(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/15
موضوعات
فہم قربانی مکمل کورس
قربانی کسے کہتے ہیں؟
ذی الحجہ کی دس،گیارہ اور بارہ تاریخ کو صاحبِ استطاعت مسلمان جانورقربان کرتے ہیں، اصطلاح میں اسے قربانی کہا جاتا ہے۔

عظیم قربانی کی یادگار:
قربانی ایک عظیم قربانی کی یادگارہے،یہ قربانی کسی جانور کی نہیں تھی،بلکہ اللہ کے ایک برگذیدہ بندے نے اپنے رب کے حکم سے اپنے لخت ِجگرکوقربانی کے لیے پیش کردیاتھا۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے ایک جلیل القدر نبی حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو بڑھاپے کی عمر میں ایک جلیل القدر صاحبزادہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام عطافرمایا۔ جب وہ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچے اور اپنے والد بزرگوار کے کاموں میں ان کی معاونت کے قابل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک خواب دکھایا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے بیٹے اسماعیلؑ کو ذبح کر رہے ہیں۔چونکہ اس معاملے کا تعلق حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ بھی تھا، اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو آگاہ فرمایا،فرماں بردار فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام نے سرِتسلیم خم کرتے ہوئے اس خواب پر عمل کرنے کا اپنے اباجان کو مشورہ دیا، چنانچہ باپ بیٹے دونوں نے پوری جاں نثاری کے ساتھ اس خواب پر عمل کردکھایا۔ اللہ تعالی نے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح نہیں ہونے دیا،کیونکہ مقصود ان کی جان لینا نہیں،حضرت ابراہیم واسماعیل علیہماالسلام کی اطاعت وفرماںبردار کا امتحان لینا تھا۔ ان کی جگہ جنت سے حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک مینڈھالے کرآئے، جسے ذبح کردیاگیا۔ اس داستانِ مہرووفاکی یادگارکے طورپر شریعت اسلامیہ نے قربانی کو واجب کردیا ۔

قربانی کی روح:
دیگر عبادات کی طرح قربانی بھی ایک عبادت ہے۔ اس کی بنیادیں اخلاص، للہیت اور اللہ تعالی رضامندی کے جذبات پر قائم ہیں۔اگر قربانی میں بچوں کا دباؤ، محلے والوں پر شان و شوکت کے اظہارسمیت کسی قسم کے ریاکاری ودکھلاوے کے جذبات کی آمیز ش ہوئی تو قربانی بے جان وبے روح ہوکرررہ جائے گی۔

قربانی کے جانور کاپیغام:
قربانی کا جانور دنیا سے جاتے ہوئے زبان حال سے قربانی کرنے والے کو یہ پیغام دے رہاہوتا ہے کہ یوں تو روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں جانور دنیا بھر میں ذبح ہورہے ہیں، لیکن میرے خالق نے میرا انتخاب قربانی کے لیے کیا تھا اور آج میں اس انتخاب پر تمہارے ہاتھوں ذبح ہوتے ہوئے سرخرو ہوکر اپنے پروردگار کے پاس جارہا ہوں، جس نے کبھی مجھے بھوکا پیاسا نہیں رکھا۔تمہیں بھی تو اسی خالق نے اپنی عبادت کے لیے منتخب کیا ہے، کیا تم اس انتخاب پر پورے اتر تے ہو؟تمہیںبھی ایک دن اس کے دربار میں حاضر ہونا اور اس سوال کا جواب دیناہے،لہٰذا اپنے اعمال کا جائزہ لو اور اپنے طرزِعمل کی اصلاح کرو۔ قربانی کانصاب
قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے ،جو صدقۂ فطر کے واجب ہونے کا نصاب ہے۔
قربانی کن پرواجب ہے؟
ایسے تمام مسلمان جو عاقل، بالغ اور اپنے وطن میں موجود ہوں اور اُن کے پاس ان تاریخوں میں اپنی ضرورت سے زائد اتنی مالیت موجودہو جس سے ساڑھے باون تولہ چاندی خریدی جاسکتی ہوتو ایسے تمام مسلمان مرد و عورت پر قربانی کرنا واجب ہے، چاہے وہ شہری ہوں یا دیہاتی، تاجر ہوں یا صنعت کار و دست کار، مویشی پالنے والے ہو ںیا کسان، ملازمت پیشہ ہو ںیا مزدور، شادی شدہ ہوں یا غیرشادی شدہ ،پڑھے لکھے ہو ںیا اَن پڑھ، غرضیکہ ہر صاحبِ نصاب شخص پر اپنی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے۔

مالیت سے کیامرادہے؟
مالیت سے صرف نقد رقم مراد نہیں،بلکہ اس مالیت میں نقد رقم، بنک میں جمع شدہ رقم، وصول ہونے والے قرضے، پرائزبونڈز، این آئی ٹی یونٹس، کمپنیوں کے حصص، وصول ہونے والی بی سی میں اداشدہ رقم، مال تجارت میں خام مال اور تیارشدہ مال کا اسٹاک، پہننے کے تین جوڑے سے زائد کپڑے، روزانہ کے استعمال میں آنے والے برتن و بستروں سے زائد برتن و بستر، ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر، وی سی پی وغیرہ سب شامل ہیں۔

قربانی کے ایام
ذوالحجہ کے مہینے کی دس، گیارہ اور بارتاریخ قربانی کے ایام ہیں۔

دس تاریخ کوقربانی کا اولین وقت:
شہری علاقوں میں عیدالاضحی کی نماز کی ادائیگی کے بغیر قربانی شروع کرنا جائز نہیں، گاؤں اور دیہات میں،جہاں نمازِ عید انہیں ہوتی، صبح صادق کے بعد قربانی کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔گیارہ اور بارہ تاریخ کو قربانی کا وقت:گیارہ کونمازِ فجر سے پہلے بھی اور اسی طر ح رات کو بھی قربانی کی جاسکتی ہے۔قربانی کا وقت بارہ ذی الحجہ کو سورج کے غروب ہونے سے پہلے تک باقی رہتا ہے۔ رات کے اوقات میں قربانی کرنے کی صورت میں اتنی روشنی کا مناسب انتظام ہونا چاہیے کہ شریعت کی نگاہ میں ذبح کا عمل درست ہوجائے۔

شہری کی بھیجی ہوئی قربانی دیہات میں:
اگر کسی شہر کے رہنے والے نے اپنی قربانی کسی گاؤں میں بھیج دی ہے تو گاؤں میں ہونے کی وجہ سے صبح صادق کے بعد قربانی کا آغاز کیاجاسکتا ہے۔ یہ تفصیل صرف دس ذی الحجہ کے لیے ہے،کیونکہ نمازِ عید صرف دس ذی الحجہ کو ادا کی جاتی ہے۔

قربانی کی قضا :
اگر ان مخصوص تاریخوں میں ذبح کا عمل نہ ہوسکے تو واجب ہونے کی وجہ سے ذمے پر باقی رہتا ہے، جس کی قضا زندگی بھر میں کسی بھی وقت کرنا ضروری ہے،جس کی صورت یہ ہے کہ جانور کی قیمت کسی مستحق کو دے دی جائے۔

قربانی کے جانور
قربانی کے جانوروںمیںبکرا، بکری، دنبہ، دنبی، بھیڑ، بھیڑی، مینڈھا، مینڈھی، گائے، بیل، بھینس، بھینسا، اونٹ، اونٹنی شامل ہیں۔ان کے علاوہ کسی جانور، پرندے وغیرہ کی قربانی اس کے حلال ہونے کے باوجود جائز نہیں۔

