(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا محمد احمد بن یعقوب، بستی گھلواں

مولانا محمد احمد بن یعقوب، بستی گھلواں

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
داستان پدر بزبان پسر
یہ دنیا انسان کے لیے امتحان گاہ ہے جس میں آنے والے خوشی یا غم کے لمحات دراصل انسان کی آزمائش کے لیے ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعے قدرت انسان کو جانچتی اور پرکھتی ہے کہ آیا وہ آزمائش کی ان گھڑیوں میں اخلاقِ حسنہ پر قائم رہتا ہے یا رذائل میں مبتلا ہو جاتا ہے؟ دنیاوی زندگی میں آنے والی ان آزمائشوں کے دوران بندہ مومن سے تقاضا کیا گیا ہے کہ خوشی کے لمحوں میں شاکر بن کر الٰہ العالمین کے سامنے سجدہ ریز ہو اور غم کی گھڑیوں میں صابر بن کر اس کی رضا کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لے۔ قرآنِ مجید میں صبر کے مواقع بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ: "اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے اور اے مخاطب! آپ ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔" گویا مال، جان اور ثمرات میں کمی ہونا صدمے کے سب سے اہم مواقع ہیں۔ کمی ہونے کے دو پہلو ہیں: ایک کم دینا اور دوسرا دیے ہوئے میں سے چھین لینا۔ مثلاً مال میں کمی سے مراد مفلس رکھنا بھی ہے اور تونگری میں چوری ڈاکے یا کسی حادثے سے دو چار کر کے دیے ہوئے مال کو چھین لینا بھی ہے۔ اسی طرح جان میں کمی سے مراد کسی عزیز، جیسے ماں باپ، بیوی بچوں یا بھائی بہنوں کی وفات بھی ہے اور اولاد وغیرہ سے محروم رکھنا بھی ہے۔ اگر انسان ان مصائب میں صبر کا دامن تھامے رکھتا ہے تو خدا تعالیٰ کی بارگاہ سے خوشخبری اور جزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔
قدرتی امر پر قدرت کے تابع ہونا:
یہ قدرتی امر ہے کہ اولاد کی موت ماں باپ کے لیے بہت بڑے غم اور صدمے کا باعث ہوتی ہے، یہ رنج و الم انسان کی جڑیں تک ہلا دیتا ہے۔اسی لیے اولاد کی موت کو اللہ تعالی کی رضا سمجھ کر صبر کرنے پر والدین کے لیے بیشمار اجر و ثواب کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جب مسلمان کا بچہ مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے: تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کرلی؟ عرض کرتے ہیں: ہاں پروردگار! فرمایا: تم نے اسکے دل کا پھل توڑ لیا؟ عرض کرتے ہیں: ہاں پروردگار! فرماتا ہے: پھر میرے بندے نے کیا کہا؟ عرض کرتے ہیں: تیرا شکر کیا اور ’انا للہ و انا الیہ راجعون‘ پڑھا۔ فرماتا ہے میرے بندے کیلئے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اسکا نام حمد کا مکان رکھو۔" مذکورہ آیت و روایت سے واضح ہوتا ہے کہ اولاد کی وفات جیسے اندوہناک اور غمناک صدمے پر صبر کرنے کی صورت میں انسان اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر و ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے، کمسنی میں فوت ہونے والے بچے اپنے والدین کے لیے جہنم سے آزادی اور جنت میں داخلے کا باعث بنیں گے۔ اس لیے کمسن بچوں کی وفات پر والدین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، بچوں کی یاد میں آنسو آجانے میں کوئی برائی نہیں البتہ شکوہ و شکایت کے انداز میں کوئی جملہ منہ سے نہیں بولنا چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ سے صبر مانگنا چاہئے۔ خالق ارض سماوات نے حضرت انسان کو ان گنت خوبیوں، بے شمار احسانات، اعزازات و اکرامات سے نوازا ہے لاریب!! مگر اس تمام تر کرم نوازی میں سے ایک نعمت اولاد کا عطیہ ہے اور دوسرا مال ہے۔ جس کو قرآن کریم نے" فتنہ" یعنی آزمائش سے تعبیر فرمایا ہے۔ ہماری ریاستی زبان میں کہا جاتا ہے "اولاد مٹھا میوہ" ہے کیونکہ اولاد نے ہی انسان کی نسل اور وراثت کا مالک و جانشین بننا ہوتا ہے اور یہی آگے جاکر ہمارے لیے نور عین و دل کا چین بنتی ہے۔ہمارے لوگ ترجمے کا غلط مفہوم اخذ کرتے ہیں یا غلط مطلب مراد لیتے ہیں کہ اجی اولاد ایک فتنہ ہے۔ نہیں جی، یہ غیر مناسب مفہوم ہے چنانچہ آگے فرمایا: {وان اللہ عندہ اجر عظیم}
لسان عرب کی فصاحت و بلاغت:
عربی زبان فصاحت و بلاغت کا منبع ہے۔ یہاں فتنہ اُردو والا نہیں ہے بلکہ یہاں آزمائش، ابتلاء اور امتحان مراد ہے۔ اولاد کا صرف پیدا کرلینا ہی کمال نہیں بلکہ یہ ایک ایسی نعمت ہے جسکی حفاظت میرے نقطہ نظر سے شاید کانچ اور شیشے بلکہ ہیرے کی سی ہے اگر حفاظت اور سنبھالا نا ہو تو وہ ٹوٹ کر بکھر جائے اس کے برعکس اگر صحیح دیکھ بھال ہو تو وہ متاع حیات جاودانی بن کر معاشرے کا مفید فرد بن جائے۔ جب میں نے قلم و قرطاس سنبھالا تو آغاز میں کبھی خلیل و ذبیح کی کہانی زہن کے پردہ پر نمودار ہوگئی تو کبھی نوح اور انکے نا فرمان بیٹے کا افسانہ نظروں میں گھوم گیا۔کبھی ام موسی کا لخت جگر کو صندوق میں رکھ کر پانی کے حوالے کرنے کی منظر کشی کینوس پر ابھر جاتی تو کبھی یحییٰ و زکریا کا منظر نامہ سامنے آجاتا۔ کبھی مریم و عیسیٰ کی وفائیں یاد آتیں تو کبھی ہاجرہ و اسماعیل کی ادائیں۔ کبھی سلیمان و داؤود کا قصہ ازبر ہوتا تو کبھی ذہن کے کسی نہاں خانے میں یعقوب و یوسف کا ہجرانہ جھانک رہا ہوتا۔ کبھی ماضی کے صفحات سے آسیہ اور اسکی شیرخوار بچی کی دلداری روح کو تڑپا دیتی تو کبھی سید الانبیاء سراپا رحمت عالم سیدی مولائی خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بلبلاتا ،تڑپتا آخری سانسیں لیتا ابراہیم اور آپ کے آنسو میں دوبی ہوئی یہ بات کہ "دل غم و حزن سے لبریز ہے پر ہم حق بات کے علاوہ کچھ نہ کہیں گے۔" اللہ اللہ!! دکھ و الم کی شدید ترین گھڑی میں بھی امت کو اسوہ حسنہ کی تعلیم دے گئے۔اور پھر رب العالمین نے رحمۃ للعالمین کے لیے لطف و عنایت کے دروازے کھول دیئے: {انا اعطینک الکوثر}
آمدم بسوئے موضوع:
اب آتے ہیں موضوع کی طرف! باری تعالیٰ کی اس عاجز پر بے پناہ کرم نوازی ہوئی کہ رشتہ ازدواج کے بعد جھولی بھری اور ایک کھلونا بطور نعمت عظمیٰ عطا کرنے کا اذن ہوا۔ آج ایک راز سے پردہ اٹھا رہا ہوں جب یہ پھول ابھی کلیوں میں چھپ کر نمودار ہونے کو تھا تو اس خاکسار نے صد بار سورہ یاسین شریف کی تلاوت کر کے بارگاہ ایزدی میں تمنا کی تھی کہ یا الہیٰ!! تیری تقسیم پر میں ہر حال میں راضی برضا رہنے کا عہد کرتا ہوں۔نعمت ہو یا رحمت یہ انتخاب آپ کا البتہ زندگی بھر اصحاب پاک نفوس قدسیہ سے محبت کے صدقے نام کی تجویز میرے ذمّہ رہے گی۔ اللہ کی شان سے اگر میرے حصے میں رحمت کی بجائے نعمت ہو تو ایسی ہو جس کا نام صحابی والا رکھوں تو شکل وصورت بھی خوبصورت، مہ جبین، دل نشین و نازنین اور پر کشش ہو۔ جیسے ہی یہ پھول بہار بن کر فضاء میں مہکا تو اسکا نام انمول صحابہ میں سے مثلاً ابودجانہ، خزیمہ، حسن اور حسین( میرے بھتیجوں) کے بعد علقمہ بن وقاص بن سعد اللیثی انصاری رضی اللہ عنہ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ علقمہ بمعنی تیز دھار تلوار!! بندہ اکثر احادیث کی کتب پڑھا چکا ہے۔ شاید ناقص معلومات کے مطابق صحاح ستہ میں سے کوئی کتب حدیث اس نام سے خالی نہیں ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے توحید کے تمام اصول و فروع کے ایمان کے بعد "العین حق" یعنی نظر برحق ہے۔دوسری بات یہ کہ نام کا اثر ضرور ہوتا ہے۔ایک عالم دین نے مجھے نام کی تجویز پر برجستہ کہا تھا: "شالا !! اے بال تیکوں پچ جاوے" ان دو باتوں کے بعد بحیثیت انسان میرا دل دھڑکا مگر بحیثیت مسلمان میں نے تمام تر معاملات نیلی چھتری والے کے سپرد کر دیئے۔ قصہ مختصر!! یہ پھول خوبصورت تو ضرور تھا مگر ایک تو ولادت کے وقت پٹھوں کے کھنچاؤ کی وجہ سے اڑھائی سال عمر ہونے کے باوجود بیٹھنے سے قاصر تھا دوسرا دماغی انفکچر تھا۔پہلوٹی اولاد ہونے کے ناطے دنیا جہان کے ٹیسٹ کرائے۔ روحانی علاج بھی ہوتے رہے مگر بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔
درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی:
اسکی ماں کا صبر و حوصلہ بھی قابل تحسین تھا۔ بچے کو سینے سے لگائے ایک ایک در کی خاک چھانتی پھرتی، جہاں کہیں سے امید کی کرن نظر آتی اپنا آرام تیاگ کر بچہ لیے چل پڑتی۔ ڈاکٹرز کے مشورے اور رپورٹ کے مطابق سماعت اور بصارت دونوں صحیح تھیں مگر عمر کی بڑھوتری کے ساتھ ساتھ تبدیلی نہیں آرہی تھی۔ اڑھائی سال کا عرصہ دراز اسی شش و پنج میں گزر گیا۔ پھر اچانک کان کے پیچھے گلٹی نمودار ہوئی اور آخری ماہ میں اس نے ظاہری وجود ختم کرکے باطنی سرایت کر کے کام دکھادیا۔ پھر دوسرے کان سے آثار ظاہر ہوئے ۔گلے پر بھی اثر رہا بخار کھانسی سے گلےکی بندش ہوگئی الغرض ایک ہفتہ وکٹوریہ ہسپتال میں رہ کر لخت جگر و نور نظر میرا اکلوتا بیٹا مسکراتے چہرے کے ساتھ گھر آیا تو سکھ کا سانس لیا کہ بظاھر صحت بحال ہوئی مگر، اے بسائے آرزو کہ خاک شد
ابھی عشق کے امتحاں باقی تھے:
گزشتہ سوموار اڑھائی سال کی ساری صحت کھو بیٹھا بدھ والے دن حالت تشویشناک ہوئی جمعرات کی صبح زیارت کو گیا تو بے اختیار آنسوؤں کے ساتھ رب کی رضا پر راضی رہنے کا عہد و پیماں دیتا رہا اور خود کو جھوٹی تسلیاں دیکر عدم برداشت پر الٹے پاؤں واپس چلا آیا۔جمعہ کے روز قبولیت کا دن ہوتا ہے۔دو خطبوں کے درمیان بیٹھ کر دل سے اللہ کے حضور دعا کی، ربا!! میرے لخت جگر کو یا تو صحت سے نواز دیں یا جو آپ کا فیصلہ ہو مجھ سے یہ حالت کمزور انسان اور بالخصوص باپ ہونے کے ناطے دیکھی نہیں جاتی۔ میں ہر قضاء پر راضی ہوں۔وہ کیسی بے کسی و بے بسی کا لمحہ ہوتا ہے جب آپ اس دعا پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اس مریض کے لیے جو بہتر بمعنی " موت" ہو وہ فیصلہ فرما دیجئے!!!ہفتے شام کو پھر کال آئی آخری دم عصر کو ایک مولوی صاحب سے کرا کر بچے کو گھر لانے پر مصر ہوا۔مغرب سے حالت تشویشناک تھی با وجود علم کے میں نے عشاء پڑھا کر تسلی سے طلباء کی دیکھ بھال کی، طلباء کی ضروریات پوری کیں، انہیں سونے کی تلقین کی اور ادارے کی خبر گیری کے بعد گھر آگیا۔میرا علقمہ، ننھا پھول مرجھانے کو تھا۔آخر شب کی لو پھڑپھڑاتی محسوس کی۔سب قرآن کریم کی تلاوت اور اوراد میں مشغول تھے۔ غصے سے ڈانٹ کر خاموش کروایا کہ کیا میرے بچے کو رخصت کرنے پر تلے ہو؟ معصوم جان کو الوداعی زم زم کا پانی دم کرکے دیا۔ بچے کے سانس بحالی اور تکلیف تھمنے کے بعد کچھ اطمینان ہوا تو بچے کو اٹھا کر والدہ کے حوالے کیا اور ہفتہ بھر کی تھکان سے ذرا آنکھ لگ گئی۔جیسے شرارتی بچے والدین کے سوتے ہی دبے پاؤں بھاگ جاتے ہیں اسی طرح میرا بیٹا بھی مجھے سوتا چھوڑ کر دور کہیں افق کے پار جا پہنچا جہاں سے واپسی کی کوئی سبیل نہیں۔ ہاں البتہ جاتے جاتے زبان حال سے کہہ گیا اے میرے غمزدہ والدین!! شاید تم میرے علاج،دوا دارو،ہسپتالوں اور عاملوں کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک گئے ہوگے، در بدر بھٹک کر بے بس ہوگئے ہو گے۔ اس لیے میں اب مزید تکلیف نہیں دینا چاہتا۔اڑھائی سال کی طویل معذوری و بیماری کی اذیت جھیل کر دادا جان مولانا محمد یعقوب قادری شہید رحمہ اللہ کی آغوش میں آرام سے سونا چاہتا ہوں۔ شاید یہ مکر و فریب سے بھری دنیا مجھے راس نہیں آئی۔ رات بھر آہ و زاری کے ساتھ کربناک کیفیت سے دوچار ہو کر اپنی تجویز اور چچا جان کے مشورہ کے ساتھ صبح دس بجے جامعہ قادریہ تعلیم القرآن بستی گھلواں میں جنازہ طے پایا۔ میں سوچ رہا تھا بھلا بچے کے جنازہ ہے اتنے لوگ کہاں سے اور کیونکر آئیں گے؟ مگر نصیب والے تو خوش قسمت ہوا کرتے ہیں۔آن کی آن میں پورا گاؤں ہی امڈ آیا۔ کفن کے انتظام کے وقت والدہ نے یہ کہہ کر تڑپا دیا کہ اپنے بیٹے پر آخری مرتبہ جیب سے خرچ کر کے کفن کا عطیہ دو۔ اس وقت جیب پیسوں سے خالی اور نگاہ رب سے سوالی تھی۔بحمدللہ!! صبح اذان بھی خود دی اور نماز سسکیوں کے ساتھ پڑھائی۔آج احساس ہوا کہ اولاد کا دکھ درد سیدھا سینے پہ وار کرتا ہے...
