(+92) 319 4080233
کالم نگار

ماریہ عظیم

ماریہ عظیم

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
سیدنا مقداد بن اسودؓ کی رسول اللہﷺ سے محبت
سیدنا مقدادؓ ان سات حضرات میں سے ایک ہیں جنہوں نے اولاً اسلام کا اعلان کیا اور یہ وہ حالات تھے جن میں اسلام کا نام لینا موت کو دعوت دینا تھا۔ دینِ حق کو قبول کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ طرح طرح کے مصائب اور مظالم کا نشانہ بنا لیے گئے۔ صبر و تحمل کا پیمانہ لبریز ہوا تو مکہ سے حبشہ ہجرت کر گئے۔ حبشہ سے واپس آئے تو مدینہ کی طرف ہجرت کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ جب رسول اللہﷺ مدینہ تشریف لے گئے، تو سیدنا مقدادؓ بھی حضرت عتبہ بن غزوان اور سیدنا عبیدہ بن الحارثؓ کے ہمراہ مدینہ کے لیے روانہ ہوئے۔

سیدنا مقدادؓ فرماتے ہیں کہ جب میں ہجرت کر کے مدینہ آیا تو یہاں میرے رہنے سہنے اور کھانے پینے کا کوئی سامان نہ تھا۔ بھوک سے حالت تباہ ہو گئی تھی۔ بالآخر رسول اللہﷺ نے مجھ کو اور میرے دونوں ساتھیوں کو اپنے میزبان کلثوم بن ہدمؓ کے گھر میں جگہ دی۔ آپؓ کے پاس اس وقت صرف چار بکریاں تھیں جن کے دودھ پر ہم لوگوں کا گزارا تھا۔ ایک دفعہ رات کو آپﷺ باہر تشریف لے گئے اور دیر تک تشریف نہ لائے۔ میں نے خیال کیا کہ آج کسی انصاری نے دعوت دی ہو گی اور اس خیال کے آتے ہی میں نے اٹھ کر آنحضرتﷺ کے حصے کا دودھ بھی پی لیا، لیکن پھر خیال آیا کہ اگر یہ قیاس غلط ثابت ہوا تو بڑی ندامت ہو گی۔ غرض میں اسی شش و پنج میں تھا کہ آنحضرتﷺ تشریف لائے اور دودھ کی طرف بڑھے، دیکھا تو پیالہ خالی تھا۔ مجھے اپنی غلطی پر سخت ندامت ہوئی۔ خصوصاً جب کہ آپﷺ نے کچھ کہنے کے لیے دونوں ہاتھ اٹھائے تو میرے خوف و ہراس کی کوئی انتہا نہ رہی اور اندیشہ ہوا کہ عنقریب آنحضرتﷺ کی بد دعا سے ہماری دنیا و آخرت تباہ ہو جائے گی لیکن آنحضرتﷺ نے فرمایا:اَللّٰھُمَّ اَطْعِمْه مَنْ اَطْعَمَنِیْ وَاسْقِ مَنْ سَقَانِیْ

یعنی خدایا! جو مجھے کھلائے اس کو کھلا اور جو مجھے سیراب کرے اس کو سیراب کر۔

اس دُعا سے کچھ ہمت بڑھی، اٹھ کر بکریوں کے پاس گیا کہ شاید کچھ دودھ نکل آئے، لیکن اللہ کی قدرت جس تھن پر ہاتھ پڑا وہ دودھ سے لبریز نظر آیا۔ غرض کافی مقدار میں دودھ خدمتِ بابرکت میں پیش کیا۔ آنحضرتﷺ نے پوچھا کیا تم لوگ پی چکے ہو؟ عرض کی یا رسول اللہﷺ! آپ پہلے نوش فرما لیں تو پھر مفصل واقعہ عرض کروں گا؟ آنحضرتﷺ نے خوب سیر ہو کر نوش فرما لیا تو مجھے اپنی گزشتہ غلطی و ندامت پر بے اختیار ہنسی آ گئی۔ آنحضرتﷺ نے پوچھا: ابوالاسود یہ کیا ہے؟ میں نے تمام واقعہ بیان کیا تو ارشاد ہوا، یہ اللہ کی رحمت تھی، تم نے اپنے دونوں ساتھیوں کو کیوں بیدار نہ کر دیا کہ وہ بھی اس سے مستفیض ہوتے۔

جب قریشِ مکہ کا ایک خوفناک سیلاب میدانِ بدر میں امڈ آیا اور صحابہ کرامؓ کو قریش کی روانگی کی اطلاع دی۔ چونکہ جانثارانِ رسول اللہﷺ اور مجاہدینِ اسلام کے لیے یہ پہلی آزمائش تھی تو اس لیے آنحضرتﷺ نے مہاجرین و انصار کو مشورہ کے لیے جمع فرمایا۔ چنانچہ سب سے پہلے سیدنا ابوبکرؓ نے اپنی صداقت اور وفا شعاری کا جوہر دکھایا، پھر ان کے بعد سیدنا عمرؓ نے ایک تقریر میں اپنے خلوص اور وفا شعاری کا اظہار کیا۔ لیکن سیدنا مقدادؓ نے جس جوش و جذبے کے ساتھ اپنی فدویت و جانثاری کا ثبوت دیا اس نے تمام صحابہ کرامؓ کو حیران کر دیا۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو جو حکم فرمایا ہے آپﷺ اسے کر گزرئیے، ہم آپﷺ کے ساتھ ہیں۔ اللہ کی قسم ہم آنحضرتﷺ سے اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا۔

قَالُوۡا يٰمُوۡسٰٓى اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِيۡهَا‌ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قَاعِدُوۡنَ

ترجمہ: وہ کہنے لگے: اے موسیٰ! جب تک وہ لوگ اس (ملک) میں موجود ہیں، ہم ہرگز ہرگز اس میں قدم نہیں رکھیں گے (اگر ان سے لڑنا ہے تو) تو بس تم اور تمہارا رب چلے جاؤ، اور ان سے لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ (سورۃالمائدة: آیت 24)

ہم بنی اسرائیل کے خلاف یہ کہیں گے کہ آپ اور آپ کا پروردگار جہاد و قتال کر لیں، ہم بھی آپﷺ کے ساتھ جہاد و قتال کریں گے بلکہ ہم آپﷺ کے دائیں اور بائیں، آگے اور پیچھے سے لڑیں گے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپﷺ کو دینِ حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ اگر آپﷺ ہمیں برک الغماد تک لے چلیں تو ہم آپﷺ کی معیت میں لڑتے چلے جائیں گے۔ اس سادہ مگر پرجوش اظہارِ جانثاری سے آنحضرتﷺ اس قدر خوش ہوئے کہ رسول اللہﷺ کا چہرہ انور فرطِ مسرت سے چمک اٹھا۔

سیدنا مقدادؓ نے غزوہ بدر کے موقع پر جس جوش و جذبے کا اظہار کیا، وہ تمام صحابہ کرامؓ کے لیے باعثِ رشک تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ فرمایا کرتے تھے: کاش! میں اس وقت جنگ میں شریک ہونے کے لائق ہوتا اور یہ جملے میری زبان سے ادا ہوتے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں جنگ بدر میں حضرت مقدادؓ کے ساتھ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھے اس جنگ میں ان کے ساتھ ہونا اس قدر محبوب ہے کہ تمام دنیا اس کے آگے کچھ نہیں ہے۔

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : ماریہ عظیم
| | |
76