(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمد محسن گلزار

لاہور پاکستان

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
علم اور غور وفکر
علم اور غور وفکر کا باہمی رشتہ اور اس کا ثمرہ
الحمد لله رب العالمین والصلاۃ والسلام علیٰ سید الانبیاء و المرسلین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین! کسی بھی علم وفضل میں الفاظ و معانی عبارت و مطالب بنا غور وفکر ،تأمل و تدبر کے ، آپ کے مطالعہ کے دوران ایسے اجسام ہیں جن کی آنکھیں اپنی روح کی جدائی میں نم ہیں! یا ایسی ارواح ہیں جو بلا جسم کے ادنی سی حرکت کے لیے ترس رہی ہیں! مطالعہ اور غور وفکر میں افتراق و اتصال کی مثال ایسے ہے جیسے! بانسری کے بغیر منہ سے نکلنے والی ہوا ،یا سانسیں ایک خاموش بیاباں میں کہیں نا پید ہوجاتی ہیں! جبکہ وہی ہوا ، سانس اور توانائ جب بانسری کے اندر مختلف سوراخوں میں اعتکاف و طواف کرتے ہوئے باہر نکلتی ہے تو دل و جاں کے ہر خوابیدہ مسام کو بیدار کر دیتی ہے , دل و دماغ کے صحن میں اک رقص بپا کر دیتی ہے ، کبھی غمی کے بادل منڈلانے لگتے ہیں! کبھی خوشی و مسرت کی برکھا برستی ہے! آپ دیکھیں بنا بانسری کے انسان خود بھی اپنی نحیف سی سانس کو محسوس نہیں کر سکتا! جبکہ یہی سانس بانسری میں موجود مختلف غاروں کا سفر طے کرکے ہمارے کانوں کے جہاں میں داخل ہوتی ہے تو کبھی جوش و خروش اور ولولے کے کوہستان کو وجود بخشتی ہے! کبھی غمی کے بے آب و گیاہ ریگستان رونما ہوتے ہیں ، کبھی فرحت و مسرت کے بارونق میلے لگتے ہیں! آہ! کتنا ہنگامہ ،کیسی قیامت ہے اس سفر میں جو سانس کا بانسری کے اک کنارے سے شروع ہو کر دوسرے کنارے تک جا پہنچتا ہے اور یہی سانس بانسری کے بغیر منہ سے فضا میں تحلیل ہونے تک قبر کی طرح خاموشی کی چادر اوڑھ کر ہمارے اوسان سے غائب ہو جاتا ہے! میرے عزیز طلبہ! اگر آپ مطالعہ میں حرکت و حرارت ، ولولے اور زندگی پیدا کرنے کے خواہشمند ہیں تو اسے تامل و تدبر ،غور و خوض کا ساتھ عطاء کیجئے! ورنہ بلا تدبر وتفکر کے آپ کا مطالعہ آپ کو عمل پیرائی کی مقدس منزل تک نہیں پہنچا سکتا! اور جو علم پر عمل پیرا ہونے کے مراحل طے کرنے سے قاصر رہتا ہے وہ دعوت وعزیمت کی شاہراہوں پر منزلیں طے کرتا چلا جائے! بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے!؟ مطالعہ کی دو شاہراہِیں ! اگر مطالعہ قرآن کریم احادیث نبوی سیرت طیبہ تاریخ عالم حیاۃ الصحابۃ حیاۃ الاولیاء والصالحین مقاصد الشریعة جیسی چیزوں کا ہے تو آپ ان پر ایک گھڑی مطالعہ کے ساتھ دس گھڑی غور وفکر ،تامل وتدبر کریں! اور اگر مطالعہ اصول الفقہ اصول الحدیث اصول التفسیر علم البلاغۃ علم الصرف و النحو والانشاء علم المنطق جیسے فنون کا ہے تو ضروری غور وفکر کے ساتھ ساتھ ،ان علوم کی تمریناتی کتب سے مشق و اجراء بھی کریں! فیصلہ آپ کے ہاتھ میں! آپ نے اپنی علمی مطالعاتی کدو کاوش کو رنگ و نور سے ہم کنار کرنا ہے تو گرمطالعہ دس گھڑی کریں تو اس پر غور وفکر سو گھڑی کریں! کیونکہ علم ایسی یاد داشت کو نہیں کہتے ،جو خود کو بھی کچھ یاد نہ کرا سکے! بلکہ ایسی فہم و فراست ،ادراک وآگاہی کو کہتے ہیں جو عمل اور دعوت وعزیمت سے سرفراز کردے! مثنوی مولانا روم کا مطالعہ کرتے ہوئے آپ سے مخاطب ہوا تو یہ تحریر دل کے نہاں خانے سے آپ کی قدر شناس نظروں کی نذر ہوگئی!

کالم نگار : محمد محسن گلزار
| | |
670     5