(+92) 319 4080233
کالم نگار

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر عبدالسميع الأنيس ترتیب و پیشکش: اسداللہ خان پشاوری

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر عبدالسميع الأنيس ترتیب و پیشکش: اسداللہ خان پشاوری

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/26
موضوعات
شیخ نور الدین عترؒ کی مجالس سے حاصل ہونے والے فوائد
شام کے عظیم علماء میں سے ایک جلیل القدر عالم، ماہر، صالح، متقی، خیر خواہ، محقق، محدث اور مفسر شیخ نور الدین عتر حلبیؒ 6 صفر 1442ھ، مطابق 23 ستمبر 2020ء کو اللہ تعالیٰ کی رحمت میں انتقال فرما گئے۔ آپ کی عمر 86 سال تھی، جس کا بیشتر حصہ علم و دین کی خدمت میں گزرا۔ آپ کئی جامعات میں حدیث اور علومِ حدیث کے استاد رہے اور تفسیر، علومِ قرآن، حدیث اور علومِ حدیث کے موضوعات پر آپ کی پچاس سے زیادہ کتابیں شائع ہوئیں۔

⚘️ شیخ نور الدین عترؒ سے میرا تعلق: میں شیخ نور الدین عترؒ کو بچپن ہی سے جانتا تھا۔ ان کے خاندان کا گھر حلب کے قدیم علاقے حارة البستان میں ہمارے گھر کے قریب تھا۔ میں ان کے والد بزرگوار، نیک، عبادت گزار اور دیانت دار تاجر حاج محمد عترؒ کو بھی جانتا تھا۔ وہ جلیل القدر عالم شیخ محمد نجیب سراج الدینؒ کے داماد تھے۔ حاج محمد عترؒ لوگوں کی تربیت اور رہنمائی کرنے والے نیک شخص تھے اور کثرت سے نبی کریم ﷺ پر درود پڑھا کرتے تھے۔ میرے والد اور ان کے درمیان محبت اور دوستانہ تعلق تھا۔ یہی محبت ہمارے دلوں میں بھی اس معزز خاندان کے لیے پیدا ہوگئی۔

بعد کے سالوں میں اللہ تعالیٰ نے مجھے شیخ نور الدین عترؒ کی صحبت سے بھی فائدہ اٹھانے کا موقع دیا، خصوصاً اس وقت جب انہیں جامعہ الشارقہ کے کلیۃ الشریعہ کے شعبۂ اصول الدین کے پروگرام کی منظوری کے لیے ماہر اور ممتحن مقرر کیا گیا۔ میں بھی اسی کالج میں استاد تھا۔ وہ کچھ عرصہ جامعہ میں مقیم رہے اور میرے گھر کے قریب رہتے تھے۔ وہ دن ایسے تھے جنہیں میں کبھی نہیں بھول سکتا؛ وہ علم، خیر اور برکت سے بھرے ہوئے دن تھے۔ میں اکثر ان کے ساتھ رہتا، ان کے گھر جاتا اور وہ بھی میرے گھر تشریف لاتے۔ آخرکار انہوں نے مجھے اپنی اجازتِ عامہ بھی عطا فرمائی۔ وہ بہت بے تکلف انداز میں گفتگو کرتے تھے۔ کبھی میں ان سے کوئی سوال کرتا تو وہ جواب دیتے۔ میں نے ان کی بہت سی علمی باتیں لکھ لیں۔ یہاں ان میں سے چند فوائد پیش کر رہا ہوں، تاکہ ان کا ذکر ہو، ان کے لیے دعا کی جائے اور ان کے علم کو عام کیا جائے۔

