(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمدعمران مینگل

محمدعمران مینگل

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
ہمیشہ مثبت سوچئے
ایک مرتبہ کسی مصنف نے لکھا: " گزشتہ برس میرا آپریشن ہوا پتا نکال دیا گیا۔ بڑھاپے کی وجہ سے کئی ہفتے بستر کا ہو کر رہنا پڑا۔ اسی سال عمر ساٹھ سال ہوئی تب مجھے اپنی پسندیدہ ترین ملازمت سے سبکدوش کر دیا گیا جہاں نشرو اشاعت کے ادارے میں زندگی کے تیس قیمتی سال گزارے تھے ۔ اسی سال اپنے والد کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑا ۔ اسی سال میرا بیٹا میڈیکل کے امتحان میں فیل ہو گیا وجہ بنی کار کا حادثہ جس سے زخمی ہو کر کئی ماہ پلستر کرا کر گھر رہنا پڑا، کار کا تباہ ہو جانا علیحدہ نقصان تھا: " آہ، کیا ہی برا سال تھا یہ!! مصنف کی اہلیہ کمرے میں داخل ہوئی دیکھا شوہر غمزدہ چہرے کے ساتھ خاموش بیٹھا خلاؤں میں گُھور رہا ہے۔ خاوند کی پشت سے سب لکھا پڑھ لیا۔ اُس کو اسی حال میں چھوڑ کر خاموشی سے باہر نکل گئی۔ کچھ دیر بعد واپس لوٹی تو ایک کاغذ تھام رکھا تھا خاموشی سے خاوند کے لکھے کاغذ کے برابر رکھ دیا: " گزشتہ برس آخرکار مجھے اپنے پتے کے درد سے نجات مل گئی جس سے میں سالوں کرب میں مبتلا تھا۔ میں آج پوری صحت مندی اور سلامتی کے ساتھ ساٹھ کا ہو گیا ہوں۔ تیس سالوں کی ریاضت کے بعد ملازمت سے ریٹائرمنٹ مل گئی ہے۔ اب میں مکمل یکسوئی کے ساتھ زندگی کا باقی وقت کچھ بہتر لکھنے میں استعمال کر سکوں گا۔ اسی سال میرے والد اسی سال کی عمر میں بغیر کسی پر بوجھ بنے بغیر کسی بڑی تکلیف کے آرام کے ساتھ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اسی سال اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کو ایک نئی زندگی عطا فرما دی ایک ایسے حادثے میں جس میں فولاد سے بنی کار تباہ ہو گئی مگر میرا بیٹا کسی معذوری سے بچ کر زندہ سلامت رہا: " واہ ایسا سال جسے اللہ نے مجھ پر رحمت بنا کر بھیجا بخیر و خوبی گزر گیا " دونوں تحریریں آپ نے ملاحظہ کیں۔ بات دونوں میں ایک ہی ہے البتہ انداز بیاں جدا ہے۔ اسی بیانیے نے پہلی تحریر والے کو مایوس، تھکا ہارا، حالات کا مارا اور مصیبت زدہ دکھلایا ہے جبکہ دوسری تحریر والے کو پر امید ، باہمت جد و جہد پر آمادہ اور عملی انسان دکھلایا ہے۔ بس یہی فرق ہماری زندگیوں میں بھی ہے۔ اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم حالات و واقعات کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں؟؟ یہیں سے شکر گزار اور ناشکرے کی تمیز شروع ہو جاتی ہے۔

کالم نگار : محمدعمران مینگل
| | |
424