(+92) 319 4080233
کالم نگار

ضبط و نقل: عبدالسلام یوسفزئی

ضبط و نقل: عبدالسلام یوسفزئی

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
مولانامحمدحنیف جالندھری کا علما اجتماع سے خطاب
الْحَمْدُ لِلَّهِ وَكَفىٰ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى، لَا سِيَّمَا عَلَى سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ وَخَاتَمِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ، سَيِّدِنَا وَنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ، وَعَلَى كُلِّ مَنْ تَبِعَهُمْ بِإِحْسَانٍ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ۔​أَمَّا بَعْدُ! فَأعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ:﴿لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ﴾۔​وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا"۔ ​وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ"۔ ​صَدَقَ اللَّهُ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ، وَنَحْنُ عَلَى ذَلِكَ لَمِنَ الشَّاهِدِينَ وَالشَّاكِرِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ ​قابلِ صد احترام صدرِ اجتماع، میرے شیخ و مربی، شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمّد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ، صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان، و صدر اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان، و صدر جامعہ دارالعلوم کراچی۔ ​قابلِ صد احترام حضرت مولانا محمد سلیمان بنوری صاحب دامت برکاتہم العالیہ، نائب صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان و مہتمم جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی۔ ​قابلِ صد احترام حضرت مولانا امداد اللہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ، ناظم وفاق المدارس العربیہ پاکستان، صوبہ سندھ۔ ​قابلِ صد احترام معزز اور محترم معاون ناظمین وفاق المدارس صوبہ سندھ، قابلِ صد احترام معزز و محترم اراکینِ مجلسِ عاملہ وفاق المدارس، قابلِ صد احترام معزز و محترم اراکینِ مجلسِ شوریٰ و مجلسِ عمومی، قابلِ صد احترام مسئولینِ وفاق المدارس، قابلِ صد احترام اربابِ مدارس و جامعات۔ ​السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ! ​میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کو ان اجتماعات کے انعقاد کی توفیق عطا فرمائی۔ اور پھر میں آپ تمام علمائے کرام، مہتممینِ مدارس و جامعات صوبہ سندھ کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ اپنی انتظامی، تدریسی اور دعوتی اور تبلیغی مصروفیات کے باوجود اپنے ادارے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے پورے صوبہ سندھ سے سفر کی مشقت برداشت کرتے ہوئے تشریف لائے۔ ​پھر میں شکریہ ادا کرتا ہوں جامعہ دارالعلوم کراچی کا کہ میزبانی کا شرف جن کو ملا اور انہوں نے میزبانی کی درخواست وفاق کی قبول فرمائی۔ وفاق المدارس کے مرکزی دفتر کے ناظم حضرت مولانا عبدالمجید صاحب اور ان کے تمام رفقاء، اور ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس اجتماع کے انعقاد میں اور کامیابی میں محنت فرمائی۔اللہ تعالیٰ ان سب کو بہترین جزا دارین میں نصیب فرمائے۔ ​وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلسِ عاملہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ دینی مدارس و جامعات کے مہتممین اور ہر صوبے کے مسئولین سے خصوصی نشستیں رکھی جائیں۔ چنانچہ اس سلسلے کا پہلا اجتماع صوبہ پنجاب کی سطح پر جامعہ دارالقرآن فیصل آباد میں 28 اور 29 اکتوبر کو منعقد ہوا، جس میں الحمد للہ پنجاب میں وہ مدارس و جامعات جو وفاق سے ملحق ہیں، ان کے مہتممین کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ 12,300 مدارس صوبہ پنجاب میں وفاق سے ملحق ہیں، ان میں 11,000 سے زائد مدارس و جامعات کے مہتممین تشریف لائے۔ ​اُس کامیاب اجتماع کے بعد یہ دوسرا اجتماع صوبہ سندھ کی سطح پر کراچی میں ہو رہا ہے۔ گزشتہ رات یہیں دارالعلوم میں مسئولینِ وفاق صوبہ سندھ کا اجتماع ہوا جو نمازِ عشاء کے بعد سے رات 11:00 بجے تک جاری رہا۔ اور اس وقت میں آپ مہتممین کا یہ اجتماع انعقاد پذیر ہے۔ ​الحمد للہ صوبہ سندھ کے وہ مدارس جو وفاق میں شامل ہیں، ان کی بھی بہت بڑی تعداد آج کے اس اجلاس میں شریک ہے۔ انشاء اللہ اگلے مرحلے میں خیبر پختونخواہ کی سطح پر پشاور میں، اور پھر اس کے بعد انشاء اللہ بلوچستان کی سطح پر کوئٹہ میں، اور پھر اس کے بعد انشاء اللہ اسلام آباد میں، آزاد کشمیر اور گلگت کے مدارس سمیت اجتماعات منعقد ہوں گے۔ ​مجھ سے پہلے، مجھ سے بہتر حضرات نے بہتر انداز میں مختلف موضوعات پر آپ حضرات کی خدمت میں بہترین تجاویز، گزارشات اور ارشادات بیان فرمائے ہیں۔ میں ان کے خلاصے کے طور پر چند باتیں جو عرض کرنا چاہتا ہوں، وہ گیارہ نکات ہیں "أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا" اللہ ان کو بنادے وہ انہی کا خلاصہ ہے، اور میں یہ چاہوں گا کہ یہ چونکہ کوئی روایتی جلسہ، کوئی رسمی اجتماع نہیں ہے، بلکہ انتہائی بنیادی اور انتہائی اہم اجتماعات ہیں، اس لیے کہ آپ مہتممین اس وقت جس تعداد میں یہاں موجود ہیں، آپ میں سے ہر مہتمم کے ادارے کے اساتذہ، آپ کے طلباء و طالبات اور آپ کے متعلقین کو شمار کیا جائے، تو اگرچہ کمّیّت کے اعتبار سے، ظاهری عدد اور گنتی کے اعتبار سے یہ تقریباً 4,000 افراد کا اجتماع ہے، لیکن اگر ان کی پشت پر جو طلباء اور اساتذہ اور طالبات ہیں، اور آپ کا جو حلقہ ہے، جو آپ کے متعلقین ہیں، جن کی آپ نمائندگی کر رہے ہیں، تو یہ اجتماع کیفیت کے اعتبار سے لاکھوں کے اجتماع سے بھی زیادہ قیمتی اور بھاری ہے۔ ​اس لیے میں امید رکھتا ہوں کہ جو گزارشات پیش کی جا رہی ہیں، یہ درحقیقت آئندہ کے لیے لائحۂ عمل ہے جو آپ کا ادارہ وفاق المدارس آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہے۔ ​سب سے پہلی گزارش، عین ممکن ہے کہ کوئی بات ایسی بھی ہو، بلکہ ہو سکتا ہے کہ اکثر باتیں تکرار ہوں، مگر " إِذَا تَكَرَّرَ فِي السَّمْعِ تَكَرَّرَ فِي الْقَلْبِ"؛ بار بار کوئی بات دہرائی جائے تو وہ دل و دماغ میں اور عمل میں جگہ پا ہی لیا کرتی ہے۔ ​میری پہلی گزارش یہ ہے کہ آپ حضرات مدارس کے سربراہ، ذمہ دار اور مہتممین ہیں، اور مدارس کا بنیادی کام افراد سازی ہے، مدارس کا بنیادی کام رجالِ دین کو تیار کرنا ہے، مدارس کا بنیادی مقصد، ان کے مقاصد میں ایک تو فرد تیار کرنا ہے جو امت کی رہنمائی کرے گا۔ آپ نے افراد بنانے ہیں، آپ نے رجالِ دین تیار کرنے ہیں، اس لیے آپ کی نظر بہت بلند ہونی چاہے۔ ​علامہ اقبال مرحوم نے آپ جیسے مقتدیٰ اور پیشواؤں کے لیے کہا تھا: "نگاہِ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے" ​آپ مقتدی نہیں، آپ مقتدیٰ ہیں، آپ پیشوا ہیں، آپ رہنما ہیں، آپ میرِ کارواں ہیں، اس لیے میرِ کارواں کی نظر بہت بلند ہونی چاہیے۔ اتنی بلندیِ نظر ہو کہ امام الانبیاء، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم خندق کھود رہے ہیں، مدینہ منورہ پر حملے کا خطرہ ہے، دفاع میں خندق کھودی جا رہی ہے، مگر جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک چٹان کو توڑتے ہیں، جس کے بارے میں صحابہ عرض کرتے ہیں کہ ہم سے وہ چٹان اور پتھر نہیں ٹوٹ رہا، آپ کھدال مارتے ہیں اور اس میں سے روشنی نکلتی ہے، تو آپ فرماتے ہیں: "مجھے اس روشنی میں قیصر و کسریٰ کے محلات دکھائے گئے ہیں، مجھے یمن کے محلات دکھائے گئے ہیں"۔ صورتحال تو یہ ہے کہ مدینے پر حملے کا خطرہ ہے، پیٹ پر بھوک کی وجہ سے پتھر بندھے ہوئے ہیں، تمام صحابہ کے پیٹ پر ایک ایک پتھر اور حضور کے بطنِ مبارک پر دو پتھر بندھے ہوئے ہیں، فقر و فاقہ کا یہ عالم ہے، لیکن حضور کی نگاہ کتنی بلند ہے! فرمایا: "مجھے اس روشنی میں قیصر و کسریٰ، عالمی طاقتوں کے محلات دکھائے گئے ہیں"۔ اس لیے آپ کی نظر بھی پورے عالم پر ہونی چاہے۔ عالِم، عالَم پر نظر رکھے! ​اسی لیے کہا گیا: "إِذَا قَامَ الْعَالِمُ، قَامَ الْعَالَمُ" جب ایک عالِم کھڑا ہوتا ہے، تو عالَم کھڑا ہو جاتا ہے۔ "إِذَا نَامَ الْعَالِمُ، نَامَ الْعَالَمُ" اور اگر عالِم سو جائے، تو پھر عالَم سو جاتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا: "إِذَا مَاتَ الْعَالِمُ، مَاتَ الْعَالَمُ" جب عالِم فوت ہو جاتا ہے، تو پورا جہان فوت ہو جاتا ہے۔ ​تو میرے دوستوں! پہلی بات میں جو عرض کرنا چاہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ دینی مدارس دراصل دین کے رجال، مخلص للہیت والے افراد تیار کرنے کے ادارے ہیں۔ کہیں پر کوئی چیز بنتی ہے، کہیں کسی فیکٹری میں کوئی مال تیار ہوتا ہے، اور یہ کورنگی کا علاقہ جو ہے ہی فیکٹریوں کا علاقہ، آپ دائیں بائیں دیکھیں، کارخانوں میں کہیں کپڑا بن رہا ہے، کہیں جوتے بن رہے ہیں، کہیں موبائل بن رہے ہیں، کہیں کوئی چیز بن رہی ہے، مگر آپ کے مدارس اور آپ کے یہ جامعات، یہ بھی فیکٹریاں اور کارخانے ہیں، مگر یہ افراد سازی کے ادارے ہیں، یہ رجالِ دین تیار کرنے کے ادارے ہیں، یہ اصحابِ عزیمت اور اصحابِ استقامت تیار کرنے کے ادارے ہیں، یہ اخلاص و للہیت، تقویٰ اور اتباعِ سنت کے پیکر تیار کرنے کے ادارے ہیں۔ *①: معیارِ تعلیم* لہٰذا پہلی گزارش یہ ہے کہ جب آپ کا اور میرا کام بحیثیتِ مہتمم، آپ کی اور میری ذمہ داری بحیثیتِ ذمہ دارِ ادارہ، یہ ہے کہ ہم نے افراد تیار کرنے ہیں، تو اس کے لیے سب سے پہلی چیز یہ ہوگی کہ ہم اپنے مدارس کے معیاری تعلیم کی طرف توجہ دیں۔ ​ہمارا تعلیمی معیار کا جائزہ لیں کہ یوماً فیوماً، ہر سال ہمارا تعلیمی معیار اوپر جا رہا ہے یا نیچے جا رہا ہے، ہمارا تعلیمی معیار بلند ہو رہا ہے، یا وہ پستی کا کہیں شکار تو نہیں؟ ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہیے، جائزہ لینا چاہے۔اپنے تعلیمی معیار کو بلند کرنا چاہے۔ اس تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لیے کیا ضروری اقدام ہے؟ ​سب سے پہلا ضروری کام یہ ہے کہ جب آپ اپنے مدارس میں اساتذہ کا تقرر کریں، تو اساتذہ کا تقرر کرتے وقت غور و فکر کے ساتھ کریں۔ وہ استاد جو ماہر ہو، وہ استاد جو پڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہو، وہ استاد جو دینی تعلیم کو اپنی مجبوری اور ضرورت نہیں، زندگی کا مقصد سمجھ کر اپنائے۔ آپ اساتذہ کا انتخاب کرتے وقت بہترین اساتذہ کا انتخاب کریں، ان کی قابلیت کو دیکھیں اور ان کے دینی علوم کے ساتھ دلچسپی کو دیکھیں کہ ان کا اوڑھنا بچھونا درس و تدریس ہو، اور درس و تدریس کے علاوہ کوئی نہ ہو۔ ​دوسری چیز معیارِ تعلیم کی بلندی کے لیے ضروری ہے کہ اساتذہ کرام مطالعے اور تیاری کے ساتھ سبق پڑھائیں اور اساتذہ خود مطالعہ کریں۔ معیارِ تعلیم کی بلندی کے لیے ضروری ہے کہ اساتذہ کرام طلباء کے سبق سنیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ہمارا استاد آکر پڑھا کر چلا جاتا ہے، وہ اپنی ذمہ داری بھی نہیں سمجھتا کہ میں طالب علم سے سبق سنوں۔ تو آپ اپنے اساتذہ کو اس بات کا پابند کریں کہ وہ سبق سن رہے ہیں، کہ نہیں سن رہے ہیں۔ ​میرے دادا، استاذ العلماء حضرت مولانا خیر محمد صاحب جالندھری رحمۃ اللہ علیہ درس گاہوں کے باہر، کھڑکیوں کے باہر کھڑے ہو کر اساتذہ کا سبق سنا کرتے تھے، وقتاً فوقتاً اساتذہ کو بلا کر پوچھتے تھے، آپ نے کتاب کا یہ مقام کیسے پڑھایا؟ اس پر آپ نے کیا تقریر کی ہے؟ اور یہ پوچھتے تھے کہ آپ نے طلباء کا سبق سنا یا نہیں سنا، اور وقتاً فوقتاً ان کے طلباء کو بلا کر جائزہ لیتے رہتے تھے۔ ​کامیاب مہتمم وہی ہوگا جو خود کامیاب مدرس ہوگا۔ لہذا آپ اپنے اساتذہ کو طلباء سے سبق سننے کے پابند کریں۔ آج ہماری درس گاہیں اسکولوں اور کالجوں کی طرح نہ بن جائیں کہ وہاں استاذ آئے، ملازمت سمجھ کر پڑھائے اور چلا جائے، بلکہ اساتذہ سبق سننے کا اہتمام کریں۔ طلباء کے تکرار اور مطالعے کی نگرانی کریں۔ غیر تعلیمی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ ان غیر تعلیمی سرگرمیوں نے ہمارے طلباء کو اب طالب علم نہیں رہنے دیا۔ ​میرے دادا حضرت مولانا خیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ طالب علم کو اخبار پڑھنے کی اجازت بھی نہیں دیتے تھے، کسی جلسے میں جانے کی اجازت نہیں دیتے تھے، وہ فرماتے تھے کہ فارغ ہونے کے بعد آپ کے لیے میدان وسیع ہیں۔ آپ جس میدان میں جانا چاہیں جائیں، لیکن جب تک آپ طالب علم ہیں، آپ ہمارے پاس ماں باپ کی امانت ہیں، آپ والدین کی امانت ہیں، تمہیں اخبار پڑھنے کی اجازت نہیں، جلسے میں جانے کی اجازت نہیں، کسی جماعت اور تنظیم کا ممبر بننے کی اجازت نہیں۔ اگر یہ معلوم ہوتا کہ یہ طالب علم کسی اور کام میں دلچسپی لیتا ہے، تو اس سے معذرت کر لیا کرتے تھے۔ اور ​آج تو موبائل۔۔۔ حضرت نے فیصل آباد میں فرمایا تھا کہ موبائل تو میزائل ہے۔ لہذا اس موبائل سے طلباء کو بچائیں۔ اپنے مدرسوں میں موبائل کے استعمال پر پابندی لگائیں۔ یورپ اور مغرب کے کئی ملکوں نے موبائل پر پابندی لگائی ہے۔ انشاء اللہ وفاق المدارس کی مجلسِ عاملہ کے آئندہ اجلاس میں ہم یہ تجویز پیش کرنے والے ہیں، آپ کی آراء کی روشنی میں کہ وفاق المدارس کے تمام مدارس و جامعات میں طلباء کے موبائل استعمال کرنے پر پابندی لگائی جائے، بالخصوص اسمارٹ فون، ٹچ موبائل، کیمرے والا فون، جو آج اس کی تعلیم کو بھی تباہ کر رہا ہے، اس کے اخلاق کو بھی برباد کر رہا ہے۔ لہذا موبائل کے استعمال پر آپ طلباء کے اوپر نظر رکھیں اور ان کو غیر تعلیمی سرگرمیوں کی اجازت نہ دیں، جس سے آپ کا معیارِ تعلیم انشاء اللہ بلند ہوگا۔ ​حکیم الامت حضرت تھانوی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں کہ اگر تین کام طالب علم کر لے تو وہ طالب علم بن جائے گا۔ ایک تو سبق سے غیر حاضر نہ ہو۔ آج کتنے اساتذہ ہیں جو طلباء کی حاضری ہی نہیں لیتے، خاص طور پر جس جماعت میں 100-200 طلباء ہوں، ان کی حاضری ہی نہیں لی جاتی۔ روزانہ طلباء کی حاضری کو یقینی بنائیں۔ اس حاضری کی رپورٹ مہتمم صاحب کے پاس آنی چاہیے، مہتمم صاحب جتنا وقت اور کاموں کو دیتے ہیں، سب سے زیادہ وقت اپنے مدرسے کو دیں۔ اس سے انشاء اللہ آپ کا معیارِ تعلیم بلند ہوگا اور آپ کے انشاء اللہ طلباء پھر اکابر کی یاد تازہ کرنے والے اور آپ کے علوم کے امین اور داعی بنیں گے۔ *②: ​دوسری گزارش معیارِ تربیت ہے۔* ہمارے مدارس صرف تعلیمی ادارے نہیں، بلکہ یہ تربیتی ادارے ہیں۔ اسکول اور کالج، یونیورسٹیاں وہ صرف تعلیمی ادارے ہیں۔ مگر دینی مدارس صرف تعلیمی ادارے نہیں ہیں، یہ تربیتی ادارے ہیں۔ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے مدارس و جامعات دین کے پڑھنے پڑھانے کے صرف مراکز نہیں ہیں، بلکہ ہمارے مدارس تو دین کے سیکھنے اور سکھانے کے ادارے ہیں۔ یہاں دین سکھایا جاتا ہے، صرف پڑھایا نہیں جاتا۔ یہ صرف پڑھنے پڑھانے کے ادارے نہیں، یہ دین کو سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کے ادارے ہیں۔ ​ہمارے وفاق کے صدر، ہمارے سر کے تاج اور میرے مربی حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ، جن کے ساتھ عملی طور پر وفاق میں مجھے 37 سال رہنے کا موقع ملا، وہ فرماتے تھے کہ: مدارس کا مقصد مولوی بنانا نہیں۔ مدارس کا مقصد حافظ بنانا نہیں۔ مدارس کا مقصد قاری بنانا نہیں۔ مدارس کا مقصد مفتی بنانا نہیں۔ مدارس کا مقصد مدرس بنانا نہیں۔ مدارس کا مقصد امام و خطیب بنانا نہیں۔ بلکہ مدارس کا مقصد دیندار بنانا ہے۔ ​آپ یہ دیکھیں کہ ہمارے طلباء اللہ والے بنے کہ نہیں بنے، دیندار بنے کہ نہیں بنے۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا: ﴿كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُونَ﴾ کہ مدرسے کا مقصد دیندار بنانا، اللہ والا بنانا، رب والا بنانا ہے۔ ​لہٰذا اس کے لیے تربیت ضروری ہے، اور تربیت میں جہاں یہ ہے کہ وہ نماز کا پابند ہو۔ آج ناراض نہ ہونا، ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں، ہم نے جن کو دیکھا ہے، وہ بڑے عظیم لوگ تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جب اذانِ ظہر ہوتی ہے، آدھا گھنٹہ ابھی نماز میں وقفہ عام طور پر ظہر کی اذان کے بعد ہوتا ہے۔ اذانِ ظہر سے پہلے میرے استاد حضرت مولانا قاری رحیم بخش صاحب رحمۃ اللہ علیہ مسجد کی ٹوٹیوں پر بیٹھے وضو کر رہے ہوتے تھے۔ وہ اذان سے پہلے اٹھ کر پہنچ جاتے تھے تیاری کے لیے، اور صفِ اول میں نظر آتے۔ میرے استاذ شیخ الحديث علامہ مولانا محمد شریف کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ صفِ اول میں نظر آتے۔ ​جب طالب علم دیکھتا ہے، میرا استاد اگلی صف میں کھڑا ہے، اس کی تکبیرِ اولیٰ قضاء نہیں ہو رہی، تو پھر اس کی نماز قضاء نہیں ہوتی۔ آج کتنے حضرات ہیں جو اپنے درسگاہوں میں، اپنے کمروں میں دارالاقامہ میں نماز پڑھ لیتے ہیں، چند قدم پر مسجد ہے، مسجد میں جا کر نماز نہیں پڑھتے۔ لہٰذا ہمیں یہاں طلباء کی دینی عبادات کی تربیت کرنی ہے، وہ قرآن کی تلاوت، وہ اللہ کا ذکر، وہ نمازِ باجماعت کی پابندی، وہ تکبیرِ اولیٰ صفِ اول کی پابندی کا اہتمام کریں۔ وہاں ساتھ ساتھ ہمیں طلباء کی اخلاقی تربیت کی طرف بھی توجہ دینی ہے۔ ہم تربیتی نظام جو بناتے ہیں، اس میں اخلاق کو بھی ضرور بنائیں۔ ​حضور علیہ السلام نے فرمایا: "بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ" ہمارے طلباء کے اخلاق میں کہیں تکبر تو نہیں، حسد تو نہیں، کینہ تو نہیں، بغض تو نہیں، غیبت تو نہیں، نقلیں اتارنا تو نہیں، چغلیاں تو نہیں ہیں، طلباء کو تکلیف دینا تو نہیں ہے، زیادتی کرنا تو نہیں ہے، کوئی اخلاقی شکایت تو نہیں ہے؟ یہ بھی میری اور آپ کی ذمہ داری ہے کہ ہم طلباء کی تربیت کی طرف توجہ دیں۔ ​اور میں آپ کو وفاق کے حوالے سے عرض کرتا ہوں کہ دن بدن شکایات میں کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ اب آپ کو اگر میں اعداد و شمار بتاؤں تو وقت کے اندر گنجائش نہیں ہے، کہ اب مقطوع اللحیۃ طلباء، جن کی داڑھی سنت کے مطابق نہیں، ان طلباء کی تعداد میں کمی کی بجائے دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمیں امتحانی مراکز سے مقطوع اللحیۃ طلباء کی جو شکایات اور تعداد ملتی ہے، وہ ہر سال پہلے سے زیادہ ہوتی ہیں۔ پرائیویٹ طلباء کہ پڑھا نہیں ہے اور کسی مدرسے کی طرف سے امتحان دے رہا ہے۔ یہ شکایت کہ ایک طالب علم کی جگہ دوسرا طالب علم امتحان دے رہا ہے۔ نگران عملے کی گستاخی اور بے ادبی کی شکایات، یہ تمام کی تمام شکایات میں وقت کے ساتھ کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ آپ ان کو تربیت دیں، آپ کے طلباء آپ کا عکس ہوتے ہیں، امتحانی مراکز میں دوسرے مدرسوں سے، صوبوں سے، ضلعوں سے آنے والے نگران اساتذہ آپ کے طلباء کو دیکھ کر متاثر ہو کر جائیں، وہ دیکھیں کہ اس مدرسے نے کتنی بہترین تربیت کی ہے۔ وفاق کے امتحانی قواعد کی تربیت بھی آپ اپنے طلباء کو ضرور دیں، معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے طلباء کو وفاق کے قواعدِ امتحان کا ہی پتہ نہیں۔ لہذا میری درخواست ہے کہ آپ حضرات طلباء کی تربیت کی طرف بھی خصوصی توجہ فرمائیں۔ *③: ​تیسری چیز:* تحفظِ عقائد و ردِ فرقِ باطلہ۔ آج ہم اپنے طالب علم کو دورۂ حدیث اور تخصص تک پڑھاتے ہیں، لیکن اس کو اہلِسنت والجماعت علماء دیوبند کے عقائد کا پتہ نہیں۔ ان عقائد میں جتنا اس کو مضبوط ہونا چاہیے، وہ اتنا مضبوط نہیں۔ مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی الندوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "علماء دیوبند کیا ہیں؟" وہ فرماتے ہیں: "علماء دیوبند عناصرِ اربعہ کا نام ہے، چار چیزوں کا نام ہے: نمبر 1: عقیدے میں پختگی، اعتقاد میں پختگی؛ نمبر 2: اتباعِ سنت کہ سنت کا وہ اتباع کرے؛ نمبر 3: اعتماد علی السلف اپنے اکابر پر اعتماد ہو؛ نمبر 4: توکل علی اللہ، اس کی لوگوں پر نظر نہ ہو، اللہ پر اس کا بھروسہ ہو۔ یہ چار چیزوں کا نام دیوبندیت ہے۔" ​لہٰذا ہم اپنے طلباء کے عقیدے پر محنت کریں۔ نئے نئے نظریات اور باطل نظریات اور نئے نئے فرق جو آئے ہیں، ان فرقِ باطلہ کے حوالے سے بھی ہم اسی زمانے میں اپنے طلباء کی ذہن سازی کریں، ان کو فکری اعتبار سے ہم مضبوط کریں، وہ دنیا کے کسی بھی میدان اور ملک میں چلا جائے، وہ اپنے عقیدے پر مضبوط رہے، وہ کتاب و سنت پر قائم رہے، وہ سلفِ صالحین سے نہ ہٹے، وہ نئی راہ کا اختیار نہ کرے۔ *​④: تجوید کی اہمیت۔* ہمارے بہت سے طلباء دورے میں پہنچ جاتے ہیں، تخصصات میں پہنچ جاتے ہیں، مگر قرآنِ کریم صحیح نہیں پڑھتے۔ ان کی تجوید درست نہیں ہوتی، لحنِ جلی کی غلطیاں کرتے ہیں، کتنے معاف کرنا اساتذہ بھی غلطیاں کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے طلباء کی تجوید۔۔۔ مجھے بہت اچھا لگا حضرت مولانا امداد اللہ صاحب دامت برکاتہم نے مجھے بتایا، میں نے اپنے ہاں خیر المدارس میں اس کو شروع کیا، "الْحِكْمَةُ مُدَارَسَةُ الْمُؤْمِنِ" ہر ایک اچھی بات کو لینا چاہیے، انہوں نے بتایا کہ ہم بنوری ٹاؤن میں دورے کی سند طلباء کو اس وقت تک نہیں دیتے، جب تک کہ وہ قرآنِ کریم کی تجوید کا امتحان نہ دے۔ جب تک ہمیں اطمینان نہ ہو، یہ قرآن صحیح پڑھنا جانتا ہے، اور جب تک کوئی مقدار وہ قرآن کی حفظ نہ کر لے اور ناظرہ قرآن کسی استاذ کو سنا نہ دے، ہم اس کو دورے کی سند نہیں دیتے، ہم نے بھی اپنے خیر المدارس میں یہ شرط لازم کر دی ہے کہ ہم دورے کی سند اس کو دیں گے جو تجوید کو جانتا ہوگا، کیونکہ وہ بھی تو کل کوئی امام بنے گا۔ ​لہٰذا میری درخواست ہے کہ اپنے طلباء کی قرآنِ کریم کی تجوید کی طرف توجہ دیں۔ آپ سے زیادہ کون جانتا ہے، آپ سے پڑھا ہے، قرآن اپنی مرضی سے نہیں پڑھنا، جیسے اللہ نے فرمایا، ویسے پڑھنا ہے: ﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ ۝ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ ۝ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ کی تفسیر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح بخاری میں یہ بھی نقل کی ہے کہ خاموش رہو اور سنو، اور یہ تفسیر بھی نقل کی ہے کہ جیسے آپ کے سامنے پڑھا گیا، آپ اسی طرح قرآنِ کریم پڑھیں۔ لہٰذا میری درخواست ہے کہ آپ حضرات اپنے طلباء کی تجوید کی طرف بھی توجہ فرمائیں۔ *​⑤: عصری تعلیم کی اہمیت۔* ہمارے وفاق کے نصاب میں متوسطہ بھی ہے، آٹھویں کا ہم نصاب پڑھاتے ہیں، مگر وہ نصاب 3 سال کا ہے، متوسطہ سالِ اول جو ششم ہے، سالِ دوم جو ہفتم ہے، اور سالِ سوم جو ہشتم ہے، مگر بہت سے مدارس وہ صرف آٹھویں یعنی متوسطہ سالِ سوم کا نصاب پڑھاتے ہیں، باقی نہیں پڑھاتے، پھر گلا یہ کرتے ہیں، نصاب بڑا مشکل ہے، یہ کتابیں بڑی مشکل ہیں، یہ انگریزی، ریاضی، یہ معاشرتی علوم بہت مشکل ہے، وہ مشکل اس لیے ہے کہ اس سے پہلے اس نے یہ مضمون دیکھا نہیں، پڑھا نہیں، اگر آپ اس کو پرائمری کے نصاب کی استعداد پیدا کریں، پھر اس کے بعد متوسطہ سالِ اول میں داخل کریں، اور سالِ اول کے اندر بھی یہ مضامین انگلش، سائنس، ریاضی، معاشرتی علوم کو ذمہ داری سے پڑھائیں اور ہفتم میں بھی پڑھائیں، تو اس کو آٹھویں کا نصاب مشکل نہیں، بلکہ آسان لگے گا۔ ​لہٰذا میری درخواست ہے، یہ بھی ہماری ضرورت ہے، اس کو بددلی کے ساتھ نہ پڑھائیں، اس کو حرام نہ سمجھیں، ہم منطق اور فلسفہ پڑھاتے ہیں، جو مفید و معاون ہے، یہ بھی تو ہمارے لیے مفید و معاون ہے، لہذا متوسطہ اور عصری مضامین کے نصاب کو بھی اہمیت کے ساتھ پڑھائیں اور پوری توجہ کے ساتھ پڑھائیں۔ انشاء اللہ وفاق نصاب ترتیب دے رہا ہے۔ ہم قرآنِ کریم کے حفظ کے دوران پرائمری کا نصاب لا رہے ہیں۔ ہم اس پرائمری کے نصاب کو انشاء اللہ آئندہ لازم بھی کریں گے اور پانچویں کا امتحان بھی لیں گے، تاکہ بچہ جب قرآن کا حافظ بن کر نکلے، تو پرائمری کی استعداد بھی اسی زمانے میں پیدا ہو چکی ہو، اور پھر وفاق چھٹی اور ساتویں کا امتحان بھی آپ کی آراء کی روشنی میں انشاء اللہ آئندہ سالوں میں لینے کا ارادہ رکھتا ہے، تاکہ طلباء کی استعداد مضبوط ہو، اور ان کی تعلیم بھی یقینی ہو جائے۔ ​پھر وفاق نویں اور دسویں کا نصاب بھی اپنا لائے گا، تاکہ میٹرک تک کی بنیادی تعلیم ہمارے دینی مدرسے کے طالب علم کے پاس ہو۔ یہ ہماری ضرورت ہے، ہمارے لیے مفید ہے، لہٰذا میری درخواست ہوگی کہ ان مضامین کو بھی پوری توجہ کے ساتھ، دلچسپی کے ساتھ، ماہر اساتذہ کے سپرد کر کے، اپنی نگرانی میں اس کی بھی تعلیم دلوائیں، تاکہ طلباء کو معلوم ہو، کم از کم وہ اتنی انگریزی تو جانتے ہوں کہ وہ اپنی بجلی اور گیس کے بلوں کو پڑھ سکیں، وہ کم از کم انگریزی جانتے ہوں، اردو جانتے ہوں، اور سائنس کی بنیادی چیزوں سے، وہ ریاضی جانتے ہوں، تاکہ وہ ریاضی پڑھ کر میراث کے مسائل حل کر سکیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے، ہمارے جو مارکنگ کے لیے ممتحنین آتے ہیں، تو بہت سوں کی جمع میں اور تفریق میں بھی غلطیاں سامنے آتی ہیں۔ لہٰذا اس مضمون کی طرف بھی توجہ دیں اور عصری مضامین کے نصاب کو بھی اہمیت کے ساتھ پڑھائیں۔ *​⑥: مدارس کا داخلی نظم۔* مدارس کے داخلی نظام کو اربابِ مدارس اور مہتممین مضبوط کریں، مستحکم کریں۔ آپ جانتے ہیں کہ عالمی طاقتیں اور پاکستان میں ان کی نمائندہ قوتیں، ان تمام کی نظریں ہم پر ہیں۔ آج پاکستان کی مرکزی حکومت ہو یا صوبائی حکومت ہو، اربابِ اقتدار ہوں یا اربابِ اختیار ہوں، انہوں نے اپنے اس ماضی میں عالمی طاقتوں کے کہنے پر عالمی استعمار کے ایجندے کو آگے بڑھاتے ہوئے، دینی مدارس کو بدنام کرنے میں، دینی مدارس کو تنگ کرنے میں، دینی مدارس کو پریشان کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ کوئی پارٹی کی حکومت ہو، ہر حکومت نے مدارس کو تنگ کیا ہے، تنگ کیا جا رہا ہے۔ ​یہ مدارس کو بدنام بھی کر رہے ہیں، عالمی طاقتیں بھی، اور ہمارے ملک کی طاقتیں بھی، اور تمام جماعتیں عمومی طور پر اس میں شریک ہیں۔ لہٰذا مجھے اور آپ کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہے، ہمیں ان کو موقع نہیں دینا، ان کے کیمرے ہم پر فٹ ہیں، ان کے ادارے ہمارے اندر گھسے ہوئے ہیں۔ مجھے اور آپ کو اپنے داخلی نظام کو اتنا مضبوط کرنا چاہیے کہ کسی دشمن کو ہمیں بدنام کرنے کا، پریشان کرنے کا کوئی موقع نہ مل سکے۔ دینی مدارس صرف تعلیمی ادارے نہیں، بلکہ یہ مسلمانوں کے ایمان، مسلمانوں کے عقائد، مسلمانوں کے نظریات، مسلمانوں کی اسلامی تہذیب و روایات اور مسلمانوں کے دین کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔ ​مدارس آپ مسلمانوں کے ایمان کے چوکیدار ہیں، یہ پہرے دار ہیں، اور الحمد للہ اسلام بڑھ رہا ہے، آگے جا رہا ہے، اس کی بنیادی وجہ دین کا مدرسہ ہے، اس لیے ان کے ایجنڈے پر دینی مدارس ہیں، یہ حکومتیں ہماری خیر خواہ نہیں ہیں، عالمی قوتیں ہماری خیر خواہ نہیں ہیں، اس لیے مجھے اور آپ کو اپنے داخلی نظام کو اس طرح مضبوط کرنا ہے کہ کسی کو کوئی موقع نہ ملے۔ داخلی نظام کی مضبوطی میں کیا ہے؟ ​نمبر ایک، یاد رکھیے! اپنے قانونی معاملات کو مضبوط کریں۔ آپ کی اگر زمین یا مسجد کی پراپرٹی وہ قانونی نہیں ہے، پہلی فرصت میں اپنے نام رجسٹرڈ کروائیں، اس کو وقف کروائیں۔ آپ جو تعمیر بھی کریں، نقشے کی منظوری کے ساتھ کریں۔ ملکی قوانین کا احترام کریں۔ نقشے کی منظوری کے بغیر تعمیر نہ کریں۔ اپنے مالیاتی نظام کو مضبوط کریں۔ اپنے حسابات کا خود آڈٹ کروائیں۔ ایک ایک پیسے پر نظر رکھیں کہ آپ اپنے جتنا داخلی نظام کو مضبوط کریں گے، مستحکم کریں گے، اتنا آپ کا مدرسہ انشاء اللہ محفوظ رہے گا۔ مالیات کی طرف خاص طور پر توجہ دیں۔ ​مجھے یاد آیا، میرے والد حضرت مولانا محمد شریف صاحب جالندھری رحمۃ اللہ علیہ نے 1981ء میں میرے دادا کی وفات کے بعد جب یہ اہتمام سنبھالا، تو بہت سے اکابر کو خط لکھے کہ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں، خیر المدارس کے اہتمام کی ذمہ داری آئی ہے۔ رئیس المحدثین حضرت مولانا محمد ادریس کاندہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے میرے والد کو جواب میں لکھا، (وہ خط اب تک میرے پاس محفوظ ہے، میں کئی بار اس کو پڑھتا ہوں، اور بہت سے اکابر نے نصیحتیں فرمائیں۔ وقت نہیں کہ میں تفصیل میں جاؤں)۔۔۔! ​حضرت مولانا ادریس کاندہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: ″مدارس کے چندے اور مدارس کے مال کا حکم مالِ یتیم کا حکم ہے۔ اور مہتمم بمنزلۂ ولیِ یتیم کے ہے″۔ یہ الفاظ فرمائے: "مدرسے کا مال مالِ یتیم ہے، اور مدرسے کا مہتمم بمنزلۂ ولیِ یتیم کے ہے، یتیم کے سرپرست کے ہیں"۔ اور آگے جملہ لکھا: "مولوی شریف! ایسا کوئی کام نہ کرنا جس سے عند اللہ مواخذہ اور عند الناس تم مطعون ہو جاؤ"۔ اللہ کے ہاں تمہاری پکڑ ہو جائے اور لوگ تمہارے اوپر انگلیاں اٹھانے اور ملامت کرنے لگ جائیں۔ کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے عند اللہ مواخذہ ہو اور عند الناس مطعون ہو۔ یہ حضرت مولانا ادریس کاندہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا۔ لہذا مہتمم کی ذمہ داری بڑی اہم ہے۔ ​حضرت نے فیصل آباد میں اپنے والدِ ماجد حضرت مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے سنایا، اور یہی جملہ حضرت مولانا ادریس کاندہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی فرمایا۔ اور یہ بات کہتے ہوئے ذہن میں آیا، ان دونوں بزرگوں کے مزاج میں معلوم ہوتا ہے بڑی یگانت تھی، جو بات حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے، وہی مولانا ادریس کاندہلوی رحمۃ اللہ علیہ کرتے۔ جس کی ایک مثال انہوں نے بھی قرآن کی تفسیر "معارف القرآن" کے نام سے لکھی، انہوں نے بھی تفسیر "معارف القرآن" کے نام سے لکھی۔ ​حضرت مفتی شفیع صاحب بھی فرماتے تھے: "مولوی صاحب، مہتمم نہ بننا۔" حضرت مولانا ادریس کاندہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بھی جب دورے کے طلباء دورے کے اختتام پر الوداعی مصافحہ کے لیے جاتے تو مصافحہ کرتے ہوئے فرماتے، ان کا تکیہ کلام تھا ″مولوی صاحب″۔۔۔۔۔۔ کہتے مولوی صاحب: "سب کچھ بن جانا، کسی مدرسے کا مہتمم نہ بننا۔" اور پھر فرماتے: "یہ ہم سے مشتق ہے اور ہم کا معنیٰ غم ہے۔ تو جس کے مادے میں ہی غم ہے، وہ ہر وقت پریشان رہے گا۔" ​آج دورے کا طالب علم فارغ بعد میں ہوتا ہے، مدرسے کا مہتمم پہلے بننے کے خواب دیکھتا ہے۔ اور نہیں تو بنات کا مدرسہ بنا لیتا ہے۔ آج بہت سے مدرسے دینی ضرورت کی بنیاد پر نہیں بن رہے، ہماری ضرورت کی بنیاد پر بن رہے ہیں، ہماری اولاد کی ضرورت کی بنیاد پر بن رہے ہیں، اس پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ ​تو بہرحال اپنے داخلی نظام کو مضبوط کریں۔ مالیاتی نظم مضبوط کریں۔ اپنے حسابات کا خود آڈٹ کروائیں۔ اور داخلی نظم تب مضبوط ہوگا، تعلیم و تربیت کا معیار تب اونچا ہوگا، جب آپ اپنے اساتذہ کی تنخواہیں بھی مناسب رکھیں، معقول رکھیں۔ یہ بات مجھ سے پہلے بھی کہی گئی، حضرت نے بھی فیصل آباد کے اجتماع میں فرمائی، "آج استاد کی تنخواہ 5,000، 10,000، 15,000 جبکہ بجلی کا بل 20,000، 25,000 آ رہا ہے۔" ​میرے دوستوں اور بھائیوں! ہم اپنے اساتذہ کی تنخواہ کو موجودہ مہنگائی کو سامنے رکھ کر بنائیں۔ حضرت مفتی رفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے جب بھی اساتذہ کی تنخواہوں میں، طلباء کی سہولتوں میں، ضرورتوں میں اضافہ کیا، دارالعلوم کو کبھی مالی اعتبار سے پریشانی نہیں ہوئی۔ لہٰذا مدرسہ اصل تو نام استاذ کا ہے، طالب علم کا ہے، کتاب کا ہے، مدرسہ عمارتوں کا نام نہیں، مدرسہ دارالاقامہ کا نام نہیں، مدرسہ ہمارے دفتروں کا نام نہیں ہے، مدرسہ عمارتوں کا نام نہیں ہے، مدرسہ استاذ، شاگرد اور کتاب کے تعلق کا نام ہے۔ یہی انار کے درخت کے نیچے بیٹھا استاذ محمود ہے، شاگرد محمود ہے، کتاب لے کر بیٹھے، اللہ نے اس کو دارالعلوم دیوبند بنا دیا۔ ​دارالعلوم کا آغاز کسی عمارت سے نہیں ہوا، "صُفَّہ" چبوترے کی کوئی عمارت نہیں تھی، چھت بھی نہیں تھی، آمنہ کا لعل استاذ تھا اور صحابہ کرام شاگرد تھے، تو اصل مدرسہ استاذ شاگرد کتاب کا نام ہے، یہ تعلق کمزور نہیں ہونا چاہیے۔ آج طلباء کا استاذ سے، استاذ کا تعلق طالب علم سے، طالب علم کا تعلق کتاب سے، استاذ کا تعلق کتاب سے کمزور ہوتا جا رہا ہے، اس سے مدرسہ کمزور ہو رہا ہے۔ اس کو مضبوط کریں اور اس میں اساتذہ کی تنخواہات کی طرف بھی ضرور خیال رکھیں۔ *​⑦: دینی تعلیم کا فروغ۔* آپ علماء ہیں، اس بات کا جائزہ لیں کہ جس تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے، کیا اسی تناسب سے دینی تعلیم کی طرف رجحان بھی اب ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا؟ میں یہ اگرچہ ہمارے مدارس میں طلباء بڑھ رہے ہیں، اگرچہ ہمارے امتحان میں طلباء کی تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے، اس سال بھی وفاق کے تحت امتحان دینے والے سالِ گزشتہ کے مقابلے میں تقریباً 20,000 طلباء زیادہ ہیں۔ حالانکہ وفاق ہر درجے کا امتحان نہیں لیتا، قرآن کے کامل الحفظ طلباء کا امتحان لیتا ہے، یہ تعداد تو بڑھ رہی ہے، کیا آبادی کے تناسب سے بھی یہ بڑھ رہی ہے یا نہیں بڑھ رہی؟ دینی تعلیم کی طرف لوگوں کا رجحان زیادہ ہو رہا ہے یا کم ہو رہا ہے؟ میں سمجھتا ہوں آبادی کے تناسب سے دینی تعلیم کی طرف رجحان میں کمی ہے، اس طرح اضافہ نہیں جس طرح آبادی بڑھ رہی ہے۔ اس کے لیے آپ حضرات کوشش بھی کریں، لوگوں کو دینی تعلیم کی طرف متوجہ بھی کریں، اس کے لیے اجتماعات بھی منعقد کریں۔ ​ *نمبر ⑧:* جن مدارس کو اللہ نے وسائل دیے ہیں، وہ اپنے اپنے علاقوں میں جہاں کر سکتے ہوں، وہاں اسکول بھی قائم کریں۔ اس لیے کہ مدرسوں میں آنے والے مسلمانوں کے بچوں کی تعداد کم ہے، اس وقت بھی کروڑوں بچے ان اسکولوں سے باہر ہیں، وہ عصری تعلیم، اگر علماء اور مدارس کے حضرات اپنی نگرانی میں اسکول بنائیں گے، انگلش میڈیم اسکول بنائیں گے، وہاں پڑھنے والے بچے بچیاں مسلمان بنیں گے۔ ان کے عقیدے کا تحفظ بھی ہماری ذمہ داری ہے، وہاں الحاد، وہاں ارتداد، وہاں بے دینی، وہاں اسلام سے بیزاری، اللہ کے وجود کا بھی انکار آ رہا ہے، لہٰذا جن کو اللہ نے وسائل دیے ہوں، میری ان سے درخواست ہے کہ وہ اپنے اپنے مدرسوں کے ساتھ ایک ایک اسکول بھی کم از کم قائم کریں، اس سے انشاء اللہ آپ بہت سے مسلمانوں کے بچوں کی اصلاح کر سکیں۔ حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ زندگی کے آخر میں اور حضرت مولانا اسعد مدنی رحمہ اللّٰہ علیہ اس بات پر بڑا زور دیتے تھے کہ آپ اپنے علاقوں میں اسکول بھی قائم کریں۔ ​ *نمبر ⑨:* جو بچے اسکول، کالج، یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں، ان کی بنیادی دینی تعلیم کا انتظام کریں۔ کوئی ایسے کورس شروع کریں، جس سے وہ بچے مسلمانوں کے، جو اسکولوں میں ہیں، کالجوں میں ہیں، یونیورسٹیوں میں ہیں، کم از کم ہم ان کے دین کو محفوظ کر سکیں، ان کے ایمان کو بچا سکیں، ہم اس بنیادی دینی تعلیم کا کوئی مختصر کورس کرائیں اور ان کی طرف بھی توجہ فرمائیں۔ ​ *نمبر ⑩:* حب الوطنی کا اظہار۔ ہم پر الزام آتا ہے کہ ہم شاید پاکستان کے مخالف ہیں۔ ہمیں اپنے طلباء طالبات میں وطن کی محبت اس لیے کہ پاکستان ہمارا ہے۔ ہمارے اکابر نے بنایا ہے، اس کا پہلا جھنڈا شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے کراچی میں لہرایا ہے۔ ڈھاکہ میں حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے لہرایا ہے۔ ہمارے اکابر نے قیامِ پاکستان میں ساتھ دیا ہے، اور ہمارے جن اکابر نے قیامِ پاکستان کی مخالفت کی، وہ بھی اخلاص کے ساتھ کی۔ شیخ العرب والعجم، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس اللہ سرہ نے پاکستان کے قیام کی مخالفت اس بنیاد پر کی تھی کہ مسلمان تقسیم ہو جائے گا، مسلمان کمزور ہو جائے گا، لیکن جب بن گیا، تو انہوں نے فرمایا یہ مسجد کی طرح ہے۔ مسجد کے بنانے سے پہلے تو اختلاف ہو سکتا ہے، کہ یہاں مسجد بنائی جائے یا نہ بنائی جائے، مگر بننے کے بعد مسجد کی حفاظت، اس کی آبادی یہ ہر مسلمان کا فرض ہے۔ ​لہٰذا اب جتنا پاکستان مضبوط ہوگا، ہندوستان کا مسلمان مضبوط ہوگا، پاکستان مضبوط ہوگا، دنیا کا مسلمان مضبوط ہوگا، لہٰذا میری درخواست ہے کہ اپنے وطن سے محبت کا اظہار کریں، وطن کی محبت یہ دین کا تقاضا ہے، یہ ایمان کا تقاضا ہے، حضور خود گھر چھوڑ کر جارہے ہیں، پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتے ہیں، اور مکہ کو کہتے ہیں، دل نہیں چاہتا تھا، تجھے چھوڑ کر جاؤں، مگر مجبور کر دیا گیا، مدینہ پہنچتے ہیں، دعا کرتے ہیں: "اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ، كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ" اپنے وطن کی محبت کی دعا مانگ رہے ہیں، اے اللہ جتنی محبت مکہ کی ہے، اتنی بلکہ اس سے زیادہ مدینہ منورہ کی محبت ہمارے دل میں پیدا کر دے۔ اس سے سکھایا، وطن سے محبت کرو، اس محبت کا اظہار کرو، اور یہ پاکستان یہ اللہ کی نعمت ہے، پوری عالمی دنیا میں دیکھ لو، آپ کو کوئی بھی اسلامی ملک ایسا نہیں ملے گا، جیسا آج پاکستان ہے۔ کسی کا دستور ایسا نہیں، آپ کا آج بھی منبر آزاد ہے، آج بھی آپ کی درسگاہیں آزاد ہیں، آپ باقی اسلامی ملکوں کی طرح حکومت کی طرف سے لکھا ہوا خطبہ پڑھ کر نہیں سناتے، اپنی مرضی سے تقریر کرتے ہیں، اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسلام کی بات کرتے ہیں۔ لہٰذا میری یہ درخواست ہے کہ آپ حضرات حب الوطنی کی طرف بھی توجہ فرمائیں۔ *نمبر 11:* وفاق المدارس سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں۔ وفاق ایک چھت ہے، جس کے نیچے ہم سب موجود ہیں، وفاق سائبان ہے، نگہبان ہے۔ ہمارے اکابر کو اللہ نے کیا بصیرت، کیا فراست، کیا دور اندیشی عطا کی تھی، کہ 1956ء میں خیر المدارس کی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس میں، اس کی شوریٰ میں علماء تھے، دو بزرگوں نے رائے دی، ایک حضرت مولانا محمد ادریس کاندہلوی رحمۃ اللہ علیہ، ایک حضرت مولانا شمس الحق افغانی رحمۃ اللہ علیہ۔ ​حضرت مولانا ادریس کاندہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے خیر المدارس کی شوریٰ کے اجلاس میں 1956ء میں فرمایا کہ: ″میری رائے یہ ہے کہ مدارس کے نصابِ تعلیم کو آج کے دور کے تقاضوں کے مطابق بنایا جانا چاہیے، اس میں ترمیمات ہونی چاہیے″۔ حضرت مولانا شمس الحق افغانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ″میری رائے یہ ہے کہ ہمیں مدارس کو اجتماعی نظم میں لانا چاہیے، ان کو متحد کرنا چاہیے، ہندوستان کے بعد، پاکستان کے بننے کے بعد، ہندوستان سے الگ ہونے کے بعد، مدارس بن رہے ہیں، اب ہم ان کو متحد کریں، ایک لڑی میں پروئیں، ان کا نظم لائیں″۔ ​ان دونوں تجویزوں کو قبول کیا گیا، بڑے بڑے اکابر اس مجلس میں تھے، حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا ادریس کاندہلوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ، میرے دادا حضرت مولانا خیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، دونوں تجویزیں قبول، کمیٹی بنی۔ کنوینیر حضرت مولانا تنویر الحق تھانوی کے والد حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو بنایا گیا۔ یہ تو خیر المدارس کا اجلاس ہے، اب باقی مدارس سے رابطہ کرو، انہوں نے رابطہ کیا، ٹنڈوالہ یار میں پہلا اجلاس کرایا، دوسرا تیسرا ہوا، دو سال تک وہ محنت کرتے رہے، پھر انہوں نے اپنی مصروفیات کی وجہ سے معذرت کی، تو میرے دادا حضرت مولانا خیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو کمیٹی کا کنوینر بنایا گیا، آپ رابطہ کریں، انہوں نے رابطے کیے، 1959ء میں، آج سے تقریباً 70 سال پہلے خیر المدارس کے گراؤنڈ میں اجتماع ہوا، اس میں حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے، حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے، شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے، حضرت مولانا عبدالحق صاحب اکوڑہ خٹک رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے، وقت نہیں ہے کہ سب کے نام لوں، یہ ایسے پاکیزہ لوگ تھے، کہ میں کہا کرتا ہوں یہ اخلاص کے پیکر تھے، یہ اخلاص و تقویٰ، اتباعِ سنت کا چلتا پھرتا جسم تھے مجسمِ تقویٰ تھے، اور یہ وہ لوگ تھے، جن کا نام لینے سے پہلے بھی وضو کرنا چاہیے، بغیر وضو کے ان کا نام نہیں لینا چاہیے۔ ​انہوں نے اکٹھے ہوکر مشورہ کیا، وفاق المدارس کے نام سے یہ ادارہ قائم کیا، ان کی آنکھوں نے دیکھ لیا تھا، کہ آنے والا دور مدارس کے لیے خطرے کا دور ہوگا، مدارس کے لیے اپنا وجود باقی رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے 70 سال پہلے اپنی بصیرت اور فہم سے، مجھے اور آپ کو ایک عظیم نعمتِ عظمٰی وفاق المدارس کی شکل میں دیا۔ یہ ہمارا چوکیدار ہے، ہمارا سائبان ہے، ہمارا نگہبان ہے، لہذا اس سے اپنے تعلق کو مضبوط کرو۔ ​میں نے فیصل آباد میں بھی کہا تھا، یہاں بھی اپنے اکابر کی موجودگی میں کہتا ہوں کہ جو اس وفاق سے الگ ہوئے، وہ کسی بھی خوشنما امیدوں پر گئے ہوں، میں آج بھی ان کو دعوت دیتا ہوں، واپس آ جاؤ، اپنے مرکز میں آ جاؤ، تمہارا تحفظ بھی اسی وفاق کے ساتھ جڑنے میں ہے، اسی وفاق سے وابستہ رہنے میں ہے، آؤ، سینے سے لگائیں گے، اپنے اکابر کے ساتھ رہو، وفاق جمعہ جمعہ آٹھ دن کا وفاق نہیں ہے، یہ اپنے پشت پر 70 سالہ یادگار روشن تاریخ رکھتا ہے، جس کا ماضی بھی روشن، جس کا حال بھی روشن، جس کا مستقبل بھی انشاء اللہ روشن ہے۔ لہٰذا اس سے جڑ جاؤ، اس سے وابستہ ہو جاؤ، اپنے اکابر کے ساتھ رہو، دین کا تحفظ، مدارس کا تحفظ اسی میں ہے۔ ہم میں بہت غلطیاں، کمزوریاں ہوں گی، مگر پھر بھی، الحمد للہ یہ ادارہ غنیمت ہے۔ ​میں انہی معروضات پر اپنی بات کو ختم کرتا ہوں۔ تفصیلات کی ضرورت نہیں، بہت وقت میں نے لے دیا، میں چاہتا ہوں کہ حضرت کا بیان تفصیلی ہو۔ میں نے یہ گیارہ باتیں تو آپ کی خدمت میں عرض کی، میں انشاء اللہ کوشش کروں گا کہ اس کو تفصیلاً لکھ کر بھی ماہنامہ وفاق المدارس میں شائع کراؤں اور آپ کی خدمت میں بھیجوں۔ ​بس میری یہی درخواست ہے کہ پیوستہ رہ شجر سے، امیدِ بہار رکھ؛ ﴿وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾ اور اس دور میں اگر میں قسم کھاؤں، تو حانث ہی ہونگا، یہی صادقین ہیں۔ آپ نے اپنے مدارس کے تحفظ کی ذمہ داری اور یہ امانت سپرد کی ہے، شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ، ان کے نائبانِ صدر کی، آپ نے یہ ہماری سپرد کی ہے اس کے سرپرستوں، قائدِ ملتِ اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ اور دیگر سرپرستوں کے، یہ الحمد للہ دن رات۔۔۔ آپ سو رہے ہوتے ہیں، یہ جاگ رہے ہوتے ہیں، یہ تمام سازشوں کا مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں، وہ پہلے بھی ناکام، آئندہ بھی ناکام ہوئے۔ ​اربابِ اقتدار کو میں اتنا کہنا چاہتا ہوں: مدرسہ تھا، مدرسہ ہے، مدرسہ رہے گا، یہ کل بھی جوان تھا، یہ آج بھی جوان ہے، یہ آنے والے کل میں بھی انشاء اللہ جوان ہوگا، ہم نہیں ہوں گے، ہم دنیا سے چلے جائیں گے، مگر یہ لوگ اور ان کے شاگرد اس امانت کو سنبھالیں گے۔ یہ خواب دیکھنا چھوڑ دو، کہ تم مدارس کو ختم کر دو گے، تم مدارس کو کمزور کر دو گے، تم مدارس کو اسکولوں میں بدل دو گے؛ انشاء اللہ، ہم اسکولوں کو مدرسہ بنائیں گے۔ ہم انشاء اللہ اسکولوں کو مدرسہ بنائیں گے، یہاں کے نظامِ تعلیم و نصابِ تعلیم کو دستورِ پاکستان کے مطابق انشاء اللہ بنائیں گے۔ ​میری درخواست ہے، اس وفاق کو مضبوط کرو، ہاتھ بلند کر کے کہو، کہ ہم وفاق کے ساتھ جڑ کر رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ برکت دے۔ ​حضرت کے بیان سے پہلے، وفاق کا باضابطہ ایک ترانہ، آج کے اس تاریخی پروگرام میں طے کیا جا رہا ہے۔ ہم نے بہت سے شعر و ادب سے، علم و دانش سے تعلق رکھنے والوں کو دعوت دی کہ وفاق المدارس کی تعلیمی خدمات، عزائم، اہداف، مقاصد کو منظوم شکل میں مرتب کریں۔ پورے ملک کے بہت سے لوگوں نے اس مسابقے میں شرکت کی۔ ایک کم 80، حضرات نے، مختلف ترانے اور نظم لکھ کر ہمیں بھیجے۔ حضرت شیخ الاسلام صاحب دامت برکاتہم خود بھی ماشاء اللہ ادیب ہیں، اللہ نے ہمیں کمال شخصیت دی ہے، تو حضرت کی نگرانی میں تین رکنی کمیٹی بنی، سرپرستی حضرت کی تھی، ایک اس کے ممبر دارالعلوم کے عظیم استاذ حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔ اور دوسرے رکن اس کمیٹی کے، جو ان میں سے دیکھیں کہ کون سا معیاری ترانہ ہے، مشہور شاعر، اللہ ان کی قبر کو منور کرے، شاعرِ ابنِ شاعر، سید سلمان گیلانی رحمۃ اللہ علیہ تھے، اور تیسرے رکن محترم جناب سعود عثمانی صاحب زیدہ مجدہم تھے۔ ​ان تینوں حضرات نے جائزہ لیا، ایک ساتھی کے ترانے کو معیاری قرار دیا۔ ان کو آج انعام کیا جائے گا، وفاق المدارس کی طرف سے انشاء اللہ، ان کا ترانہ معیاری قرار دیا گیا ہے۔ ہم یہ تمام ترانے چھاپیں گے انشاء اللہ، لیکن وفاق کا باضابطہ ترانہ اس کے دیکھنے کے دوران، محترم سعود عثمانی صاحب کے دل میں اللہ نے پیدا کیا، یہ خود بھی شاعر ابنِ شاعر ہیں، یہ عظیم شاعر حضرت ذکی کیفی رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے ہیں۔ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے ہیں۔ سعود عثمانی صاحب، انہوں نے بھی پھر ایک منظوم کلام وفاق کے اوپر لکھا، اس کو باقاعدہ وہ ساتھی پڑھ کر سنائیں گے۔ اس کے بعد پھر انشاء اللہ العزیز شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا تفصیلی بیان ہوگا۔ میں نے تھوڑا سا وقت زیادہ لے لیا حضرت سے معافی چاہتا ہوں۔ ​حضرت سے میری اب تعلقات کی بہت سی نسبتیں ہیں اور ایک ایسی نسبت ہے کہ جس کی وجہ سے میں ہر وقت ڈرتا رہتا ہوں کہ کہیں مجھے ڈانٹ نہ پڑ جائے، اور ان بزرگوں کی ڈانٹ بھی ہمارے لیے بہت بڑی نعمت ہے، تو میں چاہتا ہوں کہ حضرت میرے بیان کی وجہ سے اپ

کالم نگار : ضبط و نقل: عبدالسلام یوسفزئی
| | |
6