دنیا کا کونسا انسان اپنی مرضی سے ہجرت کرتا ہے ؟؟ درحقیقت ہجرت تو ایک ایسا کٹھن مرحلہ ہوتا ہے جو انسان کو اپنی زمین، اپنی جڑوں اور اپنوں سے جدا ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔
تاریخی جھرونکوں سے:
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ہجرت ہمیشہ قربانی، صبر اور آزمائش کا دوسرا نام رہی ہے۔ چاہے یہ وطن کی محبت ہو، گھر کی رونقیں ہوں یا بچپن کی یادیں!! ہجرت سب کو پیچھے چھوڑنے کا نام ہے۔
ہجرت کا سب سے بڑا دکھ جدائی کا ہوتا ہے۔ اپنے گھر کی فضا، محلے کی گلیاں، دوستوں کی مسکراہٹیں اور اپنوں کی دعائیں، یہ سب انسان کے دل میں ایک گہرا خلا چھوڑ دیتی ہیں۔ پردیس کی زندگی میں سب کچھ نیا ضرور ہوتا ہے، مگر اجنبی چہرے اور اجنبی زبانیں دل کی تنہائی کو اور بڑھا دیتی ہیں۔اس دکھ کی شدت ان لوگوں سے بڑھ کر کون جان سکتا ہے جو اپنے وطن کو مجبوری میں چھوڑتے ہیں؟
کبھی روزگار کے لیے، کبھی ظلم سے بچنے کے لیے اور کبھی بہتر مستقبل کی تلاش میں۔ مگر اس کے بدلے انہیں جو درد ملتا ہے وہ یہ ہے کہ اپنی زمین پر آزادانہ سانس لینے کی لذت کھو بیٹھتے ہیں۔ہجرت کا ایک اور کرب یہ ہے کہ انسان "بیگانگی" کا شکار ہو جاتا ہے۔ نئے ماحول میں ڈھلنے کی جدوجہد، زبان کی رکاوٹ، ثقافت کی اجنبیت اور اپنوں کی کمی
انسان کے دل پر ایسے زخم لگاتی ہے جو وقت گزرنے کے بعد بھی تازہ رہتے ہیں۔ ہجرت کا دکھ ایسا زخم ہے جو وقت کے ساتھ بھر تو جاتا ہے لیکن اس کا نشان ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ ہجرت انسان کو توڑتی بھی ہے اور سنوارتی بھی ہے۔ یہ ایک ایسی آزمائش ہے جو ہر دل کو رلا دیتی ہے مگر ساتھ ہی جینے کی نئی راہیں بھی دکھا جاتی ہے۔انسان تو پھر اشرف المخلوقات ہے چرند پرند بھی ہجرت کے کرب کو محسوس کرتے ہیں۔
گھونسلے کیوں پرائے ہوتے ہیں؟
ایک مباحثے میں نوجوان نے کہا اگر دانہ ہوتا تو پرندے گھونسلہ چھوڑ کر نہ جاتے (یعنی ہم وطن بے وطن نہ ہوتے) ۔ 14 اگست آیا۔ ذاتی تجربات پر مبنی کچھ تحاریر نظر سے گزریں جس میں لکھنے والوں نے بتایا کہ پاکستان میں واقعی دانے نہیں تھے اور انہیں بیرون ملک آنا پڑا۔ بعض نے کہا معاملہ خوراک کی کمی نہیں بلکہ جلا وطنی اختیار کرنے والوں کا اپنا لالچ وجہ بنا۔
فی الوقت میں بھی ایک تارک وطن ہوں اور میرے لئے یہ کہانی تب شروع ہوئی جب میرے دادا مرحوم نے سن 47 میں جالندھر سے ہجرت کی۔ لاہور سے فیصل آباد جاتی بڑی سڑک پر بستے ایک گاؤں میں پڑاؤ ڈالا اور مٹی میں بیج بو کر خود دانے اگانے کا انتظام کیا۔ کسان خاندان سے تعلق پر فخر ہے کہ محنت سے کمانے والوں کا خون ہوں۔ ابّو سے میں نے کبھی پوچھا نہیں (مہلت بھی نہیں ملی) کہ دادا جی کے گھر دانے کم تھے جو آپ سرحدوں کی حفاظت کے لئے چلے گئے یا کوئی اور وجہ تھی؟ خیر ہمارے لئے رزق کا انتظام کرتے کرتے ایک دن والد صاحب بھی رخصت ہوئے۔ رازق تو اللّٰہ ہے۔ روٹی ملتی رہی۔
