(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناسمیع اللہ عزیز

مولاناسمیع اللہ عزیز

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
خاموش بھوک، خوددار چہرے اور ہماری ذمہ داری
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں بڑے بڑے منصوبوں، شاندار عمارتوں اور نمایاں کامیابیوں کا ذکر تو بہت ہوتا ہے، لیکن کبھی کبھی ہماری نگاہ اُن خاموش چہروں تک نہیں پہنچتی جو ہماری زندگیوں میں روشنی پھیلاتے ہیں، خود دوسروں کو جینے کا سلیقہ سکھاتے ہیں، مگر اپنی زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے لیے پریشان ہوتے ہیں۔

ذرا سوچیے! وہ استاد جو بچوں کو قرآن پڑھاتا ہے، دین کی تعلیم دیتا ہے، اخلاق و کردار سنوارتا ہے اور نسلوں کی تربیت کرتا ہے، اگر وہی استاد مہینے کے آخر میں اپنے گھر کے راشن، بچوں کی فیس، علاج اور دیگر ضروری اخراجات کے لیے فکرمند ہو تو کیا یہ صرف اس کا ذاتی مسئلہ ہے؟ یا یہ پورے معاشرے کے ضمیر سے متعلق ایک سوال ہے؟

ہمارے معاشرے میں بہت سے خوددار لوگ اپنی پریشانیاں زبان پر نہیں لاتے۔ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنی مشکلات خاموشی سے برداشت کرتے ہیں۔ ان کے چہروں پر وقار ہوتا ہے، لہجے میں شکوہ نہیں ہوتا، مگر ان کے گھروں میں ایسی ضرورتیں بھی ہوتی ہیں جنہیں صرف وہی جانتے ہیں۔ ہم ان کی خاموشی کو آسودگی سمجھ لیتے ہیں، حالاں کہ کبھی کبھی یہی خاموشی سب سے بڑی فریاد ہوتی ہے۔

قرآن کا سوال: کیا تم مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو؟

قرآن مجید انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے فرماتا ہے:﴿وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ﴾(سورۃ الحاقہ: 34؛ سورۃ الماعون: 3)

ترجمہ: اور وہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔

غور کیجیے! قرآن نے یہاں صرف مسکین کو کھانا نہ کھلانے کا ذکر نہیں کیا، بلکہ اسے کھانا کھلانے کی ترغیب نہ دینے کو بھی قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔ گویا انسان کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ خود نیکی کرے، بلکہ یہ بھی ہے کہ معاشرے میں نیکی کا جذبہ بیدار کرے، دوسروں کو ضرورت مندوں کی خبرگیری کی طرف متوجہ کرے اور بھلائی کے کاموں میں تعاون کی فضا پیدا کرے۔

یہ آیات ہمیں دعوت دیتی ہیں کہ ہم اپنے معاشرے میں بھوک، محتاجی اور محرومی کو محض کسی دوسرے کا مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔

وہ لوگ جو مانگتے نہیں، کیا انہیں ہماری ضرورت نہیں؟

اللہ تعالیٰ نے خوددار ضرورت مندوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ﴾(سورۃ البقرہ: 273)

ترجمہ: ناواقف شخص ان کی خودداری کی وجہ سے انہیں مال دار سمجھتا ہے۔

یہ آیت ہمارے معاشرے کی ایک بڑی حقیقت سامنے لاتی ہے۔ ہر ضرورت مند اپنی ضرورت بیان نہیں کرتا، ہر پریشان شخص اپنی پریشانی کا اعلان نہیں کرتا اور ہر مجبور انسان مدد کے لیے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔بعض لوگ اپنی عزتِ نفس کی حفاظت کرتے ہوئے خاموش رہتے ہیں۔ وہ دوسروں کے سامنے اپنی تنگ دستی ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ ایسے لوگوں کی مدد کے لیے محض ان کے سوال کرنے کا انتظار کرنا کافی نہیں؛ ہمیں حکمت، احترام اور رازداری کے ساتھ ان کی حقیقی ضروریات کو سمجھنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔

خصوصاً اُن اساتذہ کی طرف توجہ دیجیے جو علمِ دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ان میں سے جو واقعی مالی تنگی کا شکار ہیں، ان کی اعانت محض ایک فرد کی مدد نہیں، بلکہ ایک ایسے انسان کا سہارا بننا ہے جو دوسروں کی تعلیم و تربیت میں اپنا وقت اور صلاحیتیں صرف کر رہا ہے۔

کسی کی پریشانی دور کرنا، اللہ کی مدد کا مستحق بننا ہے,رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ»(صحیح مسلم، حدیث: 2699)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں رہتا ہے، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔

یہ کتنی بڑی بشارت ہے! ہم کسی پریشان انسان کی مشکل کم کرنے کے لیے قدم اٹھاتے ہیں، اور اس کے بدلے اللہ تعالیٰ کی مدد کی امید رکھتے ہیں۔ ہم کسی کے گھر کی ضرورت پوری کرتے ہیں، کسی کے بچے کی تعلیم جاری رکھنے میں مدد دیتے ہیں، کسی کے علاج یا راشن کا انتظام کرتے ہیں، یا کسی ضرورت مند کی کفالت میں حصہ ڈالتے ہیں—تو یہ سب اپنی استطاعت کے مطابق خیر کے راستے ہیں۔

ہر شخص کسی کی مکمل کفالت نہیں کر سکتا، لیکن ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق کچھ نہ کچھ کر سکتا ہے۔ کسی کا حصہ بڑا ہوتا ہے، کسی کا چھوٹا؛ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کی تکلیف سے بے خبر نہ رہیں۔ نیکی صرف خود کرنے کا نہیں، دوسروں کو شریک کرنے کا نام بھی ہے.رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ»(صحیح مسلم، حدیث: 1893)

ترجمہ: جو شخص کسی نیکی کی رہنمائی کرے، اسے بھی نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔

یہ حدیث ہمارے لیے امید کا ایک اور دروازہ کھولتی ہے۔ اگر ہمارے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ ہم کسی ضرورت مند کی مکمل مدد کر سکیں، تب بھی ہم کسی صاحبِ استطاعت کو اس کی ضرورت سے آگاہ کر سکتے ہیں، کسی خیر کے کام میں لوگوں کو جمع کر سکتے ہیں اور کسی مستحق کے لیے تعاون کا راستہ بنا سکتے ہیں۔

کبھی ایک شخص کی دی ہوئی رقم کسی گھر کا راشن بن جاتی ہے، کبھی چند افراد کے تعاون سے کسی بچے کی تعلیمی فیس ادا ہو جاتی ہے اور کبھی اجتماعی کوشش کسی خوددار استاد کے لیے مہینے بھر کی پریشانی کم کر دیتی ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مدد کرتے ہوئے کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔ ضرورت مند کو احسان جتانے، اس کی تشہیر کرنے یا اسے لوگوں کے سامنے اپنی مجبوری بیان کرنے پر مجبور کرنے کے بجائے احترام اور رازداری کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

خاموش محرومی کے مقابلے میں ہمارا عملی کردار:
معاشرے کی اصلاح صرف تقریروں اور تحریروں سے نہیں ہوتی؛ اس کے لیے عملی قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ ہمیں اپنے اردگرد موجود مستحق خاندانوں، یتیم بچوں، کم آمدنی والے افراد اور مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے اساتذہ کی ضروریات کا جائزہ لینا چاہیے۔کسی بچے کی تعلیمی فیس کی ذمہ داری اٹھائی جا سکتی ہے۔ کسی ضرورت مند استاد کی مالی اعانت کی جا سکتی ہے۔ کسی گھر کے لیے راشن یا علاج کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر ہم ان میں سے کوئی کام تنہا نہیں کر سکتے تو دوسروں کے تعاون سے یہ کام ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

ایک بچے کا مستقبل، ایک استاد کا سہارا اور ہماری آخرت:
ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ہمارے تھوڑے سے تعاون سے کیا فرق پڑے گا؟ لیکن کسی ضرورت مند کے لیے وہی تھوڑا سا تعاون فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ کسی بچے کی تعلیم جاری رہ سکتی ہے، کسی استاد کے گھر میں آسانی آ سکتی ہے اور کسی پریشان خاندان کو یہ احساس ہو سکتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہے۔ہم بھی مستحق بچوں کی تعلیمی معاونت اور ضرورت مند اساتذہ کی اعانت جیسے کاموں میں حصہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ یہ اسی وسیع تر احساسِ ذمہ داری کی ایک مثال ہے کہ تعلیم کے فروغ کے ساتھ اُن لوگوں کا خیال بھی رکھا جائے جو علم کی روشنی پھیلانے میں مصروف ہیں۔

ہمیں اپنے آپ سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے: اگر ہمارے آس پاس کوئی انسان بنیادی ضرورتوں کے لیے پریشان ہے، اور ہم اپنی استطاعت کے باوجود اس کی مدد نہیں کرتے یا کسی دوسرے کو بھی اس کی مدد کی ترغیب نہیں دیتے، تو کیا ہم نے اپنے معاشرتی کردار پر پوری طرح غور کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ ہمیں محتاجوں کی ضرورت محسوس کرنے، خوددار لوگوں کی خاموش پریشانیوں کو سمجھنے، ان کی عزت کے ساتھ مدد کرنے اور دوسروں کو بھی نیکی کی ترغیب دینے کی توفیق عطا فرمائے۔کیونکہ معاشرے کی اصل خوب صورتی صرف اس میں نہیں کہ یہاں کتنے لوگ خوش حال ہیں، بلکہ اس میں بھی ہے کہ یہاں ضرورت مند کتنے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑا جاتا۔کبھی کسی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بڑھایا گیا ہاتھ، کسی کے لیے آسانی اور ہمارے لیے اللہ کی رضا کی امید بن جاتا ہے۔

کالم نگار : مولاناسمیع اللہ عزیز
| | |
88