(+92) 319 4080233
کالم نگار

تحریر یونس اباسین

تحریر یونس اباسین

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
تاریخ وادی گومل
بلند وبالا پہاڑ,گھنے جنگلات, وسیع ہموار میدان,نخلستان اور میوٶں سے لدھے ہوے باغات میں گری وادی گومل کا علاقہ ڈیرہ اسماعیل ڈویژن سے لیکر دامان,ٹانک,جنوبی وزیرستان,کوہ سلیمان اور افغانستان میں صوبہ پکتیکا کے شہر شرنہ وارغون کے علاقہ گومل پر مشتمل ہے ۔

وادی گومل "درہ گومل" کیوجہ سے بہت تاریخی اہمیت کا حامل ہے، درہ گومل پاکستان کے مشہور 5دروں میں ایک ہے جوکہ ہزاروں سال سے آمدورفت کا زریعہ ہے، یہ غزنی سے پنجاب اور سندھ کیلے مختصرترین راستہ ہے،اوریہی برصغیر کیلئے "باب الاسلام" ہے جسکا ذکر آگے آئیگا۔

وادی گومل میں آبادی، آثار قدیمہ کے مطابق 5 ہزار سال قبل سے ہے(1)، برصغیر و جنوبی ایشیإ میں آریائی قوم کی آمد سے قبل یہ علاقہ آباد تھا، بلکہ ان سے زیادہ مہذب ومتمدن تھا۔ 2ہزار قبل مسیح، آریہ قوم برصغیرمیں سب سے پہلے درہ گومل کے راستے داخل ہوئیں، انکی ابتدائی بستیاں بھی درہ گومل اور دریاۓ گومل کے کنارے پر آباد تھیں (2)۔ درہ گومل میں انکی آمد کاذکر ہندؤں کی سب سے پرانی، مقدس کتاب "رگ وید" کے گیتوں میں ملتاہے۔ جس میں اور دریاٶں کے علاہ دریاۓ گمتی (گومل) کابھی ذکر ہے (3)، یہ کتاب تقریبا آج سے 2 ہزارسال پہلے ، یعنی اسلام سے ماقبل لکھی گئی ہے (4)۔

گومل کی وجہ تسمیہ:
گومل بمعنی گایوں کا وطن ، وادی گومل میں چونکہ آریائی قوم آباد تھی، جنکا زریعہ معاش مال ومویشی پالناتھا، اسلیۓ گومل میں گاۓ اور اون کی بہتات تھی، گائیوں کی کثرت کیوجہ سے اسے "گمتی" کہا جاتا تھا (4)، جو" گیومپتی" اور "گیومل" کہلایا، اور مرور زمانہ کے بعد گومل ہوا، اسوجہ سے سرزمین گومل میں گومل نام کی بہت چیزیں ہیں، جیسا کہ "گومل یونیورسٹی، گومل میڈیکل کالج، گومل بازار، ڈیرہ کی مشہور گومل مارکیٹ، اور نصف درجن کے قریب گومل وگملاں نامی شہر، ٹانک میں گومل بازار، ان کے علاوہ درہ گومل، گومل زام، ملک کا مشہور گومل ڈیم، دریاۓ گومل، اسطرح افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں بیرمل کے پہاڑیوں مشتمل "شرنہ" و"أرغون" وغیرہ کے علاقے کو گومل نام سے پکارا جاتا ہے۔

وادی گومل میں ہر قسم کا میوہ پایا جاتاہے، مثلا انگور، ناشپاتی، انار، بادام، اخروٹ، سیب، چلغوزہ، نیجہ، آم، کجھور اور خاص کر دامان کا خربوزہ اپنی مٹھاس کیوجہ سے بہت مشہور ہے، جس کا ذکر انگریز مصنف "ہربڑٹ ایڈورس" نے بھی اپنی کتاب (5) میں کیا ہے، گومل کی اہم فصلیں، گندم، چنا، سرسوں، باجرہ، جوار وغیرہ ہیں۔

اسلام کی آمد:
برصغیر میں اسلام دومختلف راستوں سے پھیلا ایک سندھ کے راستے سے جبکہ دوسرا درہ گومل کے راستے سے٫ مٶرخین کے مطابق قیس عبدالرشید جوکہ اپنے قبیلے کے سردار تھے، انہوں نے اسلام قبول کیا اور اپنے قبیلے میں اسلام پھیلایا۔ "قسے غر"پہاڑ بھی قیس عبدالرشید کیطرف منسوب ہے، کوہ سلیمان کی پشت پر آباد قیس عبدالرشید کا خانہ بدوش قبیلہ، صدیوں سے انکا معمول تھا، وہ سردیوں میں اپنے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ اور اونٹوں کے گلے لیکر درہ گومل کے راستے دامان کی چراہ گاہوں میں اترتے، اور یوں آگے پنجاب اور دہلی تک چلے جاتے، جسے پاوندہ گیری کہا جاتاہے، تو قبول اسلام کے بعد بھی انکا یہی معمول رہا، اسطرح برصغیر وجنوبی ایشیأ کی سرزمین پرپہنچنے والے سب سے اولین مسلمان یہی لوگ تھے، برصغیر میں اسلام انہیں کے زریعے پہنچا، لہذا برصغیر وجنوبی ایشیإ کیلۓ "باب اسلام"درحقیقت درہ گومل اور دامان ہے (6)، کیونکہ ان مسلمانوں کی آمد ساتویں صدی، (632 عیسوی) میں شروع ہوچکی تھی، جبکہ سندھ میں مسلمانوں کی آمد محمد بن قاسم کی (712عیسوی)میں فتوحات کے بعد شروع ہوئی، لہذا گومل میں سندھ سے ایک دو صدی پہلے اسلام پہنچ چکا تھا، لیکن گومل کے یہ مسلمان نہ تو فاتحین تھے نہ مبلغین اس لئےانکو تاریخ کے صفحات میں وہ جگہ نہیں ملی۔

بہرحال افغانستان سے آنے والے خانہ بدوش قبیلوں کا آج بھی یہی معمول ہیکہ گرمیاں افغانستان میں جبکہ سردیاں دامان و ڈیرہ اسماعیل خان میں گزارتے ہیں، آج بھی وادی گومل میں گرمی وسردی کے موسم میں انکے قافلے بھیڑ بکریوں کو لیکر اپنی منزل کی جانب رواں دواں نظر آتے ہیں، اور یہی وادی کاحسن ہے۔

آج بھی وادی گومل میں آریائی تہذیب وثقافت کی گہری چھاپ موجود ہے۔

جغرافیائی اہمیت :
غزنی سے پنجاب وسندھ آنے کیلے درہ گومل واحد مختصرترین رستہ ہے۔ جسے سلطان محمود غزنوی وسلطان شہاب الدین غوری نے ہندوستان کے حملے کے وقت استعمال کیا اس وقت وادی گومل کا علاقہ غزنوی سلطنت(7) وغوری سلطنت کے زیرتسلط تھا(8)۔

مشہور سیاح ابن بطوطہ بھی کابل سے کرم اور پھر وہاں سے درہ گومل سے ہوتاہوا بھکر اور پھر ہندوستان پہنچا(9)۔

چنگیزخان بھی ایک روایت کے مطابق افغانستان سے درہ گومل کے زریعے اٹک پہنچا (10) جہاں سلطان جلال الدین سے لڑائی ہوئی۔

اور بعض روایات سے یہ اندازہ ہوتاہیکہ امام مہدی علیہ السلام کے زمانے میں گومل کا علاقہ "خراساں" میں شمار ہوگا۔

وادی گومل میں مشہور پہاڑ "کوہ سلیمان"کی بلند) ترین چوٹی "تخت سلیمان " کی بلندی 11,295 فٹ ہے، جس کی حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف ایک دلچسب روایت منسوب ہے، کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اس برصغیر سے جب اپنی دلہن کو ہوائی تخت پر یروشلم لیکر جارہے تھے، تو انکی دلہن نےاپنے وطن کو الوداعی نظرڈالنے کی خواہش ظاہر کی، جس پر جنات نے پہاڑ کی چوٹی کا سر کاٹ کر ایک چبوترہ بنایا اور اس پر تخت رکھ دیا(11)، تو چوٹی کیساتھ کٹا ہوا چبوترہ تخت سلیمان کے نام سے آج بھی مشہور ہے، اور وہاں ایک زیارت بنی ہوئی ہے، جوکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف منسوب ہے۔

انکے علاوہ وادی گومل میں وزیرستان کی پہاڑیاں اور افغانستان میں بیرمل وپکتیکا کے بلند پہاڑ، جن میں بعض کی چوٹیاں 10 ہزار فٹ سے اونچی ہیں (12)۔

وادی گومل کے علاقہ دامان کے متعلق انگریز حکومت اپنی رپورٹ 1930 میں اعتراف کرتے ہوئے کہتی ہیکہ " پورے پنجاب اور صوبہ سرحد کے کسی علاقے میں حالات اتنے سخت اور کٹھن نہیں جتنے کہ یہاں دامان میں ہیں (13)۔

یہاں کے لوگ اسلام کے مطابق سادہ طرز زندگی گزارتے ہیں، طبیعت میں حریت، جفاکشی اور مہمان نوازی پائی جاتی ہے۔ لیکن افسوس کہ آج وادی گومل اپنی تمام تر رعنائیوں کے باوجود بدامنی کا شکار ہے، یہاں کے باسی امن کے متلاشی ہیں۔

اللہ تعالی سے دعا ہیکہ اس خطے کو ہمیشہ کے لئے امن کا گہوارہ بنا،رب اجعل ھذالبلد آمنا

مأخَذ

1.تاریخ سرزمین گومل صفحہ 3 (مصنف امین اللہ) 2.ایضا صفحہ 7 3.Complet History of Ancient India, VS Diyal, Page 30--40 "رگ وید" کتاب میں 10ویں منڈیلا 75ویں نظم میں کابل، کرم اور گومل دریا کا سندھ میں ملنے کا ذکر ہے، "(۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے سندھ! پہلےتم ترستامہ کے ساتھ بہتے ہو، پھر سورساتو اور پھر رسا اور سویتی(دریائے سوات) کے ساتھ۔ پھر تم سے ملتے ہیں کرمو(دریائے کرم) گمتی (دریائے گومل)۔۔۔۔۔۔۔۔۔)" 4.تاریخ صوبہ سرحد،شفیع صابر 5.A Year on the Punjab Frontier, Herbert Edwards, vol-1, Page-356 6.تاریخ سرزمین گومل صفحہ24 (امین اللہ) 7.ایضا صفحہ 26 8.ایضاصفحہ 29 9.سفرنامہ ابن بطوطہ صفحہ28 10. 11.تاریخ سرزمین گومل، صفحہ تعارف، مصنف امین اللہ۔ 12. ایضا، صفحہ تعارف2 13.Crossthawaite Assessment Report of Daman Tract of D.I.Khan- 1930 (Page-4)

کالم نگار : تحریر یونس اباسین
| | |
97