الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ العَالَمِيْنَ وَالصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ عَلىٰ سَيِّدِنا وَ مَولَاناَ مُحَمَّدٍ خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ وَاِمَامِ الْمُرْسَلِيْنَ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِيْنَ، وَعَلَى كُلِّ مَنْ تَبِعَهُمْ بِإِحْسَانٍ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ۔
أَمَّا بَعْدُ!
حضراتِ علمائے کرام!
ماشاء اللہ اس وقت یہاں میرے دائیں بائیں اور میرے سامنے بقول سعود عثمانی صاحب کے مدرسوں کی کہکشاں جمع ہے۔
کس کس کا نام لوں؟
کس کس کا شکریہ ادا کروں؟
اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے یہ توفیق عطاء فرمائی کہ آپ سب حضرات سے اس تاریخی اجتماع میں ملاقات اور زیارت کا شرف حاصل ہوا۔
آپ حضرات محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر یہاں جمع ہوئے اور ہمیں اپنی زیارت کا موقع عطا فرمایا، اس پر میں جتنا آپ حضرات کا شکر ادا کروں کم ہے۔
اور اسی طرح ہمارے وفاق کے تمام ناظمین، معاونینِ ناظمین، مسئولین اور خاص طور پر ناظمِ اعلیٰ حضرت مولانا حنیف جالندھری صاحب، نائبانِ صدر، اراکینِ مجلسِ عاملہ، اور وہ حضرات جنہوں نے اس اجتماع کو منعقد کرنے کے لیے دن رات وقف کیا۔
خاص طور پر حضرت مولانا امداد اللہ صاحب جو اپنی بیماری کے باوجود، آج کل ان کی طبیعت ناساز ہونے کے باوجود آئے، بڑے فعال انداز میں اس اجتماع میں اور مولانا راحت علی ہاشمی صاحب جو ہمارے دارالعلوم کے ناظمِ تعلیمات ہیں، وہ، ان کے رفقاء، ہمارے دارالعلوم کے اساتذہ اور طلباء جو اس اجتماع کے لیے الحمد للہ اس کو کامیاب بنانے کے لیے مستعد اور چاق و چوبند رہے، اللہ تعالیٰ ان سب کو بہترین جزاء دنیا اور آخرت میں عطاء فرمائے۔
مجھے یہ بھی احساس ہے کہ آپ حضرات دیر سے بیٹھے ہوئے ہیں، اور طویل نشست کی صعوبت آپ حضرات نے برداشت کی ہے۔ اور یہ بھی احساس ہے کہ جو ضروری باتیں حضراتِ مہتممین سے وفاق کی طرف سے کرنی تھیں، وہ مجھ سے پہلے مقررین نے ان کو بڑی تفصیل اور وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ اور خاص طور پر آخر میں حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب نے جو (11) نکات پیش کئے، تو وہ سارے کے سارے وہ ان امور کے جامع ہیں جن کی ہمیں مدرسوں کی اصلاح میں ضرورت ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ ان تمام باتوں پر ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
