(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمد تیمور ،شریک کلیہ ابلاغ عامہ،جامعہ بنوریہ عالمیہ

محمد تیمور ،شریک کلیہ ابلاغ عامہ،جامعہ بنوریہ عالمیہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
تعلیمی اور معاشی بحران
آج کا پاکستان کئی چیلنجز سے گزرہا ہے ۔سماجی عدم استحکام ،بے روز گاری اوراخلاقی زوال جیسے مسائل پوری قوم کے سامنے ہیں۔ ملکی ، معاشی ، گھریلو زندگی کو ہر شخص بہتر سے بہتر گزارنا چاہتا ہے، آج کل ہوا میں ایک گونج سی اٹھی ہے میرا ملک آپ کا ملک ہم سب کا ملک پاکستان تباہ ہی نہیں بلکہ ہر لحاظ سے انتہائی کمزور ہوچکاہے ۔ بے روز گاری ، معیشت کی تباہ کاری ،تعلیمی نظام کا کھوکھلاپن ، کرپشن وغیرہ جیسے القاب ہم نے خود ہی اپنے ملک کو دے رکھے ہیں، لیکن اپنے ملک کی ترقی ، خوشحالی کے بارے میں تو دور ، ہم تو اپنی خود کی زندگی کو درست کرنے کوتیار نہیں۔ حالانکہ ان سب حالات کے تباہ کاریوں کے ذمہ دار ہم ہیں ۔
رہنمائی کی ضرورت
ان حالات میں قوم کے ہرایک فرد کو مسلمان ہونے کے ناطے موجودہ دور میں قومیت ، لسانیت ،فرقہ وارانیت وغیرہ کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں ، بچے ، بوڑھے ہر خاص و عام کو اسلامی شریعت کی روشنی میں رہنمائی کی ضرورت ہے ۔تاکہ ہم سب ان مشکلات سے نکل کر ایک مضبوط ، طاقتور اور بہتر قوم بن سکیں۔ اسلامی شریعت وہ ضابطہ حیات ہے جو ہمیں نہ صرف انفرادی زندگی میں بلکہ قومی و معاشرتی زندگی میں بھی کامیابی کی راہ دکھاتی ہے ۔اسلامی شریعت ایک جامع ضابطہ حیات ہے۔ یہ صرف عبادات کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ جو زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے ، جوکہ آپ کی دنیاوی، اخروی زندگی کو بھی سنوارتا ہے اس کے ساتھ ساتھ آپ کی دنیاوی زندگی کے معاملات کو بھی بہتر بناتا ہے، چاہے وہ اخلاقی اصول ہوں ، معاشی نظام ہو ، معاشرتی معاملات ہوں ، دفتری معاملات ہوں ، سیاسی معاملات ہوں وغیرہ ۔ اسلام نے انسان کو قاعدے وقانون کے ساتھ ساتھ کچھ اصول و ضوابط بھی فراہم کیے ہیں جن کو اپناتے ہوئے ہر شخص کامیاب ہوسکتاہے۔
درپیش چیلنجز کا حل:
ہمارے سامنے بے شمار چیلنجز ہیں جن کو ہم ہر قیمت پر حل کرنا چاہتے ہیں ۔ اسلامی شریعت کو سمجھے بغیر، اپنائے بغیر ،اپنی اہمیت سمجھے بغیر اپنے عہدوں کی ذمہ داری نبھائے بغیریہ مسائل کبھی بھی حل نہیں ہوسکتے۔اس لیے ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر اسلامی شریعت کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے ۔ قوم کے ہر فرد کو موجودہ دور میں اسلامی تعلیمات اور شریعت کی آگاہی کے ساتھ ساتھ خود اعتمادی پیداکرنی ہوگی اور ایک دوسرے کی عظمت واہمیت کو سمجھنا اور اخلاص کے ساتھ انتہائی محنت کرنی ہوگی ۔ سب کچھ ختم ہوسکتا ہے تقدیر بدل سکتی ہے ہم اپنے ساتھ ساتھ اپنے ملک کی ترقی خوشحالی کی راہ ہموار کرسکتے ہیں کیوں کہ اللہ کے بندے اور رسول اللہ ﷺ کے ماننے والے ہم امتی ہیں ۔ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے ایک امت بنایا ،امتی بن کر رہنا سکھایا ہمیں اسلامی شریعت کے نفاذ کو قائم کرنا ہوگا اپنی زندگی کو مکمل شریعت کے مطابق ڈھالنا ہوگا ۔ حالات کی سختیوں سے لڑنا ہوگا اپنا ڈر ختم کرنا ہوگا ایک نئے عزم اور جوش کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھنا ہوگا ایک دوسرے کو سمجھتے ہوئے قومیت ، لسانیت اور زبان کے فرق کو ختم کرنے کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ ملکر بھائی چارگی فروغ دینا ہوگا ۔ خود بھروسہ کرنا ہوگا مشکلات کے آگے جھکنے کے بجائے ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا ۔ اسلام ہمیں ان سب چیزوں کادرس دیتا ہے ۔
