(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
ماضی کے آئینے میں حال کی تصویر د یکھ
بیت المقدس کی واپسی کی جنگ : اٹھاسی برس عیسائیوں کے قبضے میں رہنے کے بعد بیت المقدس بغیر کسی قتال اور خوں ریزی کے دوبارہ مسلمانوں نے حاصل کرلیاتھا ۔بیت المقدس کی فتح کے بعد بھی سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے اپنی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا ،یہاں تک کہ طرابلس اور انطاکیہ کے تمام علاقوں کو فتح کرکے اپنے زیرِ نگیں کرلیا۔جب سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی ان فتوحات اور بیت المقدس کے صلیبیوں کے قبضے سے نکلنے کی خبریں یورپ پہنچیں تو سارے یورپ میں تہلکہ مچ گیا ۔بیت المقدس کی فتح صلیبیوں کے لیے پیغامِ اجل سے کم نہ تھی۔

اس فتح کی خبر پر سارے یورپ میں تہلکہ اور کہرام مچ گیا۔ القدس کا لاٹ پادری ولیم صوری راہبوں،مذہبی پیشواؤں اور امرا کے ایک وفد کے ہمراہ سیاہ ماتمی لباس میں ملبوس سلطنتِ روماپہنچااور پاپائے اعظم کی سر پرستی میں پورے یورپ کا دورہ کیا۔ وہ مسلمانوں کے مظالم کے فرضی افسانے سُناسُناکر یورپ کو ایک دہکتے آتش فشاں میں تبدیل کرنا چاہتا تھا۔اس وقت نہ صرف شاعر اور گویّے دردناک نغموں کے ذریعے عوام کے جذبات کو بھڑکارہے تھے ،بلکہ مصور بھی اپنے فن کو کمال پر کاری کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اندھی نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ پادری ؛ان مصوروں کے ذریعے ایسی فرضی تصاویر بنواتے تھے، جن میں ایک عربی شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لڑتے دکھایا جاتا تھا۔ بعض تصاویر میں یہ منظر پیش کیا جاتا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام اِس عربی شخص کے ہاتھوں بری طرح پٹ رہے ہیں، ان کے بدن سے خون جاری ہے اور وہ زمین پر گر چکے ہیں۔ لوگ یہ دہشت ناک تصاویر دیکھ کر حیران ہوتے اور پوچھتے توپادری انھیں بتاتے کہ یہ (نعوذُباللہ!)عرب کا نبی ہے، جوہمارے مسیح کو مار رہا ہے، یہ اس کے ہاتھوں مر گیاہے۔یہ سن کر لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگتے۔

اس قسم کی ڈرامے بازیوں میں صور کا حاکم کونرڈ مارکوئیس پیش پیش تھا۔ اس نے یورپ میںاشتعال انگیزی کو ہوا دینے لیے ایک نیا حربہ آزمایا۔ دنیائے نصرانیت کے لیے القدس کا کلیسائے قمامہ(چرچ سینٹ جان )عقیدتوں کا مرکز ہے،اس چرچ میں ایک فرضی قبر ہے ،جسے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر تصور کرتے ہیں، ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوسولی دینے کے بعدیہیں دفن کیا گیا تھا۔مارکوئیس نے یورپ کے سادہ لوح عوام کو مشتعل کرنے کے لیے ایک بہت بڑی تصویر بنوائی،جس میں ایک مسلم گھڑسوار کو قبر پر چڑھتے، اُسے گھوڑوں کے سموں سے پامال کرتے اورگھوڑے کوقبر پر پیشاب کرتے دکھایا گیا۔ یہ دیوہیکل تصویر یورپ کے کونے کونے میں گھمائی گئی اور بڑے عوامی اجتماعات میں بھی دکھائی گئی۔ اس قسم کی فرضی تصاویرنے عیسائیوں کو مزید جوش دلادیا۔(نظریاتی جنگ کے محاذ،صفحہ 71)