قربانی کے جانوروں کی عمریں:
بکرا، بکری مکمل ایک سال کے۔ گائے، بیل، بھینس، بھینسا مکمل دو سال کے ۔ اونٹ اونٹنی پانچ سال کے ہوناضروری ہیں۔ البتہ دنبہ، بھیڑ، مینڈھا(نر و مادہ)چھ ماہ کے ہوں، لیکن اتنے موٹے تازہ ہوں کہ ایک سال کے دکھائی دیتے ہوں تو ان کی قربانی درست ہے۔

قربانی کے عیب دار جانور: مذکورہ بالا جانوروں میں پائی جانے والی بعض کمزوریاں اور عیوب قربانی کے لیے شریعت کی نظر میں رکاوٹ بنتے ہیں،لہٰذا قربانی کے جانوروں کا ان عیوب سے پاک ہونا ضروری ہے، اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

(1)اندھا ہونا

(2)کانا ہونا

(3)بھینگا ہونا

(4)ایک تہائی سے زیادہ بصارت و سماعت سے محروم ہونا۔

(5)ایسا لنگڑا جانور جو چلنے کے دوران چوتھی ٹانگ کا سہارا نہ لے سکتا ہو

(6)ایسا جانورجس کے دانت نہ ہوں۔

(7)ایسا جانور جو پاگل ہو گیا ہو

(8)ایسا جانورجو متعینہ عمر( بکرا، بکری مکمل ایک سال ، گائے، بیل، بھینس، بھینسا مکمل دو سال ،اونٹ اونٹنی پانچ سال،فربہ دنبہ، بھیڑ، مینڈھا(نر و مادہ)چھ ماہ ) سے کم ہو

(9)جس جانور کا کان یا دم یا چکتی ایک تہائی سے زیادہ کٹے ہوئے ہوں

(10)ایسا جانورجو ایسا کمزور ہوکہ اس کی ہڈیوں کا گودا تک ختم ہوگیا ہو اور خود چل کر قربان گاہ تک بھی نہ جاسکے۔ (11)ایسا جانورجوخارشی ہو

(12)ایسا جانورجس کے سینگ جڑسے اکھڑ گئے ہوں یا اتنے ٹوٹ گئے ہوں کہ اس کا اثر دماغ کی ہڈی تک پہنچ گیا ہو

(13)بکری کا ایک تھن اور گائے اور اونٹنی کے دونوں تھن سوکھ گئے ہوں ۔

خصی جانور کی قربانی:
شروع زمانے سے خصوصا ًبکرے کو مشین کے ذریعے خصی کرنے کا رواج رہا او رآج تک قائم ہے۔ نبیﷺ کے زمانے میں بھی یہ رواج موجود تھا اور نبیﷺ نے ایسے بکرے کی قربانی کو درست قرار دیاہے ،لہٰذا بکرے کا خصی ہونا عیب شمار نہیں ہوگااور خصی بکرے کی قربانی درست اور جائز ہے ۔

قربانی کے جانور میں شراکت؟
قربانی کے لیے جتنے چھوٹے جانور مخصوص کیے گئے ہیں، جیسے: بکرا، بکری، دنبہ، دنبی، مینڈھا، مینڈھی، بھیڑ، بھیڑی؛ اِن میں تو ایک سے زائد آدمی شریک نہیں ہوسکتے، یہ فی کس ایک ہی فرد کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔قربانی کے جتنے بڑے جانور ہیں، مثلا ً:گائے، بیل، بھینس، بھینسا، اونٹ، اونٹنی؛ اِن میں فی کس ایک جانور میں زیادہ سے زیادہ سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔

شراکت کی اہلیت کے لیے شرائط:
شرط یہ ہے کہ ایک بڑے جانور میں جو سات افراد شریک ہیں:

اُن سب کا عقیدہ درست ہو۔اُن میں کوئی کافریا مشرک(شیعہ،رافضی،آغاخانی،قادیانی،بوہری،خوجہ ،نوربخشی ) نہ ہو۔ان میں سے کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو، مالی حوالے سے بھی سات برابر کے حصے ہوں اور گوشت کے حوالے سے بھی اندازے سے نہیں، بلکہ تول کر سات برابر کے حصے کیے جائیں۔

قربانی کا جانور کون ذبح کرے؟
قربانی کے جانور کو خود ذبح کرنا افضل ہے،یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں،ہر مسلمان خود اپنے قربانی کے جانور کو ذبح کرسکتاہے،مسلمانوں کی اسی کمزوری کی وجہ سے ایک تو عید وقربانی کے ایام میں قصائی اپنے ریٹ بڑھادیتے ہیں ،دوسرے بہت سارے غیرمسلم بھی محض زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کے لالچ میں قصائی بن جاتے ہیں ،حلیے سے کسی کے مسلمان یاغیرمسلم ہونے کی پہچان دن بدن مشکل ہوتی جارہی ہے کیونکہ مسلمانوں نے بھی،فیشن کے نام پراورماڈرن نظر آنے کے شوق میں غیر مسلموں جیسے حلیے اپنارکھے ہیں،پیشانی پرکسی کے لکھاہوا نہیں ہوتا،نیز کوئی اور ذریعہ بھی تحقیق کااختیار کرنا مشکل ہے کیونکہ سب کو جلد سے جلد قربانی کے فریضے سے سبک دوش ہونے کی فکر لگی رہتی ہے،ان مفاسد سے بچنے کا واضح،آسان اور ایک نکاتی حل یہی ہے کہ اپناقربانی کاجانور خود ذبح کیاجائے۔یہ کوئی پہاڑ نہیں ہے جسے اٹھایانہ جاسکے۔ذیل میں قربانی کا مسنون طریقہ درج کیاجاتاہے:

جانورذبح کرنے کاآسان طریقہ:
قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا درست اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ:

• سب سے پہلے جانور کو قبلہ رخ لِٹادیاجائے۔

• اس کے بعد اُس کے گلے پر جانور کی زندہ حالت میں ابھری ہڈی کے نیچے ’’بسم اللہ اللہ اکبر‘‘پڑھتے ہوئے پوری قوت کے ساتھ تیز دھار چھری اُس وقت تک چلائی جائے کہ اس کے گلے کی چار رگوں میں سے کم از کم تین رگیں کٹ جائیں۔اگر تین سے کم رگیں کٹیں

تو جانور مردار ہوجائے گا۔

• ذبح کرتے ہوئے اس کی گردن علیحدہ نہ کی جائے اور ذبح شدہ جانور کے ٹھنڈا ہوجانے سے پہلے اس کی کھال اتارنے کا کام بھی شروع نہ کیا جائے۔

