(+92) 319 4080233
کالم نگار

پروفیسر غلام دستگیر صابر

پروفیسر غلام دستگیر صابر

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
ایک موازنہ
میں نے پہلی جماعت سے پی۔ایچ۔ڈی لیول تک امتحانات دیئے ہیں مگر ایسے دلچسپ،ڈرامائی شرمناک اور عجیب مناظر زندگی میں پہلی مرتبہ میٹرک کے جاری امتحان میں دیکھنے کو ملا ہے۔امتحانی سینٹر میں سپرنٹینڈنٹ، ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ،ایڈیشنل سپرنٹینڈنٹ سمیت کئی نگرانوں کے علاوہ کئی صوبائی سیکریٹریز، ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، تحصیلدار،نائب تحصیل دار، پٹواری،اسسٹنٹ،سینیر کلرک، جونیئر کلرک وغیرہ سب٫٫نقل،، کی روک تھام کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کررہے ہیں۔مگر نقل بھی بڑی٫٫ڈھیٹ،، ہے۔ان سب کو چکمہ دیکر نہ صرف اپنی آب و تاب کے ساتھ موجود ہے بلکہ بھرپور طریقے سے اس نظام پر خوب قہقہے لگا کر اسکا مزاق بھی اڑارہی ہےاور یہ شرمناک امتحانی نظام واقعی مذاق اڑانے کے قابل ہے۔ بچے اور بچیاں بھی عجیب خوف اور مخمصے کے شکار ہیں گویا انکا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔ تعلیمی پسماندگی کایہ عالم ہے کہ کوئٹہ کے علاؤہ سارے بلوچستان میں ایک بھی ایسا ضلع نہیں جہاں سارے ٹیچرز مہیا ہوں۔ہمارے ضلع کے ایک ہائی اسکول میں پرائمری سے میٹرک تک صرف تین ٹیچرز ہیں باقی سیکنڑوں کے حساب سے گھوسٹ بھرتیاں ہیں جو بظاھر نامعلوم لاش کی طرح نظر نہیں آتے بس تنخواہ لینے پہنچ جاتے ہیں۔سینکڑوں اسکولز میں ایس ایس ٹی ٹیچرز نہیں۔ سائنس پڑھنے والے بچے سائنس لیبارٹریز کو جانتے تک نہیں۔گاؤں دیہاتوں کے تو حالات اور بھی ابتر ہیں۔ بیشتر اسکولز کی عمارتیں وڈیروں کی اوطاق کے کام آتی ہیں۔ کہیں مویشی باندھے ہوئے ہیں۔ جہاں کہیں اتفاقیہ تعلیمی سلسلہ جاری ہے وہاں بچوں بچیوں کے لیے واش روم جیسی بنیادی سہولت بھی میسر نہیں۔
نقال مافیا کا تعاقب:
چاہئے تو یہ تھا کہ نظام تعلیم کی درستگی کے لیے پائیدار اور دیر پا تلاش کیا جاتا تا کہ مستقبل کے معماروں کو تحفظ کا احساس ہو امگر نہ جانے اچانک ہمارے سقراطوں اور بقراطوں کو کیا سوجی کہ چلو بھائی نقل بند۔۔۔۔ کردیتے ہیں۔ صوبے کی بیوروکریسی سے پٹواری تک کمانڈوز کی طرح امتحانی ہالوں میں گھس کر بچوں سے نقل اور موبائل چھینتے ہیں۔ بھئی اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟؟ نتیجہ یہ ہے کہ خود چیئرمین بورڈ، کنٹرولراور کمشنر صاحب نے دو دن قبل کوئٹہ شہر کے تین امتحانی سنٹرز سے نہ صرف موبائل برآمد کئے بلکہ ایسے جعلی طلباء بھی پکڑ لئے جو دوسروں کی جگہ بیٹھ کر امتحان دے رہے تھے۔جب حساس ترین شہر کوئٹہ کا یہ حال ہے تو باہر کے سینٹرز کا کیاحال ہوگا؟ یہ بتلانے کی ضرورت نہیں وہاں جب ٫٫ صاحب لوگ،،چند منٹوں کے لئے ہال میں جاتے ہیں تو سناٹا چھا جاتا ہے۔کچھ جعلی امیدوار اور کچھ موبائلز پکڑتے ہیں مگر اگلے دن دوبارہ وہی تماشا٫٫صاحب،، جونہی ہال سے باہر نکل جاتاہے تو٫٫ بوٹی مافیا،،دوبارہ سرگرم ہوتا ہے۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ نقل کا٫٫ دھندا،، اب بھی عروج پر ہے۔ اس دھندے میں ایک نہایت مضبوط مافیا متحرک ہے جو گہری جڑیں رکھتا ہے۔ حتی کہ تبادلے و تعطل میں بھی کار فرما ہے۔اس گورکھ دھندے میں بورڈ آفس کے کچھ ملازمین،ٹیچرز یونینز کے کچھ عہدے داران،ہم جیسے ماسٹرز اور والدین سب شامل ہیں۔( البتہ حقیقی امتحان لینے والے اساتذہ کرام سے دلی معزرت)باتیں تو سب کرتے ہیں مگر اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کہ اس حمام کے سب ننگے ہیں کوئی بھی نقل کے خاتمے کے لئے مخلص نہیں۔ پیشگی معزرت کے ساتھ الفاظ کے چناؤ میں احتیاط نہ کرسکوں گا۔٫٫نقل،، ایک نہایت خوبصورت ٫٫طوائف،، ہے اور یہ سب اس کے "مستقل گاہک" ہیں اور چپکے چپکے جاکر اس سے ٫٫ لطف،، حاصل کرتے ہیں۔اور دنیا دکھلائی کے لیے اس کے٫،کوٹھے،، سے باہر آکر اسے برا بھلا بھی کہتے ہیں۔ ہنسی آتی ہے حضرت انسان پر فعل بد تو خود کرے لعنت کرے شیطان پر۔
تصویر کا دوسرا رخ:
کچھ دن پہلے میں اپنے ایک دوست قاری صہیب احمد کے ساتھ نوشکی کے سب سے قدیم اور معروف دینی ادارے جامعہ جمالیہ کلی جمالدینی گیا۔وہاں وفاق المدارس کے سالانہ امتحانات جاری تھے۔ وہاں میں نے جو مناظر دیکھے یقین جانیں مجھے شدید حیرت کے ساتھ نہایت شرمندگی بھی ہوئی۔اتنا بہترین اور مثالی امتحانی نظام؟مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ مسجد کی عمارت امتحانی ہال تھی۔تقریباً ایک سو پانچ طلباء ایک دوسرے سے چھ فٹ کے فاصلے پر مسجد کی چٹائیوں پر بیٹھے نہایت خاموشی و اطمینان سے اپنے اپنے پیپرز حل کر ریے تھے۔امتحان کا مسؤل (سپرنٹینڈنٹ) زمین پر بیٹھا اپنا کام کررہا تھا۔دو نائب مسؤل (ڈپٹی سپرنٹینڈنٹس) ہال میں نہایت خاموشی و متانت سے گھوم رہے تھے۔نہ ہال کے باہر شور شرابہ،نہ چیکنگ، نہ موبائل نہ ہی نقل دینے والوں کا جم غفیر۔ یہ بھی واضح رہے کہ یہ کوئی عام امتحان بھی نہیں تھا۔ملکی سطح پر قائم ملک کے سب سے بڑے دینی بورڈ کے امتحانات تھے۔ جو ملک بھر میں ایک ساتھ جاری تھے۔ ملک میں ہزاروں مدارس کے ساڑھے چھ لاکھ سے زائد طلباء اور طالبات امتحان دے رہے تھے ان میں ایک لاکھ کا تعلق بلوچستان سے تھا۔ اس میں شروع کے درجہ اولی (ابتدائیہ ) سے لے کر دورہ حدیث (ایم اے کے مساوی ڈگری) کے تمام طلباء شامل تھے۔ لیکن شاباش ہے امتحانی نظام بنانے والوں پر ، سلام ہے دینے والوں پر۔
نقل کا تصور بھی نہیں:
طلباء ایک دوسرے سے سوال پوچھ ہی نہیں سکتے کیونکہ انکا ایسا بہترین نظام ہے کہ ایک طالب کسی اور کلاس کا ہے جبکہ دوسرے کا تعلق کسی اور کلاس سے ہے۔ بیک وقت آٹھوں درجات کے طلباء ایک ساتھ امتحان دے رہے تھے۔ سب کے امتحانی پیپر کے مضمون بھی الگ الگ تھے۔ ان حالات میں بھلا کوئی کیسے دوسرے سے سوال پوچھ سکتا ہے؟
اک طائرانہ جائزہ:
آئیے اب موازنہ کرتے ہیں کہ فاق المدارس اور ہمارے نقل خوردہ امتحان میں کتنا خرچہ آتا ہے؟ہمارے سپرنٹینڈنٹ کو امتحان میں پچاس سے نوے ہزار تک مل جاتے ہیں مگر وفاق کے امتحان کے سپرنٹینڈنٹ کوصرف ساڑھے چھ ہزار،ہمارے ڈپٹی اور ایڈیشنل کوبھی پچاس ہزارسے زیادہ ملتے ہیں مگر وفاق المدارس کے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ کو ساڑے چار ہزار ملتے ہیں۔ ہمارے سپرنٹینڈنٹ صاحبان کے امتحانی ٹیبلز پر دودھ پتی چائے، انواع اقسام کے بسکٹ، کیک، خشک میوہ جات،تازہ جوس منرل واٹر وغیرہ ( اور یہ کون لاتا ہے؟؟ یہ ہم سب بخوبی جانتےہیں) نہ جانے تو گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے مگر وفاق کے سپرنٹینڈنٹ کو ایک کپ چائے بھی نہیں ملتی، پیاس بجھانے کے لئے وضو خانے کی ٹونٹی سے گلاس بھر کر دے دیا جاتا ہے۔ ہمارا امتحانی عملہ دوپہر کو قسم قسم کے مذیدار کھانوں کی فرمائش کرتا ہے اور پھر ڈھیر سارے مال مفت پر ہاتھ صاف کرکے ڈکار لیتا ہے اور رات کو عموماً کسی تگڑے اور سفارشی امیدوار کی طرف سے کسی بہترین بیٹھک یا ہوٹل میں پر تکلف دعوت سے خوب لطف اندوز ہوتا ہے اور واپسی پر کچھ " حرام" اپنے گھر والوں کے لیے پارسل بھی لے جاتا ہے۔ مگر وفاق کے سپرنٹینڈنٹ اور امتحانی عملہ کو مدرسے کے طلباء کے ساتھ مدرسے کے طلباء کا حسب معمول پکا ہوا سادہ کھانا کھلایا جاتاہے۔ ان کے ایک پورے امتحان کے نگرانوں کو تقریباً بیس ہزار روپے ملتے ہیں مگر ہمارے ایک امتحان کے نگرانوں ،چوکیدار،خاکروب،چپڑاسی،اور واٹرمین ( جواکثر پانی پلانے کے بہانے نقل فراہم کرتاہے) سب کو تقریباً ڈھائی لاکھ روپے ملتے ہیں۔سینٹر انسپکٹر،بورڈ آفس کی چھاپہ مار ٹیم کے ٹی اے ڈی اے الگ ہیں (امتحانی عملے کے تحفے تحائف بشکل رشوت الگ ہیں) اب موجودہ میٹرک کے امتحانات میں صوبائی سیکریٹریز، ڈپٹی کمشنرز اور اعلیٰ و ادنیٰ سرکاری آفیسروں کے ٹی اے ڈی اے اور پرتکلف دعوتوں پر لاکھوں روپے خرچ ہونگے۔مگر کم بخت٫٫ نقل،،کا خاتمہ ناممکن ہے۔ویسے باہر کی دنیاکے لوگ اگر یہ سنیں کہ صوبائی سیکرٹری،ڈپٹی کمشنرز سے لیکر پٹواری تک سب کا کام٫٫نقل چھیننا،، ہے تو شاید یہ گنیزبک کے ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہوجائے۔مختصر یہ کہ٫٫نقل،، کا خاتمہ ناممکن ہے کیونکہ بورڈ آفس کی کچھ کالی بھیڑیں،،ٹیچرز ایسوسی ایشنز کے کچھ عہدیداران،بوٹی مافیا،امتحانی عملہ،طلباء،والدین ہم سب اس حمام میں مکمل٫٫ننگے،، ہیں۔ساری حکومتی مشنری، بیوروکریسی،کروڑوں کا خرچہ،امتحانی ہالز میں٫٫کمانڈو،، ایکشن،وغیرہ سب دکھاوے ہیں۔ کیونکہ ہم سب باعتبار مجموعی کوئی بھی نہ تعلیمی بہتری کے خواہشمند ہیں نہ نقل کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ سب کے اپنے اپنے مفادات اس فرسودہ نظام سے وابستہ ہیں۔
نتیجہ صفر:
آج تک ساری حکومتی مشنری مل کر بھی صرف میٹرک میں نقل کا خاتمہ نہیں کرسکی ہے دوسری جانب کچھ مولوی سارے ملک میں چھ لاکھ سے زیادہ طلباء اور طالبات کا ایسا مثالی امتحان لے رہے ہیں جو قابل فخر، ناقابل بیان اور قابل صد تحسین ہےہماراامتحانی نظام شرمناک اور اور انکامثالی ہے۔ہم جھوٹے اور منافق وہ سچے اور صادق ہیں۔ اور اس سب پر ایک لطیفہ یہ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ حکومت ان مدارس کے تعلیمی نظام میں اصلاحات ی خواہشمند ہے۔ ہمارا تو مشورہ ہے کہ ایک بار میٹرک کے امتحانات ان مولوی حضرات کی نگرانی میں کرا کر دیکھ لیجیے شاید کچھ نیا سیکھنے کو مل جائے۔

کالم نگار : پروفیسر غلام دستگیر صابر
| | |
494