پھر میرا وقت آیا، جسے کہتے ہیں پریکٹیکل لائف میں داخل ہونا۔ میرا نسب، دوستیاں اور حالات ایسے رہے کہ میں خود کو پاکستان کے ان چند فیصد میں شامل کر سکتا ہوں کہ جنہوں نے بہترین طرز زندگی دیکھا۔ میرا کوئی ایسا اسمگلنگ کا کاروبار نہیں تھا جس کیلئے فائلوں کو پہئے لگانے پڑتے۔ البتہ سرکاری میڈیکل کالج کی تعلیم، بعد ازاں ملازمت اور گھر بار سے متعلق چھوٹے بڑے جائز دفتری کام " کہہ کہلا کر، اور سُن سنا " کر نکلتے رہے۔ سیر کرنے جانا ہو تو فوجی دوستوں کے توسط سے ریسٹ ہاؤس میں قیام، کھانے کا موڈ ہو تو چناب کلب والے یاروں کا ممبر شپ نمبر، سرکاری دفاتر تک رسائی ، چند اہم فون نمبر وغیرہ ، غرض کہ وہ سب کچھ جو ایک با اثر شخص محدود پیمانے پر تصویر کر سکتا ہے موجود تھا۔ یعنی میرے آشیانے میں دانے تھے اور وافر تھے ( کم از کم میں سرکاری نوکری کے ایک ڈیڑھ لاکھ کو بھی کافی سمجھنے والوں میں سے ہوں)۔ یہ سب دیکھتے کرتے دماغ نے بہت سوال اٹھائے ۔ یہ سب میرے لئے ہی کیوں؟ ان سب کیلئے کیوں نہیں جنہیں پیدائش پر میرے برابر سہولیات مہیا نہ ہو سکیں؟ یا جنہیں میرے سے بہت زیادہ مِلا ہوا ہے وہ مجھے ایسا ہیچ کیوں سمجھتے ہیں؟
کیوں جہاں کوئی کام ہوتا ہے وہاں میرا عہدہ، دولت اور شان کے حساب سے مجھے برتاؤ ملتا ہے؟ کیوں میرے ہی ہم عمر میز کے دوسری جانب کرسی پر براجمان ہو کر قائد اعظم کی تصویر کے نیچے ان کی ہی تصویر والا نوٹ پکڑنے سے قبل اور بعد میں مختلف برتاؤ کرتے ہیں؟
ہر سوال لاجواب نہیں ہوتا:
پھر سوال مزید خطرناک ہوتے گئے ، کیوں حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ دینے والے دورانِ ملازمت اور ریٹائرمنٹ کے بعد یورپ و امریکہ میں جائیداد بناتے ہیں ؟ کیوں دفتری بابو سیلاب کے روٹ مہینوں قبل جاننے کے باوجود اس کے آگے بندھ نہیں باندھتے ؟ کیوں مکہ، مدینہ، حرمین اسٹور نام رکھنے والے سودی،خیانتی کاروبار کے باوجود اپنی تدفین جنت البقیع میں چاہتے ہیں ؟
ایک استاد نے کہا تھا سوال زیادہ ہو جائیں تو مزید سوچنا چھوڑ دو۔ میں نے چھوڑ دیا۔ اور فیصلہ کیا کہ ان کے دیس جا کر دیکھوں گا جو دو صدیاں قبل ہم جیسے ہوشیار انسانوں پر حکومت کر گئے۔ دو سال قبل میں برطانیہ آ گیا۔ کچھ جواب ملے ہیں، کچھ شاید کبھی نہ مل پائیں۔
گوروں کے اسپتالوں میں کام کرتے کبھی بہت باریک قسم کے جملے سُننے کو مل جاتے ہیں جو واپس جانے کا خیال دل میں لاتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں بیٹھے کالے انگریز بابو ایک بدتر مخلوق ہیں۔ اور اوپر سے خلائی مخلوق کا سایہ چھٹنے پر نہیں آتا۔ مجھے اپنے ایمان اور اپنی اولاد کی اخلاقی فکر بھی ہوتی ہے، لیکن اپنے دیس میں رائج منافقت سے بھی خوف آتا ہے۔
میرے کچھ پیارے وہاں زندہ یا سپردِ خاک نہ ہوں تو واپس جانے کی خواہش نہ کروں۔ سب ہرا نہیں ہوتا۔ ہر ہجرت دکھ رکھتی ہے۔ میں بہت کچھ چھوڑ آیا ہوں۔ نجانے پھر دیکھ پاؤں کہ نہیں۔ گو کہ اب وہ بھی نہیں رہے مگر مجھے اپنے دادا کے امرود کے باغات یاد آتے ہیں۔ اپنے دوست یاد آتے ہیں۔ کچھ بے غرض رشتے ستاتے ہیں۔
کتنے ہی محبت کرنے والے صاحب فراش ہیں اور میں خبر گیری نہیں کر سکتا۔میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مسئلہ دانوں کی کمی نہیں بلکہ ان کی انسانی تقسیم کا ہے :
خدا کا رزق تو ہر گز زمین پر کم نہیں یارو
مگر یہ کاٹنے والے ! مگر یہ بانٹنے والے !
آبائی قبرستان میں پرکھوں کے پاس خود کیلئے جو آرام گاہ سوچی تھی وہ مٹی بھی شاید کسی اور نے اوڑھ لی ہو۔ اب فرق بھی نہیں پڑتا، یہاں برطانیہ میں تو شاید کونسل والے ٹیکس کے بدلے قبر کا خیال رکھیں۔ وہاں اپنے دیس میں کسی جاگیر دار ، کسی جرنیل، کسی سیاست دان، کسی بیوروکریٹ ، کسی سرمایہ دار کی فصلیں یا فیکٹریاں بچانے کیلئے
میرے گاؤں کی جانب سیلابی ریلا موڑ دیا گیا تو پانی میں تیرتی میری لاش خود مجھ پر نوحہ کناں ہوگی۔
خلاصہ کلام:
یاد رکھیے!! یہ آزادی ہمیں یوں ہی نہیں ملی، بلکہ ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد لاکھوں جانوں کا نذرانہ دے کر یہ وطن حاصل کیا گیا۔ اس لیے یہ زمین ہمارے لیے محض رہنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک عظیم امانت ہے۔یہ وطن تمہارا ہے۔ اگر یہ آباد ہے تو تمہارے وجود سے ہے، اگر یہ ترقی کرے گا تو تمہاری محنت سے کرے گا۔ وطن کی تعمیر و ترقی حکومت کی ذمہ داری ضرور ہے
مگر اصل بنیاد عوام کی نیت، سوچ اور عمل پر ہوتی ہے۔ اگر ہم ایمانداری اپنائیں، تعلیم حاصل کریں، محنت کو اپنا شعار بنائیں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں تو یہ ملک ایک شاندار مثال بن سکتا ہے۔ملک کی خدمت دراصل میرا کام ہے، صرف دوسروں کا نہیں، اسے امن و آشتی کا گہوارہ بھی میں نے بنانا ہے۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ اس وطن کو سنواریں گے، اسے علم، امن اور اخوت کا گہوارہ بنائیں۔ہجرت وطن کے وقت ماؤں کی آنکھوں میں آنسو، بچوں کے چہروں پر خوف اور بزرگوں کے دلوں میں بچھڑنے کا درد تھا۔ پیچھے رہ جانے والے گھروں کی دیواریں بھی گویا ماتم کناں تھیں۔ ہر شخص اپنی زمین، اپنی گلیوں، اپنے بچپن کی یادوں کو الوداع کہہ رہا تھا راستے میں بھوک، پیاس اور تھکن نے قافلے کو توڑ ڈالا، مگر سب کے دل میں ایک ہی امید زندہ تھی
کہ "اس پار سکون ہوگا، اپنی پہچان ہوگی، اپنی دھرتی ہوگی۔" مگر سفر کے ہر موڑ پر لاشیں گرنے لگیں، کوئی ماں اپنے بچے کو کھو بیٹھی، کوئی بھائی بہن سے بچھڑ گیا، کوئی دوست خون کے دریا میں رہ گیا۔ہجرت محض زمین کی تبدیلی نہ تھی، یہ دلوں کا زخم تھی، یہ رشتوں کی قربانی تھی، یہ خوابوں کا خون اور امیدوں کا جنازہ تھا۔ مگر پھر بھی یہ کرب ایک نئی صبح کی بنیاد بنا۔
ایک ایسا وطن وجود میں آیا جہاں آزادی کی ہوا تھی، مگر اس ہوا کی خوشبو میں شہیدوں کے خون کی سرخی شامل ہے جس کی قدر دانی ہم پرنہ صرف فرض بلکہ قرض ہے۔