعت لی کہ جب تک عثمان کا خونِ ناحق کا بدلہ نہیں لیں گے، یہاں سے نہیں جائیں گے۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سیدھے ہاتھ کو عثمان کا ہاتھ قرار دے کر خود اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بیعت میں شامل تمام صحابہ کو اپنی ابدی رضا کا پروانہ عطا فرمایا۔

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلفائے راشدین، سابقون الاولون (سب سے پہلے اسلام لانے والے)، کاتبینِ وحی، اصحابِ بدر اور مہاجرینِ اولین میں شامل ہیں، لہٰذا ان تمام گروہوں کے لیے قرآن میں جتنے فضائل آئے ہیں، آپ ان سب کے اولیں مصداق ہیں۔

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں
• کامل حیا و جود: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "میری امت میں سب سے زیادہ حیا دار اور سخی عثمان ہے۔" (ترمذی)

• رفاقتِ رسول: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عثمان بن عفان دنیا اور آخرت میں میرے رفیق (دوست) ہیں۔" (ابن عساکر)

• جنت کے ساتھی: حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر نبی کا ایک رفیق (خاص ساتھی) ہوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان ہے۔" (ترمذی)

• مستجاب الدعا: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ رات کے آغاز سے طلوعِ فجر تک عثمان کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا فرما رہے تھے: "اے اللہ! میں عثمان سے راضی ہوں، تو بھی اس سے راضی ہو جا۔" (ابو نعیم)

• اہلِ بیت کی گواہی: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "امت میں سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے اور اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے سیدنا عثمان ہیں۔" (حلیۃ الاولیاء)

• سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گواہی: امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے برسرِ منبر فرمایا: "اس امت میں ابوبکر اور عمر کے بعد سب سے افضل عثمان ذوالنورین ہیں، پھر میں ہوں۔" (مسند احمد)

جود و سخا کے چند ایمان افروز واقعات
1۔ بئرِ رومہ کی خریداری اور وقف

مہاجرین جب مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں پینے کے میٹھے پانی کی شدید قلت تھی۔ پورے شہر میں صرف ایک کنواں "بئرِ رومہ" میٹھے پانی کا تھا، جس کا مالک ایک متعصب یہودی تھا اور وہ پانی مہنگے داموں بیچتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: "جو شخص بئرِ رومہ خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کرے گا، اس کے لیے جنت ہے"۔ سیدنا عثمان نے فوری طور پر آگے بڑھ کر یہودی سے پہلے بارہ ہزار درہم میں آدھا کنواں (ایک دن عثمان کا، ایک دن یہودی کا) خریدا اور مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔ بعد میں یہودی نے بے فائدہ دیکھ کر باقی آدھا حصہ بھی آٹھ ہزار درہم میں بیچ دیا، یوں بیس ہزار درہم میں پورا کنواں خرید کر امت کے لیے ہمیشہ کے لیے وقفِ عام کر دیا گیا۔ یہ اسلام کی تاریخ کا پہلا باقاعدہ وقف تھا۔

2۔ مسجدِ نبوی کی توسیع

مدینہ کی آبادی بڑھنے پر مسجدِ نبوی میں جگہ کم پڑ گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون ہے جو فلاں زمین (مویشی خانہ) خرید کر مسجد کی توسیع کے لیے وقف کرے؟ سیدنا عثمان غنی نے بغیر کسی تاخیر کے پچیس ہزار درہم کی خطیر رقم سے وہ زمین خرید کر مسجدِ نبوی کے نام کر دی۔

3۔ غزوہِ تبوک (جیشِ عسرت) کی مالی کفالت

غزوہِ تبوک کے موقع پر مسلمان شدید قحط، تنگی اور تپتی دھوپ کا سامنا کر رہے تھے، اسی لیے اس لشکر کو "جیشِ عسرت" (تنگی کا لشکر) کہا جاتا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ دہلوی نے ازالۃ الخفاء میں نقل کیا ہے کہ اس کٹھن سفر میں جب سامان ختم ہو گیا، تو سیدنا عثمان نے سینکڑوں اونٹ غلے اور سامانِ حرب سے لاد کر بارگاہِ رسالت میں پیش کیے۔ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش ہو کر فرمایا تھا: "آج کے بعد عثمان کا کوئی عمل اسے نقصان نہیں پہنچائے گا (یعنی یہ بخشے بخشائے ہیں)"۔

انتخابِ خلافت اور دورِ عثمانی کے نمایاں کارنامے
انتخابِ خلافت
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب مجوسی حملے میں شدید زخمی ہوئے، تو آپ نے خلافت کے انتخاب کے لیے چھ جلیل القدر صحابہ پر مشتمل ایک اعلیٰ کمیٹی (شوریٰ) تشکیل دی، جس میں درج ذیل حضرات شامل تھے:

1. حضرت عبدالرحمن بن عوف

2. حضرت عثمان بن عفان

3. حضرت علی بن ابی طالب

4. حضرت سعد بن ابی وقاص

5. حضرت زبیر بن العوام

6. حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رضی اللہ عنہم)

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عامۃ المسلمین، مدینہ کے بزرگوں، نوجوانوں اور پردہ نشین خواتین تک کی رائے معلوم کرنے کے بعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نام پر اتفاق کیا اور ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ یوں یکم محرم الحرام 24ھ (بمطابق 7 نومبر 644ء) کو آپ خلیفہِ ثالث مقرر ہوئے۔ اس موقع پر جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "ہم نے اپنے میں سے سب سے افضل شخص کی بیعت کی ہے اور ہم نے کوئی کوتاہی نہیں کی"۔

دورِ عثمانی کے عظیم کارنامے
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت (جو تقریباً 12 سال پر محیط ہے) فتوحات اور انتظامی اصلاحات کے اعتبار سے سنہری دور تھا۔ آپ کے نمایاں کارنامے درج ذیل ہیں:

• جامع القرآن: تمام بلادِ اسلامیہ کے مسلمانوں کو قرآن مجید کے ایک مستند اور قریشی لہجے (رسمِ عثمانی) پر جمع کیا، تاکہ امت میں قرآنی قرات کے حوالے سے کوئی اختلاف پیدا نہ ہو۔ اسی عظیم کارنامے کی بدولت آپ کو "جامع القرآن" کہا جاتا ہے۔

• پہلا بحری بیڑا: اسلامی تاریخ کا سب سے پہلا بحری فوج کا کارخانہ اور بحری جہاز شام کے ساحلوں پر آپ ہی کے حکم سے تیار ہوئے، جس سے بحرِ روم میں مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی۔

• انتظامی محکمے: بیت المال کے مؤذنین کے لیے باقاعدہ وظائف مقرر کیے اور ملک میں داخلی امن و امان کے لیے پولیس کا باقاعدہ محکمہ قائم فرمایا۔

• رفاہِ عامہ: سیلاب سے مدینہ منورہ کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک عظیم حفاظتی بند تعمیر کروایا، نئی سڑکیں، پل، نہریں اور کنویں کھدوائے۔

• دینی مدارس کی تاسیس: تمام مفتوحہ علاقوں میں مساجد کی تعمیر کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کی تعلیم کے لیے سرکاری مدارس اور معلمین کا نظام رائج کیا۔

• اسلامی سکہ رائج کرنا: عرب میں پہلی بار رومی اور ایرانی سکوں کے وزن کے مطابق درہم و دینار ڈھالے گئے، جن پر "اللہ اکبر" اور "بسم اللہ" کے نقوش ثبت تھے۔

فتنہ سبائیت اور مظلومانہ شہادت
زیرِ زمین سازش کا آغاز
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری حصے میں، جب اسلامی سلطنت تین براعظموں تک پھیل چکی تھی، صنعاء (یمن) کے ایک مکرر یہودی عبداللہ بن سبا نے بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر کوفہ، بصرہ اور مصر میں ایک منظم زیرِ زمین فتنہ کھڑا کیا۔ اس فتنہ پرور گروہ کا مقصد سادہ لوح مسلمانوں کو گورنروں کے خلاف بھڑکانا، بنو امیہ کی خلافت کا خاتمہ کرنا اور صحابہ کرام کے درمیان پھوٹ ڈالنا تھا۔ سیدنا عثمان نے کمالِ حلم اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام گورنروں کو مدینہ طلب کیا، شکایات کے ازالے کے لیے وفود روانہ کیے اور اعلان کیا کہ جس کسی کو بھی کوئی شکایت ہو، وہ حج کے موقع پر آ کر براہِ راست خلیفہ سے بات کرے۔

مدینہ منورہ کا محاصرہ
حج کے ایام کے قریب، بصرہ، کوفہ اور مصر کے یہ باغی حاجیوں کے بھیس میں مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے۔ سیدنا عثمان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وساطت سے ان کے مطالبات سنے اور صلح فرما کر انہیں واپس بھیج دیا۔ لیکن سازش کے تحت یہ مفسدین راستے سے دوبارہ لوٹ آئے اور اچانک مدینہ پر قبضہ کر کے خلیفہِ راشد کے گھر کا سخت محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ چالیس دن سے زائد جاری رہا، جس کے دوران سیدنا عثمان اور ان کے اہل خانہ پر پینے کا پانی اور کھانا تک بند کر دیا گیا۔

خونریزی سے گریز اور عظیم صبر
باغیوں کا مطالبہ تھا کہ آپ خلافت کے منصب سے دستبردار ہو جائیں، لیکن آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خفیہ وصیت کا پاس رکھتے ہوئے فرمایا:

"جب تک مجھ میں جان باقی ہے، میں اس خلعت (خلافت) کو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پہنائی ہے، خود اپنے ہاتھوں سے نہیں اتاروں گا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق میں اپنی زندگی کے آخری لمحے تک صبر کروں گا۔"

جب حضرت علی، حضرت حسن، حضرت زبیر اور دیگر صحابہ کرام کے بیٹوں نے باغیوں کے خلاف تلوار اٹھانے اور جنگ کرنے کی اجازت چاہی، تو سیدنا عثمان غنی نے سختی سے منع کرتے ہوئے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: "میں وہ پہلا خلیفہ نہیں بننا چاہتا جو امتِ محمدیہ میں خونریزی کا سبب بنے۔ میرے دفاع میں کوئی بھی شخص گولی یا تلوار نہ چلائے۔"

حتیٰ کہ آپ نے شام کے گورنر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مدینہ سے نکل کر شام منتقل ہو جانے یا وہاں سے فوج بھیجنے کی پیشکش بھی یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ "میں دیارِ رسول (مدینہ منورہ) اور جوارِ رسول کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتا"۔

شہادتِ مظلومانہ
بالآخر، 18 ذی الحجہ 35ھ بروز جمعہ، بوقتِ عصر، یہ فتنہ پرور باغی دیواریں پھاند کر آپ کے گھر میں داخل ہو گئے۔ خلیفہِ ثالث اس وقت روزے کی حالت میں نہایت خشوع کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے۔ باغیوں نے اسی حالت میں آپ پر تلواروں کے وار کیے۔

جب آپ پر پہلا وار ہوا، تو آپ کا خونِ مبارک صریحاً قرآن مجید کے انہی صفحات پر گرا جو آپ کے سامنے کھلے ہوئے تھے۔ محدثین اور مؤرخین کے مطابق، خون کا پہلا قطرہ سورۃ البقرہ کی اس آیت پر گرا:

فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ (سورۃ البقرہ: 137)

ترجمہ: "پس عنقریب اللہ ان کے مقابلے میں تمہاری کفایت کرے گا، اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔"

شہادت کے وقت آپ کی زبانِ مبارک پر یہ آخری کلمات تھے: "بِسْمِ اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ" (اللہ کے نام سے، میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا)۔

بعد از شہادت
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو جب اس الم ناک حادثے کی خبر ملی، تو انہوں نے شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے باغیوں پر لعنت بھیجی اور فرمایا: "اے لوگو! اب تم پر ہمیشہ کے لیے تباہی مسلط کر دی گئی ہے (یعنی امت کا شیرازہ بکھر گیا)"۔ باغیوں کے خوف اور شہر کے مخدوش حالات کے باعث، رات کے اندھیرے میں چند جلیل القدر صحابہ (جن کی قیادت حضرت زبیر بن العوام یا حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہما نے کی) نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ کو مدینہ منورہ کے مقدس قبرستان "جنت البقیع" میں سپردِ خاک کیا۔

مأخَذ

علمی و تاریخی حوالہ جات 1. تعریفِ صحابی: ابن الصلاح، مقدمہ علوم الحدیث؛ حافظ ابن حجر عسقلانی، نخبۃ الفکر فی مصطلح اہل الاثر؛ ابن الاثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ۔ 2. شجرہ و نسب: ابن حزم الاندلسی، جمہرۃ انساب العرب، صفحہ 74-76۔ 3. روایتِ چالیس بیٹیاں (مفہوم): ابن عساکر، تاریخ دمشق، ترجمہ عثمان بن عفان؛ الطبرانی، المعجم الکبیر۔ 4. آیتِ بیعتِ رضوان: القرآن الکریم، سورۃ الفتح، آیت نمبر 18۔ 5. حدیثِ حیا و سخا: جامع الترمذی، ابواب المناقب، باب مناقب عثمان بن عفان (حدیث: 3691)۔ 6. حدیثِ رفیقِ جنت: جامع الترمذی، ابواب المناقب (حدیث: 3698)۔ 7. روایتِ دعاِ مصطفیٰ: ابو نعیم الاصبہانی، حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء، جلد 1، صفحہ 58۔ 8. سیدنا علی کی گواہی: امام احمد بن حنبل، فضائل الصحابۃ، رقم الحدیث: 562؛ مسند احمد۔ 9. واقعہ بئرِ رومہ و مسجد نبوی: صحیح البخاری، کتاب الوصایا، باب اذا وقف ارضاً او بئراً۔ 10. غزوہِ تبوک و جیشِ عسرت: شاہ ولی اللہ دہلوی، ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء؛ حافظ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 7، صفحہ 175-180۔ 11. تفصیلِ محاصرہ و شہادت: ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، ذکر خلافت عثمان؛ حافظ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 7، صفحہ 200-215 (حوادث سنہ 35 ہجری)

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
109