میں صرف ان حضرات کی باتوں کے تکرار کے بغیر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم اس بات پر غور کریں اور غور کرتے رہیں اور ہمیشہ ان کو اپنے پیشِ نظر رکھیں کہ ہماری نسبت کہاں سے ہے۔ہم آج چاہے مدرسے کے استاذ ہوں، مہتمم ہوں، ناظم ہوں، یہ بات کبھی نہ بھولنی چاہیے کہ ہماری نسبت اس دارالعلوم دیوبند سے ہے جس نے اس آخری دور میں احیائے دین کا وہ عظیم فریضہ انجام دیا جس کے طفیل آج ہم یہاں مسلمان بیٹھے ہوئے ہیں۔انگریز کے اقتدار میں آنے کے بعد اس بات کی پوری کوشش کی گئی کہ یہاں سے علمِ دین کا نام و نشان مٹا دیا جائے۔لارڈ میکالے کی وہ تقریر جو اس نے برطانیہ کے دارالعوام میں کی تھی وہ ریکارڈ پر ہے۔ اور اس نے اپنے عزائم کا کھل کر اظہار کر دیا تھا کہ :"ہم ہندوستان میں ایک ایسی قوم پیدا کرنا چاہتے ہیں جس کی چمڑی تو ہندوستانی ہو لیکن دماغ انگریزی ہو"۔اور ان عزائم کا اظہار کرنے کے بعد اس نے چن چن کر ان حضراتِ علمائے کرام کے اوپر مقدمات چلائے، ان کو پھانسیوں پر لٹکایا، ان کے مدرسے بند کیے۔
صرف دہلی شہر میں 200 مدرسے ہوا کرتے تھے۔انگریز نے آ کر وہ سارے مدرسے ختم کر دیئے، جس کا مقصد یہ تھا کہ کوئی "قال اللہ قال الرسول" کہنے والا، پڑھنے والا، پڑھانے والا اس ملک میں باقی نہ رہے۔
اس موقعے پر اللہ جل جلالہ نے اپنے فضل و کرم سے ہمارے اکابر کو توفیق دی۔ یہ وہ اکابر تھے، خواہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ ہوں، حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ہوں، یہ وہ اکابر تھے جنہوں نے پہلے انگریز کا اسلحہ کے ساتھ مقابلہ کیا تھا اور جہاد کیا تھا۔ اور جہاد کے نتیجے میں شاملی کا علاقہ اور کیرانہ کا علاقہ فتح کر لیا تھا۔ اور کیرانہ کے اندر وہ نقارہ بجتا تھا جو یہ کہتا تھا کہ: "حکم اللہ کا اور نظام رحمت اللہ کا"۔
حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی رحمۃ اللہ علیہ، جو حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کے ہم عصر تھے، یہ نقارہ بجا کرتا تھا۔
تو شاملی کے محاذ پر انگریز کو شکست دی، کیرانہ میں اسلامی حکومت قائم کی، لیکن مقدرات ہیں، غداریاں ہیں، اس کے نتیجے میں وہ کوشش کامیاب ظاہری طور پر نہ ہو سکی۔ تو انہوں نے اپنی پالیسی وقت کے حساب سے تبدیل کی اور کہا کہ:"اب وقت جہاد کا نہیں، صبر کا ہے"۔
ایک مسلمان کے لیے دو ہی راستے ہیں:
1: اگر اس کے پاس طاقت ہے، قوت ہے تو اس کا کام ہے جہاد، 2: اور اگر طاقت اور قوت نہیں ہے تو اس کا کام ہے صبر۔
قرآن کریم کا ارشاد ہے، بنی اسرائیل کا جب ذکر فرمایا قرآن کریم نے تو فرعون کی تباہی کے بعد فرمایا:﴿وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ﴾۔
بعد میں ہم نے حکومت اور طاقت بنی اسرائیل کو دی، وہ کس لیے دی؟
﴿بِمَا صَبَرُوا﴾،کیونکہ انہوں نے صبر کا مظاہرہ کیا۔صبر بڑا عظیم لفظ ہے۔صبر کے اندر جہاں یہ بات داخل ہے کہ تکلیفوں کو انسان برداشت کرے، وہاں اس میں یہ بات بھی داخل ہے کہ پورا دین صبر کے اندر منحصر ہے۔
اگر طاعت ہے تو وہ بھی صبر ہے (طاعتِ الٰہی)، اگر معصیتوں سے اجتناب ہے تو وہ بھی صبر ہے، اور اگر مصائب پیش آ گئے ہیں تو وہ بھی صبر۔
حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کو باقاعدہ اس جہاد کی پاداش میں گرفتار کیا گیا، جیل میں رہے، اور جیل میں سے جب پیشی ہوتی تھی، حاکم کے پاس مقدمہ چل رہا تھا، پیشی ہوتی تھی، تو حضرت سے پوچھا گیا کہ: "کیا آپ نے اسلحہ اٹھایا تھا؟"
حضرت نے کہا:"ہمارا اسلحہ یہ ہے"، ہاتھ میں تسبیح تھی، "یہ ہمارا اسلحہ ہے"۔
اور کہا کہ "کیا آپ کا کوئی مرکز ہے؟"
تو کہا: "بھئی ہماری چھوٹی سی جگہ ہے جہاں ہم پڑھتے پڑھاتے ہیں"۔
یعنی کسی مرحلے پر زبان پر جھوٹ نہیں آیا۔اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں رہائی عطا فرمائی۔ رہائی کے بعد یہ طے کر لیا کہ اب ہمارے اوپر صبر کا زمانہ آ گیا۔
چونکہ صبر کا زمانہ آ گیا لہٰذا اب وہاں دارالعلوم کے اندر اخبار بھی بند، اب اخبار نہیں آئے گا۔ اور ہم تمام تر توجہ اس وقت اس بات پر صرف کریں گے کہ جو اللہ تعالیٰ نے امانت ہمیں علمِ دین کی اپنے فضل و کرم سے عطاء فرمائی ہے اس کا تحفظ کریں جس طرح بھی ہو۔
یہ ہے بنیاد دارالعلوم دیوبند کی۔
اور اس وقت میں کس طرح کوئی منصوبہ بنایا؟کوئی ایسا منصوبہ بنایا؟5 سالہ منصوبہ؟کہ ہم ایک ایسی عمارت بنائیں گے، ایسا ادارہ قائم کریں گے، فلاں فلاں جگہ سے لوگ بلائیں گے، پیسہ کہاں سے آئے گا؟
اس کا بجٹ بنائیں، اس کا... کوئی بجٹ، کوئی میزانیا، کوئی عمارت کچھ نہیں۔ انار کا درخت ہے، ایک استاذ بیٹھا ہے، ایک شاگرد ہے۔
سبق کیا دیا؟
ہم چونکہ اس نسبت کے امین ہیں۔۔۔!
اس نسبت کے حامل ہیں لہٰذا ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے۔
یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ہم ان نسبتوں کو بھول کر ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں۔
سوچو یہ کہ تمہاری نسبت دارالعلوم دیوبند کے ساتھ ہے یا کسی یونیورسٹی کے ساتھ ہے؟یہ فیصلہ کر لو آج کہ تمہاری نسبت دارالعلوم دیوبند کے انار کے درخت کے ساتھ ہے یا کسی مشہور و معروف یونیورسٹی کے ساتھ ہے؟اس کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
اگر یہ فیصلہ کر لیا کہ تمہاری نسبت ان خدا مست مجاہدوں کے ساتھ ہے جنہوں نے انار کے درخت کے نیچے بیٹھ کر علومِ ربانی کے چشمے پھوڑے تھے، چشمے نکالے تھے، تو پھر خدا کے لیے یہ دنیا کی زیب و زینت کو خاک پر رکھ دو، طاق پر رکھ دو۔ پھر ساری توجہ اس نسبت کی حفاظت کے اوپر رکھو۔
اس نسبت کی حفاظت کیسے ہوگی؟
ماشاء اللہ جو اس کے عملی کام ہیں ان کی ساری تفصیل اس مجلس کے اندر مختلف حضرات نے پیش کی ہے، اور خاتمۃ الکلام اور مسک الختام مولانا حنیف جالندھری صاحب نے کیا۔لیکن اس سب کا، یہ جو اصل روح ہے وہ یہ ہے:
″اس نسبت کا تحفظ، اس نسبت کی قدر، اس کا احترام اور اس نسبت کے تحفظ کا ارادہ ہونا″۔جب اس نسبت سے نکل کر چل رہے ہو تو پہلی بات یہ سمجھو۔۔۔! آج، معاف کیجیے گا، ″امیرؔ جمع ہیں احباب دردِ دل کہہ لے
پھر التفاتِ دلِ دوستاں رہے نہ رہے۔"تو خیر جو آپ حضرات کے جو مناصب ہیں، جو فضائل ہیں، اور آپ کے لیے طریقہ کار مختلف حضرات نے تجاویز دی ہیں، وہ سب اپنی جگہ درست ہے اور وہ قابلِ عمل ہے اور ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ لیکن اس کی روح میں عرض کرنا چاہتا ہوں:
روح یہ ہے کہ اس نسبت کا تحفظ کرو۔آج ہوتا یہ ہے کہ طالب علم کسی مدرسے سے فارغ ہوتا ہے تو اس نے پہلا کام یہ کرنا ہے کہ مدرسۃ البنات قائم کرتا ہے۔مدرسۃ البنین کا تو معاملہ ذرا تھوڑا مشکل ہوتا ہے، مدرسۃ البنات گھر میں بھی قائم ہوگیا۔ اور اس کی وجہ سے وہ مہتمم بن گیا، اور مہتمم بننے کے ذریعے اس کا ایک کام یہ ہو گیا کہ وہ لوگوں سے چندہ کرے اور چندہ کر کے وہ اپنا کام چلائے، تو وہ پورے خاندان کیلئے ایک کفالت بن گئی۔
تو بھائی! یہ سوچو کہ جس جگہ تم مدرسۃ البنات قائم کر رہے ہو، وہ جگہ مدرسۃ البنات قائم کرنے کی جگہ ہے؟ضرورت ہے؟ہمارے سامنے ایسے مسائل آتے ہیں کہ قریب قریب متعدد مدرسۃ البنات ہیں۔
آج یہ کیا وجہ ہے کہ ہمارے مدارس میں تقریباً دو تہائی مدارس مدرسۃ البنات ہیں اور ایک تہائی مدارس بنین کے ہیں؟یہ اس لیے کہ یہ کام آسان ہے، اپنے گھر والوں کو لے کے چل جاتا ہے اور ان کی تنخواہوں کا بھی بندوبست ہو جاتا ہے۔
معاف کیجیے گا۔۔۔!
میں کسی ایک کے اوپر الزام لگانے کی بات نہیں کر رہا، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ذرا سوچیں کہ ہم جس جگہ مدرسہ قائم کر رہے ہیں وہ واقعی وہ جگہ مدرسے کی ہے یا نہیں؟
اگر ایک جگہ مدرسے کے اندر کوئی اختلاف ہو گیا تو دوسرا مدرسہ بن جاتا ہے۔ہمارے ایک صاحب ہوتے تھے، انہوں نے مکاتبِ قرآنیہ کا ایک جال بچھانے کا ان کو شوق تھا، تو وہ کہا کرتے تھے کہ جب کسی مدرسے میں مجھے پتہ چلتا ہے کہ علماء میں اختلاف ہو گیا ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے، اور خوشی اس لیے ہوتی ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نیا مدرسہ قائم ہوگا۔تو یہ کہتا ہوں کہ ہم جب مدرسہ قائم کر رہے ہیں، اس وقت میں کیا رضائے الٰہی مقصود ہے؟
کیا ضرورت کو پورا کرنا مقصود ہے؟ کیا باقاعدہ اس کی وہاں پر ضرورت ہے دین کی؟اور جب قائم ہو گیا تو پھر اس کے اندر (اللہ بچائے) جب اگر مقصود رضائے حق نہ ہو، تو پھر طرح طرح کی بدگمانی۔ مدرسۃ البنات کی ہمارے پاس شکایتیں آ رہی ہیں کہ اس میں پردے کا اہتمام نہیں ہوتا، بعض میں...!
میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، مقصد یہ ہے کہ اس نسبت کا خدا کے لیے تحفظ کرو۔آج کل ایک ذہنیت پیدا ہو رہی ہے کہ مدارس کو یونیورسٹی میں تبدیل کیا جائے۔ لوگوں کو اس کا شوق ہے کہ اس مدرسے کو یونیورسٹی بنایا جائے۔
مجھے یاد ہے کہ حکیم محمد سعید صاحب مرحوم ہمارے دارالعلوم کی مجلسِ منتظمہ کے رکن بھی تھے اور خازن بھی۔ جب وہ گورنر بنے تو انہوں نے میرے بڑے بھائی، مفتی رفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور مجھ سے کہا:
"دیکھیے، میں گورنر ہوں اور آپ کو یونیورسٹی کا چارٹر دے سکتا ہوں۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا لیجیے۔ ہم دارالعلوم کو یونیورسٹی بنانے کے لیے یونیورسٹی کا چارٹر دینے کو تیار ہیں۔"اس موقع پر ہم دونوں بھائیوں نے مشورہ کیا اور یہ طے کیا کہ ہم یونیورسٹی نہیں بنانا چاہتے، بلکہ دارالعلوم ہی بنانا اور دارالعلوم ہی رکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری نسبت دارالعلوم دیوبند کے ساتھ قائم رہنی چاہیے کیونکہ اگر ہم یونیورسٹی بن جائیں گے تو ہماری نسبت کہیں اور ہو جائے گی۔
میرے والدِ ماجد قدس اللہ تعالیٰ سرہ فرمایا کرتے تھے کہ جب ریل کی پٹریاں، پٹریوں کے راستے تبدیل ہوتے ہیں، ایک ریل ہے، ایک لائن ہے جو لاہور جا رہی ہے، ایک جو ہے وہ کوئٹہ کی طرف مڑ رہی ہے۔ تو جہاں مڑ رہی ہوتی ہے وہاں پر دونوں لائنوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہوتا، بہت معمولی فاصلہ ہوتا ہے۔ لیکن ذرا سا پاؤں ڈھلک جائے، ہٹ جائے، تو وہ لاہور جانے کے بجائے آگے جا کر سینکڑوں میل کا فاصلہ پیدا کر دے گی کہ وہ کوئٹہ پہنچائے گی لاہور پہنچانے کے بجائے۔
لہٰذا یہ نسبت، یہ دیکھو نسبت تمہاری کہاں سے ہے، اور اس نسبت کا تحفظ کرنے کی کوشش کرو۔اور اس نسبت کا تحفظ صرف ظاہری انتظامات کا نہیں ہے۔ ضروری ظاہری انتظامات بھی ہیں جس کی تفصیلات الحمد للہ بہت وضاحت کے ساتھ آ گئیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ لیکن اس نسبت کا تحفظ رجوع الی اللہ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم کرنے کی مضبوطی سے ہے۔وھاں بڑے منصوبے بنا کر تیار نہیں کیے جاتے، وہاں جتنے وسائل ہیں ان وسائل کے مطابق کام شروع کر دیا جاتا ہے۔
وسائل کتنے ہیں؟
انار کے درخت کے نیچے بیٹھ کے پڑھ لیں، وہ شروع کر دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے مقبولیت ہوگی تو پھر دیکھو کے دارالعلوم دیوبند کیسے بنا۔آج یہ مسئلہ ہے کہ ہم پہلے سے بعض اوقات مدرسے کے بارے میں یہ سوچتے ہیں کہ مدرسے کو بڑا بنانا ہے، بڑا کرنا ہے، اور چونکہ وسائل نہیں ہیں لہٰذا ہم چندہ کرتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں کبھی کامیاب ہو جاتے ہیں کبھی ناکام ہو جاتے ہیں۔تو جتنے وسائل ہوں اتنا کام کرو۔ ہم نے اپنے اکابر کو اسی طرح دیکھا۔
