(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناظہیرالدین بابر

مولاناظہیرالدین بابر

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
انکار تاریخ یا حفاظت تاریخ
گزشتہ زمانے میں وقوع شدہ واقعات کو تاریخ کہاجاتا ہے۔

"واقعہ "کے لفظ میں ہی یہ معنی موجود ہے : جو کام زمانہ ماضی میں وقوع پذیر ہوا وہ "واقعہ" ہے۔

فیس بک پر بعض لوگ خلط کر رہے ہیں۔ تاریخ کا کوئی انکار نہیں کرسکتا، تاریخ تو قرآن کریم میں بھی بیان ہوئی ہے۔

جیسے فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا۔۔یہ ایک تاریخی واقعہ ہے ۔ تاریخ کا حصہ ہے کہ فرعون خود کو بڑا خدا کہتا تھا۔

اس "واقعہ " یا وقوعہ کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے تو اس امر کی صداقت سو فیصد ہے اس تاریخ کا کوئی منکر نہیں ۔

کچھ لوگ "منکرین تاریخ" کا لفظ استعمال کرکے اپنی تہی دامنی کا پردہ چاک کر رہے ہیں ۔

اسلامی تاریخ کی تدوین کا کام صحت کے التزام کے ساتھ نہیں کیا گیا، وہ حکایتیں ہیں روایتیں ہیں جن کا زیادہ حصہ کمزور ہے ۔ قرآن نے صحابہ کرامؓ کی تاریخ یہ بیان کی ہے کہ وہ ایسی جماعت ہے جن کے نزدیک کفر،فسوق اور عصیان سخت ناپسند تھے،وہ ہدایت یافتہ اور راشدون تھے۔۔۔ایک "تاریخ" قرآن کی بیان کردہ ہے اور ایک وہ "تاریخ" ہے جو تاریخ کے نام سے لکھی کتابوں میں "جمع" کردی گئی؟ کس کا اعتبار کرنا ہے؟ کسے ماننا ہے؟

لہذا خاطر جمع رکھیں منکر تاریخ کوئی نہیں ہے بلکہ وہ محافظین تاریخ ہیں۔ "غیر واقع" کو واقعہ بنانے والوں کی تردید دراصل "تاریخ" کا اثبات و اقرار ہے۔ جو "واقع" ہے اسے مانا جائے جو "واقع" نہیں کسی کا گھڑا ہوا افسانہ ہے اسے نہ ماننا ہی"تاریخ" کو ماننا ہے۔

سب جانتے مانتے ہیں کہ فن تاریخ کی کتابوں میں جھوٹ سچ ملا جلا ہے ،لہذا قرآن کے مخالف جھوٹی روایتوں کی تردید انکار تاریخ نہیں بلکہ حفاظت تاریخ ہے۔ صحابہ کرامؓ کی جو صورت واقعہ قرآن کریم میں ہے وہی "عین واقعہ" ہے اس صورت کو دھندلانے والی جھوٹی روایتوں کو پھاڑنا انکار تاریخ نہیں بلکہ اپنی صحیح تاریخ کی حفاظت ہے۔اور زندہ قومیں اپنی تاریخ کو محفوظ رکھتی ہیں۔

اس کا دوسرا پہلو بھی ہے۔ سوشل میڈیا پر تاریخ کے نام سے صحابہ کرام کے خلاف بدزبانی و بدگمانی عام کرنے کے لئے مکمل چینل وقف ہیں، اب عوام الناس تو تھوڑے ہی اسماء رجال کے علم سے واقف ہیں ،عوام تو رہے ایک طرف ،فارغ التحصیل فضلاء کے نوے فیصد اس فن سے آگاہی نہیں رکھتے ،ایسے میں کون ہوگا جو تاریخی روایتوں کی چھان پھٹک کرتا رہے گا!

اس لئے عوام کو ایک ضابطہ دیا جارہا ہے کہ :
صحابہ کرامؓ کے خلاف بدگمانی ایمان کش ہے اور اگر کوئی تمہیں تاریخی کتابوں کے حوالے دے کر مرعوب کرنے کی کوشش کرے تو پورے اعتماد کے ساتھ کہو:

کیا قرآن کافی نہیں ہے؟ تو کیا قرآن میں معاذاللہ غلط بیان کیا ہے؟

ہاں جسے ہمت،فرصت اور استعداد ہو تو وہ علماء کی کتابیں پڑھ لے ہر اعتراض کا رد روایتا درایتا اور فن کے اصولوں کے مطابق مل جائے گا۔

لیکن ظاہر ہے کہ نوے فیصد عوام تو تحقیقی کتابیں نہیں پڑھتے اس لئے ان کی حفاظت ایمان کے لئے کہا جائے گا کہ تم اس "تاریخ" کو پلے باندھ لو جو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے اس کے مقابلے میں جو آئے اسے قبول کرنے سے ہاتھ کھینچ لو۔

الغرض جھوٹی روایات سے نفرت پیدا کرنا انکار تاریخ نہیں بلکہ صحیح تاریخ کی طرف بڑھنے کی دعوت ہے ۔ اس لئے بعض لوگوں کی طرف سے اسے جذباتیت کہنا یا منکرین تاریخ کہہ کر تمسخر اڑانا بذاتِ خود جذباتیت ہے جس میں کوئی منطق اور عقلیت نہیں ہے۔

کالم نگار : مولاناظہیرالدین بابر
| | |
117