غرضیکہ پادری گرجوں سے باہر نکل آئے اور شہر شہرجاکراسلام کے خلاف اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے عوام وخواص کو تیسری صلیبی جنگ کے لیے تیار کرنے میں مصروف ہوگئے۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تھوڑے ہی عرصے میںعیسائی اِن شکستوں کے صدمے سے باہر نکل آئے اور تیسری صلیبی جنگ کے لیے تیار ہوگئے ۔اس مذہبی ترغیب کے نتیجے میں انگلستان کے بادشاہ رچرڈ ،فرانس کے شاہ فلپ آئسٹس او جرمنی کے شہنشاہ فریڈرک بار بروسانے مالی اخراجات ادا کرنے کی ہامی بھرلی۔ اس طرح تیسری صلیبی جنگ کا آغاز ہوا۔ اِس جنگ میں سارا یورپ شریک تھا۔ شاہ جرمنی فریڈرک باربروسا، شاہ فرانس فلپ آگسٹس اور شاہ انگلستان رچرڈ شیر دل نے بہ نفس نفیس ان جنگوں میں شرکت کی۔ پادریوں اور راہبوں نے قریہ قریہ گھوم کر مسیحیوں کو مسلمانوں کے خلاف ابھارا۔جتنی فوج اس جنگ میں شریک تھی ،مؤرخین کہتے ہیں کہ مسیحی دنیا نے اس قدر لاتعداد فوج کبھی فراہم نہ کی تھی۔ یہ عظیم الشان لشکر یورپ سے روانہ ہوا اور عکہ کی بندرگاہ کا محاصرہ کر لیا ۔ سلطان صلاح الدینؒ نے تن تنہا عکہ کی حفاظت کے تمام انتظامات مکمل کر لیے تھے، لیکن صلیبیوں کو یورپ سے مسلسل کمک پہنچ رہی تھی۔ ایک معرکے میں دس ہزار مسیحی قتل ہوئے، مگر صلیبیوں نے محاصرہ جاری رکھا ،لیکن چونکہ کسی اور اسلامی ملک نے سلطانؒ کی طرف دست تعاون نہ بڑھایا، اس لیے صلیبی ناکہ بندی کی وجہ سے اہلِ شہر اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کا تعلق ٹوٹ گیا اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ باوجود پوری کوشش کے مسلمانوں کو کمک نہ پہنچا سکے۔ تنگ آکر اہلِ شہر نے امان کے وعدے پر شہر کو مسیحیوں کے حوالے کر دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ فریقین کے درمیان معاہدہ طے ہوا جس کے مطابق :مسلمانوں نے دو لاکھ اشرفیاں بطورِ تاوان ِجنگ ادا کرنے کا وعدہ کیا اور صلیبِ اعظم اور پانچ سو مسیحی قیدیوں کی واپسی کی شرائط قبول کرتے ہوئے مسلمانوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ اگرچہ مسلمانوں کو اجازت دے دی گئی تھی کہ وہ تمام مال و اسباب لے کر شہر سے نکل جائیں؛ لیکن رچرڈ نے بدعہدی کی اور محصورین کو قتل کر دیا۔اس صلیبی جنگ میں سوائے عکہ شہر کے، مسیحیوں کو کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔

عکہ کے بعد صلیبیوں نے فلسطین کی بندرگاہ عسقلان کا رخ کیا۔ عسقلان پہنچنے تک مسیحیوں کا سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے ساتھ گیارہ بارہ بار مقابلہ ہوا ۔ان میںسب سے اہم معرکہ ارسوف کا تھا۔ سلطانؒ نے جواں مردی اور بہادری کی درخشندہ مثالیں قائم کیں، لیکن چونکہ کسی بھی مسلمان حکومت بالخصوص خلیفۂ بغداد کی طرف سے کوئی مدد نہ پہنچی، لہٰذا سلطان کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ واپسی پر سلطان نے عسقلان کا شہر خود ہی تباہ کر دیا،چنانچہ جب صلیبی وہاں پہنچے تو انھیں اینٹوں کے ڈھیر کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔

اس دوران میں سلطانؒ نے بیت المقدس کی حفاظت کی تیاریاں مکمل کیں، کیونکہ اب صلیبیوں کا نشانہ بیت المقدس تھا۔ سلطانؒ نے اپنی مختصر سی فوج کے ساتھ اس قدر عظیم لاؤ لشکر کا بڑی جرأت اور حوصلے سے مقابلہ کیا۔شاہ انگلستان رچرڈ شیر دل سلطانؒ کی فیاضی اور بہادری سے بہت متاثر ہوا۔

باطل کی اندرونی صورتِ حال یہ تھی کہ شاہ جرمنی فریڈرک باربروسا بھاگتے ہوئے دریا میں ڈوب کر مر گیا اور تقریبا چھے لاکھ مسیحی اِن جنگوں میں کام آئے۔فوج میں بددِلی چھارہی تھی ،کیونکہ اس لشکر کو یورپ سے نکلے لگ بھگ تین برس کا عرصہ ہوچکا تھا وطن سے دوری، لاکھوں روپے کے اخراجات، لاکھوںصلیبیوں کا اس جنگ میں لقمۂ اجل بن جانا، موسموںکی سختیاں؛ایک طرف یہ جان پریشانیاں اوردوسری طرف یہ تمام مشق بھی بے فائدہ لگ رہی تھی ،کیونکہ بیت المقدس کی فتح کا کہیں کوئی امکان نظر نہیں آرہا تھا۔یہ تھی وہ صورتِ حال جس نے صلیبی لشکر کو صلح کی درخواست پرمجبور کیا تھا۔سلطانؒ نے درخواست قبول کی اورفریقین میں معاہدۂ صلح ہوا۔ جس کی رو سے تیسری صلیبی جنگ کا خاتمہ ہوا۔ معاہدہ صلح کی شرائط مندرجہ ذیل تھیں:

۱ بیت المقدس بدستور مسلمانوں کے پاس رہے گا۔

۲ ارسوف، حیفا، یافہ اور عکہ کے شہر صلیبیوں کے قبضے میں شمار ہوں گے۔

۳ عسقلان آزاد علاقہ تسلیم کیا جائے گا۔

۴ مسیحی زائرین کوبیت المقدس میں آمدورفت کی اجازت دی جائے گی۔

۵ صلیبِ اعظم بدستور مسلمانوں کے قبضے میں رہے گی ۔

صلح باطل کی چال ثابت ہوئی:
بظاہر باطل کے لشکر جرار کی شکست دیوار پر لکھی ایک ناقابلِ تردیدحقیقت نظر آرہی تھی ،مگر باطل نے بھی پیچھے نہ ہٹنے کا تہیہ کرلیا تھا،شاید باطل یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ حق واہلِ حق کے خلاف فائنل راؤنڈ کھیل رہاہے۔چنانچہ باطل نے پینترا بدلا اور مرتبہ ایک نئی سوچ اور نئی منصوبہ بندی کے ساتھ میدان میں اترپڑا۔ باطل نے اپنی بقا اسی میں سمجھی کہ اس وقت، مجبوری کے تحت ہی سہی، عارضی طور پر جنگ بندی کی کوشش کی جائے۔اس سے ان کامقصد وقت حاصل کرنا تھا،تاکہ آرام سکون کے ساتھ اگلا لائحہ عمل طے کیا جاسکے ۔فوج کے اندر یہ بات پھیلنے لگی اور پھیلتے پھیلتے خواہش کی شکل اختیار کر گئی۔ جب فوج کی یہ خواہش بادشاہوں تک پہنچی تو وہ بھی اس بات کو اپنے حق میں بہتر سمجھتے ہوئے عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہوگئے ۔چنانچہ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے ساتھ اس سلسلے میں رابطہ کیا گیاتوسلطان نے بھی اس بات کو قبول کرلیا ،یوں دونوں فریقوں کو سوچ بچار کے لیے کچھ وقت مل گیا۔

یہ وقتی جنگ بندی در اصل باطل کے مستقبل کے منصوبوں پر عمل در آمد کی طرف پہلا قدم تھا۔

باطل کی نئی چال:
باطل اس وقت کی تمام صورتِ حال دیکھ اور سمجھ رہا تھا،عارضی جنگ بندی کی صورت میں اسے مزید وقت مل چکاتھا،چنانچہ اس بار اُس نے ابلاغ کو ہتھیار بنانے کا فیصلہ کیااور موقع کی مناسبت سے انتہائی چالاکی،ہوشیاری،عیاری ومکاری کے ساتھ اپنے افواہ سازی کے ہتھیاروں کا استعمال شروع کیا ۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جب بادشاہوں اور ان مصاحبین کے کانوں میںیہ بات پہنچی کہ مسلمانوںپر فتح حاصل کرنے اور ان پر غلبہ پانے کے لیے طاقت کا استعمال ہی کافی نہیں،بلکہ کچھ اور حکمت عملی بھی درکار ہے تو کانوں تک پہنچی ہوئی بات دل میں اتری، پھر دل سے زبان پر آئی۔

عیسائیوں کا گرینڈ جرگہ اور یہودیوں کا مشورہ:
عیسائی بادشاہوں نے آپس کے صلاح مشورے کے بعد ایک گرینڈ جرگہ منعقد کیا ،جس میں عیسائی ممالک کے بادشاہ، اُن کے مصاحبین، فوجی سربراہان اورسیاسی سمجھ بوجھ اورسماجی حیثیت ورسوخ رکھنے والے لوگ شریک تھے، بطورِ مبصر یہودی علمااور ان کے ساتھی بھی اس جرگے میں شامل ہوئے۔ سب نے اپنی اپنی عقل سمجھ کے مطابق بات کی ،رائے اور مشورہ دیا ۔اس دوران یہودی خاموش بیٹھے سب کی باتیں،آرا اور مشورے سنتے رہے، جب سب نے بات کرلی تو ایک معمر یہودی عالم نے یہودیوں کے مستقبل منصوبے کو بطورِمشورہ پیش کیا،اس کی تقریر کا حاصل یہ تھا :

’’اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے اسلام اور مسلمانوں سے لڑتے ہوئے تمھیںچھ سو برس گزر گئے،تم بہت بڑی تعداد میںاس کام کی انجام دہی کے دوران بے وطن ہوئے،تم نے مہمات میں لاکھوں روپے خرچ کیے،اپنے لاکھوں لوگ مروائے، ہرقسم کی تکلیفیں اور مشکلات کا سامنا کیا،غرضیکہ اپنا سب کچھ گنوادیا مگر نتیجہ کیا نکلا؟ اسلام بھی موجود ہے اور مسلمان بھی،بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط !‘‘اس نے کہا:’’میری تجویز یہ ہے کہ اب جنگوں کے سلسلے اور طاقت کے استعمال کو کم کرو اور جنگ اور طاقت کے استعمال پر جو خرچ آتاہے اس کو بچاؤ اور یہ رقم ایسے منصوبوں پر استعمال کرو جس سے وہ مقاصدحاصل کرو، جو جنگ اور طاقت کے ذریعے تم حاصل کرنا چاہتے ہو اور تاحال حاصل نہیں کر پائے؛ یعنی اسلام اور مسلمانوں کا خاتمہ، یا اسلام اور پر مکمل غلبہ۔‘‘

