"آج جمعۃ المبارک کا دن ہے گھڑی دوپہر کا ایک بجا رہی ہے۔
ٹک۔۔۔ ٹک۔۔۔ ٹک
کمرے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ قلم اٹھاتے ہی مجھے گھڑی کی حرکت کرتی ہوئی سوئیوں کی آواز سنائی دی جو زبان حال سے وقت کی قدر کرنے کا احساس دلا رہی تھی:
ٹک۔۔۔ ٹک۔۔۔ ٹک۔۔۔
سہانے بچپن کی حسین یادیں:
میں اپنے ماضی میں کھو گیا۔ بچپن کا وہ زمانہ کتنا سہانا اور حسین تھا گھٹتے بڑھتے، کبھی گول مول اور بھی قوس جیسی صورت بناتے چندا ماموں سے دوستی، جنوں اور پریوں کی عجیب و غریب کہانیاں، چھپن چھپائی اور لال پری آنا چھپ چھپ کے آنا" جیسے کھیلوں میں جان اٹکی ہوئی ہوتی تھی اور یہی ہماری کل سلطنت ہوتی تھی۔
اور کرکٹ کا بھوت تو ڈھائی تین سال کی عمر میں ہمارے سر پر سوار ہو گیا تھا۔ امی کہتی ہیں پلاسٹک کا چھوٹا سا بلا اور ننھی سی گیند گود میں رکھے بغیر تم سوتے ہی نہیں تھے اور جب کوئی گیند کرا رہا ہوتا تو بلا گھمانے کے ساتھ ہی تمھارا نعرہ ہوتا تھا: "ابو آؤٹ امی چھکا!!!"
جھے سات سال کی عمر میں ہمارا صبح مدرسے اور دو پہر اسکول جانا شروع ہو گیا۔ چھٹی والے دن جب ہم گھر میں کچھ زیادہ ہی اودھم مچاتے تو امی ہمیں سو جانے کا حکم دیتیں۔ اس عمر میں بھی امی کو کبھی کبھار ہمیں لوری سنا کر سلانا پڑتا تھا۔ لوری میں وہ ہمارا نام بھی درمیان میں لاتیں اور ہم بڑے مان سے بار بار ان سے اپنا نام دوبارہ لینے کی فرمائش کرتے تھے۔
اس طرح ہم ان کی دھیمی اور محبت بھری آواز کے ساتھ نہ جانے کب نیند کی آغوش میں جاچکے ہوتے تھے۔ پھر کوئی تیرہ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرنے کے بعد ہمیں اسکول کی ثانوی سطح (سیکنڈری اسٹیج) میں داخلہ مل گیا۔ یہ زمانہ بے فکری اور لا ابالی پن میں گزرا، خصوصاً نویں اور دسویں کلاس کے سال تو نہایت غفلت اور لاپروائی میں گزر گئے۔
یہاں تک پڑھ کر آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کون گم نام صاحب ہیں جو دعوت دیے بغیر اپنا تعارف کرائے چلے جا رہے ہیں...!؟ اس لیے ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں لیکن یہ داستان رقم کرنے کا ایک مقصد ہے اور وہ یہ کہ حالات کا یہ تغیر کبھی خزاں کبھی بہار کبھی گرمی ، کبھی جاتا کبھی خوشی کے لمحات ، کبھی آنسوئوں کی برسات... کسی کا اقبال ، کسی کا زوال... کسی کا آنا ، کسی کا جانا...
ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے، خود وقت کے بقول
مری صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں
میں اپنی تسبیح روز و شب کا شمار کرتا ہوں دانہ دانہ
ہر ایک سے آشنا ہوں لیکن جدا جدا رسم و راہ میری
کسی کا راکب کسی کا مرکب، کسی کو عبرت کا تازیانہ
نہ تھا اگر تو شریک محفل، قصور تیرا ہے یا کہ میرا؟
مرا طریقہ نہیں کہ رکھ لوں کسی کی خاطر مئے شبانہ
تاریخ دنیا پر اک طائرانہ نظر:
دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے ، جس نے وقت کی قدر کی ، وقت نے اس کی قدر کی۔ وقت کی قدر نے فقیر کو بادشاہ اور ناقدری نے بادشاہ کو فقیر بنا دیا۔
وقت کی قدر کی ایک جیتی جاگتی مثال اس وقت شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دام ظلہم ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت سے مصافحہ کرنے کے لیے ان کے قریب گیا دیکھا کہ حضرت کی زبان کسی کی بات سنتے ہوئے بھی مسلسل ذکر میں مشغول ہوتی ہے۔ اس بات کا دل پر گہرا اثر ہوا۔ اگرچہ حضرت سے پہلے بھی کئی بار مصافحہ کرنے اور بارہا ان کی زیارت کرنے کی سعادت ملتی رہتی ہے اور ان کے بارے میں یہ بات بھی پہلے سے معلوم تھی ، لیکن اس مرتبہ دل پر اس بات کا عجیب اثر ہوا اور ایک جذبۂ بے تاب دل میں جاگزیں ہو گیا کہ اب ایک ایک لمحہ کو کام میں لانا ہے۔ وقت کی قیمت و اہمیت پر ان گنت تحریریں پڑھیں اور بے تحاشا باتیں سنیں، لیکن آنکھوں کے اس مشاہدے کا اثر کچھ اور ہی تھا۔ اب کوشش کرتا ہوں کہ ہر ہر لمحے سے کوئی نہ کوئی کام لوں کہ
