(+92) 319 4080233
کالم نگار

معظمہ تنویر

معظمہ تنویر

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
حالت جنگ میں قلمکار کا کردار
تاریخ گواہ ہے کہ جنگ کا نتیجہ سوائے تباہی اور بربادی کے اور کچھ نہیں نکلتا۔ اقوام عالم کی تواریخ جنگوں کی ہولناکیوں سے بھری ہوئی ہیں اس کے باوجود دنیا کے مختلف خطوں پر جنگ کے سائے منڈلاتے ہی رہے ہیں ۔ یہاں یہ سوال نہایت اہم ہے کہ کیا جنگ واقعی ناگزیر ہوتی ہے یا اسے ٹالا جا سکتا ہے ؟ انسانیت کو بچانے کے لیے محفوظ ترین روشن امکانات کی روشنی میں اس بنیادی سوال کا جواب بلا شبہہ اہل قلم ہی دے سکتے ہیں ۔یوں زمانہ جنگ میں لکھاریوں کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے کہ وہ نہ صرف عوام الناس کے حوصلوں کو بلند رکھیں بلکہ جنگ کے حوالے سے قوم کے شعور و فہم میں قابل قدر اضافہ بھی کریں۔
افواہ سازی سے گریز کریں:
جان بوجھ کر گم راہ کرنے والی خبروں، معلومات یا افواہ کی وجہ سے نہ صرف سائنسی بنیادوں پر قایم حقائق کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہو جاتے بلکہ گم راہ کن خبریں قومی اور بین الاقوامی پالیسیوں پر بھی بہت بُرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اور حالت جنگ میں تو اسکی سنگینی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ایسے مشکل حالات میں، جب لوگ درست اور قابل بھروسہ خبروں کے متلاشی ہیں، ایسے میں سازشی خیالات، افواہیں اور جھوٹی خبریں سوشل میڈیا کی مدد سے ہر جانب بہت تیزی سے پھیل جاتی ہیں اور پھر وہ ٹی وی ، ریڈیو اور اخبارات تک راہ بنالیتی ہیں۔ پھر بہت سی افواہیں اور گم راہ کن خبریں نامی گرامی شخصیات، سیاست داں اور عام لوگ اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پرشیئر کردیتے ہیں۔ یوں کوئی غلط خبر، معلومات یا افواہ جنگل میں آگ کی طرح وائرل ہو جاتی ہے۔ اور اس کا سراسر نقصان ملک و قوم کو ہوتا ہے ایسے کشیدہ حالات میں آگاہی کی تمام تر ذمہ داری سوشل میڈیا اور خبر رساں اداروں پر ڈال دینا ،ہرگز دانشمندی نہیں کیوں کہ قلم کی طاقت سے بہت سے پیچیدہ امور اور ان کے حل سے روشناس کرایا جا سکتا ہے تاکہ افراد صحیح سمت میں سوچنے کا راستہ تلاش کر سکیں ۔ اس ضمن میں لکھاریوں کو اپنی نگارشات تعمیری انداز میں تیزی سے عوامی خدمت کے جذبے کے تحت پیش کرنے کی اشد ضروت ہے ۔ تاکہ لوگوں کے اعصاب مضبوط اور ہمت جواں رہے۔ اور وہ ادھر ادھر کی بیجا اور ہیجان انگیز افواہوں سے متاثر نہ ہوں یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ کچھ لوگ حالات کی کشیدگی سے مذموم فائدہ اٹھا کر بار بار خوفناک اندیشوں کو پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ جن سے ڈر اور انتشار جنم لے سکتا ہے ۔اس قسم کے تمام منفی حربوں کو ناکام کرنے کے لیے لکھاری خواتین اور مرد حضرات کو قلم کے ذریعے اپنا قومی فریضہ احسن طریقے سے ادا کر نے کی ضرورت ہے ۔تا کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے علاوہ انہیں بہادری اور استقامت کا درس دے کر بے چینی و اضطراب کی کیفیات سے نجات دلائی جا سکے اور انہیں پرعزم رکھتے ہوئے ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کرنے کی جانب راہنمائی کی جا سکے۔غلط خبروں یا ا فواہوں سے مرتب ہونے والے اثرات بتاتے ہیں کہ وہ خواہ کسی بھی قسم اور طاقت کی ہوں انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور بالخصوص حالت جنگ میں ان کے بارے میں یہ کہنا غلط ہے کہ افواہ محض افواہ ہوتی ہے جس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا۔
جنگ نہیں امن:
یہ ادراک نہایت ضروری ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ۔اس لیے گفت و شیند کا در ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے تاکہ انسانیت کو جنگی جنون کی تباہ کاریوں سے بچایا جا سکے ۔ بنی نوع انسان کے دفاع کے لیے ہر حال میں لکھنے والوں کو جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر موجودہ حالات میں اپنا یادگار کردار پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کڑے وقت میں افراد ملت ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار" بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ" کی ماند متحد ہو جائیں اور ان کے حوصلے چٹانوں سے بڑھ کر مضبوط ثابت ہوں۔اسلام سرتاپا امن و آشتی کا داعی اور پر امن بقائے باہمی کا علمبردار رہا ہے ۔ صلاح الدین ایوبی کے سنہری دور میں اقلیتوں سے مثالی سلوک کے خود حریف بھی معترف رہے ہیں۔ لیکن موجودہ حالات و واقعات سب کے سامنے ہیں۔ اسرائیل کی صرف 90 لاکھ آبادی 45 کروڑ عربوں کے سامنے کھڑی ھے اور وہ تمام تر دولت و حشمت کے باوجود ناکارہ پرزے بنے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔اس کے برعکس انڈیا 1 ارب 30 کروڑ کا ملک ہے جبکہ پاکستان 24 کروڑ کا۔ لیکن اس امر سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پورے خطے میں صرف پاکستان ہی ہے جو 78 سال سے انڈیا کے سامنے ڈٹے ہوئے ہے، بغیر کسی ڈر یا احساسِ کمتری کے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہماری ریاست سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں ہمیں اپنی اسٹیبلشمنٹ سیاسی لوگوں سے لاکھ اختلاف ہو سکتا ہے اپنے سسٹم پر افسوس ہو سکتا ہے الغرض ہمارے اندر ہزاروں خامیاں ہو سکتی ہیں جیسے ہر ملک میں کسی نہ کسی درجہ میں ہوتی ہیں۔ انڈیا کچھ پہلوؤں میں بہتر ہو سکتا ھے، مگر ہم کبھی اس سے مرعوب نہیں ہوئے۔ پاکستان اتنا ہی نڈر ھے جتنا ایک عام پاکستانی یعنی بالکل بےخوف۔ بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق واضح رہے کہ دنیا میں ہمیشہ طاقت کی زبان چلی ہے، اور آگے بھی یہی چلے گی۔ ریاستیں مفادات دیکھتی ہیں، رومان نہیں۔ ہمیں سیکھنا سب سے چاہئے، لیکن ڈرنا کسی سے نہیں۔ طاقت کا مقابلہ طاقت سے ہی ممکن ہے۔ہم جنگ نہیں چاہتے،لیکن ہماری صلح جوئی، امن کی خواہش اور جیو اور جینے دو کی پالیسی کو کسی کمزوری پر محمول نہ کیا جائے۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنگ مت کرو مگر جب بات عزت اپنی زمین اور غیرت یا مذہب پر ا جائے تو دشمن کی گردن پر وار کرو۔
قلم کی طاقت اثر انگیز ہے:
یاد رکھیں کہ قلم کی تاثیر اور طاقت ہر دور میں مسلم و موثر رہی ہے۔دل سے نکلنے والی بات در حقیقت کانوں میں رس گھولتی ہے اور عمل پر ابھارتی ہے۔ بقول اقبال دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے سو تخلیق کاروں کی جانب سے جنگ کی فضا میں اپنی اعلیٰ و ارفع تحاریر کے ذریعے افراد ملت کے جوش و جذبے کو افزوں تر کرتے ہوئے ان کی راہنمائی کا فریضہ انجام دینے کے لیے اپنی عملی کوششوں کو سامنے لانا ہو گا کیوں کہ تحریر کے وسیلے سے کی گئی تدبیر یقیناً ایک طاقتور ہتھیار کا کا م کرتی ہے جو کہ تقدیر کو بدل سکتی ہے۔قلم کاروں کو اپنی حیثیت و اہمیت کا ادراک ازحد ضروری ہے۔ قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے۔ بظاہر قلم اور تلوار میں کوئی مماثلت نظر نہیں آتی۔ تلوار کے سامنے قلم قطعی بے حقیقت سی چیز نظر آتا ہے اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ قلم اپنی پوشیدہ طاقتوں کے ساتھ تلوار کے مقابلے میں ہمیشہ افضل و برتر رہا ہے۔ قلم ہی سے علم حاصل ہوتا ہے۔ اگر جنگجو کا ہتھیار تلوار ہے تو عالم، فاضل، صاحب عالم دانشور اور تجزیہ نگار کا ہتھیار قلم ہوتا ہے۔جس نے قلم کو ہاتھ میں لیا اسے عزت اور دولت ملی اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ ناکام و نامراد رہا اورترقی عزت و دولت ہر شے سے محروم ہو گیا۔ دنیا کے تمام تر ترقی یافتہ ممالک میں افراد نے علم حاصل کیا وہ تحقیق میں لگے رہے۔طاقت و ترقی کے لیے بھی علم کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے۔ قلم کے نقش صدیوں تک محفوظ رہتے ہیں۔ قلم کے کارناموں سے ہزاروں سال تک علم کے شیدائی علم سے استفادہ کرتے رہیں گے جب تک علم کی جماعت حاصل نہیں ہو گی اس کی طاقت ناپائیدار اور بے اثر ہو گی۔ تلوار نے ظلم کو دبایا اور ظالموں کے سر قلم کیے۔ تلوار انصاف کے لیے بھی چلتی ہے اور ظلم کے لیے بھی لیکن قلم کے حصے کا دوسرا نام علم ہے۔ قوموں کو مہذب بناتا اور ظلم نہ کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ علم حق و انصاف کا علمبردار ہے اور ہر ظلم کے ہمدردی کا سبق دیتا ہے۔ جب ہم قلم اور تلوار کا موازنہ مختلف پہلوئوں سے کرتے ہیں تو مشابہت کے میدان میں قلم کو آگے پاتے ہیں۔ لہذا جنگی ماحول میں اپنے قلم کو ہتھیار بنا کر میدان عمل میں نکل پڑنا چاہیے۔ قلم سب سے پہلی زوردار چیز ہے جس کے زریعے لوگوں میں شعور پیدا کیا جاسکتا ہے۔ملک و قوم کی صحیح رہنمائی کی جاسکتی ہے جب ہم قلم اور تلوار کا موازنہ مختلف پہلوئوں سے کرتے ہیں تو مشابہت کے میدان میں قلم کو آگے پاتے ہیں۔قلم کی نوک کا استعمال کرنے والے ہر دور میں طاقتور ثابت ہوئے۔ بڑے ظالم و جابر حکمرانوں نے اہل قلم کے آگے گھٹنے ٹیک دیے۔ موجودہ وقت میں قلم کی طاقت کا مثبت استعمال ضروری ہے۔ قلم عکاسی کرتا ہے ہماری سوچ کی اور مثبت سوچ ، نا پید ہو تی جا رہی ہے اچھے قلمکار آگے آئیں اور معاشرے کی کمان ہاتھ میں لے کر رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیں۔
خلاصہ کلام:
جنگ کے وقت ایک لکھاری کا کردار بہت اہم اور کثیر الجہتی ہوتا ہے۔ لکھاری جنگ کے واقعات، لوگوں کی کہانیاں، اور تباہی کے مناظر کو قلمبند کر کے آنے والی نسلوں کے لیے ایک اہم تاریخی ریکارڈ تیار کر سکتا ہے۔ یہ دستاویز صرف حقائق تک محدود نہیں ہوتا بلکہ عام لوگوں کے تجربات، ان کے جذبات اور ان کی مشکلات کو بھی محفوظ کرتا ہے۔ جنگ میں بہت سے لوگ اپنی آواز کھو دیتے ہیں یا ان کی آواز سنی نہیں جاتی۔ لکھاری ان بے آواز لوگوں کی آواز بن سکتا ہے، ان کی کہانیوں کو دنیا تک پہنچا سکتا ہے اور ان کے مسائل کو بہتر طریقے سے اجاگر کر سکتا ہے۔ ایک اچھا لکھاری اپنے کام کی لگن اور دھن کے ذریعے جنگ کے ہولناک نتائج، اس کے انسانی اور سماجی اثرات، اور اس کے پیچھے کارفرما وجوہات پر روشنی ڈال سکتا ہے۔ وہ لوگوں میں جنگ کے خلاف شعور بیدار کر سکتا ہے اور امن کی اہمیت کو اجاگر کر سکتا ہے۔ جنگ کے مشکل حالات میں لکھاری اپنے الفاظ کے ذریعے لوگوں کو امید دلا سکتا ہے، ان کے حوصلے کو بلند رکھ سکتا ہے اور انہیں متحد کر سکتا ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں انسانیت، ہمدردی اور بقا کی قوت کو دکھا کر لوگوں کو ایک بہتر مستقبل کی امید دلا سکتا ہے۔جنگ کے دوران اکثر پروپیگنڈا اور غلط معلومات اور بے تکی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں۔ ایک ذمہ دار لکھاری کا فرض بنتا ہے کہ حقائق کی تلاش اور ترسیل کے ذریعے اس پروپیگنڈے کا مقابلہ کرے اور لوگوں کو صحیح صورتحال سے آگاہی فراہم کرے۔اس کے علاوہ تجربے سے ثابت ہے کہ لکھائی خود ایک طرح کی تھراپی کا کام بھی کر سکتی ہے۔ جنگ سے متاثرہ افراد اپنی آپ بیتی کو لکھ کر اپنے درد اور صدمے کا اظہار کر سکتے ہیں اور کسی حد تک نفسیاتی سکون بھی حاصل کر سکتے ہیں۔اس بات کو شد و مد کے ساتھ اجاگر کیا جائے کہ جنگ کسی بھی قوم کی ثقافت اور شناخت کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ لکھاری اپنی تخلیقات کے ذریعے اپنی ثقافت، زبان اور روایات کو زندہ رکھ سکتا ہے اور قومی شناخت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔قصہ مختصر حالت جنگ میں ایک لکھاری محض ایک کہانی کار نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک مؤرخ، ایک گواہ، ایک ترجمان، ایک بیدار کرنے والا، ایک امید دلانے والا اور اپنی قوم کی روح کا محافظ ہوتا ہے۔اس کے الفاظ میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے خیالات بدل سکے، انہیں متحد کر سکے اور تاریخ کے دھارے کو بھی بدل دے۔ عوام میں اتحاد و اتفاق کو فروغ دے اور مستقبل کے لیے تیار کرے۔

کالم نگار : معظمہ تنویر
| | |
350