(+92) 319 4080233
کالم نگار

ضیاء چترالی

ضیاء چترالی

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
اللہ کے نرالے فیصلے
الفریڈ ویلیام بیسٹ (Alfred William Best) المعروف ’’الفی بیسٹ‘‘ (Alfe Best) برطانیہ کے مشہور ارب پتی بزنس مین ہیں۔ 947 ملین پاؤنڈز اثاثوں کی ملکیت کے ساتھ ملک کی مالدار ترین شخصیات میں شامل۔ 95 پارکس، گولف کورس اور کار رینٹل کمپنی Vaaroom کے مالک۔ 2020ء میں East Thurrock United Football Club اور اس کے گرائونڈ کو بھی خریدلیا۔ 2022ء میں ان کے اثاثوں میں 100 ملین پاؤنڈ کا اضافہ ہوا۔ دنیا کی مہنگی ترین لگژری گاڑیوں کا بیڑا، ذاتی طیارے، محل نما حویلی، شاہانہ لائف اسٹائل، ریالٹی شوز سے شہرت ان کے گھر کی لونڈی، دولت بے حد و بے حساب۔ سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پرورش پانے والا ان کا 25 سالہ صاحبزادہ الفی بیسٹ جونیئر (Alfie Best Jr) اس دولت و ثروت کا اکلوتا وارث ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ لڑکا زندگی سے خوش نہیں تھا۔ حالانکہ باپ کی بے حساب دولت کے باوجود وہ کوئی بگڑا ہوا امیر زادہ نہیں بلکہ خود بھی باپ کی طرح سیلف میڈ بزنس مین اور بڑا محنتی نوجوان ہے۔ اس نے اسکول کے زمانے میں ہی اپنا کاروبار شروع کیا تھا۔ چنانچہ یہ اسکول میں مٹھائیاں بیچا کرتا تھا۔ بعد میں گھر گھر جا کر دفتری سامان بیچنے لگا۔ نوعمری میں یہ پارٹیوں میں میزبانی کے فرائض بھی دیتا رہا، بعد میں اس نے اپنا نائٹ کلب خرید لیا۔ 17 سال کی عمر میں اس نے نائٹ کلب بیچ کر ایک پارک لے لیا۔ یوں یہ برطانیہ میں اپنے پارک کا مالک سب سے کم عمر شخص بن گیا۔ اب وہ یورپ میں سب سے بڑے پارک کا مالک بننا چاہتا ہے۔
ایمان افروز داستان:
الفی جونیئر کی یہ داستان نہایت ایمان افروز اور سبق آموز ہے۔ نوجوان کا کہنا ہے کہ باپ کی دولت پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنا کمانے کا ایک الگ ہی مزہ ہے۔ تاہم اس کے لیے آپ کو قابلیت اور خود اعتمادی کی ضرورت پڑتی ہے۔ الفی جے ایک اچھا باکسر بھی ہے۔ اس کھیل سے بھی وہ اچھا خاصا کماتا ہے۔ جبکہ وہ خود ریالٹی شوز بھی چلاتا ہے۔ اپنی محنت سے ارب پتی بننا اس کا خواب ہے۔ الفی جے 6 ملین پاؤنڈ کی محل نما حویلی میں رہتا ہے۔ والد کے ساتھ کئی مشہور ٹی وی شوز میں بھی شریک ہوتا ہے۔ الفی بیسٹ جونیئر چینل 4 کے ریالٹی شو "مای بگ فیٹ گپسی فارچیون" اور ITV کے "ابسلوٹلی ایسکوٹ" میں آتا ہے اور وہ باقاعدگی سے اپنی مہنگی ترین گاڑیوں اور عالی شان طرز زندگی کی تصاویر اپنے 190000 انسٹاگرام فالوورز کے ساتھ شیئر کرتا ہے۔
پوتنے کے پاؤں پالنہار میں:
"دی بلیو ٹک شو" پر بات کرتے ہوئے، الفی نے بتایا کہ اس نے بچپن سے ہی اپنے کاروباری ہنر کو نکھارا تھا۔ میں اسکول میں مٹھائیاں بیچتا تھا، نوکری کے بجائے ہمیشہ کاروباری ذہن تھا۔ البتہ میرے والد کا مشورہ میرے لیے کسی بھی رقم سے زیادہ قیمتی ہے۔ اس نے پوڈکاسٹ میں بتایا کہ اپنے والد کے کاروباری ذہن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، جب میں نے اسکول میں ایک دوسرے بچے کو مٹھائیاں بیچتے دیکھا، تو میں نے اس سے زیادہ بیچنے کا منصوبہ بنایا اور اس پر عمل بھی کیا۔ 