(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمدعظیم حیات،لندن

محمدعظیم حیات،لندن

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
پراسرار کمرہ
مصر کے عظیم ہرم کے اندر ایک ایسا کمرہ موجود ہے جس کی تعمیر آج بھی ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور انجینئروں کے لیے غیر معمولی دلچسپی رکھتی ہے۔ اس کمرے کی دیواریں اور چھت عام چونے کے پتھر سے نہیں بلکہ سرخی مائل گرینائٹ کے دیوہیکل بلاکس سے بنائی گئی ہیں، جن میں سے بعض کا وزن کئی درجن ٹن ہے۔

یہ بادشاہ کا کمرہ (King’s Chamber) کہلاتا ہے اور تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے فرعون خوفو کے عظیم ہرم کے اندر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی سب سے حیران کن بات صرف پتھروں کا وزن نہیں بلکہ یہ ہے کہ انہیں مصر کے جنوب میں واقع اسوان کے علاقے سے یہاں پہنچایا گیا تھا، جو دریائے نیل کے راستے سینکڑوں کلومیٹر دور ہے۔

اسوان کا گرینائٹ اپنی سختی اور مضبوطی کے لیے مشہور تھا۔ قدیم مصری اسے مجسموں، ستونوں، معبدوں اور شاہی تعمیرات میں استعمال کرتے تھے۔ لیکن خوفو کے ہرم کے اندر اس پتھر کا استعمال ایک کہیں زیادہ مشکل منصوبہ تھا۔ پہلے پہاڑوں سے بڑے بڑے پتھر الگ کرنا، پھر انہیں تراشنا، دریائے نیل تک پہنچانا، کشتیوں کے ذریعے شمال کی طرف منتقل کرنا اور آخرکار ہرم کے اندر ایک مخصوص بلندی پر نصب کرنا تھا۔

تصویر میں کمرے کی چھت کو دیکھیے۔ یہ گرینائٹ کے بڑے بڑے شہتیروں سے بنائی گئی ہے، جو ایک دیوار سے دوسری دیوار تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض کا وزن اندازاً پچاس سے ستر ٹن تک بتایا جاتا ہے۔ یہ پتھر اس وقت اپنی جگہ نصب کیے گئے جب ہرم ابھی زیرِ تعمیر تھا۔ یعنی معماروں کو پہلے ہی معلوم تھا کہ عمارت کے اندر کس مقام پر یہ بھاری کمرہ بنانا ہے اور اس کے اوپر ہزاروں ٹن پتھروں کا بوجھ کس طرح سنبھالنا ہوگا۔

اس کمرے کے اوپر بھی گرینائٹ کے بھاری شہتیروں کی کئی تہیں موجود ہیں۔ ان کے درمیان خالی جگہیں رکھی گئی تھیں، جبکہ سب سے اوپر ڈھلوانی پتھروں کا ایک نظام بنایا گیا۔ یہ پیچیدہ ساخت بالائی تعمیر کے بوجھ کو سنبھالنے اور تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

یہاں اصل حیرت قدیم مصری معماروں کی منصوبہ بندی پر ہوتی ہے۔ انہوں نے صرف ایک کمرہ نہیں بنایا بلکہ اس کے اوپر پتھروں کا ایک ایسا نظام بھی تعمیر کیا جو ہزاروں سال سے قائم ہے۔

آج ہمارے پاس بڑی بڑی کرینیں، بھاری ٹرانسپورٹ گاڑیاں اور پتھر کاٹنے والی جدید مشینیں موجود ہیں۔ لیکن تقریباً 2560 قبل مسیح میں مصری کاریگروں کے پاس یہ سہولتیں نہیں تھیں۔ وہ رسوں، لکڑی کی سلجوں، افرادی قوت، پیمائش کے آلات اور تعمیراتی راستوں کی مدد سے کام کرتے تھے۔ قدیم مصر میں بھاری پتھر منتقل کرنے کے شواہد موجود ہیں، تاہم خوفو کے ہرم میں ہر بلاک کو اس کی آخری جگہ تک پہنچانے کا مکمل طریقہ آج بھی تحقیق کا موضوع ہے۔

ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ عظیم ہرم کی تعمیر میں استعمال ہونے والے لاکھوں پتھروں کی اکثریت مقامی چونے کے پتھر کی تھی، لیکن بادشاہ کے کمرے جیسے مخصوص حصوں کے لیے دور دراز سے گرینائٹ منگوایا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معمار مختلف پتھروں کی خصوصیات کو سمجھتے تھے اور انہیں ضرورت کے مطابق استعمال کرتے تھے۔

کمرے کے اندر موجود گرینائٹ کا بڑا صندوق نما تابوت بھی اسی پتھر سے تیار کیا گیا تھا۔ اس کی جسامت اور اندرونی راستوں کی بناوٹ سے یہ امکان مضبوط ہوتا ہے کہ اسے کمرے کی تعمیر مکمل ہونے سے پہلے ہی وہاں پہنچا دیا گیا ہوگا۔

اب ایک لمحے کے لیے اس پورے عمل پر غور کیجیے۔ اسوان کی کانوں میں ایک دیوہیکل پتھر الگ کیا جاتا ہے، اسے دریائے نیل تک پہنچایا جاتا ہے، کشتی پر لادا جاتا ہے، طویل سفر کے بعد جیزہ لایا جاتا ہے اور پھر ایک زیرِ تعمیر ہرم کے اندر کئی منزلوں کے برابر بلندی تک پہنچا کر نہایت درست جگہ پر نصب کردیا جاتا ہے۔

اور یہ کام صرف ایک پتھر کے ساتھ نہیں بلکہ متعدد بھاری گرینائٹ بلاکس کے ساتھ انجام دیا گیا۔ تقریباً ساڑھے چار ہزار سال گزرنے کے باوجود یہ کمرہ اپنی اصل جگہ پر قائم ہے۔ اس کی دیواروں اور چھت کے بھاری پتھر آج بھی قدیم مصریوں کی انجینئرنگ، تنظیم اور تعمیراتی مہارت کا غیر معمولی ثبوت ہیں۔ عظیم ہرم کے بارے میں سب سے دلچسپ سوال شاید یہ نہیں کہ اتنے بھاری پتھر اٹھائے کیسے گئے، بلکہ یہ ہے کہ ان معماروں نے ایک ایسی عظیم تعمیر کا پورا منصوبہ کس مہارت سے ترتیب دیا ہوگا جس میں سینکڑوں کلومیٹر دور سے آنے والے گرینائٹ کے شہتیر بھی اپنی مقررہ جگہ پر پہنچنے تھے، اور جسے ہزاروں سال تک قائم بھی رہنا تھا

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : محمدعظیم حیات،لندن
| | |
85