اس نے پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹا تھا اور آسٹریا منتقل ہو گیا تھا آسٹریا جا کر اس نے اپنی ایک کنسٹرکشن کی کمپنی بنائی تھی اپنی کمپنی بنانے کے بعد جب اس نے کچھ پروجیکٹ میں کامیابی حاصل کر لی اور ان پراجیکٹس کو منافع کے ساتھ مکمل کر لیا تو اس کے بعد اس نے اپنی فیملی کو بھی وہیں بلا لیا تھا وہ اپنی کمائی کو اپنے کاروبار میں لگاتا گیا اور کمائی کا ایک حصہ اپنی اولاد کی تعلیم پر لگاتا گیا
میری نظر میں اس کی ایک غلطی تھی کہ اس نے اولاد کی تعلیم پر کھلے دل سے اخراجات کیے،ان کے لیے اچھے اداروں کا انتخاب کیا مگر افسوس کہ اس نے اولاد کے رجحان کو مذہب کی طرف کبھی نہیں موڑا بلکہ اولاد کو مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کبھی کہا ہی نہیں۔ خود بھی ایک حد تک مذھب بیزار طبیعت کا حامل تھا۔اسلامی تعلیمات پر کبھی توجہ ہی نہیں دی
سنگین غلطی کا خمیازہ:
شاید اس کی یہی غلطی آج اس کے لیے عذاب کی شکل میں سامنے آرہی تھی بہرحال یہ تو اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ اسکی کی بنیادی وجہ کیا تھی مگر اس نے اولاد کی تعلیم پر اچھا خاصا خرچ کیا تھا اس کے بیوی بچوں نے اس کی کمائی پر بہت عیاشی کی تھی جب وہ اپنے عروج پر تھا تو وہ خدا کو بھولا ہوا تھا اس نے اپنی کمائی سے اپنی اولاد کو بیوی کو عیاشی کرائی خود بھی کی
یہاں تک کہ وہاں کے ماحول اور عیاشی کو دیکھتے ہوئے اس کے بیوی بچوں نے کبھی پاکستان جانے کی خواہش کا اظہار تک نہیں کیا۔ انہیں اپنے سارے رشتہ دار بھول گئے تھے انہیں بس یاد تھا تو اپنے عیاشی کے اڈے تھے اور یہی حال اس کا اپنا بھی تھا۔
دانا لوگ کہتے ہیں کہ ہر عروج کو ایک زوال ہے مگر میں اس بات سے متفق نہیں ہوں میں نے یہ بات محسوس کی ہے کہ جب اپ اپنے عروج پر پہنچ کر اپنی خواہشات کو قابو کر لیتے ہیں اور اپنے اپ کو اللہ تعالی کے سپرد کر دیتے ہیں اپنے اعمال میں اللہ تعالی کی رضا کو مدنظر رکھتے ہیں تو پھر آپ کھبی زوال پذیر نہیں ہوتے
بلکہ آپ کے اعمال اور اچھائیاں اپ کو زوال پذیر کی طرف جانے ہی نہیں دیتے خدانخواستہ اگر اپ پر کبھی اللہ تعالی کی طرف سے کوئی آزمائش آ بھی جائے تو اپ کی اچھائیاں اور نیک اعمال آپ کے لیے ڈھال بن جاتے ہیں سہارا بن جاتے ہیں۔
وقت کا الٹا پہیہ:
بہرحال ہر کسی کی اپنی سوچ ہے وقت نے پلٹا کھایا بالکل اسی طرح اس کے عروج کو بھی ایک دن زوال آگیا تھا اور اس وقت وہ آسٹریا کے ایک اولڈ ہوم میں پڑا تھا جہاں اس کی خبر گیری کرنے والا کوئی اپنا موجود نہیں تھا گو کہ ادارے کی طرف سے اسے بہترین سہولیات دی گئی تھیں مگر اس کے باوجود کئی بار اسے شدید ترین تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