اس نے مزید کہا کہ :اس کے لیے ضروری ہے کہ کچھ وقت کے لیے جنگوں ،طاقت کے استعمال ،مسلمانون کی مخالفت کی شدت میں کمی لاتے ہوئے ان کے ساتھ غیر مخالفانہ رویہ اختیار کیا جائے اور دوستانہ ماحول پیدا کیا جائے۔اس سلسلے میں ضروری ہے کہ:

۱ عیسائی،مسلمانوں کے ملکوں اور شہروں میں ان کے ساتھ رہیں۔

۲ ان کے ساتھ اپنے کاروبار اور تجارت کریں۔

۳ کاروباری اور گھریلو تعلقات ان کے ساتھ جوڑیں۔

۴ اپنی جوان،ب صورت کنواری عورتوں کو ان کے گھروں میں داخل کریں ،تاکہ ان کی نسلوں میں عیسائیوں کاخون شامل ہوجائے ۔

اس نے واضح کیا کہ :ان تمام تر کوششوں کا اصل ہدف ہوگا مسلمانوں کے اصل ہتھیاریعنی ایمان اور ایمانی جذبے کو کمزور کرنا۔ جب ان کے دلوں میںموجود یہ جذبہ کمزور پڑے گا تو پھران کی سوچ، فکر، طرزِ عمل؛ سب کچھ خود بخود کمزور پڑ نا شروع ہوجائے گا اورپھریہ، وہ وقت ہوگا کہ ان کو جس طرف چاہو موڑ دو،جس طرح چاہو استعمال کرو۔

معمر یہودی عالم نے کہا کہ :اس منصوبے پر عمل در آمد کے لیے ایک علیحدہ، جامع اور مکمل منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جو اس جنگی ماحول میں ممکن نہیں۔اس کے لیے پیسے کے علاوہ ،ماحول وقت، صبر اور طویل انتظار کی ضرورت ہے۔ جہاں چھ سات سو برس جنگ وجدال اور خوں ریزی میں گزرے ہیں ،وہاں عارضی جنگ بندی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اگر حکمت عملی میں تبدیلی کرکے اس منصوبے پر عمل کیا جائے تو مقصد بآسانی حاصل ہوجائے گا ۔

مستقل جنگ بندی کا فیصلہ:
عیسائی دنیا کے اربابِ حل وعقد پر اس معمر یہودی کا جادو چل گیا اوراس کی تجویز کو اتفاق رائے کے ساتھ منظور کرلیا گیا۔چنانچہ وقتی جنگ بندی کو مکمل جنگ بندی اور صلح کی بات چیت کے لیے شاہ انگلستان رچرڈ کو سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے ساتھ بات چیت کرنے کا اختیار دیا گیا۔ آخر کار سلطان ایوبیؒ اور رچرڈ کے درمیان گفت وشنیدکے نتیجے میں مستقل جنگ بندی اور صلح مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ طے پاگئی:

۱ دونوں فریق پوری کوشش کریں گے کہ آئندہ ایک دوسرے کے خلاف جنگ نہ کریں۔

۲ دونوں فریقوں کو اپنے اپنے علاقوں میںآنے جانے کی آزادی ہوگی۔

۳ تاجر اور کاروباری لوگ اگر مخالف علاقے میں رہائش اختیار کرنا چاہیں تو ان کو نہ صرف اجازت دی جائے گی ،بلکہ سہولت بھی فراہم کی جائے گی اور ان کو شہری حقوق حاصل ہوں گے،سیاسی سماجی آزادی حاصل ہوگی، ایک دوسرے کے شہروں اور علاقوں سے گزرنے پر رکاوٹ نہیں ہوگی ۔

یوں یہ صلیبی جنگ،حق وباطل کی جنگ کو ایک نیا موڑ اور نیا رُخ دیتی ہوئی اختتام پذیر ہوگئی۔صلیبی اپنے وطن کو واپس ہوگئے اور باطل اپنے نئے اسلام اور مسلمان دشمن منصوبوں کی تکمیل میں مصروفِ عمل ہوگیا۔

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
73