حضرت والدِ ماجد قدس اللہ تعالیٰ سرہ (اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے) وہ فرماتے تھے، تعمیرات کا کام آتا تھا، تعمیرات کے اوپر خرچہ بہت ہوتا ہے، تو فرمایا کہ ہم مکمل کرنے کے مکلف نہیں ہیں۔ جتنا اللہ تعالیٰ نے دے دیا اتنا کر لو، جہاں پیسے ختم ہو گئے وہاں رک جاؤ، جب اللہ تعالیٰ اور دے گا تو اور کرلیں گے۔والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مثال دی کہ انہوں نے ہمارے لائبریری (ہمارے ہاں جو کتب خانہ ہے دارالعلوم کا) اس کی بنیادیں تقریباً بھرنے کے قریب تھیں، پیسے ختم ہوگئے، تو حضرت والد صاحب نے فرمایا اب روک دو، جب اور اللہ تعالیٰ پیسے دے گا تو پھر کر لینا۔ چنانچہ جب والد صاحب کی وفات ہوئی تو اس وقت بنیادیں بھری ہوئی تھیں اور اس وقت اس مد میں کچھ، مجھے جہاں تک یاد ہے، 5 لاکھ روپے تھے۔ فرمایا کہ جتنے ہیں اتنا کر لو، جب ہوگا اللہ تعالیٰ دے دے گا۔تو اس نسبت میں توکل علی اللہ اور تعلق باللہ، یہ سب سے پہلی مقدم چیز ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو عطاء فرمائے۔
تو ایک تو یہ ہے کہ اس سے ہم جتنا بھی قریب ہوں گے، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع برقرار رکھیں گے، بزرگوں کی صحبت حاصل کریں گے، تو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمارے کاموں میں بھی برکت عطاء فرمائے گا۔مستقل بالذات ہونا یہ بڑی نحوست کی بات ہے۔
حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ: "جو مستقل بالذات ہوتا ہے وہ مستقل بدذات ہوتا ہے"۔
تو مستقل بالذات نہیں بلکہ اپنے آپ کو کسی کے حوالے کر کے اس کی نصیحتوں اور اس کے مشوروں پر عمل کرو۔تو بنیادی بات ہے اس نسبت کا تحفظ، جو ہوگا :
نمبر ایک: تعلق باللہ، خود اپنے عمل میں اتباعِ سنت، اپنے معاملات میں تقویٰ، احتیاط سے کام، اور اس بات سے کہ مدرسے کا جو چندہ آ رہا ہے اس کو اپنے لیے آگ کے انگارے سمجھا جائے۔
یہ چیز ہمارے اندر اگر پیدا ہوگئی، اللہ تبارک و تعالیٰ رحم فرمائے گا، تو پھر یہ سارے کام آسان ہو جائیں گے۔
جتنی ہدایات دی جا رہی ہیں، جتنی تعلیمات دی جا رہی ہیں ان پر انشاء اللہ عمل آسان ہو جائے گا۔
اور اس کے لیے ذرا ضرورت ہے کہ ہمیں اپنے اکابر جن سے ہماری نسبت ہے ان کے حالات تو پڑھو!
ان کے ملفوظات تو پڑھو!
ان کے حالات سے واقفیت تو حاصل کرو!
تذکرۃ الرشید پڑھو!
تذکرۃ الخلیل پڑھو!
اشرف السوانح پڑھو!
حیاتِ شیخ الہند پڑھو!
تو پتہ چلے کہ انہوں نے کس طرح کی زندگیاں گزاریں۔
تو پھر انشاء اللہ، جو ہم پڑھیں گے اس کے پڑھنے کی یہ برکت ہے کہ اس پڑھنے ہی سے قلب میں نورانیت پیدا ہوگی۔تو میری گزارش یہ ہے کہ ان تمام ہدایات، تعلیمات اور مشوروں پر عمل کرنے کے لیے اس چیز کی ضرورت ہے کہ اپنے آپ کو اپنے بزرگوں سے وابستہ رکھیں۔
وہ اس طرح ہوگا۔ہمارے جو حضرات تھے وہ ایک ایک چیز پر نگاہ رکھتے تھے۔حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ (اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے) ان کے بہت ہی جان نثار مرید تھے مولانا محمد اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ انہوں نے اپنے بیٹے کو ایک مرتبہ مارا اور ذرا زیادہ مارا۔ تو ان کی والدہ نے، ان کی دادی اماں نے حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے کہہ دیا۔حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے مولانا اسماعیل صاحب کو بلایا اور ساتھ ساتھ مولانا یحییٰ صاحب رحمہ اللہ جو کہ مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے والد تھے، ان کو بھی بلایا۔ حضرت کی سوانح عمری اور آپ بیتی کے اندر ملتا ہے کہ کس طرح ان کو زجر و توبیخ کی۔دونوں کو بلایا، بلا کر کہا کہ :"میں نے یہ پوچھنا تھا، بچوں کو کس حد تک مارنا جائز ہے؟"