تلقین کرو صبر کی بیشک مجھے مگر اے شہرکےلوگومیرا نقصان تو دیکھو
جنازہ بھی خود پڑھانے کی سعادت میسر آئی۔بوقت تدفین کسما پرسی و لاچارگی اور حسرت بھری نگاہوں سے یہ سوچ رہا تھا گوشہ جگر پارہ پارہ ریزہ ریزہ ہوکر مٹی کی نذر کیسے ہونے جارہا ہے؟ آہ اسکا چھوٹا سا بستر، خالی پنگھوڑا اور دودھ کی بوتل بھی ساتھ ہی رکھ چھوڑوں؟ رات کے اخیر پہر جب منادی آسمان سے رحمت و عطا کی ندا لگاتا ہے، بیٹھ کر یہ لکھ رہا ہوں۔ آج پہلی رات ہوگی کہ میں خاک کے اوپر اور میرا لخت جگر تہہ خاک سوئے گا۔بس اب ہمت جواب دے رہی ہے، چشمہ کے پیچھے سے بہتے آنسو بھی اوراق کو پانی پانی کر گئے ہیں جوانی میں ہاتھ کی کپکپاہٹ کا مفہوم کیا ہوتا ہے، مجھ سے بہتر بھلا کون سمجھا سکتا ہے؟؟ ہمارے والد مرحوم و مغفور کا سایہ بچپن میں ہی ہم سے چھین لیا گیا تھا۔
یتیمی ساتھ لایا کرتی ہے زمانے بھر کے دکھ سنا ہے باپ زندہ ہو تو کانٹا بھی نہیں چھبنے دیتا
دکھ درد کی اس گھڑی میں والد بزرگوار کی یاد بہت زیادہ آئی قدم قدم پر بڑی شدت سے انکی کمی محسوس ہورہی تھی۔ پھر بڑا بھائی باپ جایا اور باپ کا سایہ ہوا کرتا ہے سو وہ بھی سات سمندر پار پردیس میں مسافری کاٹ رہا ہے۔بندہ کس کے کاندھے پر سر رکھ کر دل کا بوجھ ہلکا کرے؟ آخر میں رحمان فارس کے رجزیہ کلام پر بات کا اختتام کرتاہوں.
بچہ ہے اس کو یوں نہ اکیلے کفن میں ڈال اک آدھ گڑیا ، چند کھلونے کفن میں ڈال
کپڑے اسے پسند نہیں ہیں کھلے کھلے چھوٹی سی لاش ہے اسے چھوٹے کفن میں ڈال
ڈرتا بہت ہے کیڑے مکوڑوں سے اس کا دل کاغذ پہ لکھ یہ بات اور اس کے کفن میں ڈال
عیسیٰ کی طرح آج کوئی معجزہ دکھا یہ پھر سے جی اٹھے ،اسے ایسے کفن میں ڈال
ننھا سا ہے یہ پاؤں وہ چھوٹا سا ہاتھ ہے میرے جگر کے ٹکڑے سارے کفن میں ڈال
مجھ کو بھی گاڑ دے میرے لختِ جگر کے ساتھ سینے پہ میرے رکھ اسے میرے کفن میں ڈال
سوتا نہیں تھا یہ میری آغوش کے بغیر فارس مجھے بھی کاٹ کے اس کے کفن میں ڈال

کالم نگار : مولانا محمد احمد بن یعقوب، بستی گھلواں
| | |
1189     3