اولاد نہ صرف اللہ کی نعمت ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ایک ایسی امانت جو آپ آنے والے دنوں میں ملک و قوم کو سونپ کر دنیا سے رخصت ہو جاؤ گے۔
اب یہ آپ پر منحصر ہیکہ اس مسقبل میں جس میں یقیناً آپ کا وجود ناپید ہوگا اپنے لیے تعریف و توصیف سننا چاہتے ہیں یا لعنت و ملامت!!!
پہلی غلط روش:
ہوتا یہ ہیکہ جوانی میں انسان اپنے باپ کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جیسے ہمارے باپ کو ہمارے مسائل،تکلیفوں یا ضرورتوں کا احساس ہی نہیں، یہ نئے دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا یا بس اپنی بات تھوپنے کا خبط سوار ہے اور اسی طرح کے بیشمار لا یعنی جملے۔
کبھی کبھی ہم دوسروں سے اپنے باپ کا موازنہ کرنا بھی شروع کر دیتے ہیں۔
مثلاً اتنی محنت ہمارے باپ نے کی ہوتی، بچت کی ہوتی یا کچھ بنایا ہوتا، دماغ لڑایا ہوتا تو آج ہم بھی فلاں کی طرح عالیشان گھر کے مکین اور اچھی گاڑی میں گھوم رہے ہوتے۔
اکثر والد کی طرف سے
کہاں ہو؟
کب آؤ گے؟
کس کے ساتھ ہو؟
زیادہ دیر نہ کرنا جیسے سوالات انتہائی فضول اور فالتو سے لگتے ہیں۔
سویٹر تو پہنا ہے کچھ اور بھی پہن لو سردی بہت ہے، اتنی گرمی میں باہر نکلنے میں احتیاط برتو یا فلاں چیز کھا لو، پی لو صحت کے لیے اچھی ہے یہ سب باتیں اضافی معلوم ہوتی ہیں۔
انسان سوچتا ہے کہ پرانے دور کے ہونے کی وجہ سے والد کو باہر کی دنیا کا اندازہ نہیں ہے۔
اکثر اولادیں اپنے باپ کو ایک ہی معیار پر پرکھتی ہیں گھر ,گاڑی ,پلاٹ , بینک بیلنس , کاروبار اور اپنی ناکامیوں کو باپ کے کھاتے میں ڈال کرخود سُرخرو ہو جاتے ہیں ہمارے پاس بھی کچھ ہوتا تو اچھے اسکول میں پڑھتے کاروبار کرتے۔
انسان کا پہلا آئیڈیل:
اس میں شک نہیں اولاد کے لئے آئیڈیل بھی ان کا باپ ہی ہوتا ہے لیکن کچھ باتیں جوانی میں اچھا بھی برا بھی اور اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ انسان پلک جھپکتے ماضی کی کہانیوں کو اپنے ارد گِرد منڈلاتے دیکھنا شروع کر دیتا ہے
جوانی ،پڑھائی ،نسمجھ نہیں آتیں یا ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اس ليے کہ ہمارے سامنے وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔
دنیا سے مقابلے کا بُھوت سوار ہوتا ہے
جلد سے جلد سب کچھ پانے کی جستجوے ہیں میں ہم کچھ کھو بھی رہے ہوتے ہیں جس کا احساس بہت دیر سے ہوتا ہے
بہت سی اولادیں وقتی محرومیوں کا پہلا ذمّہ دار اپنے باپ کو قرار دے کر ہر چیز سے بری الزمہ ہو جاتی ہیں
وقت گزر جاتا ہےلڑکپن ، تعلیم ، نوکری ، شادی ، اولاد اور پھر وہی اسٹیج ، وہی کردار ، جو نِبھاتے ہوئے ، ہر لمحہ ، اپنے باپ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ آ کر ، باپ کی ہر سوچ ،احساس ،فکر ، پریشانی ، شرمندگی اور اذیّت کو ہم پر کھول کے رکھ دیتا ہے۔
شفقت پدری کا احساس:
باپ کی کبھی کبھی بلا وجہ خاموشی ،کبھی پرانے دوستوں میں بے وجہ قہقہے، اچھے کپڑوں کو ناپسند کرکے پرانوں کو فخر سے پہننا ،کھانوں میں اپنی سادگی پر فخر کرنا
کبھی کبھی سر جُھکائے اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں میں مگن ہونے کی وجہ،
کبھی بغیر وجہ تھکاوٹ کے بہانے سرِ شام بتّی بجھا کر لیٹ جانا نظریں جھکائے ، انتہائی محویت سے عبادت کرنا ، سمجھ تو آنا شروع ہو جاتا ہے لیکن بہت دیر بعد جب ہم خود راتوں کو جاگ جاگ کر ، دوسرے شہروں میں گئے بچوں پر آیت الکرسی کے دائرے پھونکتے ہیں
جب ہم سردی میں وضو کرتے ہوئے اچانک سوچتے ہیں پوچھ ہی لیں بیٹا آپ کے ہاں گرم پانی آتا ہے ؟
جب قہر کی گرمی میں سے اے سی کی خنک ہوا بدن کو چُھوتی ہے تو پہلا احساس جو دل و دماغ میں ہلچل سی مچاتا ہے وہ کہیں اولاد گرمی میں تو نہیں بیٹھی ؟؟
جوان اولاد کے مستقبل ، شادیوں کی فکر ، ہزار تانے بانے جوڑتا باپ ، تھک ہار کر عبادات میں پناہ ڈھونڈتا ہے
تب یاد آتا ہے ، ہمارا باپ بھی ایک ایک حرف ، ایک ایک آیت پر ، رُک رْک کر ، بچوں کی سلامتی ، خوشی ، بہتر مستقبل کی دعائیں ہی کرتا ہوگا۔
ہر نماز کے بعد ، اُٹھے کپکپاتے ہاتھ ، اپنی دعاؤں کو بھول جاتے ہونگے۔
ہماری طرح ہمارا باپ بھی ایک ایک بچے کو ، نمناک آنکھوں سے اللّه کی پناہ میں دیتا ہوگا۔
سرِ شام کبھی کبھی ، کمرے کی بتّی بُجھا کر ، اس فکر کی آگ میں جلتا ہوگا کہ میں نے اپنی اولاد کے لئے بہت کم کِیا ؟
بہت دیر کی مہرباں آتے آتے:
اولاد کو باپ بہت دیر سے یاد آتا ہے ، اتنی دیر سے کہ ہم اسے چْھونے ، محسوس کرنے ، اسکی ہر تلخی ، اذیت اور فکر کا ازالہ کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔
یہ ایک عجیب احساس ہے ، جو وقت کے بعد اپنی اصل شکل میں ہمیں بےچین ضرور کرتا ہے
لیکن یہ حقیقتیں جن پر بروقت عیاں ہو جائیں وہی خوش قسمت اولادیں ہیں۔
اولاد ہوتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں
باپ کا چھونا ، پیار کرنا ، دل سے لگانا ، یہ تو بچپن کی باتیں ہیں لیکن
باپ بن کر آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
پتہ نہیں باپ نے کتنی دفعہ دل ہی دل میں ، ہمیں چھاتی سے لگانے کو بازو کھولے ہونگے ؟؟
پیار کے لئے اس کے ہونٹ تڑپے ہونگے، سر پر ہاتھ پھیرنے کے جذبات ابھرے ہوں گے اور ہماری بے باک جوانیوں نے اسے یہ موقع نہیں دیا ہوگا۔
ہم جیسے درمیانے طبقے کے سفید پوش لوگوں کی ہر خوائش ، ہر دعا ، ہر تمنا ، اولاد سے شروع ہو کر ، اولاد پر ہی ختم ہو جاتی ہے
لیکن کم ہی باپ ہونگے جو یہ احساس اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں دلا سکے ہوں گے۔
یہ ایک چُھپا پوشیدہ ، میٹھا میٹھا درد ہے جو باپ اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔
اولاد کے ليے بہت کچھ کر کے بھی کچھ نہ کرسکنے کی ایک خلش ، آخری وقت تک ایک باپ کو بے چین رکھتی ہے اور یہ سب بہت شدت سے محسوس ہوتا ہے۔
جب ہم باپ بنتے ہیں ، بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں
تو باپ کے دل کا حال جیسے قدرت ہمارے دلوں میں منتقل کر دیتی ہے
باپ سے اجھا کوئی دوست نہیں:
اولاد اگر باپ کے دل میں اپنے لئے محبت کو کھلی آنکھوں سے ، وقت پر دیکھ لے
تو شاید اسے یقین ہو جائے کہ دنیا میں باپ سے زیادہ اولاد کا کوئی دوست نہیں ہوتا۔
آج کے دور میں جو سب سے بڑی گھمبیرتا ہے وہ باپ اور بیٹے کے آپس کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ ہے۔
خلاف توقع امور:
میرے کہنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ہر جگہ اولاد ہی غلط یا سنگدل ہوتی ہے۔
بہت سے واقعات ایسے بھی سامنے آتے ہیں کہ باپ اپنے مقام و مرتبہ کا کما حقہ خیال نہیں رکھ پاتا۔ برصغیر میں بسنے والوں کا اصل مسئلہ حد اعتدال سے تجاوز ہے۔ اولاد کی پرورش میں یا تو بیجا سختی برتنا یا حد درجے لاپرواہی کا مظاہرہ کرنا دونوں کے نتائج حوصلہ افزاء نہیں ہوتے۔
ہم سامنے والے کو اسپیس ( وقت ، موقع ، جگہ) دینے پر تیار ہی نہیں ہوتے۔
اگر اولاد کہیں مناسب جگہ رشتہ پر مصر ہے اور اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کہ زندگی بھی اسی نے گزارنی ہے تو میری ناقص رائے کہ مطابق والد کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ خاندانی بود و باش اور مان مریادہ کا تسلط کسی اور وقت کے لیے بچا رکھیں تو بہتر ہوگا۔
خاندان کے بڑے بزرگوں کو یہ بات سمجھنا از حد ضروری ہے کہ ان کے دور میں یہ نفسا نفسی، گرانی، اہلیت کی ناقدری، سیاسی چپقلش اور بے سوشل میڈیا کی دوڑ سے پیدا ہونے والی بے سکونی کا کوئی وجود نہیں تھا۔
بڑوں کی طرف سے فوری رد عمل ، اپنے وجود کا ہر حال میں بھرم یا ہر وقت دوسروں سے موازنہ بھی اولاد کو بر انگیختہ کر دیتا ہے جس سے فاصلے پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ دو متوازی سمتوں پر ریل کی دو پٹڑیوں کی طرح بظاھر ساتھ ساتھ درحقیقت لا متناہی الگ الگ چلتے نظر آتے ہیں۔
اس بات کو بھی ہم قدرت کی عجیب ستم ظریفی سے تعبیر کریں گے کہ ایک طرف باپ عمر کا طویل عرصہ گو ناگوں مسائل سے نمٹنے کے بعد پچپن بروزن بچپن میں لوٹ آتا ہے تو دوسری طرف منہ زور دیوانی جوانی اپنے آگے کسی کو دیکھنے کی رودار نہیں ہوتی اور اب خالق ومالک کا کہنا ہے کہ صبر و حوصلہ سے کام لیا جائے۔
سبحان تیری قدرت!!
{رَّبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِى نُفُوسِكُمْ ۚ إِن تَكُونُواْ صَٰلِحِينَ فَإِنَّهُۥ كَانَ لِلْأَوَّٰبِينَ غَفُورًا} ( القرآن)
ترجمہ:
تمہارا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ اگر تم لائق ہوئے تو بیشک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