اس کا نام جبران توقیر تھا وہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھتا تھا کام کے سلسلے میں کراچی آیا یہاں اس نے ملازمت شروع کی اور پھر آہستہ آہستہ اپنا کام شروع کر دیا اس کو کراچی شہر راس آگیا اللہ تعالی نے اس کے کاروبار میں برکت ڈالی اور وہ دن دگنی رات چگنی ترقی کرتا گیا اس نے کراچی میں ہی ایک اچھی خاصی پوش فیملی میں اپنی پسند کی شادی کر لی
شادی سے پہلے ہی اس نے ایک بہترین بنگلہ گاڑی اور اچھا خاصا بینک بیلنس بھی بنا لیا تھا اس کا کاروبار بھی مسلسل چل رہا تھا اور بڑھتا جا رہا تھا جیسے جیسے اس کا کاروبار بڑھتا جا رہا تھا اللہ تعالی کی ذات سے اس کا ناطہ کمزور ہوتا جا رہا تھا یہاں تک کہ اسے نماز ادا کیے ہوئے اللہ تعالی کے سامنے سجدہ کیے ہوئے ایک عرصہ گزر گیا تھا۔ جمعہ بھول گیا
اللہ تعالی کی ذات سے دوری کے باوجود اس کے کاروبار اور رزق میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں کی گئی تھی بلکہ الٹا اس کو اور نواز جاتا رہا
سوالی خاتون کی آزمائش:
کہتے ہیں خدا کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ اس کو دی گئی ڈھیل کا وقت ہوچکا تھا۔ اسی دوران ایک دن اس کے پاس ایک مانگنے والی آئی مانگنے والی خاتون نے ایک چھوٹے سے بچے کو اٹھا رکھا تھا اس خاتون نے جبران توقیر کو اللہ تعالی کی ذات کا واسطہ دیتے ہوئے کہا کہ میرا بچہ دو دن سے بھوکا ہے
تم میرے بچے کے لیے دودھ کا ایک ڈبہ خرید کر دے دو تاکہ اس کا پیٹ بھر جائے میں تمہیں دعا دوں گی اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے جو خاتون کھڑی تھی وہ انتہائی خوبصورت تھی مگر اس نے جو لباس پہن رکھا تھا وہ اس کا حسن تو کیا جسم تک کو ڈھانپنے کے لیے ناکافی تھا یہ نہیں کہ وہ کوئی زیادہ فیشن ایبل لباس تھا بلکہ وہ جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا
یوں لگ رہا تھا جیسے ایک مکمل قمیض کو کاٹ کر اس کی شرٹ بنا دی ہو اس کی حالت دیکھ کر جبران نے اس سے پوچھا کہ تم نے اپنی قمیض کو کاٹ کر اپنی شرٹ کیوں بنائی تو عورت اپنے آنسو کو ضبط کرتے ہوئے بولی کے میری قمیض سینے والی جگہ سے پھٹ گئی تھی اور میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ میں ایک نئی قمیض خرید سکتی ہے
میں نے اپنی قمیض کو مناسب حد تک اگے سے کاٹ کر اپنے سینے والی جگہ پر رکھ کر سلائی کر دی تاکہ میرا جسم نظر نہ آئے اور پیچھے والے حصے کو سلامت رہنے دیا کیونکہ آگے والے حصے کو میں اپنے دوپٹے سے ڈھانپ کر اپنا پردہ قائم رکھ سکتی تھی لیکن پیچھے والے حصے کو ڈھانپ کر رکھنا میرے لیے ممکن نہیں تھا کیونکہ میں اپنے پیچھے نہیں دیکھ سکتی تھی
اور میں نہیں چاہتی تھی کہ میرے پیچھے چلتے ہوئے کسی مرد کی نظر مجھ پر پڑے اور وہ میرے بارے میں کوئی غلط گمان کرے یا اسے میرے جسم کا کوئی حصہ نظر آئے یا میرے لباس کی وجہ سے کسی شخص کے دل میں کوئی غلط بات پیدا ہو خاتون نے اپنی بات مکمل کی تو اس دوران جبران کے دل میں اس کے جسم کو پانے کی ہوس جاگ چکی تھی کیونکہ خاتون نہ صرف خوبصورت تھی
بلکہ ابھی جوان بھی تھی جبران نے اسے کہا کہ اگر تم میری ایک خواہش پوری کر دو تو میں تمہارے بچے کی خوراک کا بندوبست کر دوں گا اس خاتون نے پوچھا کہ تم اپنی خواہش بتاؤ اگر میرے لیے ممکن ہوا تو میں پوری کر دوں گی خاتون کی بات سن کر اس نے جواب دیا کہ تمہیں کچھ دیر کے لیے اپنا جسم میرے سپرد کرنا ہوگا خاتون اس کی بات سن کر خاموش ہو گئی کچھ
دیر سوچا اور کہا کہ میں نے پیچھے بھی جن چند لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلایا ہے ان کی بھی یہی خواہش تھی تو ان کو چھوڑ کر میں تمہاری دہلیز تک آئی ہوں اب اگر تمہاری بھی یہی خواہش ہے تو ٹھیک ہے اگر تم اللہ تعالی کی رضا کے لیے نہیں دینا چاہتے اور میرے جسم کو پانا چاہتے ہو تو مجھے منظور ہے میں بھوک میں بلکتے ہوئے اپنے بچے کو اس سے زیادہ دیر نہیں دیکھ سکتی
خاتون کی بات کا بھی اس ظالم کے دل پر کوئی اثر نہ ہوا اس نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے تم گھر جاؤ گھر جا کر تیاری کرو میرا ڈرائیور مجھے میرے گھر اتارنے کے بعد تمہیں لینے آئے گا اور ساتھ تمہارے بچے کے لیے دودھ بھی لیتا آئے گا خاتون نے کہا ٹھیک ہے میں انتظار کروں گی اس کے بعد جبران آگے بڑھ گیا اور خاتون اپنے گھر کو چلی گئی۔
جبران نے گھر پہنچ کر ڈرائیور کو کچھ رقم دی اور کہا کہ دودھ کا انتظام کر کے اس خاتون کے گھر دے آؤ اور اس کو اپنے ساتھ لے کر فلاں ہوٹل میں آجاؤ میں تمہیں وہاں ہی ملوں گا
خدائی مدد کا ظہور:
کہتے ہیں کہ جو اللہ کو سامنے رکھ کر غلط راستے کو چھوڑنے کا تہیہ کر لیتا ہے پھر اللہ بھی غیب سے اس کی مدد کا فیصلہ صادر فرما دیتا ہے۔ اس کے ڈرائیور نے پیسے پکڑے راستے میں جا کر اپنی جیب سے دودھ اور کھانے پینے کی چند اشیاء خریدیں اور لے کر اس خاتون کے بتائے ہوئے پتے پر پہنچ گیا اس نے جا کر خاتون کے دروازے پر دستک دی
اندر سے جب پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ میں فلاں شخص کا ڈرائیور ہوں خاتون نے کچھ دیر خاموشی اختیار کی اور پھر کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر مجھے حرام کام ہی کرنا ہے تو پھر میں اپنا جسم کسی کے سپرد نہیں کروں گی میں اپنے بچے کو مار دوں گی اور میں نے زہر کی ایک گولی پیس کر اپنے بچے کو چٹا دی ہے مگر افسوس کہ اس نے الٹی کر دی ہے اور ابھی تڑپ رہا ہے