تو مولانا زکریا صاحب کے والد سر جھکائے رہے۔ آپ نے کہا کہ "بچے کو مارنا ناجائز ہے، حرام ہے، اور زیادہ سے زیادہ اگر کبھی تنبیہ کی ضرورت آئے تو ایک دو طمانچے ایسے کر کے لگا دو، اس سے زیادہ مارنا حرام ہے"۔
اب یہ ہمارے مدرسوں میں جو صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے کہ مار پیٹ کی جاتی ہے، بعض اوقات جان چلی جاتی ہے، تو اس پر بھی نگرانی کی ضرورت ہے۔بہرحال! میں کہنا یہ چاہتا ہوں، اب بات اگر بڑھائی جائے تو کہیں نہ کہیں پہنچ جائے گی، دیر بہت ہو چکی ہے۔تو صرف اتنی گزارش ہے کہ اپنے ان اکابر سے وابستگی کا کم از کم تقاضا یہ ہے کہ اپنے سارے اکابر کی حیات اور سوانح، ان کے ملفوظات، ان کی ہدایات کا اہتمام کے ساتھ مطالعہ کیا کریں اور اس کی روشنی میں اپنے حالات کا جائزہ لیا کریں۔ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے انشاء اللہ ہم اس نسبت کے اوپر قائم رہیں گے۔ اور اگر کہیں اور چل پڑے، نکل پڑے تو بعض اوقات راستے شیطان ایسے دکھاتا ہے کہ دیکھنے میں بہت خوشنما نظر آتے ہیں لیکن وہ ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتے۔
ابھی مولانا نے بات کی عصری تعلیم کی جو ہم نے شروع کی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بھائی یہ تو نئی بدعت شروع ہو گئی۔ایسا نہیں ہے! ہمارے بزرگوں نے دارالعلوم دیوبند میں درجاتِ عربی سے پہلے 5 سالہ نصاب ہوا کرتا تھا فارسی اور ریاضی کا۔ میرے دادا حضرت مولانا محمد یاسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو حضرت تھانوی کے ہم سبق تھے، ساری زندگی اس میں پڑھایا۔حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے، حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ریکارڈ پر ہے، ان کے ″تذکرۃ الرشید″ میں موجود ہے وہ فرمایا کرتے تھے کہ:"منطق و فلسفے کے پڑھانے سے ہزار درجے بہتر ہے انگریزی پڑھاؤ"۔
تو وقت کی ضروریات ہیں اس کے لحاظ سے ہمیں یہ کام کرنا ہے، اور اس کے نتیجے میں انشاء اللہ اگر نیت صحیح ہے اور نسبت وہاں ہے، یونیورسٹی سے نہیں ہے مدرسے سے ہے، جب ہم مدرسے میں انگریزی پڑھائیں گے، مدرسے میں ریاضی پڑھائیں گے تو انشاء اللہ ہمیں وہی ثواب ملے گا جو فقہ اور حدیث پڑھانے میں ہوتا ہے۔حضرت شیخ الھند رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ قطبی کا سبق پڑھا رہے تھے۔قطبی... کاہے کی کتاب ہے؟
منطق کی۔تو جب سبق ختم ہو گیا تو ایک صاحب آئے، کہنے لگے کہ: "حضرت میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے، برائے کرم کچھ ان کے لیے ایصالِ ثواب فرمادیں..." تو آپ فرمانے لگے "ٹھہر جاؤ"۔ حضرت نے فرمایا کہ "بھئی آج ہم نے جو کچھ سبق پڑھا ہے اس کا ایصالِ ثواب ان کو پہنچادو"، اور دعا کی۔کسی نے کہا:"حضرت! قطبی کا بھی ایصالِ ثواب ہوتا ہے؟"
تو حضرت نے فرمایا:"ہاں! ہمارے ہاں قطبی کا بھی ایصالِ ثواب ہوتا ہے۔اس لیے اگر نیت ٹھیک ہے تو قطبی میں بھی ثواب ہے، اگر نیت ٹھیک نہیں ہے تو بخاری میں بھی ثواب نہیں ہے″۔
لہٰذا اس پر بہت اہتمام کے ساتھ ان گزارشات پر عمل کریں اس نسبت کے ساتھ جڑے رہیں۔یہ جو مختلف پیشکشیں آرہی ہیں خدا کے لیے ادھر مت جاؤ۔۔۔ادھر ادھر مت جاؤ اس نسبت کا تحفظ کرتے رہوگے تو انشاء اللہ ثم انشاء اللہ کامیاب رہوگے کوئی دنیا کی طاقت تمہیں ہرگز نہیں مٹا سکے گی۔
بس وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ سَيِّدِنَا وَحَبِيْبِنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِيْنَ!