(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی محمد تقی عثمانی

مفتی محمد تقی عثمانی

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
عبرت آموز واقعات
دُنیا کی حقیقت:
میرے والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ اپنے بچپن کا ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ جب میں چھوٹا تھا تو اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔ اس زمانے میں ایسے کھیل ہوتے تھے جس میں خرچ کچھ نہیں ہوتا تھا لیکن ورزش پوری ہوتی تھی‘ چنانچہ درختوں سے ’’سر کنڈے‘‘ توڑ لیتے اور پھر ان کو کسی اونچی جگہ سے نیچے کی طرف لڑھکاتے ‘ بچوں میں اس بات کا مقابلہ ہوتا کہ کس کا سرکنڈا سب سے آگے نکلتا ہے‘ جس کا سرکنڈا آگے نکل جاتا وہ جیت جاتا اور وہ بچہ دوسرے بچوں کے سرکنڈوں پر قبضہ کرلیتا۔ اور ’’سرکنڈے‘‘ کو پھینکنے کا ایک خاص طریقہ ہوتا تھا‘ اگر اس طریقے سے پھینکا جاتا تو وہ سرکنڈا سب سے آگے نکل جاتا تھا۔

میرا چچا زاد بھائی بڑا ہوشیار تھا‘ وہ جانتا تھا کہ کس طرح سے سرکنڈا پھینکا جائے تو وہ آگے نکل جائے گا‘ چنانچہ وہ بھی اوپر سے اپنا سرکنڈا پھینکتا اور میں بھی پھینکتا‘ لیکن ہر مرتبہ اس کا سرکنڈا آگے نکل جاتا اور پھر وہ میرے سرکنڈے پر قبضہ کر لیتا‘ یہاں تک کہ میں نے جتنے سرکنڈے جمع کئے تھے‘ وہ سب اس نے جیت لئے۔ آج بھی مجھے اس روز کی دل کی کیفیت یاد ہے کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ وہ سرکنڈے کیا گئے کہ میری کائنات ویران ہو گئی‘ میری دنیا اندھیری ہو گئی‘ میرا سب کچھ لٹ گیا‘ اس دن کے صدمہ کی کیفیت آج بھی مجھے یاد ہے۔

لیکن آج جب اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو یہ خیال آتا ہے کہ کس بیوقوفی اور حماقت میں مبتلا تھا‘ کس چیز کو کائنات سمجھا ہوا تھا‘ یہ واقعہ سنانے کے بعد فرماتے کہ کل قیامت کے دن جب اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور حاضری ہو گی اور جنت اور جہنم کے مناظر سامنے آئیں گے‘ اس وقت پتہ چلے گا کہ یہ زمین‘ یہ جائیدادیں‘ یہ ملیں‘ یہ کارخانے‘ یہ کاریں‘ یہ بنگلے وغیرہ جس پر لڑائیاں ہو رہی تھیں‘ جس پر جھگڑے ہو رہے تھے‘ جس پر مقدمہ بازیاں ہو رہی تھیں‘ یہ سب ان سرکنڈوں سے زیادہ بے حقیقت ہیں۔

مفت کامال :
حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے وعظ میں ایک واقعہ بیان فرمایا جو بڑا عبرتناک ہے وہ یہ کہ ڈھاکہ میں ایک نواب صاحب تھے، بہت بڑے رئیس تھے۔جب ان کا انتقال ہوا تو بہت دولت چھوڑ گئے ان کا ایک بیٹا تھا اور ایک بیٹی تھی یہ دونوں تو نواب زادے تھے ان کے دماغ عرش معلی پر رہتے تھے کسی سے بات کرنے کو تیار نہیں اور اپنے تکبر اور غرور میں مست تھے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ صاحب زادے کو ماچس جلانے کی ضرورت پیش آگئی اور جب تیلی کو ماچس پر رگڑا اور تیلی جل گئی تو اس میں سے ایک بو نکلی اور وہ بو صاحب زادے کو بہت پسند آگئی کہ یہ بو بہت اچھی ہے ۔چنانچہ اس کے بعد صبح سے لے کر شام تک ان کا یہ مشغلہ ہوگیا کہ ماچس خریدی جارہی ہے اور یہ صاحبزادے اس کو جلا کر اس کی بو سونگھے جارہے ہیں اور اس سے لطف لے رہے ہیں اورپیسہ برباد ہورہا ہے۔

صاحب زادی ایک مرتبہ بازار گئیں اور کپڑا خرید ا۔ جب دکاندار نے قینچی سے کٹ لگا کر ہاتھ سے کپڑا پھاڑا تو اس کی آواز صاحب زادی کو پسند آگئی اب واپس گھر آکر بازار سے مزید کپڑے منگوا کر ان کو پھڑوایا جارہا ہے۔اب دن رات کا یہی مشغلہ ہوگیا کہ کپڑوں کے تھان کے تھان منگواتیں اور ان کو اپنے سامنے پھڑواتیں اور آواز سن کر لطف اندوز ہوتیں ، اسی میں پیسہ برباد ہورہاہے۔

نتیجہ یہ ہوا کہ ساری دولت ختم ہوگئی اور بعد میں یہ دونوں بھیک کا پیالہ لے کر بازار میں مانگا کرتے تھے ۔ جس بازار میں مانگتے تھے وہ آج بھی بیگم بازار کے نام سے مشہور ہے۔

