بوڑھے استاد جی آج ریٹائر ہو رہے تھے۔اسکول کے عملے نے ان کے اعزاز میں ایک الوداعی تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ ہال طلبہ اور اساتذہ سے بھرا ہوا تھا۔ چالیس برس تک اسی درس گاہ میں علم کی شمع روشن کرنے والے استاد جی کے چہرے پر آج اداسی کے گہرے سائے تھے۔تقریب کے اختتام پر پرنسپل صاحب نے مائیک سنبھالا اور کہا:
’’استاد جی! آپ اپنی زندگی کے چالیس قیمتی سال اس ادارے کو دے چکے ہیں۔ آج اس موقع پر آپ کچھ کہنا چاہیں گے؟‘‘
استاد جی آہستہ آہستہ اپنی نشست سے اٹھے۔ ان کی آنکھوں میں نمی تھی۔ ہال میں موجود تمام طلبہ خاموشی سے انہیں دیکھ رہے تھے۔انہوں نے دھیمی آواز میں کہنا شروع کیا:
’’میں نے اس اسکول میں چالیس سال پڑھایا ہے۔ میں نے یہاں علم کے چراغ روشن کیے، نسلوں کو پروان چڑھتے دیکھا اور ایک زمانے میں یہاں تہذیب بھی دیکھی تھی، محبت بھی دیکھی تھی۔‘‘چند لمحوں کے لیے وہ خاموش ہوئے، پھر گویا اپنے ماضی کی یادوں میں کھو کر بولے:
’’آپ پوچھیں گے، وہ تہذیب کیا تھی؟وہ تہذیب یہ تھی کہ بچہ اپنے استاد کو دیکھ کر سائیکل سے اتر جاتا تھا۔ وہ تہذیب یہ تھی کہ بچی کسی بزرگ کے سامنے آتے ہی اپنے سر کا دوپٹہ درست کر لیتی تھی۔ وہ تہذیب یہ تھی کہ جھوٹ بولنے سے پہلے زبان لڑکھڑاتی تھی اور بڑوں کے سامنے آواز بلند کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔وہ ادب تھا، وہ حیا تھی، وہ احترام تھا، جو ہمارے معاشرے کی پہچان ہوا کرتا تھا۔‘‘
استاد جی کی آواز بھرا گئی۔ انہوں نے اپنے آنسو پونچھے اور دوبارہ گویا ہوئے:’’آج جب میں اس ادارے سے رخصت ہو رہا ہوں تو میرے سامنے کچھ ایسے مناظر ہیں جنہوں نے میرے دل کو زخمی کر دیا ہے۔میرا ایک شاگرد کلاس روم میں بیٹھا موبائل پر فحش ویڈیو دیکھ رہا ہے۔ میں اس کے سامنے کھڑا ہوں، مگر اسے نہ اپنی حرکت پر شرمندگی ہے، نہ استاد کی موجودگی کا احساس۔ وہ مجھے دیکھتا ہے، مگر موبائل بند کرنے کی زحمت تک نہیں کرتا۔اور جب میں ایک طالبہ کو ادب و حیا کی اہمیت سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں تو وہ جواب دیتی ہے:’’سر! آپ پرانے خیالات کے ہیں، زمانہ بدل گیا ہے۔‘‘
یہ سن کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے آج میری نہیں، تہذیب کی ریٹائرمنٹ ہو رہی ہے۔ جیسے آج صرف میں اس ادارے سے رخصت نہیں ہو رہا، بلکہ میرے ساتھ وہ ساری تہذیب بھی رخصت ہو رہی ہے جو ہم نے اپنے بڑوں سے سیکھی تھی۔وہ ادب، وہ حیا، وہ احترام، وہ اخلاقی اقدار، جن پر ہمارے معاشرے کی بنیاد قائم تھی، سب کچھ آہستہ آہستہ ہم سے چھوٹتا جا رہا ہے۔
لوگو! یاد رکھنا!
استاد تو پھر آ جائیں گے، کتابیں دوبارہ پڑھائی جائیں گی، عمارتیں پھر تعمیر ہو جائیں گی، مگر جس معاشرے سے تہذیب رخصت ہو جائے، اس کی واپسی آسان نہیں ہوتی۔جو تہذیب ایک بار مر جائے، اس کا جنازہ دوبارہ نہیں اٹھتا؛ اس کی قبر پر صرف افسوس کیا جا سکتا ہے۔اس لیے اپنی تہذیب کو مرنے مت دو! اپنے بچوں کو علم کے ساتھ ادب بھی سکھاؤ، ترقی کے ساتھ حیا بھی دو اور آزادی کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری کا شعور بھی پیدا کرو۔‘‘استاد جی کی آواز خاموش ہو گئی۔
پورے ہال پر گہری خاموشی چھا گئی۔ طلبہ کے چہرے جھکے ہوئے تھے۔ اساتذہ کی آنکھیں نم تھیں۔ کسی کے پاس تالی بجانے کو کچھ نہ تھا، کیونکہ بات محض ایک بوڑھے استاد کی رخصتی کی نہیں تھی؛ بات ایک پورے معاشرے کے زوال کی تھی۔آج واقعی ایک جنازہ تھا۔تہذیب کا جنازہ!