16 سال کی عمر میں، الفی جے نے کاروبار کی دنیا میں اپنا پہلا بڑا قدم اٹھایا اور £60,000 کا سرمایہ نائٹ کلب میں لگایا۔ "دی سن" سے گفتگو کرتے ہوئے، اس نے کہا: مجھے لگا کہ میں اسے بدل سکتا ہوں اور آنکھیں بند کر کے اس میں چھلانگ لگا دی۔ اگرچہ مشکل پیش آئی، تجربہ اچھا نہیں رہا، لیکن میں کام سیکھ گیا اور یہی کامیاب زندگی کا رہنما اصول ہے کہ ٹھوکروں اور ناکامیوں کے بعد نکھار آتا ہے۔
اندھیروں سے روشنی تک:
الفی جے کو دنیا کی ہر وہ سہولت حاصل، عیاشی کا ہر سامان مہیا، جس کا عام لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ قیمتی ترین گاڑیاں تو اپنی جگہ، بلکہ آمدورفت کےلیے ہیلی کاپٹر کی سہولت بھی موجود ہے، مگر اس سب کے ہوتے ہوئے الفی کی روح پیاسی تھی اور دل حقیقی اطمینان سے نا آشنا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ اس چکاچوند میں، اس افراتفری میں اور اس ہلڑ بازی میں کچھ تو ایسا ہے جو مجھ سے چھوٹ رہا ہے۔ الفی جے کا کہنا ہے کہ میں برائے نام مسیحی تھا گویا شناختی کارڈ یا مردم شماری کی حد تک ، دین سے بہت دور۔ جب کھبی کائنات ارضی پر غور وفکر کیا اور اپنے اردگرد کے حالات و واقعات کا مشاہدہ کیا تو مجھے نہیں لگتا تھا کہ میں کسی برحق دین سے وابستہ ہوں۔ ہمیشہ یہ خیال ستاتا رہا کہ زندگی میں کسی چیز کی کمی ضرور ہے۔ مگر کوئی رہنمائی کرنے والا نہیں تھا۔ کوئی ایسا ہم راز یا خیر خواہ پاس موجود نہیں تھا کہ جس سے دل کی تشنگی کا حال بیان کرکے دل ہلکا کیا کا سکے۔ پھر دو واقعات نے میری زندگی کا رخ ایک سو اسی ڈگری بدل کر رکھ دیا۔
پہلا واقعہ:
برطانوی اخبار دی مرر کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں الفی نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں کورنوال Cornwall میں اپنے دوستوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے کے لیے گیا تھا۔ اس دوران ایک دوست کو جلدی واپس جانا پڑا کیونکہ ان کی والدہ لیوشم کی مسجد Lewisham Mosque میں اپنے قبول اسلام کا اعلان کر رہی تھیں. میں بھی اپنے دوست کے ساتھ چل پڑا۔ اس دوران پہلی بار مجھے مذہب کے فوائد کا براہ راست تجربہ ہوا۔ الفی نے برطانوی اخبار دی سن کو بتایا کہ جب ہم وہاں جا رہے تھے تو میں نے سوچا کہ میں گاڑی میں بیٹھ کر ہی دوست کا انتظار کروں گا، پھر نجانے اچانک کیا ہوا کہ میں نے سوچا کہ مجھے بھی جوتے اتار کر مسجد کی طرف جانا چاہئے، اور یوں میں بلا کسی ارادے کے غیر مرئی انداز میں دوست کے ساتھ مسجد چلا گیا۔ وہاں میرے دوست کی والدہ جب کلمہ شہادت پڑھ رہی تھیں تو دوست روتے ہوئے یہ منظر دیکھ رہے تھے اور مجھے کچھ ایسا محسوس ہوا جو میں نے پہلے کبھی کسی مذہبی مقام پر نہیں محسوس کیا تھا۔ میرے پورے جسم میں سنسناہٹ سی طاری ہوئی، جیسے کہ یہ میرے لیے ایک روحانی پیغام ہو۔کچھ تو تھا جو مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا یا کچھ ایسا تھا جو مجھ تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ بہت عجیب سا تجربہ تھا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں بھی اسی مسجد کا حصہ ہوں۔ بس یہ پہلا موقع تھا کہ دین حنیف نے پوری طاقت کے ساتھ مجھے اپنی طرف نہ صرف متوجہ کیا بلکہ پوری طاقت سے میری توجہ کو اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