تعلیمی نظام کی درستگی:
ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو درست کرنا ہوگا اس کے نظام کو ایک جدید اور مستحکم اسلام کے دائرے اور اصولوں اور قواعد کے ساتھ قائم کرنا ہوگا نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ، بچے ، بوڑھے سب کی کاوشوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک بہتر نظام کے ساتھ ان کی تعلیم کو فروغ دینا ہوگا اسلام ہمیں محبت ،انصاف اور امن کا درس دیتاہے ۔ پوری قوم کو اپنی معاشی ،اپنی ذاتی زندگی اور ملکی زندگی میں ان اُصولوں کو اپنانا ہوگا ۔پاکستا ن کی معیشت کسی سی ڈھکی چھپی نہیں آج پاکستان کی تاریخ سے بھی اور موجودہ حالات سے بھی پوری قوم باخبر ہے ۔یہ حالات بہتر ہوں گے جب تک ہم اسلامی نظامِ شریعت کو نہیں اپنائیں گے ، سودی نظام ،غیر منصفانہ پالیسیاں اور معاشرتی ناہمواریوں کو جنم دیتی ہے ۔ اسلام نے سود کو حرام کرار دیا ہے اور عدل و انصاف پر مبنی معاشی نظام کی تلقین کی ہے ۔اسلامی معاشی اصولوں کو سمجھ کر اپنی زندگیوں کا اطلاق کریں ۔ کاروبار میں دیانت داری رزقِ حلال کی تلاش اور سود سے بچنے کی کوشش کریں اور ہر ایک کو اس راہ کی طر ف بڑھنے کی دعوت دیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو کہ نہ صرف ہماری ذاتی زندگیوں بلکہ معیشت کو بھی استحکام دے سکتاہے ۔ نوجوانوں کے لیے پیغام ہے وہ اسلامی قیادت کے اصولوں کو اپنائیں بلکہ ملک کے ہر شعبے میں جاکر خواہ چھوٹا یا بڑا ہو گورنمنٹ ہو یا پرائیوٹ وغیرہ ۔اس میں جاکر اس کے اندر کی تمام خامیوں کو ناکہ دور کرے بلکہ اس کے اندر کی تمام کرپشنز کو ختم کرے ۔ میرے محبوب سرکارِ دو عالم خاتم الانبیاء امام الاانبیاء ﷺ نے فرمایا جس کا مفہوم ہے : تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اسکی نوعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔(بخاری)یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ہر فرد کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا ۔قیادت کو سمجھنا ہوگا ۔ اس وقت پاکستان کو مخلص دیانت دار امانت دار قیادت کی ضرورت ہے ۔ نوجوان نسل کو اس سمت میں آگے بڑھنا ہوگا ۔اپنے اندر کی قیادت کی صلاحیتیں پیدا کرنی ہوں گی آپ کا کردار اور آپ کی سوچ اور آپ کا عمل ہی پورے ملک کی تمام سمت کو بدل سکتا ہے ۔ اللہ تعالی ٰ نے ہمیں عظیم ملک عظیم دین اور ایک عظیم معاشرہ عطاکیا ہے ہمیں زندگی دی ہے ہمیں اس کی قدر کرنی ہوگی ۔اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہوکر اپنے ملک و قوم کو ایک مضبوطی کے ساتھ لگن اور اسلام سے محبت پیدا کرنی ہوگی ۔اسلام سے محبت ہی اس پورے ملک کو تمام مشکلات اور در پیش حالات سے نکال کر ترقی راہوں پر گامزن کرے گی ۔

کالم نگار : محمد تیمور ،شریک کلیہ ابلاغ عامہ،جامعہ بنوریہ عالمیہ
| | |
459