(+92) 319 4080233
کالم نگار

-مفتی ساجدعلی شامزئی

-مفتی ساجدعلی شامزئی

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
پنجاب یونیورسٹی میں ریپ کا واقعہ
جب سے انسان دنیا میں آیا ہے جرم و سزا کے پندار میں گھوم رہا ہے حالیہ دنوں میں پنجاب یونیورسٹی لاہور کیمپس میں فرسٹ ایئر کی طالبہ کے ساتھ ہونے والا ریپ کا واقعہ ہوا ہے جس نے پورے معاشرے میں ایک ہیجان برپا کردیا ہے، ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ایسے جرائم کی روک تھام کیسے کی جا سکتی ہے اور متاثرین کو انصاف کیسے فراہم کیا جا سکتا ہے؟یہ واقعہ نہ صرف متاثرہ لڑکی کے لیے ایک ذاتی المیہ ہے بلکہ یہ معاشرتی سطح پر خواتین کی حفاظت کے حوالے سے بھی ایک بڑا سوال اٹھاتا ہے۔ ایسی صورت میں، جہاں تعلیم کا مقصد ترقی اور آگے بڑھنا ہے، اس طرح کے واقعات نوجوان لڑکیوں کی تعلیم، خوداعتمادی اور معاشرتی کردار پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ روک تھام کے اقدامات : تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کی بہتری: تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے، جیسے کہ کیمپس کے داخلی اور خارجی راستوں پر سیکیورٹی گارڈز کی تعیناتی، CCTV کیمرے لگانا، اور ہنگامی مدد کے لیے فوری رسائی فراہم کرنا۔ آگاہی اور تعلیم: طلبہ اور اساتذہ میں خواتین کے حقوق اور جنسی تشدد کے خلاف آگاہی بڑھائی جائے۔ یہ تعلیمی پروگرامز نہ صرف لڑکیوںبلکہ لڑکوں کے لیے بھی اہم ہیں تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ اس قسم کے سلوک کی مذمت کیوں ضروری ہے۔ معاشرتی رویوں میں تبدیلی: معاشرتی سطح پر ایسے رویوں کے خلاف مہمات چلائی جائیں جو خواتین کے ساتھ بدسلوکی کو معمولی سمجھتے ہیں۔ میڈیا اور سماجی پلیٹ فارمز کا استعمال اس میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ قانونی اصلاحات: حکومت کو ایسے قوانین وضع کرنے کی ضرورت ہے جو ریپ اور جنسی تشدد کے معاملات میں سخت سزاؤں کا تعین کریں۔ ایسے مجرموں کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں تاکہ مقدمات جلدی اور موثر طریقے سے نمٹائے جا سکیں۔ اسلامی سخت سزا: اسلامی نقطہ نظر سے، ایسے جرائم کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں، جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ معاشرے میں انصاف کی بحالی کی کتنی اہمیت ہے۔ ریپ کے ملزمان کے لیے زنا کے مجرمین کی طرح سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں، جیسے کہ: سزائے موت: اسلامی فقہ میں، اگر ریپ کا واقعہ ثابت ہو جائے تو سزائے موت ایک ممکنہ سزا ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر اس سے متاثرہ فرد کی زندگی میں نقصان پہنچا ہو۔ جسمانی سزائیں: دوسری صورتوں میں، ایسے افراد کے لیے جسمانی سزائیں بھی نافذ کی جا سکتی ہیں، جیسے کہ کوڑوں کی سزا۔ حکومتی عملداری : حکومت پاکستان کو ان اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ اس کے لیےفوری تحقیقات کے نظام کو متعارف کرانا ہوگا تاکہ متاثرہ افراد کو انصاف مل سکے۔پولیس اور دیگر اداروں کی تربیت میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ ایسے معاملات کو سنجیدگی سے لے سکیں۔ نتیجہ:پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والا یہ افسوسناک واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ معاشرے میں خواتین کی حفاظت کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمیں مل کر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے اور وہ بغیر خوف کے اپنی زندگی گزار سکیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے قانون، تعلیم اور معاشرتی شعور میں تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ یہ اس سوچ کو بھی بدلنا ہوگا کہ اگر کسی مدرسے سے منسوب جرم کی گردش کرے تو پیالی میں طوفان اٹھا دیا جائے اور اگر کسی عصری ادارے سے ایسی خبر باہر آئے تو سانپ سونگھ جائے۔ جرم ، جرم ہوتا ہے خواہ کہیں ہو اور کسی سے سرزد ہو اور اس کا تدارک بحثیت قوم ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے

کالم نگار : -مفتی ساجدعلی شامزئی
| | |
532