دُوسرا واقعہ:
دوسرا واقعہ اس طرح کہ ایک بار اللہ کے فضل سے قرآن کریم کا ایک نسخہ ہاتھ لگ گیا۔ بس پھر کیا تھا ؟؟ کلام الٰہی انسانی محسوسات کی طرف متوجہ ہو اور اپنا اثر نہ دکھلائے یہ ناممکن ہے۔جب میں نے اسے پہلی مرتبہ کھولا اور پڑھنے لگا تو بہت اچھا، بہتر اور موثر محسوس ہونے لگا۔ اس کی ہر بات دل کو بھانے لگی۔ وہ ذہنی روگ خود بخود مٹتا گیا، جو زندگی کا لازمہ بن کر رہ گیا تھا۔ قرآن کریم آپ کو ایک بالکل ہی الگ و منفرد اور بہترین شخص بنا دیتا ہے۔ بہرحال یہ میرے لیے متاعِ حیات ثابت ہوا۔ اس لیے میں نے فی الفور اسلام قبول کرنے کی ٹھان لی اور اسلام کے آسودہ و پر بہار دامن میں پناہ لے کر گویا اپنی ذات کی تکمیل کرلی۔ اس سے بہت زیادہ اندرونی سکون اور روحانی اطمینان نصیب ہوا۔ آہستہ آہستہ تمام ارکان و عبادات سیکھیں ۔ خدا گواہ ہے کہ رات کو اٹھنے، وضو کرنے اور پھر نماز پڑھنے میں جو راحت و سکون اور مزہ ہے، وہ دنیا کی کسی چیز میں نہیں ہے۔
قبول اسلام کے بعد کی تبدیلیاں:
اگرچہ وہ ابھی ایک ابھرتی ہوئی کاروباری شخصیت ہیں، لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنی زندگی میں کئی اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ اسلام چینل کے ساتھ ایک پوسٹ کاڈ میں الفی نے بتایا کہ میں اپنے پورے خاندان کا پہلا مسلمان ہوں، روزانہ پانچ بار عربی میں نماز پڑھتا ہوں اور مکہ مکرمہ کی زیارت بھی کر چکا ہوں۔ رواں برس الفی نے حرمین شریفین کا سفر کیا اور وہاں حج کا فریضہ ادا کیا۔اور مزے کی بات یہ ہے کہ برطانیہ کے سب سے امیر گپسی کے بیٹے الفی نے اپنے انسٹاگرام فالوورز کو اپنے اس روحانی سفر میں اپنے ساتھ شریک رکھا۔
کعبہ کو صنم مل گئے بت خانے سے:
اللہ کے کام بھی نرالے ہوتے ہیں۔ وہ کس سے ، کب اور کہاں دین متین کا کونسا کام لے لے یہ اسی کی شان کو زیبا ہے۔ آپکی صلاحیت اور جدی پشتی مسلمانیت کوئی ٹھیکیداری کی ڈگری نھیں۔ الفی جونیئر کو اسلام قبول کیے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ وہ دین حق کا محافظ اور داعی بھی بن کر سامنے آگیا۔ وہ مختلف شوز میں جا کر نہ صرف اسلام کی بہترین نمائندگی کرتا ہے بلکہ اسلامو فوبیا کے شکار ضدی اور مکار لوگوں کو دندان شکن جواب بھی دیتا ہے۔ جس کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوچکی ہیں۔ یہ سب دیکھ کر دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ الفی بیسٹ جونیئر کو استقامت عطا فرمائے، اسے اسلام کا سچا سپاہی بنائے اور اسکی حفاظت فرمائے۔ یقینا اس جیسی مشہور شخصیت ہزاروں افراد سے زیادہ دین کا کام کر سکتی ہے۔ (ہماری کتاب "روشنی کے مسافر" سے ایک اقتباس، جو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں یقیناً آپ کے ہاتھوں میں ہوگی۔ ان شاءاللہ۔)

کالم نگار : ضیاء چترالی
| | |
428