عبداللّٰہ بٹ اپنے زمانے میں ادبی و صحافتی حلقوں کی جانی پہچانی شخصیت تھے مگر نسبتاً کم عمر زندگی اور وقت کے فاصلے نے ان کا نام نئی نسل کے لیے اجنبی بنا دیا۔کتاب پر تبصرہ
ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری
سوال یہ ہے کہ 2026ء میں ہم کیا کر رہے ہیں؟ قانون ایک عقیدے کی آئینی سرحد متعین کرسکتا ہے، آنے والی نسلوں کے دل و دماغ میں اس عقیدے کو زندہ نہیں رکھ سکتا۔ یہ کام ہمیں کرنا ہے۔
ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری
بلیغی جماعت کے طریقِ کار، بعض تعبیرات یا ترجیحات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے؛ آخر انسانوں کا کوئی کام نقد سے بالاتر نہیں مگر یہ حقیقت کون جھٹلائے گا کہ دعوتِ دین کو عام مسلمان کے ہاتھ میں تھما کر گلی، کوچے اور بازار تک پہنچا
ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری
اہلِ سنت کا متوازن موقف یہی ہے کہ ظلم کو ظلم کہا جائے، اہلِ بیت کے حق کو حق سمجھا جائے، تاریخ کی سیاہی پر سفیدی نہ پھیری جائے لیکن زبان کو بھی شریعت کے ادب سے آزاد نہ کیا جائے۔
ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری