(+92) 319 4080233
کالم نگار

عبداللہ عبداللہ

عبداللہ عبداللہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
کنویں کا مینڈک
گئے وقتوں کی بات ہے کہ کسی ساحل سمندر سے بس کچھ ہی فاصلے پر ایک چھوٹا ساکنواں ہوا کرتا تھا۔ اس کنویں میں کچھ مینڈک رہتے تھے۔ یہ کنواں نہ صرف بہت گہرا تھا بلکہ اس میں پانی کی سلج بھی بہت بہتی تھی، جس کی وجہ سے یہ مینڈک کنویں سے بھی باہر نہ کل پاتے یہ مینڈک اسی کنویں میں پیدا ہوتے اور پھر اس کنویں میں ہی پھدک چھک کر مر جاتے ۔

یہ محدود کنواں ہی ان مینڈ کوں کی کل کائنات تھا۔ ہوا یوں کہ ایک چودھویں رات سمندر میں مد و جزر بہت زیادہ ہوا۔ اتنا زیادہ کہ سمندر کا کچھ پانی بہتا ہوا اس کنویں میں گرنے لگا اور پھر اسی پانی کے بہاؤ پر غوطے کھاتا ہوا سمندر کا ایک مینڈک بھی کنویں میں گر گیا ۔ ایک اجنبی مینڈک کو کنویں میں گرتا دیکھ کر کنویں کے سبھی مینڈک اس نو وارد کے گرد جمع ہو گئے اور حیرانی کے ساتھ اسے دیکھنے لگے۔ پھر کچھ لمحے بعد کنویں کا ایک مینڈک سمندر کے اس مینڈک سے پوچھنے لگا :

میاں تم کہاں سے آن ٹیکے ہو؟

سمندر کا مینڈک اس چھوٹے سے کنویں میں قید ہو کر بہت پریشان تھا۔ کنویں کی دیواریں اسے خود پر گرتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ اس اندھیرے میں ڈوبے کنویں میں اس کا دم گھٹ رہا تھا ۔ بڑی مشکل سے سانس لیتے ہوئے وہ بتانے لگا :

میں سمندر کا مینڈک ہوں ۔ مدو جزر کے سبب سمندر کے پانی کے ساتھ بہتا ہوا اس کنویں میں آن گرا ہوں ۔

کنویں کے مینڈکوں کے لیے یہ لفظ سمندر بالکل اجنبی تھا۔ سب حیران ہو کر پوچھنے لگے : یہ۔ ۔ ۔ ۔ سمند ر کیا چیز ہوتی ہے؟“

سمندر کا مینڈک اس تنگ و تاریک کنویں میں کچھ وقت گزار کر ہی نڈھال ہو چکا تھا مگر اپنی بچی کچھی ہمت جمع کر کے بتانے لگا :سمندر پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہوتا ہے اور اس پانی میں بڑے بڑے جاندار موجود ہوتے ہیں ۔

یہ سب سن کر کنویں کے ایک مینڈک نے اچھل کود کرنا شروع کر دی اور کنویں کی دیوار کے ساتھ ساتھ کچھ فاصلہ طے کر کے سمندر کے مینڈک سے پوچھنے لگا :کیا۔۔۔۔۔ کیا اتنا بڑا ہوتا ہے یہ سمندر ؟

کنویں کے مینڈک کی یہ بات سن کر سمندر کے مینڈک کو اپنی حالت زار کے باوجود ہنسی آگئی لیکن اپنی ہنسی پر قابو پا کر بتانے لگا : نہیں نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سمندر تو اس سے بہت بڑا ہوتا ہے ۔“

کنویں کے مینڈک نے یہ سنتے ہی ایک بار پھر سے کنویں کی دیوار کے ساتھ ساتھ اپنی اچھل کو دشروع کر دی ۔ اب کی بار اس نے کنویں کا ایک چکر مکمل کیا اور پھر امید بھری نگاہوں سے سمندر کے مینڈک کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا :کیا اتنا بڑا ہوتا ہے سمندر ؟

اب کی بار تو سمندر کے مینڈک کے لیے اپنی ہنسی روکنا ہی مشکل ہو گیا۔ ہنستے ہنستے وہ کنویں کی دیواروں کے ساتھ لوٹ پوٹ ہونے لگا ۔ اسے کھانسی کا شدید دورہ بھی پڑا۔ کافی دیر بعد سانس کچھ بحال ہوئی تو کنویں کے مینڈک کو بتانے لگا :سمندر تمہارے اس کنویں سے بڑا ، بہت بڑا۔۔۔ بہت ہی بڑا ہوتا ہے۔“

یہ سنتے ہی کنویں کے بھی مینڈک مل کر چلانے لگے :نہیں نہیں تم جھوٹ بول رہے ہو۔ اس کنویں سے بڑا کچھ بھی نہیں ہوسکتا ۔ یہ کنواں ہی سب سے بڑی چیز ہے۔ یہ کنواں ہی کل کا ئنات ہے ۔"

انسانی خواہشات لامحدود ہوتی ہیں اور یہ لامحدود کتنا بڑا لا محدود ہے، اس بات کو جاننے کے لیے ہم میں سے ہر شخص بھی محض کنویں کا ایک مینڈک ہے۔ ہر انسان اپنے حالات زندگی کے ایک محدود کنویں میں پیدا ہوتا ہے اور پھر اسی کنویں میں پھدک پھدک کر مر جاتا ہے۔یہ جانے بنا ہی کہ اس محدود کنویں سے باہر کتنی بڑی دنیا موجود تھی ۔ پھر مسئلہ محض یہ نہیں ہے کہ ہم میں سے ہر شخص ساری زندگی خود اپنی ہی خواہشات کی لا محدودیت سے لاعلم رہتا ہے، اصل پریشانی والی بات تو یہ ہے کہ جن چیزوں کو ہم اپنی خواہشات سمجھ کہ انہیں حاصل کرنے کی جستجو کرتے رہتے ہیں، ان میں سے ہماری حقیقی خواہش کوئی ایک چیز بھی نہیں ہوتی ۔

ہم لاعلمی میں اپنی مجبوریوں کو اور چھوٹی چھوٹی ضروریات زندگی کو اپنی خواہشات سمجھ رہے ہوتے ہیں ، حالانکہ ہماری حقیقی خواہشات تو اس چھوٹے کنویں سے باہر دور۔۔۔کہیں بہت دور موجود ہوتی ہیں ۔

کنویں کے مینڈک کی یہ کہانی دراصل انسان کی محدود سوچ اور محدود دنیا کی علامت ہے۔ ہم میں سے بہت لوگ اپنی زندگی کے اصل مقصد، ترقی اور اعلیٰ مقاصد کو بھول کر وقتی خواہشات، لذتوں اور عادتوں ہی کو اپنی کل کائنات سمجھ لیتے ہیں۔

مأخَذ

BookWhoAmI میں_کون_ہوں

کالم نگار : عبداللہ عبداللہ
| | |
98