میری گزارش ہے کہ خاص طور پر وہ حضرات، یوں تو یہ ضرورت سبھی کو ہے، لیکن خاص طور پر وہ حضرات کہ جو کالجوں، یونیورسٹیوں یا جدید تعلیم گاہوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ ذرا اس مغربیت کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے گہرا مطالعہ کریں اور اس کے لیے دو تین کتابوں کا نام لوں گا، کہ ان کا بہت غایت نظر سے مطالعہ کرکے آپ کو اندازہ ہوگا کہ مغربیت میں جو گمراہیاں پھیلائی ہیں، ان کا سرچشمہ کیا ہے؟ کہاں سے وہ نکلی ہیں؟ اور جب ایک مرتبہ یہ سمجھ میں آجائے گا کہ گمراہیوں کا منبع کیا ہے تو پھر آپ کو اس قسم کے سوالات اور اس قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ان شاءاللہ آسانی ہوگی، چند کتابوں کا نام لیتا ہوں :
ایک سب سے بڑی حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ کی کتاب ہے *الانتباھات المفیدة لحل الشبهات الجدیدة* بظاہر تو چھوٹا سا رسالہ ہے لیکن اس میں دور جدید کے گمراہیوں کے جو سرچشمے ہیں ان کی پوری نشاندہی کر دی گئی ہے، میں نے اس کا انگریزی میں ترجمہ بھی کرایا تھا پروفیسر عمر حسن عسکری صاحب مرحوم کے ذریعے جو *Answer to modernism* کے نام سے چھپا تھا اور وہ مغربی دنیا میں بہت پسند بھی کیا گیا،
الانتباهات المفیدہ ایک متن ہے اور اس کی شرح ہے حضرت مولانا مصطفی بجنوری صاحب رحمة اللہ علیہ کی حل الانتباھات کے نام سے، اس کے ساتھ ملا کر اس کو پڑھا جائے تو اس سے زیادہ فائدہ ہوگا۔
دوسری چیز حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ علیہ کی دو کتابیں ہیں جن سے ان گمراہیوں کے سرچشموں کی نشاندہی ہوگی، ایک کتاب ہے *ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین* عربی میں ہے اور اس کا ترجمہ "مسلمانوں کے زوال سے دنیا کو کیا نقصان پہنچا" ۔
تیسری : ان کی کتابیں عالم اسلام میں *اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش*یہ آپ حضرات ضرور اہتمام کے ساتھ ان کا مطالعہ کریں۔
چوتھی کتاب ہے *جدیدیت* کے نام سے یہ پروفیسر حسن عسکری مرحوم کی لکھی ہوئی ہے، مختصر ہے اور اس میں فلسفے جو آج چلے ہوئے ہیں، ان کا بہت ہی اختصار کے ساتھ اسان انداز میں تعارف کرا دیا گیا۔
یہ چیزیں اگر آپ کے علم اور فہم میں ہوں گی تو ان شاءاللہ آپ کہیں مار نہیں کھائیں گے، اللہ کی رحمت سے آپ ہر جگہ فتح یاب ہوں گے۔