مجھ سے آگے ہیں میرے ساتھ نکلنے والے
بس یہی بات مجھے گرم سفر رکھتی ہے
لیکن سچ یہ ہے کہ اب بھی وہ قدر نہیں ہو پاتی جو ہونی چاہیے، کیوں کہ وقت اگر معمولی چیز ہوتی تو اللہ تبارک و تعالی کہیں والفجر ، کہیں والعصر ، کہیں والصبح ، کہیں والضحی ، کہیں والنھار کہہ کر اس کی قسم نہ کھاتے۔ قیامت کہ دن جہاں اور سولات ہوں گے وہیں یہ بھی پوچھا جائے گا کہ اپنی عمر کہاں خرچ کی۔ (رواہ الترمذی)
زندگی اور موت کا کچھ پتا نہیں، میری نظروں کے سامنے ایک مرتبہ اٹھارہ گھنٹوں میں تین ایکسیڈنٹ ہوئے۔ دو تو ان میں سے مختصر سے وقفے سے مختلف جگہوں میں دیکھنے میں آئے۔ یہ تو صرف میری نظروں کے سامنے کی بات ہے، ایک وقت میں نہ جانے کتنے حادثات اور سانحات پیش آتے ہوں گے ،
جو ایسے کڑیل جوانوں کی موت کا سبب بنتے ہوں گے جنھیں اپنی موت کا خیال بھی نہ گزرا ہو گا ! ! ! وقت کی قدر و منزلت پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے ، لیکن معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد اس بارے میں کافی وافی ہے ، جو اس پر عمل کرے گا ان شاء اللہ دنیا و آخرت میں سرخ رو ہو گا :
اغْتَنِمُ خَمْساً قَبْلَ خَمْسٍ: شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سُقْمِكَ، وَغِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ، وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ. (رواه الترمذى مسترسلا)
ترجمہ : پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو : اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اپنی تن درستی کو بیماری سے پہلے، اپنی مال داری کو تنگ دستی سے پہلے، اپنی فراغت کو مصروفیت سے پہلے۔۔۔ اپنی زندگی کو موت سے پہلے!
اب میں وقت کی اہمیت پر ایک واقعہ آپ کے گوش گزار کرتا ہوں۔
ایک عبرت انگیز واقعہ:
قدیم زمانے میں سیب کا ایک بڑا درخت تھا۔ اس درخت کے قریب ہی ایک چھوٹا لڑکا رہتا تھا۔ اس لڑکے کو روزانہ اس درخت کے پاس آنا اور کھیلنا اچھا لگتا تھا۔
وہ اس درخت کے اوپر چڑھ جاتا اور اس کے پھل توڑ توڑ کر کھاتا اور پھر اس کے سائے میں سوجاتا۔ وہ لڑکا اس درخت کو بہت چاہتا تھا اور اسی طرح اس درخت کو بھی اس لڑکے کے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا تھا۔
وقت گزرتا رہا اور لڑکا بڑا ہو گیا۔ اب وہ پہلے کی طرح روزانہ اس درخت کے پاس کھیلنے نہیں آتا تھا۔ ایک روز وہ نوجوان درخت کے پاس آیا۔
وہ مایوس لگ رہا تھا۔درخت نے اس سے کہا:
" آؤ میرے ساتھ کھیلو۔ "
نو جوان نے اس سے کہا:
" اب میں بچہ نہیں رہا اب میں درختوں کے ارد گرد نہیں کھیلتا۔ مجھے کچھ کھلونے چاہئے اور انہیں خریدنے کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے۔
اس وقت درخت نے کہا:
" مجھے افسوس ہے، میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں لیکن میرے اوپرجو سیب لگے ہوئے ہیں تم انہیں توڑ کر بیچ سکتے ہو۔ اس کے بعد تمہارے پاس پیسہ آ جائیگا۔"
نوجوان بہت خوش ہوا اور اس نے درخت کے سبھی سیب توڑے اور خوشی خوشی چلا گیا۔ سیب توڑنے کے بعد نوجوان واپس نہیں آیا تو درخت کو مایوسی ہوئی۔
ایک دن وہ نوجوان آیا۔ اب وہ جوان ہو چکا تھا۔ درخت بہت خوش ہوا۔اس نے جوان سے کہا:
" آؤ میرے ساتھ کھیلو۔ "
حسب توقع اس نے انکار کر دیا:
" میرے پاس کھیلنے کا وقت نہیں ہے۔ میرے لئے ضروری ہے کہ میں اپنے کنبے کے لئے کام کروں۔ ہمیں رہنے کے لئے ایک مکان کی ضرورت ہے۔ کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں۔"
درخت نے اس سے کہا:
" افسوس ہے لیکن میرے پاس کوئی گھر نہیں ہے۔ پھر بھی اپنا گھر بنانے کے لئے تم میری ٹہنیاں کاٹ سکتے ہو۔"
اس آدمی نے درخت کی ساری ٹہنیاں کاٹ لیں اور خوشی خوشی چلا گیا۔ اسے خوش دیکھ کر درخت خوش تھا لیکن اس وقت کے بعد آدمی اس کے پاس واپس نہیں لوٹا تو درخت کو پھر سے تنہائی اور مایوسی کا احساس ہونے لگا۔
ایک دن پھرجب دھوپ نکلی ہوئی تھی اور گرمی کافی زیادہ تھی وہ شخص آیا۔ اسے دیکھ کر درخت خوش ہو گیا اور حسب عادت اس سے کہا کہ:
" آؤ میرے ساتھ کھیلو۔"
آدمی نے کہا کہ:
" میں بڑا ہو گیا ہوں اور چاہتا ہوں کہ سمندر میں سفر کروں تاکہ خوش حال ہوجاؤں۔ کیا آپ مجھے ایک کشتی دے سکتے ہیں"۔
درخت نے کہا:
" میرے تنے سے اپنی کشتی بنا لو۔ اس سے تم دور تک سفر کر لوگے اور خوش حال ہو جاؤگے۔"
آدمی نے کشتی بنانے کے لئے درخت کا تنا کاٹا اور سمندری سفر کے لئے نکل پڑا اور کافی زمانے تک نہیں لوٹا۔
سالوں بعد وہ شخص پھر آیا۔درخت نے اس سے کہا:
" اے میرے بیٹے مجھے افسوس ہے لیکن میرے پاس اب کچھ بھی نہیں بچا ہے جو میں تمہیں دے سکوں۔ تمہارے لئے ایک سیب بھی نہیں بچا ہے۔
اس آدمی نے کہا:
" کوئی بات نہیں، میرے پاس اسے کھانے کے لئے دانت ہی نہیں ہیں۔"
درخت نے کہا:
" میرا تنا بھی نہیں بچا کی تم اس پر چڑھ سکو۔"
اس شخص نے کہا:
"اس پر چڑھنے کی اب میری عمر نہیں رہی۔"
درخت نے کہا " اور اس کی آنکھوں سےآنسو جاری تھے" حقیقت میں میں اب تمہیں کچھ نہیں دے سکتا۔ آخری چیز جو میرے پاس ہے وہ میری جڑیں ہیں۔
اس وقت اس آدمی نے کہا:
" اب مجھے زیادہ چیزوں کی ضرورت نہیں ہے، اب مجھے ایک ایسی جگہ چاہئے جہاں میں آرام کر سکوں۔ زندگی بھر کام کرکرکے میں تھک چکا ہوں۔ پرانے درخت کی جڑ ٹیک لگانے اور آرام کرنے کے لئے سب سے بہتر جگہ ہے۔
تب درخت نے اس سے کہا:
" آؤ میرے پاس بیٹھو اور آرام کرو۔"
آدمی بیٹھ گیا، درخت خوش تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
اب ذرا محسوس کریں کہ وہ بچہ آپ خود ہیں اور سیب کا وہ درخت آپ کے والدین ہیں۔
والدین درخت کی طرح ہوتے ہیں:
جب ہم بچے ہوتے ہیں تو ہمیں ان کے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا ہے اور جب ہم بڑے ہو جاتے ہیں تو ہم انہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور اسی وقت واپس آتے ہیں جب ہمیں ان سے کوئی ضرورت ہوتی ہے۔
اور کچھ بھی ہو جائے والدین کبھی بھی اپنی قیمتی سے قیمتی چیز اپنے بچوں کو دینے میں تردد نہیں کرتے جو ان کی آنکھوں میں بچے ہی رہتے۔
تو کیا آپ وقت پڑنے پر ان کو فراموش کرسکتے ہیں ؟؟
ہر سعادت مند اور مزکی روح سے یہی جواب آئے گا کہ یقیناً ہر گز نہیں!!
خلاصہ کلام:
وقت، زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ یہ ایک ایسا اثاثہ ہے جو ایک بار گزر جانے کے بعد دوبارہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ وقت کی قدر و قیمت کو سمجھنا اور اسے اچھے کاموں میں لگانا، زندگی کی کامیابی کی کنجی ہے. وقت محدود ہے اور یہ ہر کسی کے لیے برابر ہے۔ مثل مشہور ہے گزرا ہوا وقت واپس نہیں آ سکتا۔ لہذا وقت کا صحیح استعمال کریں یہی کامیابی کی ضمانت ہے۔وقت کو اخلاقی کاموں میں لگانا زندگی کا اصل مقصد ہے۔
اسلام میں وقت کی قدر و قیمت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں مختلف آیات میں وقت کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وقت کی قدر کرنے اور اسے ضائع نہ کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔
وقت کی قدر و قیمت کو سمجھنا اور اسے اچھے کاموں میں لگانا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم وقت کو صحیح طریقے سے استعمال کریں گے تو دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