صحابہ کا لحاظ اس وجہ سے کرنا ہے کہ یہ وہ طبقہ ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا، جنگوں میں آپ کے دائیں بائیں اپنی جانیں قربان کیں، آپ ﷺ کے ساتھ پیٹ پر پتھر باندھے، خوشی غمی میں آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے غم خوار اور غم گسار بنے۔ ان کی شانِ عظمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے معاملے میں گفتگو کرتے ہوئے اپنے اور ان کے درمیان اس زمین و آسمان سے بھی زیادہ فاصلے کا لحاظ کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتنا بلند کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ساتھی بنایا، آپ کی مجلس میں بیٹھنا ان کا مقدر کیا کہ ان کی آنکھوں کو چہرہِ نبوت کا دیکھنا نصیب فرمایا۔ اس وجہ سے اس پوری جماعت کا لحاظ کرنا، اپنی گفتگو میں ان کے ادب کے لحاظ سے اور ان کے سٹیٹس کے لحاظ سے اپنے آپ کو کمتر سمجھتے ہوئے باادب گفتگو کرنا۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مابین کسی بات پر کچھ تنازعہ ہوا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ناراض ہو کر اپنے گھر کی طرف چل دیے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو احساس ہوا کہ شاید مجھ سے کچھ زیادتی ہوگئی ہے لہٰذا وہ حضرت عمر کو منانے کے لیے حضرت عمر کے گھر گئے، دروازے پر دستک بھی دی لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راضی نہ ہوئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوگئے اور ان کے چہرے کی پریشانی کو دیکھ کر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا۔ حضرت ابوبکر نے صورتِ حال سامنے رکھی اور فرمایا کہ اللہ کے رسول مجھ سے کچھ زیادتی ہوگئی کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کچھ ایسی بات کہہ دی
جس سے ان کا دل دکھا اور وہ مجھ سے خفا ہو گیا، اتنی دیر میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تشریف لے آئے، آپ ﷺ کے سامنے انہوں نے یہ کہا کہ یہ زیادتی مجھ سے ہوئی ہے، میں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کچھ حد سے تجاوز کیا۔ لیکن آپ ﷺ نے شدید غصے میں ارشاد فرمایا اور آپ کے اس ارشادِ گرامی کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بخاری شریف میں نقل فرمایا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:*إِنَّ اللهَ بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ فَقُلْتُمْ: كَذَبْتَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ صَدَقَ، وَوَاسَانِي بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَهَلْ أَنْتُمْ تَارِكُو لِي صَاحِبِي، مَرَّتَيْنِ، فَمَا أُوذِيَ بَعْدَهَا**(بخاری شریف رقم الحدیث 3661)*
اللہ نے مجھے آپ کی طرف مبعوث کیا، میں نے آپ کو اللہ کی طرف بلایا لیکن آپ نے مجھے جھٹلایا جبکہ ابوبکر صدیق نے میری تصدیق کی اور مجھے سچا کہا اور اپنی جان اور مال سے میری مدد اور نصرت کی۔ کیا آپ لوگ میری وجہ سے میرے ساتھی کو چھوڑ نہیں سکتے؟ یعنی ان کو تکلیف پہنچانے سے باز نہیں آسکتے؟ کہ یہ وہ شخص ہے جس نے میری خاطر ساری تکلیفیں اٹھائیں اور اس وقت میرا ساتھ دیا جب تم لوگ میرا ساتھ چھوڑ چکے تھے، اس وقت اپنی جان و مال سے میری مدد کی جب تم لوگ میری جان کے دشمن بن چکے تھے۔
اس حدیثِ مبارکہ میں آپ ﷺ نے کیسے درد بھرے انداز سے حضراتِ صحابہ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے معاملے میں اپنے خاص تعلق کا اظہار کرنے کا حکم فرمایا، جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے اسلام کے دوسرے عظیم الشان خلیفہ کہ جن کے بارے میں خود زبانِ نبوت نے کہا کہ اگرمیرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا، ان حضرت عمر کو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں دلی تکلیف کا سبب بننے پر رسول اللہ ﷺ نے تنبیہ فرما دی تو اس اصول سے کہ کیا تم میرے لیے میرے صحابی کو نہیں چھوڑ سکتے تو قیامت کی صبح تک ایک ضابطہ نکل آیا کہ جن جن لوگوں نے رسول ﷺ کا ساتھ دیا اور تادمِ آخر شرفِ صحابیت پر فوت ہوئے ان لوگوں کے بارے میں امت کو اپنی زبانیں بند رکھنی چاہیے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ اسی بات پر خفا ہو جائیں کہ تم نے میرے لیے میرے صحابہ کے ساتھ رعایت کیوں نہیں کی، میرے صحابہ کو برا بھلا کیوں کہا، ان کے دل آزاری کا سبب کیوں بنے، جب کہ یہ وہ طبقہ ہے جنہوں نے اس وقت میرا ساتھ دیا جب روئے زمین پر میرا ساتھ دینے والا کوئی نہ تھا۔