پتہ نہیں اسے موت آتی ہے یا نہیں اگر نہیں آئے گی تو میں دوبارہ اسے مزید زہر کھلا دوں گی جب ڈرائیور نے یہ بات سنی تو اس نے زور سے دروازہ پیٹا اور کہا کہ صرف ایک منٹ کے لیے دروازہ کھول کر میری بات سنو خاتون نے دروازہ کھول دیا تو اس شخص نے بتایا کہ میں یہ سب کچھ اپنے پیسوں سے لے کر آیا ہوں ساتھ ہی اس نے بچے کو اٹھایا
اور خاتون کو ساتھ لے کر ہسپتال پہنچا بچہ چونکہ پہلے ہی قے کر چکا تھا ڈاکٹرز نے اس کا معدہ صاف کیا تو اس کی جان بچ گئی ڈرائیور نے اس خاتون کو بتایا کہ مجھے میرے مالک نے جو پیسے دیے ہیں وہ میری جیب میں ہیں میں وہ پیسے تمہارے پاس چھوڑ کے جا رہا ہوں اور تمہیں اپنی طرف سے دے رہا ہوں میں راستے سے اپنے کسی دوست سے اتنے پیسے پکڑ کے مالک کو واپس کر دوں گا
اور اسے بتا دوں گا کہ آپ آنے کے لیے راضی نہیں ہوئی اور آپ بھی کوشش کیجئے گا کہ آئندہ اپ کو کوئی حرام کام نہ کرنا پڑے مجھ سے جتنا ہو سکا میں اپ کے ساتھ تعاون کرتا رہوں گا اپ مجھے اپنا بھائی کہہ سکتی ہیں میرے لیے اپ دین دنیا اور اخرت میں میری بہن جیسی ہیں اس خاتون نے اس ڈرائیور کو دعائیں دیں اور ڈرائیور واپس بنگلے میں پہنچ گیا
وہاں جا کر مالک تک یہ پیغام پہنچا دیا کہ خاتون راضی نہیں ہوئی اور ساتھ ہی اسے بتا دیا کہ خاتون کا کہنا ہے اگر مجھے حرام کام ہی کرنا ہے تو پھر میں اپنی اور اپنے بچے کی جان لے کر خود کشی کر لوں گی لیکن اپنا جسم بیچ کر خود کو اور اپنی آنے والی نسل کو حرام کی لت نہیں لگاؤں گی جب جبران توقیر نے اپنے ڈرائیور کے منہ سے یہ بات سنی تو اسے اپنی جنسی ہوس پوری نہ ہونے کا سخت ملال ہوا
اور اس نے خاتون کو اس کی غیر موجودگی میں گالیاں بکنا شروع کر دیں وہ نشے کی حالت میں تھا شراب اس نے پی رکھی تھی کباب اس کے سامنے پڑے تھے شباب کا وہ منتظر تھا مگر شباب اسے نہیں مل
ا خیر وہ وقت گزر گیا اس کے لمبے عرصے بعد جبران نے اپنا کاروبار سمیٹا اور وہ آسٹریا منتقل ہو گیا وہاں جا کر نہ صرف وہ خود بلکہ اس کی فیملی بھی عیاشی میں ڈوب گئی
وہ خود تو یہاں عیاش تھا ہی ظلم یہ ہوا کہ اس نے اپنی بیوی بچوں پر توجہ نہیں دی تو وہ بھی اس جیسے عیاش ہو گئے اس کے بیوی بچوں نے بھی اس کی طرح کلب جانا شروع کر دیا مگر تب بھی اس کا ضمیر نہیں جاگا اس نے اپنے بچوں کی تربیت پر کوئی توجہ نہیں دی اور اپنے کاروبار میں منہمک رہا یہاں تک کہ وقت اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔
عروج سے زوال:
آخر کار وہی ہوا جو اس طرح کے کاموں کا قدرتی و فطری انجام ہوا کرتا ہے۔اس کے بھی برے دن شروع ہوگئے تھے۔اس کی بیوی نے اسے چھوڑ کر کسی اور غیر مسلم شخص سے شادی کر لی اس کے بچوں نے اس سے کاروبار اپنے نام منتقل کروانے کے بعد اس سے قطع تعلق کر لیا اس کے دونوں بیٹوں نے کاروبار کو بانٹ لیا
