(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناقدیم جان،استاد ولائبریرین جامعہ بنوریہ عالمیہ

مولاناقدیم جان،استاد ولائبریرین جامعہ بنوریہ عالمیہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
ایک مختصر اور مبارک عمل
امتحانات کے دن تھے ، ایک صبح جب میں گھر سے غیرملکی لائبریری کی طرف جا رہا تھا تو درجہ سابعہ اور دورۂ حدیث کے طلبہ غیرملکی شعبے سے جامعہ کی مرکزی مسجد محمدی (امتحانی ہال) کی طرف جا رہے تھے ۔ راستے میں جو بھی طالب علم میرے پاس سے گزرتا ، یا تو وہ مجھے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہہ کر سلام کرتا یا پھر میں خود سلام میں پہل کرتا ۔ لائبریری تک پہنچتے پہنچتے شاید تیس سے چالیس مرتبہ یہ مبارک عمل ہو چکا تھا ۔

لائبریری کھول کر جب اپنی کرسی پر بیٹھا تو دل میں ایک عجیب سا سرور محسوس ہوا ۔ سوچنے لگا یار قدیم جان ! صبح صبح اللہ کے ان مہمانوں اور مسافر طلبہ نے تجھے کیا بہترین دعائیں دیں ۔ ہر ایک نے یہی تو کہا : تم پر اللہ کی طرف سے سلامتی ہو ، اللہ کی رحمتیں ہوں اور اللہ تعالیٰ کی بے شمار برکتیں ہوں ۔ یار ! ان میں سے کسی ایک طالب علم کی بھی یہ دعا تیرے حق میں قبول ہو جائے تو تیرا بیڑا پار ہو جائے ۔

یہ خیال آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے درمیان سلام کو عام کرنے کی کتنی ترغیب دی ہے ۔ شاید اسی میں ایک بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ ہمیں معلوم نہیں ، کس کی دعا ہمارے حق میں قبول ہو جائے ۔ جب ہم کسی مسلمان کو سلام کرتے ہیں تو گویا اسے اپنے لیے سلامتی ، رحمت اور برکت کی دعا کرنے کا موقع بھی دیتے ہیں ۔

مدارس میں الحمدللہ یہ ماحول کسی حد تک اب بھی برقرار ہے کہ جان پہچان ہو یا نہ ہو ، طلبہ اور اساتذہ ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں ۔ البتہ مدرسے سے باہر عمومی ماحول میں کچھ فرق محسوس ہوتا ہے ۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ کسی اجنبی مسلمان کو سلام کیا تو وہ رک کر یا پیچھے مڑ کر دیکھنے لگا کہ مجھے سلام کیوں کیا ؟ شاید کوئی جان پہچان والا ہے یا کسی مقصد کے لیے سلام کیا گیا ہے ۔ بلکہ ایک مرتبہ تو ایک صاحب نے باقاعدہ مجھے روک کر پوچھ لیا خیریت ہے ، آپ نے مجھے سلام کیا ؟

یہ صورتِ حال دیکھ کر مجھے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی وہ حدیث یاد آتی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی بعض علامات بیان فرمائی ہیں ۔ ان میں ایک علامت یہ بھی ہے کہ سلام صرف جان پہچان والوں تک محدود ہو جائے ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے آج صورت حال یہ ہے کہ یہ عادت عام ہوتی جا رہی ہے کہ آدمی صرف اسی کو سلام کرتا ہے جسے جانتا پہچانتا ہو اور جو اجنبی ہو ، اسے نظر انداز کر دیتا ہے ۔ حالاں کہ بحیثیت مسلمان ہمارے لیے بہترین نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کو صرف پہلی ملاقات تک محدود نہیں رکھا بلکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے ، پھر اگر ان دونوں کے درمیان کوئی درخت ، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور دوبارہ سامنا ہو تو پھر سلام کرے ۔

ذرا سوچیے ہمارے دین نے سلام کو کس قدر اہمیت دی ہے ۔ یہ محض ملاقات کا ایک رسمی جملہ نہیں بلکہ دعا ، محبت اور مسلمان بھائی کے لیے خیر خواہی کا اظہار ہے ۔ اس کے ذریعے دلوں میں اپنائیت پیدا ہوتی ہے ، اجنبیت دور ہوتی ہے اور مسلمانوں کے درمیان تعلق مضبوط ہوتا ہے ۔

کیا معلوم راستے میں ملنے والا کون شخص اللہ تعالیٰ کا مقبول بندہ ہو ؟ کیا معلوم اس کے جواب میں دی گئی دعا ہمارے حق میں قبول ہو جائے اور کیا معلوم ہمارا ایک مختصر سا سلام کسی کے دل میں محبت پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے ؟

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر مسلمان کو خواہ اس سے پہلے کبھی ملاقات ہوئی ہو یا نہیں ، سلام کرنے کی عادت اپنائیں ۔ سلام میں پہل کرنے کو اپنی عزت کے خلاف نہ سمجھیں بلکہ اسے سنت کی پیروی اور اجر حاصل کرنے کا ذریعہ جانیں ۔

آئیے سلام کو صرف جان پہچان والوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنے معاشرے میں عام کریں ۔ ہوسکتا ہے کہ ہمارا ایک سلام کسی کے لیے خوشی کا سبب بنے ، ہمارے لیے دعاؤں کا ذریعہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت حاصل کرنے کا وسیلہ بن جائے ۔

آخر میں ، میں آپ سب قارئین کو دل سے دعا دیتا ہوں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، اے میری یہ تحریر پڑھنے والے ! آپ پر ، آپ کے اہل خانہ پر اور آپ کے عزیزوں پر اللہ تعالی کی سلامتی ہو ، اس کی رحمتیں نازل ہوں اور وہ آپ کی اولاد ، تجارت ، علم ، رزق اور زندگی کے تمام معاملات میں بے شمار برکتیں عطا فرمائے ۔آمین یا رب العالمین!

کالم نگار : مولاناقدیم جان،استاد ولائبریرین جامعہ بنوریہ عالمیہ
| | |
241     4