کچھ عرصہ پہلے ایک پکھی واس (جھگی والے) کا انٹرویو دیکھا، جس کے پندرہ سولہ بچے تھے اور سب کے سب بھیک مانگتے تھے۔ کثرتِ اولاد کا سبب دریافت کیا گیا تو بے غیرتوں کی طرح اپنے میلے پیلے دانت نکالتے ہوئے بولا، ’’او جی، کوئی تے چنگا نکل آوے گا۔‘‘ پہلے تو اس کی بے غیرتی پر سخت کوفت ہوئی، مگر پھر یکایک خیال آیا کہ ہمارے بہت سے معزز گھرانوں میں بھی افزائشِ نسل کے معاملے میں کچھ زیادہ عقل خرچ نہیں کی جاتی۔ مثلاً پہلا بچہ تو مرد کو دنیا پر اپنی جنسی صحت مندی ثابت کرنے کی جلدی میں پیدا کرنا ہوتا ہے، جبکہ عورت کو میکے ہی سے یہ سبق پڑھا کر بھیجا گیا ہوتا ہے کہ ’’پہلا پیریڈ آنے سے پہلے ہی پیٹ سے ہو جائیو، سو سسرال میں قدم جم جائیں۔‘‘ پرایا دھن جو ٹھہری۔ کہیں قدم نہ جمے اور دوبارہ گھر آبیٹھی تو؟ پھر اگر بیٹی پیدا ہوجائے تو بیٹے کی آرزو میں دوسری مہم شروع ہوتی ہے۔ ویسے اب مشاہدے میں آیا ہے کہ صنفِ اولاد کی تخصیص بھی ضروری نہیں رہی۔ دوسری اولاد اکثر بمشکل دس ماہ کے وقفے سے خودبخود آن وارد ہوتی ہے۔ وجہ پوچھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ صاحب کو کنڈوم پہن کر مزہ نہیں آتا۔ بچوں میں بھلے ہی بمشکل دس ماہ کا وقفہ ہو، مگر صاحب کے مزے میں تعطل ڈالنا بہرحال مناسب نہیں۔ کچھ تو خدا کا خوف کیجیے! خیر، بیٹے کی آمد کے بعد دادی جان کو جوڑی کی فکر ستاتی ہے۔ ’’ہور کر لو، جوڑی رَل جائے گی۔‘‘ اور چونکہ جوڑی رَلنے کا معاملہ اتفاق پر منحصر ہے، سو سلسلۂ تولید پھر ایسا چل نکلتا ہے کہ اللہ دے اور بندہ لے! اب جنسی صحت مندی بھی ثابت کرنی تھی، سسرال میں قدم بھی جمانے تھے، بیٹا بھی چاہیے تھا، کنڈوم سے مزہ بھی نہیں آتا تھا اور دادی جان کی جوڑی بھی رَلانی تھی۔ ان سب ضروری امور سے فراغت پاتے پاتے گھر میں پوری کرکٹ ٹیم تیار ہوچکی ہوتی ہے۔
اب اس کرکٹ ٹیم کی تعلیم و تربیت بھی ملاحظہ فرمائیے۔ بیٹیاں تو شروع ہی سے پرایا دھن ہیں، سو انہیں معاشی خودمختاری کی بھلا کیا ضرورت؟ ’’اسی کوئی کنجر آں، جیہڑے کڑیاں کولوں نوکریاں کروا کے انہاں دیاں کمائیاں کھاواں گے؟‘‘
ان حضرات کی کھوپڑی میں دماغ کی جگہ بھوسا بھرا ہوتا ہے، اور چونکہ انہوں نے عورت کو کبھی جنسی تسکین کے ایک ذریعے سے بڑھ کر کچھ سمجھا ہی نہیں ہوتا، سو اپنی سگی بیٹی کی معاشی خودمختاری کا ذکر آتے ہی انہیں وہ بھی کسی دفتر میں نہیں، کسی کے نیچے لیٹی ہوئی نظر آنے لگتی ہے۔ ان کے تصور میں بیٹی ڈاکٹر، انجینئر، استاد یا کسی ادارے کی سربراہ تو بن ہی نہیں سکتی۔ عورت کے لیے بستر کے علاوہ بھی کوئی جائے کار ہوسکتی ہے، یہ بات ان کے بھوسے میں اترتی ہی نہیں۔ دوسری طرف بیٹوں کی پرورش اس قدر ناز و نعم سے ہوتی ہے کہ اکثر کسی کام کے نہیں رہتے۔ پھر یہی لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ لڑکیاں بہت زیادہ ہیں اور لڑکے کم۔ او بھائی، لڑکے کم نہیں، کام کے لڑکے کم ہیں۔ اپنی ایک پوسٹ میں مردم شماری کے اعدادوشمار کے ساتھ یہ بات تفصیل سے لکھ چکی ہوں۔
خیر، اس غیر معمولی تربیت کے باوجود اگر کوئی بیٹا کسی طرح پڑھ لکھ کر قابل ہوجائے تو باقی بہن بھائیوں کی تعلیم، کفالت اور شادیوں کا پورا بندوبست اسی کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ باقی بہن بھائیوں کی کفالت اور شادیوں کے معاملات میں تو وہ باپ کا درجہ رکھتا ہے، مگر اپنی شادی کے فیصلے کی باری آئے تو والدہ کو اچانک یاد آتا ہے کہ ان کا لختِ جگر ابھی بہت چھوٹا ہے۔ اس کی پرورش میں بھی اس امر کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے کہ عمر کے ساتھ آمدنی تو بڑھتی رہے، مگر اپنی ذات کی دیکھ بھال کی صلاحیت پیدا نہ ہونے پائے۔ کپڑے استری کرنا، کھانا بنانا، اپنی ضروریات کا خیال رکھنا، یہ سب بھلا مردوں کے کام ہیں؟ پھر فخریہ بتایا جاتا ہے کہ ’’میرے بیٹے کو تو اپنے ہاتھ سے پانی لے کر پینے کی بھی عادت نہیں۔‘‘ گویا اولاد کی تربیت میں ایسی کامیابی حاصل ہوئی ہے کہ تیس پینتیس برس کا کمانے والا مرد پانی کے ایک گلاس کے سامنے بھی بے بس ہے۔ اس جسمانی محتاجی کے ساتھ جذباتی محتاجی کا بھی معقول بندوبست رہتا ہے۔ حسبِ ضرورت آنسو بہائے جاتے ہیں، محبت کے واسطے دیے جاتے ہیں اور بیٹے کو باور کرایا جاتا ہے کہ ماں کے سوا اس کا کوئی خیرخواہ نہیں۔ چنانچہ بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لیے تو وہ چاہے باپ کا درجہ رکھتا ہے، مگر اپنی بیوی کا شوہر اور اپنے گھر کا سربراہ بننے کے کسی طور لائق نہ ہونے پائے۔ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے والدہ اپنے لختِ جگر کو پلو سے نکالنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ صاحب کو اپنے کپڑے استری کرنا، اپنی بیوی سے محبت کرنا اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنا آجائیں، اور برسوں سے قائم یہ نہایت مفید انتظام درہم برہم ہوجائے۔
پھر اگر کسی طرح شادی کی نوبت آبھی جائے تو بیس لڑکیاں مسترد کرنے کے بعد جو اکیسویں بہو گھر آتی ہے، اس میں عیب نہ ملیں تو خوبیوں ہی سے کام چلا لیا جاتا ہے۔ سلیقہ مند ہو تو چالاک، کم گو ہو تو مغرور، سمجھ دار ہو تو تیز طرار۔ غرض عیب کا ہونا ضروری نہیں، نکالنے والا باصلاحیت ہو تو کافی ہے۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ بیٹے کو بھی یہ عیب بروقت دکھا دیے جائیں، مبادا بیوی سے کوئی قلبی تعلق استوار ہوجائے۔ سہاگ رات کے بعد کہیں ہنی مون کی جسارت کر بیٹھے تو ماں کو فوراً یاد آتا ہے کہ اس کی بہن نے بھی آج تک مری نہیں دیکھا۔ ’’پتر، نال اپنی بھین نوں وی لے جا، اوہنے کیہڑا مری ویکھیا اے!‘‘ الغرض جس بیٹے سے برسوں اپنے بچوں کی باپ بن کر کفالت کروائی گئی، اس کے اپنے گھر کا سربراہ بننے کی نوبت آئے تو ممتا پوری قوت سے آڑے آجاتی ہے۔ یوں بچے پیدا کرنے کا اختیار والدین کا، ان کی کفالت کی ذمہ داری قابل اولاد کی، اور اس اولاد کی اپنی زندگی پر اختیار بھی والدین ہی کا۔
اولاد سے اپنی مرضی منوانے کے لیے ہمارے ہاں والدین کے پاس ایسے ایسے نسخے موجود ہیں کہ ماہرینِ نفسیات بھی داد دیے بغیر نہ رہیں۔ ’’اپنی مرضی سے شادی کی تو دودھ نہیں بخشوں گی۔‘‘ ’’ہماری بات نہ مانی تو تمہارا باپ ہارٹ اٹیک سے مر جائے گا۔‘‘ حالانکہ والد صاحب جس اہتمام سے غذائیں تناول فرماتے ہیں، ان کی جان کو بیٹے کی شادی سے زیادہ خطرہ کولیسٹرول سے ہے۔ البتہ بیٹے کی پسند کی لڑکی کا نام سنتے ہی دل کی ایسی نازک حالت ہوجاتی ہے کہ معالج کے بجائے بیٹے کی شادی نہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ماہرِ نفسیات برائن باربر نے Parental Psychological Control کے عنوان سے جن روویوں کا مطالعہ کیا، ان میں احساسِ جرم پیدا کرنا، محبت واپس لے لینے کی دھمکی دینا اور جذباتی دباؤ کے ذریعے اولاد پر اختیار قائم رکھنا شامل ہیں۔ یوں سمجھیے کہ انہیں اولاد سے محبت تو ضرور ہے، بشرطیکہ وہ اپنی زندگی گزارنے کا ارادہ ترک کردے۔ سونے پہ سہاگا ہمارے جاہل مولوی ہیں جو مذہبی نصوص کو سیاق و سباق سے الگ کرکے ہر معاملے پر چسپاں کرنے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ والدین کی شان میں ایسے وعظ فرماتے ہیں کہ خود بھی روتے ہیں اور مجمع کو بھی رلا دیتے ہیں، مگر یہ بتاتے ہوئے زبان لڑکھڑا جاتی ہے کہ والدین بھی غلط ہوسکتے ہیں۔ اختلاف کرنے والے کو پہلے جہنم کا ٹکٹ پکڑاتے ہیں، پھر حسبِ ضرورت فتویٰ لگا کر وہاں پہنچانے کا بندوبست بھی کردیتے ہیں۔ گویا نعوذباللہ خدا بھی انہی کا ہے اور آخرت کا حساب کتاب بھی انہی کے پاس۔ ہمارے پدرشاہی خاندانوں کو ایسے وعظ بہت پسند آتے ہیں۔