اس کی بیٹی نے کسی سے اپنی پسند کی شادی کر لی اور اس کا گھر چھوڑ کر بھاگ گئی اس کی اولاد نے اسے واپس پاکستان بھی نہ جانے دیا اسے ایک اولڈ ہوم کے حوالے کر دیا
یہاں اس کی شدید خواہش تھی کہ اسے پاکستان واپس بھیج دیا جائے مگر اب اس کی ایسی حالت نہیں تھی کہ وہ سفر کر سکتا جب تک وہ صحت یاب نہ ہو جاتا اسے سفر کی اجازت نہیں مل سکتی تھی اور اب اس کے صحت یاب ہونے کے کوئی چانس نہیں تھے اس وقت شوگر کی وجہ سے اس کی ٹانگ میں زخم ہو چکا تھا بلکہ ایک دفعہ اس کی ٹانگ کٹ بھی چکی تھی
مگر اس کی بیماری پر قابو نہیں پایا جا سکا تھا گو کہ ادارہ اس پر مکمل توجہ دے رہا تھا اس کے علاج معالجے کا خاص خیال رکھا جا رہا تھا مگر اس کے باوجود اپنوں کا ساتھ نہ ہونے کا اسے ملال تھا اس کی شدید خواہش تھی کہ کاش صرف ایک بار اس کی اولاد یا اس کی بیوی میں سے کوئی آکر اس کی خبر گیری کرے مگر اب مکافات عمل شروع ہو چکا تھا
اس کی اولاد اور اس کی بیوی کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی وہ اسے چھوڑ کر اپنی دنیا میں مگن ہو چکے تھے وہ اس وقت پچھتاتا تھا جب اسے ایک پاکستانی کی ملاقات ہوئی تو اس نے اپنی ساری روداد سنائی اور بتایا کہ
"میری زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا یہ ہے کہ کاش میں نے اس دن اس خاتون کی مدد کر دی ہوتی کاش میں نے اللہ تعالی کی رضا کے لیے اس کے بچے کو دودھ کا ایک ڈبہ خرید کر دیا ہوتا تو شاید آج میرا یہ انجام نہ ہوتا"
اور پھر وہ خود ہی کہتا ہے کہ میرے نصیب میں یہ نیکی نہیں تھی میں نے خدا کی راہ میں دینا سیکھا ہی نہیں تھا میں اپنی عیاشی کے لیے مہینے میں ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے کی شراب پی لیا کرتا تھا فالتو باتوں میں پیسہ پانی کی طرح لٹایا مگر میں مخلوق خدا پر صرف اتنا بھی نہیں خرچ کر پاتا تھا کہ کوئی مجبور خاتون اپنے یتیم بچے کے لیے دودھ کا ایک ڈبہ خرید سکے
اسے اپنی سب سے بڑی غلطی یہ لگتی تھی کہ اس نے راہ خدا میں خرچ نہیں کیا، کبھی اولاد کی تعلیم و تربیت پر توجہ نہیں دی مگر جب اس کی بات مکمل ہو گئی تو پاکستانی بھائی نے اسے بتایا تھا کہ کاش تم نے اپنی اولاد کو اسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت دی ہوتی تو ممکن تھا تمہارا یہ انجام نہ ہوتا شاید اللہ تعالی تمہاری وہ غلطی معاف کر دیتا
مگر اولاد کی تربیت میں کوتاہی کرنے والی غلطی کی تمہیں نہ صرف اس دنیا میں سزا مل رہی ہے بلکہ اخرت میں اس سے بھی بدتر ملے گی
میں اس اپنی کہانی کے اخر میں اپنے پڑھنے والوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ہو سکے تو اپنی اولاد پر توجہ دیں اپ کی اولاد بھلے جس ماحول میں بھی پرورش پا رہی ہو اپ ان کو اسلامی تعلیمات کے مطابق تعلیم ضرور دیں تربیت ضرور کریں۔