(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا سہیل سلیم جدون

مولانا سہیل سلیم جدون

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
برمودا ٹرائینگل پر نئی تحقیق
صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ "جان لو کہ دجال نہ شام کے سمندر میں ہے اور نہ ہی یمن کے سمندر میں، وہ مشرق میں ہے۔" اب عرب سے مشرق کی جانب دیکھا جائے تو "ڈیول سی" یا شیطانی سمندر اور بحر اوقیانوس کے "برمودا ٹرائی اینگل" ہی وہ دو جگہیں جنہیں یہودی بھی جہنم کا دروازہ مانتے ہیں ‏حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دونوں جگہوں کا ہی آخری سرا امریکا سے جا کر ملتا ہے۔
مصری محقق کی رائے:
مصری محقق عیسیٰ داؤد نے اپنی کتاب "مثلث برمودا" میں کہا کہ دجال بحر الکاہل کے ان غیرآباد اور ویران جزائر میں تھا، اور حضور ﷺ کے وصال تک وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا، مگر آخری رسول ﷺ کے وصال کے بعد اسکی بیڑیاں ٹوٹ گئیں، اور وہ آزاد ہوگیا، مگر اسے خروج کی اجازت نہیں تھی، لہذا اب وہ "ڈیول سی" سے برمودا ٹرائی اینگل تک رابطے میں ہے، جس کے قریب شیطانی تہذیب پروان چڑھ کر نقطہ عروج کو پہنچنے والی ہےبحرالکاہل کے ڈیول سی یا شیطانی سمندر اور بحر اوقیانوس کے برمودا ٹرائی اینگل میں کئی خصوصیات کے اعتبار سے مماثلت پائی جاتی ہے جو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ دونوں میں ایسا تعلق ضرور ہے جو دنیا کی نظر سے پوشیدہ ہے۔کہا جاتا ہے کہ اس پُراسرار جگہ پر بےشمار حادثے رونما ہوچکے ہیں، یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ دنیا میں یہ دو جگہیں ایسی ہیں جہاں قطب نما کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔‏دونوں میں ہی متعدد بحری اور ہوائی جہاز غائب ہوچکے ہیں، اور تو اور ان علاقوں میں ایسے جہازوں کو بھی سفر کرتے دیکھا گیا جو برسوں پہلے غرق ہوچکے ہیں۔دونوں میں ہی ایسی برقی لہریں اور مقناطیسی کشش بھی موجود ہے جو بڑے بڑے جہازوں کو تروڑ مروڑ کر رکھ دیتی ہیں۔
افشاء راز کے قریب:
برمودا ٹرائی اینگل، جو کئی دہائیوں سے پراسراریت کا محور رہا ہے، اپنے رازوں سے پردہ اٹھانے لگا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جو شمالی بحر اوقیانوس میں واقع ہے، جہاں فلوریڈا، برمودا، اور پورٹو ریکو کے درمیان ایک خیالی مثلث بنتا ہے۔ اس علاقے کو "شیطان کا مثلث" بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہاں پر کئی جہاز اور طیارے پراسرار طور پر غائب ہو چکے ہیں۔ لیکن اب جدید سائنس نے اس معمے کو حل کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہوئے ماہرینِ موسمیات نے ایک ایسی دریافت کی ہے جو اس راز کو کھول سکتی ہے۔ عجیب و غریب چھ کونوں والے بادل، جن کا دائرہ 55 میل تک پھیلا ہوا ہے اور جو 170 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے ساتھ "ایئر بم" پیدا کر سکتے ہیں۔
برموداایک تاریخی پراسراریت:
برمودا ٹرائی اینگل کا ذکر سنتے ہی ذہن میں خوفناک کہانیاں اور پراسرار واقعات کا خیال آتا ہے۔ یہ علاقہ تقریباً 5 لاکھ سے 15 لاکھ مربع میل پر پھیلا ہوا ہے، جو کہ اس کے دقیق مقام کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ اس علاقے کی تاریخ کئی دہائیوں سے حادثات سے بھری پڑی ہے۔ 1918 میں امریکی بحریہ کا جہاز یو ایس ایس سائیکلوپس، جس پر 309 افراد سوار تھے، اسی علاقے میں غائب ہو گیا تھا۔ اس کے بعد 1945 میں فلائٹ 19، جو کہ امریکی بحریہ کے پانچ بمبار طیاروں کا ایک گروپ تھا، اسی علاقے میں لاپتہ ہو گیا۔ ان واقعات نے برمودا ٹرائی اینگل کو دنیا بھر میں مشہور کر دیا۔لوگوں نے ان گمشدگیوں کی وجوہات کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کیں۔ کچھ کا خیال تھا کہ یہاں پر خلائی مخلوق (ایلینز) کا عمل دخل ہے، کچھ نے سمندری عفریت یا عجیب و غریب مقناطیسی قوتوں کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ لیکن اب تک کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا تھا۔ تاہم، اب ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا نے ایک نئی امید کی کرن دکھائی ہے۔
نظریہ ائیر بم کیا ہے؟
ماہرینِ موسمیات نے ناسا کے سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر کا مطالعہ کیا تو انہوں نے کچھ غیر معمولی دیکھا: برمودا ٹرائی اینگل کے اوپر چھ کونوں والے بادل موجود تھے، جو عام موسمی بادل سے بالکل مختلف تھے۔ یہ بادل نہ صرف بہت بڑے تھے، ان کا دائرہ 20 سے 55 میل تک پھیلا ہوا تھا، بلکہ ان کی شکل بھی منفرد تھی۔ عام طور پر بادل گول یا بے ترتیب شکل کے ہوتے ہیں، لیکن یہ بادل سیدھے کناروں والے تھے، جو کہ ایک غیر معمولی بات ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بادل "مائیکرو برسٹس" نامی ہواؤں کا سبب بن سکتے ہیں۔ مائیکرو برسٹس ایسی تیز رفتار ہوائیں ہوتی ہیں جو اچانک زمین کی طرف بہت تیزی سے نیچے آتی ہیں۔ ان ہواؤں کی رفتار 170 میل فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے، جو کہ ایک طوفان سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ جب یہ ہوائیں سمندر سے ٹکراتی ہیں، تو وہ 45 فٹ تک بلند لہریں پیدا کر سکتی ہیں، جو کسی بھی جہاز کو ڈبو سکتی ہیں۔ اسی طرح، یہ ہوائیں طیاروں کے لیے بھی خطرناک ہیں، کیونکہ یہ اچانک ہوا کے دباؤ میں تبدیلی پیدا کرتی ہیں، جس سے طیارہ کنٹرول کھو کر گر سکتا ہے۔
تاریخی واقعات کی نئی تحقیق:
یہ نظریہ کئی تاریخی واقعات کی وضاحت کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، فلائٹ 19 کے واقعے پر نظر ڈالیں۔ 5 دسمبر 1945 کو، پانچ امریکی بمبار طیاروں نے فلوریڈا سے تربیتی پرواز کے لیے اڑان بھری تھی۔ یہ طیارے برمودا ٹرائی اینگل کے اوپر سے گزر رہے تھے جب اچانک ان کا رابطہ زمین سے منقطع ہو گیا۔ کچھ دیر بعد، ان کے پائلٹوں نے ریڈیو پر بتایا کہ ان کے کمپاس کام نہیں کر رہے اور وہ اپنی سمت کھو چکے ہیں۔ اس کے بعد، یہ طیارے کبھی واپس نہ لوٹے۔ اسی طرح، یو ایس ایس سائیکلوپس، جو کہ ایک بہت بڑا امریکی بحری جہاز تھا، 1918 میں اسی علاقے سے گزرتے ہوئے غائب ہو گیا۔ اس جہاز پر سوار 309 افراد میں سے کسی ایک کا بھی سراغ نہ مل سکا۔ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس وقت "ایئر بم" جیسا کوئی واقعہ پیش آیا ہوتا، تو یہ طیاروں اور جہازوں کی گمشدگی کی وضاحت کر سکتا ہے۔ ان مائیکرو برسٹس کی وجہ سے سمندر میں اچانک بلند لہریں اٹھی ہوں گی، جنہوں نے جہازوں کو غرق کر دیا، جبکہ طیاروں کو ہوا کے شدید دباؤ نے گرا دیا ہو گا۔
اس نظریہ کا تنقیدی جائزہ:
اگرچہ یہ نظریہ بہت منطقی معلوم ہوتا ہے، لیکن تمام ماہرین اس سے متفق نہیں ہیں۔ کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چھ کونوں والے بادل دنیا کے دیگر حصوں میں بھی دیکھے گئے ہیں، لیکن وہاں پر ایسی گمشدگیوں کے واقعات نہیں ہوئے۔ مثال کے طور پر، بحرالکاہل کے کچھ علاقوں میں بھی ایسے بادل بنتے ہیں، لیکن وہاں جہازوں یا طیاروں کے غائب ہونے کی کوئی بڑی تاریخ نہیں ہے۔ اس تنقید کے جواب میں، حامی سائنسدان کہتے ہیں کہ برمودا ٹرائی اینگل کی منفرد جغرافیائی حالت اسے زیادہ خطرناک بناتی ہے۔ یہاں پر گلف اسٹریم، جو کہ ایک تیز رفتار سمندری دھارا ہے، موجود ہے، جو ان مائیکرو برسٹس کے اثرات کو اور بڑھا سکتا ہے۔مزید برآں، کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ برمودا ٹرائی اینگل میں میتھین گیس کے بلبلے بھی حادثات کا سبب بن سکتے ہیں۔ سمندر کی تہہ سے اٹھنے والی یہ گیس پانی کے کثافت کو کم کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے جہاز ڈوب سکتے ہیں۔ لیکن "ایئر بم" نظریہ اس سے زیادہ جامع معلوم ہوتا ہے، کیونکہ یہ جہازوں کے ساتھ ساتھ طیاروں کی گمشدگی کی بھی وضاحت کرتا ہے۔
برمودا ٹرائی اینگل کے دلچسپ حقائق:
برمودا ٹرائی اینگل کے بارے میں کچھ ایسٹ دلچسپ حقائق بھی ہیں جو اس کی پراسراریت کو اور بڑھا دیتے ہیں مثلاً، کچھ اندازوں کے مطابق، گزشتہ ایک صدی کے دوران اس علاقے میں 50 سے زائد جہاز اور 20 سے زائد طیارے غائب ہو چکے ہیں۔ دوسرے کہا جاتا ہے کہ برمودا ٹرائی اینگل میں کمپاس درست سمت نہیں دکھاتا، کیونکہ یہاں پر زمین کا مقناطیسی میدان کچھ عجیب سا رویہ دکھاتا ہے۔ تیسرے یہ کہ یہ علاقہ اپنے غیر متوقع طوفانوں کے لیے بھی جانا جاتا ہے، جو اچانک شدید ہو سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں مستقبل کی تحقیق اور امکانات بھی روشن ہیں۔اس نئے نظریے نے سائنسدانوں کو ایک نئی سمت دی ہے، لیکن ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں اس علاقے میں طویل عرصے تک مشاہدات کرنے ہوں گے تاکہ ان بادلوں کے بننے اور ان کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ ناسا اور دیگر موسمیاتی اداروں نے اس علاقے پر مزید سیٹلائٹس اور ڈرونز کے ذریعے نگرانی شروع کر دی ہے۔ اگر یہ نظریہ درست ثابت ہو گیا، تو یہ نہ صرف برمودا ٹرائی اینگل کے راز کو حل کرے گا، بلکہ سمندری اور ہوائی سفر کو بھی محفوظ بنانے میں مدد دے گا۔
عظیم معمہ سلجھنے کے قریب:
برمودا ٹرائی اینگل کی پراسراریت نے کئی نسلوں کو حیران کیا ہے۔ لوگوں نے اسے سائنسی، ماورائی، حتیٰ کہ افسانوی زاویوں سے دیکھا ہے۔ لیکن اب، "ایئر بم" نظریے کے ساتھ، ہم شاید اس عظیم سمندری معمے کے حل کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ نظریہ ہمیں بتاتا ہے کہ فطرت کتنی طاقتور اور غیر متوقع ہو سکتی ہے۔ شاید یہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں فطرت کا احترام کرنا چاہیے اور اس کی طاقت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ کیا یہ نظریہ واقعی برمودا ٹرائی اینگل کے تمام راز کھول دے گا؟ اس کا جواب وقت ہی بتائے گا، لیکن فی الحال، یہ تحقیق ہمیں امید کی ایک نئی کرن ضرور دکھا رہی ہے۔
ماضی کی تحقیقات کا نچوڑ:
برمودا ٹرائینگل پر کام کرنے والی تحقیقی ٹیم کا ماننا ہےکہ برمودا ٹرائی اینگل کے اسرار کی وضاحت تند و تیز لہروں سے ممکن ہے۔محققین نے اس مقصد کے لیے طوفانی لہروں کو لیبارٹری میں بنایا جو کہ بہت طاقتور اور خطرناک تھیں، جبکہ ان کی اونچائی 100 فٹ تک تھی۔اس قسم کی لہروں کو سائنسدان اکثر شدید طوفانی لہریں قرار دیتے ہیں۔ تحقیقی ٹیم نے ایک بحری جہاز یو ایس ایس سائیکلوپ کا ماڈل تیار کیا تھا،542 فٹ کے اس جہاز کا ملبہ کبھی نہیں مل سکا اور نہ ہی عملے اور مسافروں کے بارے میں کچھ معلوم ہوسکا۔تحقیقی ٹیم کے مطابق اس تکون میں 3 مختلف اطراف سے شدید طوفان آسکتے ہیں جو کہ کسی بہت بڑی لہر کو بنانے کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس طرح کی لہر کسی بڑے بحری جہاز کو بھی ڈبو سکتی ہے، جیسا لیبارٹری میں آزمائش کے دوران اس کی کامیاب آزمائش بھی کی گئی۔مگر کسی بھی تحقیق میں اب تک اس سوال کا جواب سامنے نہیں آسکا کہ اگر بادل یا لہر جہازوں اور طیاروں کی تباہی کا باعث بنتے ہیں تو ان کا ملبہ کہاں جاتا ہے؟

کالم نگار : مولانا سہیل سلیم جدون
| | |
449     1