قربانی کے گوشت کی تقسیم:
شریعت نے قربانی کرنے والے کو مکمل اختیار و اجازت دی ہے کہ وہ(۱) چاہے تو پورا کا پورا گوشت تقسیم کردے اور(۲) چاہے تو کسی کو ایک بوٹی بھی نہ دے۔ ہاں!البتہ شریعت نے اخلاقاًقربانی کرنے والے کو یہ ترغیب دی ہے کہ وہ گوشت کے تین حصے کرلے: ایک اپنے لیے رکھ لے۔دوسرا دوست احباب، پڑوسیوں، رشتے داروں میں تقسیم کردے۔تیسرا اللہ تعالیٰ کے نام پرغریبوں میں تقسیم کردے۔لوگ گوشت کے مذکورہ بالاطریقوں سے تین حصے تو کرتے ہیں۔گوشت کے اچھے حصے اپنے لیے الگ کرلیے جاتے ہیں اوررشتے داروں کو بھی ’’گزارے لائق‘‘گوشت دے دیاجاتاہے،کیونکہ اُن کی طرف سے گلہ گزاری کا خوف ہوتاہے کہ کل کلاں گھرنہ پہنچ جائیں کہ گوشت کے نام پرکیادیاتھا؟مگرغریب کے حصے میں خوب ڈنڈی ماری جاتی ہے۔یوں قربانی کے گوشت کی تقسیم میں ایک ایسے ظلم کاارتکاب عام ہوتاجارہاہے ،جس کی وجہ سے قربانی کے ثواب کے بالکل ضائع یاکم ازکم ناقص ہونے کاخطرہ ہے،وہ یہ کہ جب غریبوں کے حصے کاگوشت نکالاجاتاہے تو اس بات کا پورا’’اہتمام‘‘کیاجاتاہے کہ ان کے حصے میں بغیر گوشت کی ہڈیاں، چھیچھڑے، چربی اورپھیپھڑے وغیرہ ہوں۔دل میں یہی ہوتاہے کہ غریب کوجوملے غنیمت ہے،وہ کون ساہم سے سوال اور بازپرس کرسکتاہے۔یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ ہم سے غریب سوال نہیں کرسکتا،اس لیے ہم جوچاہیں کریں۔کیونکہ قربانی کاگوشت بظاہر توغریب کودیاجارہاہے،لیکن حقیقت میں یہ اللہ تعالیٰ کو دیا جارہا ہے،کیونکہ غریب کودینے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیاہے ۔ایسے لوگ بس!ذراسی دیر کے لیے یہ ضرور سوچیں کہ اللہ تعالیٰ نے نے مجھے کیسا دیا ہے اور میں بدلے میں اُسے کیسا لوٹا رہا ہوں؟

عقیقے کے گوشت کامعاملہ بھی قربانی کے گوشت کی طرح ہے، یعنی عقیقے کا گوشت: سارا خود بھی کھاسکتے ہیں۔اہلِ محلہ اور قرابت داروںکی دعوت کرکے اُن کو بھی کھلاسکتے ہیں،دوسروں کو ہدیہ بھی دے سکتے ہیں، البتہ مستحب یہی ہے کہ قربانی کے گوشت کی طرح عقیقے کے گوشت کے بھی تین حصے کیے جائیں: ایک اپنے لیے رکھ لے۔دوسرا دوست احباب، پڑوسیوں، رشتے داروں میں تقسیم کردے۔تیسرا اللہ تعالیٰ کے نام پرغریبوں میں تقسیم کردے۔یہ مستحب ہے۔عقیقے کے گوشت سے دعوت کرنا بھی جائز ہے اوریہ تاثر بھی درست نہیں کہ یہ گوشت صرف غریب ومستحقین کھاسکتے ہیں۔صاحبِ حیثیت مال داروں کے لیے بھی ایسی دعوت میں شریک ہونا درست اورجائز ہے۔

قربانی کے فضائل
کئی احادیث میں قربانی کے فضائل وارد ہوئے ہیں،ان میں سے چند یہ ہیں:

(1)حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا:یارسول اللہﷺ!یہ قربانی کیا ہے؟(یعنی قربانی کی حیثیت کیا ہے؟)آپ ﷺنے فرمایا:تمھارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہمیں اس قربانی کے کرنے میں کیا ملے گا؟ فرمایا: ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے(پھر) سوال کیا)یا رسول اللہﷺ! اون کے بدلے میں کیا ملے گا؟فرمایا:اون کے ہر بال کے بدلے میں نیکی ملے گی۔(سنن ابن ماجہ، صفحہ 226 ،باب ثواب الاضحیہ)

(2)امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:عید الاضحی کے دن کوئی نیک عمل اللہ تعالی کے نز دیک قربانی کا خون بہانے سے محبوب اور پسندیدہ نہیں اور قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنے بالوں،سینگوں اور کھروں سمیت آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالی کیہاں شرفِ قبولیت حاصل کر لیتا ہے، لہٰذا تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔(جامع تر مذی، جلد1،صفحہ275، باب ما جا ءفی فضل الاضحیہ)

(3)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:کسی خرچ کی فضیلت اللہ تعا لی کے نزدیک بہ نسبت اس خرچ کے جو بقرہ عید والے دن قربانی پر کیا جا ئے ہرگز نہیں۔(سنن الدارقطنی ص774با ب الذبائح ،سنن الکبری للبیہقی، جلد9 صفحہ261)

قربانی کے فضائل کے ساتھ ساتھ استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والے کے بارے میں رحمت للعالمین ﷺنے جووعیدارشاد فرمائی ہے وہ بھی ملاحظہ فرمائیے:

(4)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو قربانی کی وسعت حاصل ہو اور وہ قربانی نہ کر ے تو وہ ہما ری عید گاہ کے قر یب نہ پھٹکے۔(سنن ابن ماجہ، صفحہ226باب الاضاحی ،مسنداحمد، جلد2صفحہ321 رقم8254، السنن الکبریٰ، جلد9صفحہ260کتاب الضحایا،کنز العمال رقم 12261)

اعتراضات اور جوابات:
اعتراض:

قربانی میں ذبح کرنا ہی کیوں ضروری ہے؟ ذبح کے بجائے اتنی رقم کسی رفاہی کام میں یا کسی مجبور و مستحق مسلمان پر خرچ کردینے سے یہ حکم پورا نہیں ہوجاتا؟

جواب:

قربانی کوئی اختیاری حکم نہیں ہے بلکہ واجب حکم ہے اور اس کی یہی صور ت ہے کہ جان کو ذبح کیا جائے ، لہٰذا کوئی محبوب سے محبوب اور بڑے سے بڑا عمل بھی اِس عمل کا بدل نہیں ہوسکتا، دیگر تمام اعمال کی اپنی اپنی علیحدہ اور منفرد حیثیت ہے اور اس نیک عمل کی بھی اپنی منفرد اور علیحدہ حیثیت ہے اور ان تاریخوں میں یہ عمل اللہ تعالی کے نزدیک تمام اعمال پر فوقیت لے جاتا ہے۔قربانی ایک مستقل عبادت ہے جیسے نماز ادا کرنے سے روزہ اور روزہ رکھنے سے نماز ادا نہیں ہوتی، زکو ٰۃادا کرنے سے حج ادا نہیں ہوتا، ایسے ہی صدقہ و خیرات کرنے سے قربانی ادا نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کبھی قربانی ترک نہیں کی۔ اگر ان حضرات کے نزدیک اِس سے بہتر کوئی عمل ہوتا تو وہ یقینا قربانی کے بجائے اسی کو اختیار کرتے۔

نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے:بنی آدم کا کوئی عمل قربانی والے دن جانور کا خون بہانے(قربانی کرنے)ے زیادہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہوسکتا۔(ترمذی شریف، حدیث:1493)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:کسی کام میں مال خرچ کیا جائے تو وہ عید الاضحی کے دن قربانی میں خرچ کیے جانے والے مال سے افضل نہیں۔ (دارقطنی،حدیث:43)

یہی وجہ ہے کہ تمام فقہا کے نزدیک قربانی کے ایام میں،صاحبِ حیثیت افراد کے لیے صدقہ کرنے کے بنسبت قربانی کرنا افضل ہے۔

نبی اکرم ﷺنے استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والوں سے فرمایا کہ وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئیں۔جیساکہ اوپر حدیث گزرچکی ہے۔

نوٹ:قربانی کی جگہ صدقہ و خیرات کرنا اس صورت میں درست ہو گا کہ قربانی کے دن گزر گئے ہوں اور کسی عذر کے باعث قربانی نہیں کی جا سکی ہو تو قربانی کی رقم فقرا و مساکین میں صدقہ کرنا واجب ہے، لیکن قربانی کے تین دنوں میں جانور کی قیمت کے برابر صدقہ کر نے سے فریضہ قربانی ادا نہیں ہو گا بلکہ قربانی نہ کرنے والا گنہگار ہوگا۔

اعتراض:

زندہ جانوروں کے گلے پر چھری پھیر دینا عقلِ سلیم کے خلاف اوربے رحمی ہے۔

جواب:

شریعتِ اسلامیہ سے زیادہ رحم کسی مذہب میں نہیں،حلال جانور کوذبح کرناشریعت کے خلاف نہیں؛ بلکہ ان کے حق میں اپنی موت مرنے سے ذبح ہو کر مرنا بہتر ہے؛ کیوں کہ خود مرنے میںذبح کی موت سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔رہی اِس حکم کی حکمت توجانور کا ذبح کرنا اس لیے ضروری ہے کہ ذبح کی وجہ سے اس کے جسم سے وہ فاسد مادے خارج ہوجاتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں،ذبح کی وجہ سے ہی جانور کا گوشت انسان کے لیے صحت بخش بن جاتاہے۔

اعتراض:

قربانی سے جانوروں کی نسل کشی ہوتی ہے۔

جواب:

یہ اعتراض بھی بیجا اور بے وزن ہے،کیونکہ ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کا یہ نظام چلا آ رہا ہے کہ انسانوں یا جانوروں کو جس چیز کی ضرورت جتنی زیادہ ہوتی ہے،اللہ تعالیٰ اس کی پیدائش اور پیداوارکو اسی قدربڑھا دیتے ہیں اور جس چیز کی جتنی ضرورت کم ہوتی ہے، اس کی پیداوار بھی اتنی ہی کم ہو جاتی ہے۔جب سے ہندوستان میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگی ہے، اس وقت سے وہاں گائے کی پیداوارگھٹ گئی ہے،اسی طرح عربوں نے جب سے سواری اور باربرداری میں اونٹوں سے کام لینا کم کر دیا، وہاں اونٹوں کی پیداوار بھی گھٹ گئی ہے۔ کیا کبھی یہ سننے پڑھنے میںآیا کہ قربانی کی وجہ سے ان ممالک میں جانور ناپید ہو چکے ہیں یا دنیا سے حلال جانور ختم ہو گئے ہیں یا اتنے کم ہو گئے ہیں کہ لوگوں کو قربانی کرنے کے لیے جانور ہی میسر نہیں آئے؟یقینانہیں! اس کے برخلاف کتے اور بلیوں کو دیکھ لیں، ان کی نسل ممالک میں کتنی ہے؟حالاں کہ تعجب والی بات یہ ہے کہ کتے اور بلیاں ایک ایک حمل سے چار چار پانچ پانچ بچے جنتے ہیں؛ لیکن ان کی تعداد بمقابل حلال جانوروں کے بہت کم نظر آتی ہے۔حالانکہ کتے بلی کی نسل بظاہر زیادہ ہونی چاہیے کہ وہ ایک ہی پیٹ سے چار پانچ بچے تک پیدا کرتے ہیں، گائے بکری زیادہ سے زیادہ دو بچے دیتی ہے۔ گائے بکری ہر وقت ذبح ہوتی ہے، کتے بلی کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا؛ مگر پھر بھی یہ مشاہدہ ناقابلِ انکار ہے کہ دنیا میں گائے اور بکروں کی تعداد بہ نسبت کتے بلی کے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالی نے جو اشیا انسان اور حیوانات کے لیے پیدا فرمائی ہیں، جب تک وہ خرچ ہوتی رہتی ہیں، ان کا بدل اللہ کی جانب سے پیدا ہوتا رہتا ہے، جس چیز کا خرچ زیادہ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی پیداوار بھی بڑھا دیتے ہیں، جانوروں میں بکرے اور گائے کا سب سے زیادہ خرچ ہوتا ہے کہ ان کو ذبح کر کے گوشت کھایا جاتا ہے اور شرعی قربانیوں اور کفارات وجنایات میں ان کو ذبح کیا جاتا ہے، وہ جتنے زیادہ کام آتے ہیں، اللہ تعالیٰ اتنی ہی زیادہ اُس کی پیداوار بڑھا دیتے ہیں، جس کا ہر جگہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ بکروں کی تعداد ہر وقت چھری کے نیچے رہنے کے باوجود دنیا میں زیادہ ہے،کتے بلی کی تعداد اتنی نہیں۔

اعتراض:

قربانی کوئی واجب حکم نہیں تھا بلکہ تو اس زمانے میں حاجیوں کی خدمت کے لیے قربانی کی رسم جاری کی گئی تھی۔ اب تو مکہ مدینہ میں گوشت کی فراوانی ہے،لہٰذا قربانی کی ضرورت بھی نہیں رہی۔

جواب:

اس بات کی کوئی حقیقت نہیں۔نبی ﷺ نے دس سالہ مدینہ منورہ کے قیام کے دوران مسلسل ہر سال قربانی فرمائی اور دنیا جانتی ہے کہ حج کے ارکان کا مدینہ منورہ سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ جبکہ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کا فاصلہ اس زمانے میں کئی دنوں کی مسافت کا بنتا تھا ا،س تناظر میں حاجیوں کی ضیافت ایک لاینحل مسئلہ دکھائی دیتا ہے۔ پھر ضیافت کے لیے جانوروں، ان کی عمروں اور دیگر شرائط کی قید بھی عجیب محسوس ہوتی ہے۔ پھر ضیافت میں گوشت کا سالن ہوتا ہے یا کچا گوشت؟ قربانی کے گوشت کی اگر تقسیم بھی ہے تو وہ کچے گوشت کی ہے۔

اعتراض:

پاکستان ایک مقروض ملک ہے اور مقروض پر قربانی واجب نہیں، لہٰذا پاکستانیوں پر قربانی کا اطلاق نہیں ہوناچاہیے۔

جواب:

قربانی ریاست کا معاملہ نہیں بلکہ فرد کا انفرادی معاملہ ہے۔کسی ملک کے مقروض ہونے سے اُس کے صاحبِ حیثیت باشندوں سے قربانی کا حکم ساقط نہیں ہوگا۔

اعتراض:

ہر سال جانور خریدنے اور اسے ذبح کرنے پر کثیر رقم خرچ ہوتی ہے اور یہ اسراف ہے۔

جواب:

حیرت ہے کہ ایک واجب حکم کی تعمیل میں تو اسراف کا فلسفہ نظر آتاہے،لیکن اِس کے علاوہ ہر طرف پھیلا ہوااسراف نظر نہیں آتا۔پیدائش پر رسومات و تقریبات، ختنہ پر رسومات و تقریبات، عقیقے پر رسومات و تقریبات، ہر سال سالگرہ کے نام سے رسومات و تقریبات، بسم اللہ پر رسومات و تقریبات، ختم قرآن پر آمین کے نام سے رسومات و تقریبات، ملازمت ملنے پر رسومات و تقریبات، ترقی ہونے پر رسومات و تقریبات، منگنی، مہندی، بری، مایوں، نکاح، ولیمے پر رسومات و تقریبات کا سلسلہ، ولیمے کے بعد سسرال و دیگر رشتے داروں کے ہاں دعوتوں کا سلسلہ، حج و عمرے پر روانگی و واپسی کے مواقع پر رسومات و تقریبات و ہدایا کے تبادلے کا سلسلہ، موت کے مواقع پر رسومات و تقریبات، ہر سال برسی کے نام سے رسومات و تقریبات وغیرہ؛ ان میں سے کونسا سلسلہ ایسا ہے جسے شریعت نے وجوب کا درجہ دیا ہو؟ لیکن تمام طبقات نے ان تمام سلسلوں کوعملًا!واجب ہی کا درجہ دے رکھا ہے کہ نہ تقریبات کی تعداد میں کمی، نہ مہمانوں کی تعداد میں کٹوتی، نہ کھانے کے آئیٹمز میں کوئی کسر، قربانی جیسے مطلوب عمل پر نظریں گاڑنے والے ان غیرمفید، مضرصحت، غیر تعمیری و غیرپیداواری سلسلوں کی طرف اپنی توجہ خاص مرکوز کریں اور رفاہی و امدادی کاموں کی ترویج کے لیے ان رسومات کے خلاف ذہن سازی کا فریضہ انجام دیں۔ جس ملک کے ہر تیسرے گھر کا بوڑھا خون تھوکتا ہو، بیوہ کا چولہا نہ جلتا ہو، یتیم تعلیم سے محروم ہوں، بے سہارا بیٹیوں کے ہاتھ پیلے نہ ہوسکتے ہوں اور ان کے سروں میں چاندی کے تاروں کا برق رفتاری سے اضافہ ہورہا ہو، بے روزگاری کی آندھیاں چل رہی ہوں۔ دہشت کے موسلادھار اولے گر رہے ہوں، قتل و غارتگری نے ماحول حبس زدہ کردیا ہو، چوری، ڈکیتی، بھتاخوری، قبضہ مافیا، اغوا برائے تاوان کا سکہ رائج الوقت ہو وہاں اخلاقی طور پر رسومات و تقریبات کے یہ چونچلے اسراف نہیں تو کیاہیں؟

اصل مسئلہ قربانی سے ہے:
اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ اسراف کا نہیں،نہ غریبوں کی امداد اور رفاہی کاموں کا ہے،بلکہ اصل مسئلہ قربانی کے اِس مہتم بالشان حکم سے ہے،ہر سال کروڑوں کی تعداد میں مسلمانوں کی طرف سے اپنے رب کے حکم،حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی سنت اور اپنے نبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق جانوروں کو ذبح کرنے سے اسلام کی جس شان وشوکت کا مظاہرہ ہوتا ہے اور مسلمانوں کی اسلام کے ساتھ قلبی وابستگی،انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ عقیدت،اپنے نبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل کے جذبے اور شریعت کے ساتھ تعلق کا عملی اظہار ہوتاہے،مسئلہ اِس وابستگی، عقیدت، دینی جذبے اور عملی تعلق کی وجہ سے ہے۔یہی وجہ ہے کہ قربانی کو اللہ تعالیٰ نے شعائراللہ یعنی اسلام کی پہچان قرار دیا ہے،لہٰذا مسلمانوں کو اسلام دشمنوں کے کسی اعتراض واشکال اور مغالطے وپروپیگنڈے کا شکار ہوکر اِس عظیم عمل کو ترک نہیں کرنا چاہیے۔یہی قربانی پل صراط پر سواری بنے گی،اسی قربانی کے بالوں کے برابر نامۂ اعمال میں نیکیاں لکھی جائیں گی،اس قربانی پر ہونے والا خرچہ ہی نہیں ،اِس کا فضلہ تک میزان میں تولاجائے گا۔

قربانی کے مسائل
مسئلہ: قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے بقدر مال ، رقم یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں اورمال کا مالِ تجارت ہونا بھی شرط نہیں ہے، ذی الحجہ کی دسویں تاریخ سے لے کر بارہویں تاریخ کا سورج غروب ہونے سے پہلے اگرکوئی شخص نصاب کا مالک ہوجائے تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہے۔ مسئلہ: قربانی کا تعلق کرائے کے گھر یا ذاتی گھر میں رہنے سے نہیں ،بہرصورت صاحبِ نصاب پر قربانی کرنا واجب اور ضروری ہے۔ مسئلہ: اگر کسی شخص کے اوپر قرض ہو اور اُس کے پاس کچھ مال بھی ہو تو اگر یہ مال اتنا ہو کہ عید کے تیسرے دن تک واجب الادا قرض ادا کرنے کے بعد بھی اُس کے پاس بنیادی ضرورت سے زائد، نصاب کے بقدر یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر مال بچا رہتا ہے، تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہوگیاو راگر قرض ادا کرنے کے بعد نصاب سے کم مال بچے، تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔ مسئلہ: اگر کسی کے پاس صرف اتنا مال ہے، جس کی قیمت قرض سے کم ہے اور اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال نہیں تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی،ایسے شخص کی بیوی یابالغ اولاد کا تعلق اُس شخص کے ساتھ نہیں،اگر اُن کے پاس نصاب موجود ہوتو ان پر مستقل قربانی واجب ہوگی۔ مسئلہ: مال دار شخص کے قربانی کے لیے خریدے ہوئے جانور میں قربانی سے پہلے کوئی عیب پیدا ہوجائے تو اُسے لازمی طور پر دوسرا بے عیب جانور خریدنا ہوگا۔ اگر جانور گم ہوجائے تو بھی دوسرا خریدنا ہوگا۔ البتہ دوسرا خریدنے کے بعد پہلے کا عیب دور ہوجائے یا پہلا مل جائے تو اس کو اختیار ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک کی قربانی کرلے۔ مسئلہ: جس شخص پر قربانی کرنا غربت کی وجہ سے واجب نہ ہو اور اُس نے قربانی کے دنوں میں قربانی کی نیت سے جانور خرید لیا تو اس پر بعینہِ اسی جانور کی قربانی لازم ہے، اس جانور کو نہ فروخت کرسکتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے مقصد کے لیے کام میں لاسکتا ہے۔ اگر قربانی کے دن گزر گئے اور اس نے وہ جانور ذبح نہیں کیا تو اس جانور کو صدقہ کرنا ضروری ہے۔ مسئلہ: غریب شخص کے قربانی کے جانور میں کوئی عیب پیدا ہوجائے تو اسے دوسرا خریدنے کی ضرورت نہیں ، اسی جانور کو قربانی کے دنوں میں ذبح کرلے۔ اگر دوسرا قربانی کی نیت سے خرید لیتا ہے تو دونوں جانور قربان کرنا ہوں گے۔ مسئلہ: غریب شخص کا قربانی کی نیت سے خریدا ہوا جانور قربانی سے پہلے کھو گیا تو اسے دوسرا جانور خریدنے کی ضرورت نہیں۔ اگر قربانی کے دنوں میں مل جائے تو اس کی قربانی کرلے، قربانی کے دن گزر جانے کے بعد ملے تو اس جانور کو صدقے میں دے دے، اگر نہ ملے تو اُس شخص پر اس کے بدلے کچھ لازم نہیں، البتہ دوسرا خرید لیا تو دوسرے کی قربانی تو لازم ہوگی ہی لیکن پہلا مل گیا تو اسے بھی قربان کرنا ہوگا۔ مسئلہ: اگر قربانی کی نیت سے خریدی ہوئی گائے سے متعلق معلوم ہو جائے کہ اس کی عمر دو سال مکمل نہیں تو اس کی قربانی درست نہیں۔ مسئلہ: اپنی قربانی کا گوشت اگر رقم صدقہ کرنے کی نیت سے بیچا جائے تو جائز ہے اور اُس کا خریدنا بھی جائز ہے، قیمت کا صدقہ کرنا لازم ہے۔ مسئلہ: کسی کوقربانی کا گوشت ہدیہ یا صدقہ میں ملا ہو تو اُس کو بیچ کر رقم صدقہ کرنا ضروری نہیں۔ مسئلہ: جانور کی عمر معلوم کرنے کا حتمی پیمانہ صرف اس کے دانت نہیںہیں،بلکہ اگر یقینی طور پر معلوم ہوجائے کہ ان جانوروں کی اتنی عمریں ہوگئی ہیں؛مثلاً: جانور کو اپنے سامنے پلتا بڑھتا دیکھا ہو اور ان کی عمر بھی معلوم ہو؛تو ان کی قربانی درست ہے، پکے دانت نکلنا ضروری نہیں، بلکہ مدت پوری ہونا شرط ہے۔ مسئلہ: آج کل چونکہ فساد کا غلبہ ہے؛ اس لیے صرف بیوپاری کی بات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا احتیاطا ًدانت کو عمر معلوم کرنے کے لیے علامت کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ دانتوں کی علامت ایسی ہے کہ اس میں کم عمر کا جانور نہیں آسکتا،کیونکہ تجربے سے یہ بات ثابت ہے کہ مطلوبہ عمر سے پہلے جانور کے دو دانت نہیں نکلتے۔ ہاں! زیادہ عمر کاجانور آنا ممکن ہے۔ مسئلہ: جانور کے اضافی کان کا ہونا اس میں عیب ہے اور عیب دار جانور کی قربانی اور عقیقہ درست نہیں۔ مسئلہ: اگر قربانی کے جانور کا کان ایک تہائی یا اس سے کم کٹا ہوا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے اور اگر ایک تہائی سے زائد کٹا ہو تو اس کی قربانی درست نہیں ہے۔ مسئلہ: قربانی کے وقت سے پہلے کسی جانور کی ٹانگ ٹوٹ جائے اور جانور چلتے وقت وہ ٹانگ زمین پر بالکل نہ رکھے، بلکہ تین ٹانگوں کے سہارے چلے اور ٹوٹی ہوئی ٹانگ زمین سے اٹھا کر چلے تو یہ قربانی میں بڑا اور واضح عیب ہے، اس کی موجودگی میں قربانی درست نہیں ہوگی۔ مسئلہ: قربانی کے جانور کی ٹانگ قربان گاہ پہنچنے سے پہلے راستے میں ٹوٹ جائے، مگر جانور چلتے وقت ٹوٹی ہوئی ٹانگ کو زمین پر رکھ کر اس کے سہارے کے ساتھ چل رہا ہو یا قربانی کا جانور قربان گاہ تک پہنچ جائے اور ذبح کا عمل شروع ہونے کے بعد؛مثلاً: گراتے وقت اس کی ٹانگ ٹوٹ جائے تو ان صورتوں میں قربانی درست ہوجائے گی۔لیکن اگر جانور کی ٹانگ راستے میں ٹوٹ جائے اور جانور اس ٹانگ کو زمین پر بھی نہیں رکھ رہا ہو تو اس صورت میں قربانی درست نہیں ہوگی۔اگریہ قربانی واجب ہے تو اس صورت میں اس کے متبادل دوسرا صحیح جانور لینا ضروری ہے۔ اور اگر قربانی نفلی ہو یا غریب آدمی قربانی کا جانور لایا ہو تو اس صورت میں اسی جانور کی قربانی کافی ہے۔ نوٹ: ذبح کرتے ہوئے کوئی عیب پیدا ہوجائے تو وہ معاف ہے اس کا قربانی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ مسئلہ: اگر کسی جانور کے سینگ کا اوپر والا حصہ ٹوٹ کر گر جائے اور سینگ کی جڑیں مضبوط ہوں، وہ نہ ٹوٹی ہوں تو ایسے جانور کی قربانی کرنا جائز ہے۔ مسئلہ: اتفاق سے کسی جانور کے اکثر دانت ابھی تک آئے ہی نہ ہوں، یا اکثر دانت ٹوٹ چکے ہوں جس کی وجہ سے وہ چارہ نہ کھاسکے تو ایسے جانور کی قربانی درست نہیں ہوگی۔ مسئلہ: جانور کے جسم میں دانہ نکلنا ایسا عیب نہیں، جس کی بنا پر اس کی قربانی درست نہ ہو، ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔ مسئلہ: قربانی کا جانور اگر پہلے سے پال لیا ہو اور چارہ وغیرہ گھر پر کھلاتے رہے تو اس جانور کے بال کا استعمال خود کرنا بھی جائز ہے اور ان بالوں کو فروخت کرنا بھی جائز ہے۔ مسئلہ: جس شخص کا قربانی کا ارادہ ہو ، اس کے لیے ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی تک جسم کے زائد بال نہ ہٹانا اور ناخن نہ تراشنا مستحب ہے، واجب نہیں، اگر کسی کو اس کی ضرورت محسوس ہو تو جسم کی صفائی کرسکتا ہے۔ مسئلہ: قربانی کی نیت سے خریدا ہوا جانور اگر کسی نے بیچ دیا تو اس سے حاصل ہونے والی قیمت کی درج ذیل صورتیں ہیں: 1. مکمل قیمت(بیچے گئے جانور کی سابقہ قیمت اور اس پر حاصل ہونے والے نفع)سے قربانی کا صحت مند اور اچھا جانور خرید لے۔ 2. اگر ایک سے زائد جانور اس میں خریدے جاسکتے ہوں تو ایک سے زائد جانور قربانی کی نیت سے خرید لے۔ 3. ایک جانور قربانی کی نیت سے خریدنے کے بعد کچھ رقم بچ جائے تو اس میں مزید پیسے ملا کر دوسرا جانور قربانی کے لیے خریدلے۔ 4. ایک جانور قربانی کی نیت سے خریدلے، اور بقیہ رقم صدقہ کردے۔ نوٹ: قربانی کا جانور بیچنے کے بعد نفع میں حاصل ہونے والی رقم خود استعمال کرنا جائز نہیں ہے؛ لہٰذا ایسی صورت میں جو رقم بچ گئی اسے صدقہ کردیا جائے۔ مسئلہ: عید الاضحیٰ کے ایام میں ایک تولہ سونے والے شخص کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنا مال یا سامان باقی رہا جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو اس پر قربانی واجب ہوگی۔ اگر کسی کے پاس صرف ایک تولہ سونا ہے، اس کے علاوہ چاندی یا نقدی یا زائد سامان میں سے کچھ نہیں تو ایسے شخص پر قربانی واجب نہیں ۔ مسئلہ: جس شخص نے ایک لاکھ روپے قرض لیے ہوں اور اس کے پاس اس ایک لاکھ کے علاوہ مالِ زکوٰۃ(سونا، چاندی، رقم یا مالِ تجارت)میں سے کچھ نہ ہو تو اس پر قربانی واجب نہیں۔اسی طرح اگر کسی کو قرض دینے کے بعدقرض دینے والے کے پاس قربانی کے ایام میں ضرورتِ اصلیہ سے زائد اتنی رقم نہ ہو یا ضرورت سے زائد ایسا سامان نہ ہو جسے بیچ کر قربانی کی جاسکے تو اس پربھی قربانی واجب نہیں۔ مسئلہ: جانور حلال ہونے کے لیے اللہ کے نام پر ذبح کرنا ضروری ہے، قربانی کی مشہور دعا پڑھنا جانور کے حلال ہونے کے لیے لازم نہیں بلکہ مستحب ہے، صرف ’’بسم اللہ اللہ اکبر‘‘پڑھ لینا بھی کافی ہے۔ مسئلہ: ہر صاحبِ نصاب عاقل بالغ مسلمان کے ذمہ قربانی کرنا واجب ہے، اگر ایک گھر میں متعدد صاحبِ نصاب افراد ہوں تو ایک قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے کافی نہیں ہوگی، بلکہ گھر میں رہنے والے ہر صاحبِ نصاب شخص پر الگ الگ قربانی کرنا لازم ہوگی۔ مسئلہ: اگر بیوی صاحبِ نصاب ہے تو اس کے ذمہ الگ قربانی ہے، شوہر کے قربانی کرلینے سے اس کی قربانی ادا نہیں ہوگی، اور نہ شوہر کے اُس کے نام سے قربانی کرنے سے شوہر کی ادا قربانی ہوگی۔نابالغ بچوں پر قربانی واجب نہیں، جو بچے بالغ اور صاحبِ نصاب ہوں، ان کے ذمے اپنی قربانی ادا کرنا خود واجب ہوگا۔ مسئلہ: میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے ،اس قربانی کا گوشت کھانا سب کے لیے جائز ہوگا۔ سارا گوشت غربا میں تقسیم کرنا ضروری نہیں، البتہ اگر میت نے اپنی طرف سے قربانی کی وصیت کی ہو اور میت کے مال سے ہی قربانی کی جارہی ہو تو اس کا گوشت صدقہ کرنا ہوگا۔ مسئلہ: چند افراد مل کر مشترکہ رقم سے کسی میت کے ایصالِ ثواب کے لیے ایک حصہ قربانی کرنا چاہیں تو اس کی صورت یہ ہے کہ سب لوگ اپنے حصے کی رقم کسی ایک کو ہبہ(ہدیہ)کر دیں اور وہ قربانی کا ایک حصہ اس مرحوم کے نام پر کردے، جس کے نام پر سب قربانی کرنا چاہتے ہیں، اس سے قربانی بھی ہوجائے گی اور میت کو ثواب بھی مل جائے گا۔ مسئلہ: اگر کوئی مسلمان صوم و صلوٰۃ کا پابند ہو اور اس کے ظاہر سے غالب گمان یہی ہو کہ وہ کفریہ عقائد نہیں رکھتا تو ایسے شخص سے قربانی کروائی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر اس شخص کے حالات سے غالب گمان کچھ اور ہو تو اس سے ذبح کروانے میں احتیاط کرنی چاہیے، ہاں!اگر خود ذبح کر لیا جائے اور گوشت اس سے بنوا لیا جائے یا دیگر انتظامات اس سے کروائے جائیں تو یہ جائز ہے، تاہم اگر کوئی صحیح العقیدہ ملازم میسر ہو تو اسی سے ملازمت کا کام لینا زیادہ بہتر ہے۔ مسئلہ: عورت اگر ذبح کرنا جانتی ہو تو اس کے لیے قربانی، عقیقہ، یا صدقہ کا جانور یا کسی اور غرض سے کوئی جانور ذبح کرنا جائز ہے۔ ذبیحہ کے حلال ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ذبح کرنے والا مردہی ہو، بلکہ عورت کا ذبیحہ بھی حلال ہے۔ مسئلہ: قربانی کے جانور میں عقیقہ کا حصہ رکھا جا سکتا ہے۔ مسئلہ: قربانی کے ایام کے علاوہ باقی ایام میں بھی بڑا جانور(گائے، بیل، اونٹ وغیرہ)لے کر عقیقہ کرنا درست ہے۔ پورا جانور ایک ہی بچے کی طرف سے عقیقہ کرسکتے ہیں یا ایک گائے یا اونٹ میں جس طرح قربانی کے سات حصے ہوتے ہیں اس طرح سات عقیقے بھی ہوسکتے ہیں۔ مسئلہ: بڑا جانور ہو تو اس میں بعض حصے عقیقے کے اور بعض نفلی صدقے کے طور پر رکھ سکتے ہیں، البتہ عقیقہ کے چھوٹے جانور میں ایک سے زائدکی نیت کرنا درست نہیں؛ لہٰذا عقیقہ کرنا ہو تو صرف عقیقے کی نیت کی جائے۔ مسئلہ: قربانی کا گوشت غیرمسلموں کو بھی دیا جاسکتا ہے۔ البتہ اسے فروخت نہیں کیا جاسکتا نہ ہی کسی کی خدمت کے بدلے بطور معاوضہ و اجرت دیا جاسکتا ہے۔ چرم قربانی اورقربانی کرنے والے کااختیار
قربانی کے جانور کی کھال کے سلسلے میں بھی شریعت نے قربانی کرنے والے کو مکمل اختیاردیاہے کہ وہ اسے جس مصرف میں لاناچاہے لاسکتاہے،لہٰذا:

• قربانی کی کھال اپنے ذاتی مصرف میں بھی لائی جاسکتی ہے۔

• قربانی کی کھال کسی کو ہدیہ بھی کی جاسکتی ہے۔

نوٹ:اگر قربانی کرنے والا قربانی کی کھال فروخت کردیتاہے توشریعت کاحکم یہ ہے کہ اب یہ شخص اس کی رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں نہیں لاسکتا،بلکہ اس کی قیمت کو لازما ًمستحق زکوٰۃ پر صدقہ کرنا ہوگا۔

قربانی کی کھالوں کا بہترین مصرف:
اگر قربانی کرنے والا قربانی کی کھال کوذاتی استعمال میں بھی نہیں لاناچاہتا اور کسی کو ہدیہ بھی نہیں کرناچاہتاتواس کابہترین مصرف یہ ہے کہ وہ یہ کھال دینی مدارس کے طلبا کے لیے صدقہ کرے،مدارسِ دینیہ کے طلبہ اس کے مستحق اور سب سے افضل مصرف ہیں ۔اگرچہ قربانی کی کھال کسی بھی مستحق کو دی جاسکتی ہے ،مگر مدارس کے طلبہ کو دینے میں اجر دُگناہے،کیونکہ وہ دن رات اللہ اور رسول ﷺ کے فرامین ،قرآن وسنت کی تعلیم اور دین سیکھنے میں مصروف ہیں،جب تک وہ دین سیکھیں گے اور بعد میں دوسروں کو دین سکھائیں گے اِن طلبہ کی کسی بھی طرح معاونت کرنے والے کوثواب ملتارہے گا،گویا قربانی کی کھال مدارس کے طلبہ کو دینے میں صدقۂ جاریہ والااجرہے کہ دینے والا دنیاسے چلابھی جائے گامگراس کے نامۂ اعمال میں اجر وثواب لکھاجاتارہے گا،کیونکہ یہ دین اور علوم دینیہ کے ساتھ معاونت کی ایک صورت ہے۔

اجتماعی قربانی کے مسائل
اجتماعی قربانی کرنے والے منتظمین اپنی حیثیت کو اپنی مرضی سے خود متعین کر سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر اس کی چند صورتیں ہوسکتی ہیں اور اس حیثیت کے فرق کی وجہ سے ان کا منافع رکھنے یا نہ رکھنے کے حکم میں فرق آئے گا،جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

• خرید وفروخت کی صورت: اس کا طریقہ یہ ہے کہ اجتماعی قربانی کا اہتمام کرنے والے اپنے پیسوں سے قربانی کا جانور خرید لیں، اور اس پر خود یا اپنے وکیل کے ذریعے قبضہ کرلیں، اس کے بعد جو شخص اجتماعی قربانی میں حصہ لینا چاہے اس کو مکمل جانور یا مطلوبہ حصے؛مثلاً: ایک، دو یا تین وغیرہ،اپنا منافع رکھ کرفروخت کردیں۔ اجتماعی قربانی والے شخص کو بتادیں یا رسید پر لکھ دیں کہ فی حصہ اتنے میں فروخت کیا جاتا ہے، پھر اُن کی طرف سے نائب بن کر ان کی اجازت سے قربانی کی جائے اور قربانی کے بعد خریدار کو جانور میں سے اس کے حصے کے بقدر دے دیا جائے۔

• وعدہ بیع کی صورت: اس کا طریقہ یہ ہے کہ مثلا اجتماعی قربانی کرنے والوں کے پاس فی الحال جانور خریدنے کا انتظام نہیں تو وہ جانور کے بیوپاریوں سے قیمت طے کرلیں اور ان سے وعدہ بیع کرلیں، پھر اجتماعی قربانی میں حصہ لینے والوں سے وعدہ بیع کرلیں کہ ہم آپ کو ایک حصہ اتنے میں دیں گے (اور اس میں اپنا منافع رکھ لیں جیسا کہ پہلی صورت میں تھا) اور وعدہ بیع کی مد میں پیشگی ان سے رقم لے لیں، پھر آخر میں جانور خرید لیں اور جانور خریدنے کے بعد ان کا حصہ ان کی طرف سے ذبح کرلیا جائے۔

• وکالت:اجتماعی قربانی کرنے والوں کی طرف سے جانور خریدا جائے، اور اس صورت میں جو جو اخراجات آتے ہیں وہ سب بھی ان کو بتا کر ان سے لے لیے جائیں، قربانی کا جانور خریدنے اور اس پرآنے والے تمام اخراجات کے بعد جو رقم بچ جائے وہ حصہ داروں کو واپس کی جائے، اس رقم کو ان کی اجازت کے بغیر اپنے پاس رکھ لینا بالکل ناجائز ہے، ہاں اگر وہ خود ہی خوش دلی سے باقی بچ جانے والی رقم ادارہ کو عطیہ کردیں تو اس صورت میں یہ رقم لینا درست ہے ۔وکالت والی صورت میں پہلے سے ہی طے کرکے الگ سے حق الخدمت/سروس چار جز کے نام سے اجتماعی قربانی میں حصہ لینے والوں سے طے شدہ اجرت وصول کی جاسکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم !

مسئلہ:

اجتماعی قربانی میں اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ حصہ داروں میں سے کوئی شریک حرام آمدنی والا نہ ہو، اگر شرکا میں سے کسی شریک کی کل آمدنی یا اکثر آمدنی حرام ہو تو ایسے شخص کی شرکت کے ساتھ قربانی درست نہ ہوگی۔ مسئلہ: گائے، بھینس، بیل اور اونٹ میں زیادہ سے زیادہ سات افراد شریک ہوسکتے ہیں، سات سے کم بھی شریک ہوسکتے ہیں، جبکہ بکری، دنبہ اور بھیڑ میں صرف ایک ہی شخص کی قربانی درست ہوتی ہے۔ مسئلہ: اجتماعی قربانی میں ہر شریک کی نیت عبادت اور قربانی کی ہونی چاہیے، اگر کسی ایک شریک کی نیت صرف گوشت حاصل کرنا ہو تو تمام شرکاء کی قربانی متاثر ہوجاتی ہے۔ مسئلہ: اگر کسی شریک کی نیت عقیقہ، نذر یا دم کی ہو تب بھی شرکت جائز ہے، کیونکہ یہ سب عبادات میں داخل ہیں۔ مسئلہ: تمام شرکاء کے حصے برابر ہونا ضروری ہیں، کسی کا حصہ کم یا زیادہ مقرر کرنا جائز نہیں۔ مسئلہ: ایک شخص پورے بڑے جانور کی قربانی اپنی طرف سے کرسکتا ہے، اجتماعی شرکت ضروری نہیں۔ مسئلہ: جانور خریدتے وقت تمام شرکاء کا موجود ہونا ضروری نہیں، ایک شخص جانور خرید کر بعد میں دوسروں کو شریک کرسکتا ہے۔ مسئلہ: قربانی سے پہلے تمام شرکاء اور ان کے حصے متعین ہونا ضروری ہیں۔ مسئلہ: اجتماعی قربانی میں ایک شخص دوسرے افراد کی طرف سے وکیل بن کر جانور خرید سکتا ہے اور قربانی کراسکتا ہے۔ مسئلہ: قصائی کی اجرت قربانی کے گوشت، کھال یا آلائش میں دینا جائز نہیں، بلکہ الگ رقم سے اجرت دی جائے گی۔ مسئلہ: قصائی کو بطور ہدیہ گوشت دینا جائز ہے، بشرطیکہ وہ اجرت میں شمار نہ ہو۔ مسئلہ: اجتماعی قربانی کے گوشت کو وزن کرکے تقسیم کرنا چاہیے تاکہ کمی بیشی نہ ہو۔ مسئلہ: اگر تمام شرکاء راضی ہوں اور گوشت تقسیم کرنے کے بجائے صدقہ کردیا جائے تو وزن کرنا ضروری نہیں۔ مسئلہ: ایک گھر میں اگر کئی افراد صاحبِ نصاب ہوں تو ہر ایک پر الگ قربانی واجب ہوگی، ایک حصہ سب کی طرف سے کافی نہیں ہوگا۔ مسئلہ: اجتماعی قربانی میں شریک ہر شخص کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ مسئلہ: قربانی کے جانور کا شرعی عمر کو پہنچنا اور عیوب سے پاک ہونا ضروری ہے۔ مسئلہ: آن لائن یا اداروں کے ذریعے اجتماعی قربانی کرانا جائز ہے، بشرطیکہ شرعی اصولوں کی پابندی کی جائے۔ مسئلہ: قربانی کے حصے خرید و فروخت یا محض کاروباری نیت سے لینا جائز نہیں، کیونکہ قربانی عبادت ہے تجارت نہیں۔ مسئلہ: قربانی صرف ایامِ قربانی یعنی 10، 11 اور 12 ذوالحجہ میں ہی ادا کی جاسکتی ہے، ان دنوں کے بعد قربانی ادا نہیں ہوگی۔
مأخَذ

(مزید تفصیلات ادارہ دارالتصنیف جامعہ بنوریہ عالمیہ کے شائع شدہ کتابچہ’’سنت ابراہیمی‘‘میں ملاحظہ فرمائیے!)

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
56