(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
علامہ اقبال اور مسئلۂ اجتہاد
ایک علمی اشکال :
علامہ محمد اقبال کی فکر، بالخصوص ان کے تصورِ اجتہاد پر گفتگو کرتے ہوئے ایک بنیادی سوال علمی حلقوں میں اکثر زیرِ بحث آتا ہے۔ یہ سوال محض شخصی اعتراض نہیں بلکہ اصولی اور منہاجی (Methodological) نوعیت کا حامل ہے:“ایک ایسی شخصیت جو روایتی معنوں میں نہ مذہبی عالم تھی، نہ فقہ کی متخصص (Specialist) اور نہ ہی کسی مدرسے کی فارغ التحصیل؛ وہ آخر اسلامی قانون کے سب سے حساس اور فنی باب یعنی ‘اجتہاد’ پر گفتگو کرنے کی علمی و شرعی اہلیت کہاں سے لاتی تھی؟”

یہ اشکال اس وقت مزید گہرا ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اقبال خود کسی جزوی فقہی مسئلے (مثلاً وراثت یا معاملات کی پیچیدگیاں) میں رائے دینے سے گریز کرتے تھے اور سائل کو ماہرینِ فن کی طرف رجوع کا مشورہ دیتے۔ یہاں سے یہ منطقی سوال جنم لیتا ہے کہ جو شخص ایک “جزئیے” میں رہنمائی کی اہلیت کا دعویٰ نہیں رکھتا، وہ پوری اسلامی تہذیب کے “اصولِ حرکت” (Principle of Movement) پر تبصرے اور تجزیے پیش کرنے کا مجاز کیسے ہو گیا؟

ذیل میں اس الجھن کا علمی، تہذیبی اور فلسفیانہ تناظر میں تجزیہ پیش کیا گیا ہے تاکہ پی ایچ ڈی سطح کے محققین کے لیے اس مسئلے کی گرہیں وا ہو سکیں۔

فقیہ اور مفکر کے دائرۂ کار کا امتیاز:
علمی دنیا میں “ماہرِ فن” (Jurist) اور “فلسفیِ نظام” (System Philosopher) کے مابین ایک واضح خطِ امتیاز موجود ہوتا ہے۔

فقیہ کا منصب:
فقیہ کا کام قانون کے موجودہ ڈھانچے (Legal Framework) کے اندر رہتے ہوئے نصوص سے جزوی احکام کا استخراج (Deduction) کرنا ہے۔ اس کا دائرہ کار “تکنیکی” اور “عملی” ہوتا ہے۔

مفکر کا منصب:
مفکر یا فلسفی کا کام قانون کی “روح”، اس کے “مقاصدِ کلیہ” (Higher Objectives) اور اس کی “تاریخی سمت” کا تعین کرنا ہوتا ہے۔اقبال کا مقصود فتاویٰ صادر کرنا نہیں تھا، بلکہ وہ اس “فکری جمود” (Intellectual Stagnation) کا علاج دریافت کر رہے تھے جس نے مسلم ذہن کو تخلیقی طور پر بانجھ کر دیا تھا۔ وہ عمارت کے نلکے یا تاریں ٹھیک کرنے والے “میکینک” نہیں تھے، بلکہ وہ اس “آرکیٹیکٹ” کی مانند تھے جو پوری عمارت کی بنیادوں اور اس کے نقشے کی موزونیت پر بحث کر رہا ہو۔

اجتہاد بطور “تہذیبی استعارہ” (Civilizational Metaphor):کلاسیکی فقہ میں اجتہاد ایک “فنی اصطلاح” (Technical Term) ہے، جس کا مطلب:“بذلُ الوسعِ فی استنباطِ الحکم الشرعی”ہے۔ لیکن اقبال کے ہاں اجتہاد محض ایک قانونی عمل نہیں بلکہ ایک تہذیبی استعارہ بن جاتا ہے۔

اقبال نے اپنے خطبات

The Reconstruction of Religious Thought in Islam

میں اجتہاد کو اسلام کا:“Principle of Movement”قرار دیا۔ ان کے نزدیک اجتہاد وہ قوت ہے جو اسلام کو ایک تاریخی یادگار (Museum Piece) بننے سے روکتی ہے اور اسے ہر دور کے زندہ چیلنجز کا جواب دینے کے قابل بناتی ہے۔

جب اقبال اجتہاد کی بات کرتے ہیں تو ان کی مراد “قانونی لبرل ازم” نہیں بلکہ وہ “فکری بیداری” ہے جو وحی کے ابدی اصولوں کو تغیر پذیر زمانے کے ساتھ ہم آہنگ کر سکے۔

انفرادی اتھارٹی سے اجتماعی ادارے کی طرف انتقال:
یہ نکتہ درست ہے کہ اقبال روایتی شرائطِ اجتہاد پر انفرادی طور پر پورے نہیں اترتے تھے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اقبال نے خود اس کا حل بھی پیش کیا۔انہوں نے تجویز دی کہ جدید دور میں اجتہاد کا حق کسی ایک فرد کے بجائے:

“مجلسِ قانون ساز” (Legislative Assembly)کو منتقل کر دینا چاہیے۔

اقبال لکھتے ہیں:
“The transfer of the power of Ijtihad from individual representatives of schools to a Muslim legislative assembly…” “اجتہاد کی قوت کا انفرادی نمائندوں سے جدید مسلم قانون ساز اسمبلیوں کی طرف منتقل ہونا، عصرِ حاضر میں اجماع کی واحد ممکنہ صورت ہے۔”

اس نظریے کے ذریعے اقبال نے اس اعتراض کو علمی طور پر حل کرنے کی کوشش کی کہ کوئی غیر متخصص شخص دین کی تعبیر کر رہا ہے۔ ان کے نزدیک اجتہاد اب علما، ماہرینِ قانون، ماہرینِ معاشیات اور دیگر علوم کے متخصصین کے باہمی اشتراک (Collective Deliberation) کا نام ہے۔

علمی اہلیت کا تقابلی تناظر:
اقبال کی علمی اہلیت کو صرف روایتی فقہی ترازو میں تولنا ان کے فکری مقام کو محدود کر دینے کے مترادف ہوگا۔ ان کی اصل قوت “تقابلی مطالعہ” (Comparative Study) اور تہذیبی بصیرت تھی۔اسلامی روایت سے ربط:اقبال نے مولانا میر حسن جیسے اساتذہ سے عربی و فارسی ادب اور اسلامی روایت کا ذوق حاصل کیا۔ وہ قرآن، اسلامی تاریخ اور تصوف کی فکری روح سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔

مغربی فکر پر عبور:
وہUniversity of Cambridge سے وابستہ رہے،University of Munich سے ڈاکٹریٹ کی،اور Lincoln's Inn سے بار ایٹ لاء بھی تھے۔وہ مغربی فلسفے، جدید سیاسی فکر اور قانونی فلسفے (Jurisprudence) سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔ان کی اصل طاقت یہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے:مغربی تہذیب کے عروج کے فکری اسباب کیا ہیں؛اور مسلم دنیا کن فکری جمودات کے باعث زوال کا شکار ہوئی۔ایک محقق کے لیے یہ “بصیرت” (Insight) بعض اوقات محض تخصص سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔

تنقیدی محاکمہ: مبالغہ اور حقیقت:

علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ اقبال کی فکر کا تنقیدی جائزہ بھی لیا جائے.یہ حقیقت ہے کہ اقبال بعض اوقات فقہی تاریخ کے بیان میں مبالغے کا شکار ہوئے، مثلاً ان کا یہ تاثر کہ “بابِ اجتہاد مکمل طور پر بند ہو گیا”۔ جدید تحقیقات، بالخصوص

Wael Hallaq

کی علمی کاوشیں، یہ واضح کرتی ہیں کہ فقہی اجتہاد مختلف صورتوں میں ہمیشہ جاری رہا۔تاہم اقبال کا اصل کارنامہ تاریخِ فقہ کی نئی تدوین نہیں تھا، بلکہ مسلم ذہن کو جھنجھوڑنا تھا۔ انہوں نے یہ احساس پیدا کیا کہ: “تقلیدِ جامد” موت ہے اور “تخلیقی تجدید” زندگی۔

اقبال نے کسی جزوی فقہی معاملے میں اپنی اہلیت کا دعویٰ نہیں کیا، بلکہ انہوں نے اس فکری فضا کی آبیاری کی جہاں اجتہاد دوبارہ پنپ سکے۔ ان کی گفتگو “فتویٰ” نہیں بلکہ “دعوتِ فکر” تھی۔وہ امت کو اس مقام پر لانا چاہتے تھے جہاں وہ اپنے مسائل کا حل خود دریافت کر سکے۔ چنانچہ ان کی اہلیت کا میدان فقہ کی “جزئیات” نہیں بلکہ اسلام کا “کلی فکری نظام” تھا۔

اقبال کے نظریۂ اجتہاد کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ:

“فقیہ” اور “مفکر” کے فرق کو ملحوظ رکھا جائے؛

اجتہاد کے classical اور تہذیبی مفاہیم میں امتیاز کیا جائے؛

اور اقبال کی فکر کو فقہی فتویٰ نہیں بلکہ تہذیبی reconstruction کے تناظر میں پڑھا جائے۔

اقبال کا اصل سوال یہ نہیں تھ:
“کون سا فقہی حکم بدلا جائے؟بلکہ یہ تھا کہ:“کیا امتِ مسلمہ اپنے ابدی اصولوں کے اندر رہتے ہوئے بدلتے زمانے کے سوالات کا تخلیقی جواب پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں؟”اور یہی وہ سوال ہے جس نے اقبال کے تصورِ اجتہاد کو جدید اسلامی فکر کے اہم ترین مباحث میں شامل کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مأخَذ

مراجع و مصادر

جامعه بنوریه عالمیه

جامعہ بنوریہ عالمیہ کے پلیٹ فارم سے شائع ہونے والے کالمز نیک نیتی ا، رواداری ، باہمی ہم اہنگی اور اسلامی معلومات کے تناظر میں ہوتے ہیں ، کسی فرد یا گروہ کی دل آزاری قطعا پیش نظر نہیں ہوتی ہے ، کالمز مقررہ کونسل سے نظر ثانی کے بعد قابل اشاعت ہوتے ہیں ، لیکن ایک تحریر کسی کالم نگار کے سوچ کا آئنہ ہوتی ہے جس سے ادارے یا کسی بھی فرد کو اختلاف رائے کا حق ہے ۔

مزید پڑہیں
سوشل میڈیا

فالو ، شیئر ، سبسکرائب، لائک

خط و کتابت

جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی پاکستان ، پی او باکس نمبر 10698.

Visit Website
Google Map
Save Contact