ایک وقت تھا جب اپنا روپیہ پیسہ صحیح مصرف میں خرچ کرسکتے تھے۔لیکن نوبت تو فقر و فاقہ تک پہنچ چکی تھی۔ اب اگر صحیح مصرف پر خرچ کرنا بھی چاہیں تو اس کا کوئی راستہ نہیں۔ اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو مال اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اس کو غنیمت سمجھو قبل اس کے کہ وہ مال چھن جائے۔

ڈاکٹروں کے لیے نبوی بشارت:
جتنے حضرات طب کے پیشہ سے وابستہ ہیں، لوگوں کی بیماریوں کا علاج کرنے میں مصروف رہتے ہیں، ان کے لئے حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی ایک عظیم بشارت ہے۔

فرمایا:جو شخص کسی بھی مسلمان کی کوئی بے چینی دور کرے، اﷲ تبارک و تعالیٰ اس کی قیامت کی بے چینیوں میں سے کوئی نہ کوئی بے چینی دور کریں گے۔

رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی دوسری احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسانی ہمدردی اور انسانی راحت رسانی کا ثواب صرف اسی صورت میں نہیں ہے جب کوئی شخص کسی مسلمان کی خدمت کررہا ہو بلکہ کسی غیر مسلم کی راحت رسانی اور اس کی کسی بے چینی کو دور کرنا بھی باعث اجروثواب ہے۔ انسانی ہمدردی کے جتنے راستے ہوتے ہیں ان سب پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے بڑا اجروثواب ہے۔

اگر کوئی آدمی یہ پیشہ صرف اس لئے اختیار کرتا ہے کہ پیسے کمائوں گا اور پیسے کمانے کے علاوہ اس کے ذہن میں کوئی اور تصور نہیں ہے۔ اس کے تمام فیصلوں کی بنیاد صرف یہی بات ہے کہ جہاں مجھے زیادہ پیسے ملیں گے، جس طریقے میں مجھے زیادہ دولت حاصل ہوگی، میں وہی طریقہ اختیار کروں گا۔ اس کے ذہن میں انسانی ہمدردی یاکسی انسان کو تکلیف سے بچانے کی کوشش ثانوی (دوسرے) درجہ میں ہے یا سرے سے ہے ہی نہیں، اﷲ تعالیٰ بچائے، تو ٹھیک ہے، بس اس نے ایک پیشہ اختیار کرلیا ہے۔ جائز حدود میں ہو تو یہ کوئی منع نہیں ہے۔ لیکن اس پر کوئی ثواب بھی نہیں ہے۔ جیسے کوئی شخص بازار میں سبزی بیچ کر پیسہ کما رہا ہے تو یہ شخص اپنی طبی خدمات کو بیچ کر پیسہ کمارہا ہے، اس میں اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔لیکن اگر آدمی کی اصل نیت یہ ہے کہ میں یہ پیشہ اس لئے اختیار کررہا ہوں کہ اس کے ذریعے میں لوگوں کی بے چینیوں کو دور کرسکوں، لوگوں کو راحت پہنچاسکوں، لوگوں کے ساتھ ہمدردی کرسکوں اور چونکہ میرے ساتھ میری ذاتی ضروریات بھی لگی ہوئی ہیں اس لئے میں اس پر کوئی فیس بھی وصول کرتا ہوں یا کوئی ذاتی منفعت بھی حاصل کرتا ہوں لیکن میرا اصل مقصد انسانیت کی خدمت و ہمدردی ہے، تو یہ سارا پیشہ اور اس کا ایک ایک لمحہ بہت بڑی عبادت بن جاتا ہے۔ بات صرف نیتوں کے فرق کی ہے۔ لیکن نیت کی درستگی انسان کے طرزِ عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔ آدمی یہ کہہ دے کہ میری نیت فلاں قسم کی ہے لیکن اس نیت کا صحیح ٹیسٹ اور صحیح مظاہرہ انسان کے عمل سے ہوتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج کل صورتحال ایسی ہے کہ جہاں بھی چلے جائیں مریضوں کی قطار لگی ہوتی ہے ۔ ایسے میں انسان میں جھنجھلاہٹ پیدا ہوجاتی ہے اور انسان کو غصہ بھی آجاتا ہے۔ لیکن اس جھنجھلاہٹ اور غصہ کو کوئی چیز روک سکتی ہے تو وہ صرف صحیح نیت ہے۔ اگر میں خدمت کی نیت سے یہ کام کررہا ہوں تو میرا فرض ہے کہ میں مریضوں سے معاملہ اخلاق کے ساتھ کروں، دیانتداری سے کروں اور ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کروں۔ جب تک یہ بات پیدا نہیں ہوجاتی، خدمت عبادت نہیں بن سکتی۔ایسی صورتحال میں غیر متعلقہ باتوں پر صبر کرنے کی بڑی فضیلت ہے۔

نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص تنہائی میں بیٹھا ہے، ذکر کررہا ہے، نوافل پڑھ رہا ہے، تلاوت کررہا ہے، اس سے ہزار درجہ بہتر وہ شخص ہے جو لوگوں کے ساتھ معاملات کررہا ہے اور ان سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر کررہا ہے۔ (جامع الترمذی)

مأخَذ

(اصلاحی خطبات )

کالم نگار : مفتی محمد تقی عثمانی
| | |
61