⚘️ ۱۔ قرآن کی آیت اور علمی خاندان کی ذمہ داری: 11 اپریل 2008ء بروز جمعہ عصر کے وقت دبئی کے الممزر کے ساحل پر، ان کے صاحبزادے شیخ یحییٰ اور میرے بیٹے ہمام کی موجودگی میں، شیخ نور الدین عترؒ نے مجھے بتایا: میں اکثر اپنے دادا شیخ نجیب سراج الدینؒ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنتا تھا: ﴿وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَىٰ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ وَاللّٰهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ ترجمہ: اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی شخص بھی کبھی پاک نہ ہوسکتا، لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاکیزہ بناتا ہے، اور اللہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔ وہ اس آیت کی تشریح تفصیل سے بیان کرتے تھے۔ شیخ نور الدینؒ نے بتایا کہ جب میں شرعی ثانویہ میں داخل ہوا تو میں اپنے والد سے کہا کرتا تھا کہ مجھے اپنے دادا شیخ نجیب سراج الدینؒ سے ملوانے کے لیے لے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے دادا شیخ نجیب سراج الدینؒ کو فرقوں، مذاہب اور ادیان کے بارے میں وسیع علم حاصل تھا۔ ان کے دور میں جو الحادی افکار سامنے آئے، ان کے رد میں انہوں نے مضبوط جوابات دیے۔ جبکہ ان کے صاحبزادے شیخ عبداللہ سراج الدینؒ کی توجہ تفسیر، حدیث اور نبوی ہدایت کو عام کرنے کی طرف تھی۔ یہ بھی ان کے والد کی ہدایت سے تھا، کیونکہ اس زمانے کی ضرورت اسی نوعیت کے کام کی تھی۔

⚘️ ۲۔ ایک وقت میں ایک ہی علمی کام مکمل کرنا: 14 اپریل 2008ء کو شیخ نور الدین عترؒ نے مجھے بتایا: شیخ احمد شاکرؒ، ان کے بھائی محمود اور احمد صقر وغیرہ کی علمی زندگی کے تجربے سے میں نے یہ سبق سیکھا کہ جب تک ایک علمی کام مکمل نہ کرلوں، نیا علمی کام شروع نہیں کرنا چاہیے۔ ان بزرگوں نے کئی کام شروع کیے، لیکن بعض کو مکمل نہ کرسکے۔ ایک مرتبہ میں نے پورا ایک سال تحقیقی مقالات کی تحکیم اور علمی کانفرنسوں میں شرکت سے خود کو روک لیا، تاکہ اپنی کتاب إعلام الأنام کی چوتھی جلد مکمل کرسکوں۔ انہوں نے فرمایا: اگر میں نے یہ طریقہ اختیار نہ کیا ہوتا تو میری بہت سی کتابیں مکمل نہ ہوسکتیں۔ ان میں میری کتاب إعلام الأنام بشرح بلوغ المرام بھی شامل ہے۔ یہ کتاب چار جلدوں میں شائع ہوئی اور عرب و اسلامی دنیا کی متعدد جامعات کے کلیاتِ شریعہ میں نصاب کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔

⚘️ ۳۔ جس مضمون کو پڑھاؤ، اس پر کتاب لکھو: شیخ نور الدین عترؒ نے فرمایا: مجھے جب بھی کسی شرعی مضمون کی تدریس کی ذمہ داری دی گئی، میں نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھ دی۔ انہوں نے کہا: میں لیکچر کی تیاری کو تصنیف کے لیے استعمال کرتا ہوں۔ انہوں نے مجھے یہ بھی فرمایا: میں نے جو بھی کتاب لکھی، اسے خود پڑھایا بھی ہے۔ ایک مرتبہ جب میں ان کے حلب کے گھر گیا تو انہوں نے مجھے بھی اس طریقے کی نصیحت کی۔ انہوں نے فرمایا: کتاب کو پڑھانے سے اس کی اصلاح اور تصحیح ہوتی ہے۔

⚘️ ۴۔ قرآن کے اعجازِ علمی میں تکلف سے بچنا: ایک شخص نے شیخ نور الدین عترؒ سے کہا: میں قرآن کریم کے اعجازِ علمی پر ایک ایسی موسوعہ تیار کر رہا ہوں جو کئی جلدوں میں مکمل ہوگی۔ شیخ نے فرمایا: مجھے اندیشہ ہے کہ اس موضوع میں تمہارا جوش تمہیں آیات کی ایسی تشریح کرنے پر مجبور نہ کردے جو حقیقت میں آیت کا مفہوم نہ ہو، جیسا کہ اس میدان میں کام کرنے والے بعض لوگوں سے ہوا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ڈاکٹر زغلول اور ڈاکٹر النابلسی کا ذکر بھی کیا۔ پھر شیخ نے اس موضوع کے متعلق چند اصول اور ضوابط بیان کیے اور فرمایا کہ ان اصولوں کو سمجھنے کے لیے میری علومِ قرآن کی کتاب کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: قرآن کو ایسی تکلفات کی ضرورت نہیں ہے۔

⚘️ ۵۔ عربی زبان کی تعلیم پر خصوصی توجہ: شیخ نور الدین عترؒ نے فرمایا: عربی زبان کی تدریس پر بہت زیادہ توجہ دینی چاہیے، تاکہ ہمارے نوجوان قرآن کریم کی بلاغت کا ذوق پیدا کرسکیں اور اس کے اسرار و معانی کو گہرائی سے سمجھ سکیں۔ قرآن کریم نے عربوں کے دلوں کو اس لیے اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا کہ وہ اسے سمجھتے اور اس کی بلاغت کا ذوق رکھتے تھے۔

⚘️ ۶۔ عالم کو خوددار اور آزاد ہونا چاہیے: شیخ نور الدین عترؒ نے مجھے فرمایا: عالم کو آزاد اور خوددار ہونا چاہیے۔ یہ ہمارے مشائخ کا طریقہ تھا۔ ان میں علامہ فقیہ شیخ محمد سلقینیؒ اور علامہ محدث و مفسر، میرے ماموں، شیخ عبداللہ سراج الدینؒ بھی شامل ہیں۔

⚘️ ۷۔ طلبہ کی تربیت اور تحقیق کی عادت: جامعہ الشارقہ کے کلیۃ الشریعہ کے اساتذہ کی ایک مجلس میں، پروفیسر ڈاکٹر ماجد ابورخیہ کی دعوت پر، 24 اپریل 2008ء کی رات شیخ نور الدین عترؒ نے اساتذہ کو طلبہ کی خصوصی توجہ اور تربیت کی دعوت دی۔ انہوں نے اساتذہ کو تاکید کی کہ طلبہ کو تحقیق کی طرف متوجہ کریں، انہیں علماء کی کتابوں کے اصل عبارات پڑھنے کی عادت ڈالیں اور نصاب کے کچھ حصے میں سابقہ علماء کی اصل تحریریں بھی شامل کریں۔

⚘️ ۸۔ علم حاصل کرنا دنیا کی عمر بڑھانے کے مترادف ہے: شیخ نور الدین عترؒ نے فرمایا: میں طلبہ سے کہا کرتا تھا: تم علم کی طرف متوجہ ہوکر اور اس میں محنت کرکے دنیا کی عمر کو بڑھانے کا کام کر رہے ہو۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی۔ اس حدیث کو امام بخاریؒ نے روایت کیا ہے۔ شیخ عبداللہ سراج الدینؒ فرمایا کرتے تھے: یہاں علم کے اٹھائے جانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ علم ختم ہونے کے بعد دوبارہ بلند نہیں ہوگا۔

⚘️ ۹۔ ذہن میں آنے والے خیالات فوراً لکھ لینا: شیخ نور الدین عترؒ نے فرمایا: محقق کو چاہیے کہ ذہن میں آنے والے منفرد اور اہم خیالات کو فوراً محفوظ کرلے۔ کیونکہ بعض اوقات کوئی خیال بہت مضبوطی سے ذہن میں آتا ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ یہ خیال ہمیشہ یاد رہے گا، لیکن جب لکھنے بیٹھتا ہے تو وہ خیال یاد نہیں رہتا۔ اسی لیے میں اپنے پاس کاغذات رکھتا ہوں اور جو خیال ذہن میں آتا ہے فوراً لکھ لیتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: خیال کے آنے اور اس کی قوت و روشنی کی مثال بجلی کی چمک جیسی ہے، اس لیے اسے فوراً لکھ لینا چاہیے۔

⚘️ ۱۰۔ اپنی زندگی کے حالات لکھنے سے گریز: میں نے شیخ نور الدین عترؒ سے پوچھا: کیا آپ نے اپنی زندگی اور اپنے اساتذہ سے تعلق کے بارے میں کچھ لکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، البتہ دمشق یونیورسٹی میں بعض طلبہ نے میرے بارے میں ایک مقالہ لکھا تھا۔ وہ مجھ سے سوال کرتے تھے اور میں سوال کے مطابق جواب دیتا تھا۔ میں اپنی ذات کے بارے میں بات کرتے ہوئے شرم محسوس کرتا تھا۔ میں نے عرض کیا: ہم آپ کے علمی تجربے سے واقف ہونے کے محتاج ہیں، کیونکہ آپ نے دو ادوار دیکھے ہیں: ایک قدیم دور، جس میں شیوخ کا طریقۂ تعلیم تھا، اور دوسرا جدید دور، جس میں جامعات کا نظام ہے۔ بہرحال، شیخ نور الدین عترؒ کا علمی اور دعوتی تجربہ بہت وسیع اور قیمتی ہے۔ اس پر سنجیدہ تحقیق ہونی چاہیے تاکہ اس سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔ ہمیں ایسے ہی ربانی علماء کی ضرورت ہے، خصوصاً ان فتنوں کے دور میں جن سے امت گزر رہی ہے۔

⚘️ ۱۱۔ علومِ حدیث میں شیخ نور الدین عترؒ کی علمی حیثیت: میں نے محدث شیخ شعیب ارناؤوطؒ سے پوچھا: جدید دور میں علومِ حدیث پر لکھی جانے والی بہترین کتابوں میں سے کون سی کتاب ہے؟ انہوں نے فرمایا: شاید ڈاکٹر نور الدین عترؒ کی کتاب ان بہترین کتابوں میں سے ہے، کیونکہ وہ اس فن کے عملی ماہر ہیں۔ یہ گفتگو 11 فروری 1999ء کو عمان میں میرے گھر میں ہوئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر عمر عبدالعزیز العانی بھی موجود تھے۔ میری رائے میں شیخ شعیب ارناؤوطؒ نے شیخ نور الدین عترؒ کی کتاب کو اس لیے اہم قرار دیا کہ اس میں ابن الصلاح کی علوم الحدیث اور ابن حجر کی نخبة الفكر کے علمی مباحث کو ایک خوبصورت اور منفرد انداز میں جمع کیا گیا ہے۔ شیخ نور الدینؒ خود اس فن کے عملی ماہر تھے۔ انہوں نے ان دونوں کتابوں پر تحقیق کی اور اپنی کتاب کو جامعہ میں تدریس کے لیے استعمال کیا۔ حدیث اور علومِ حدیث کے میدان میں ان کی نمایاں خدمات تھیں۔ ان کی کتاب منهج النقد في علوم الحديث کی چند خصوصیات یہ ہیں: (۱) انہوں نے محدثین کے منہج کو جدید اور عام فہم زبان میں پیش کیا، جسے حدیث کے متخصص طلبہ کے ساتھ غیر متخصص افراد بھی سمجھ سکتے ہیں۔ (۲) انہوں نے اہم اور بنیادی مصادر سے استفادہ کیا۔ (۳) انہوں نے محدثین کے منہج کے بارے میں مستشرقین کے بعض شبہات کا علمی جائزہ لیا، خصوصاً اس شبہے کا کہ محدثین نے احادیث میں صرف سند پر توجہ دی اور متن کو نظر انداز کردیا۔ اس موضوع پر انہوں نے کتاب کے خاتمے میں تقریباً 30 صفحات تحریر کیے۔

⚘️ ۱۲۔ شامی عالم محمد نعیم عرقسوسیؒ کا خراجِ تحسین: دمشق کے معروف محقق عالم استاد محمد نعیم عرقسوسیؒ نے جامع الایمان، دمشق میں ایک خصوصی علمی نشست کے دوران شیخ نور الدین عترؒ کے بارے میں فرمایا: وہ بلادِ شام میں اسلام کے عظیم علماء میں سے ہیں۔ انہوں نے انہیں سنت کا ستون اور اس دور کا اسد السنہ قرار دیا۔

⚘️ ۱۳۔ اسلام کی ذمہ داری کا احساس: میں شیخ نور الدین عترؒ کی زندگی کا مشاہدہ کرتے ہوئے محسوس کرتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو اسلام کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ وہ محسوس کرتے تھے کہ قرآن کریم اور حدیثِ نبوی ﷺ کی امانت اور ان کے تحفظ کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔ وہ ان لوگوں کی طرح نہیں تھے جو یہ سمجھتے ہیں کہ دینی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے کوئی دوسرا شخص موجود ہے اور وہ اس ذمہ داری سے بے فکر رہیں۔ ⚘️ ۱۴۔ علمی خاندان کا اثر: اسلامی تاریخ میں بہت سے علمی خاندان گزرے ہیں اور یہ بات واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے کہ نسل در نسل علم کی منتقلی میں ان خاندانوں کا بڑا کردار رہا ہے۔ میری نظر میں شیخ نور الدین عترؒ کے علمی کمال کے اسباب میں سے ایک اہم سبب یہ بھی تھا کہ وہ ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا شیخ نجیب سراج الدینؒ اور ان کے ماموں شیخ عبداللہ سراج الدینؒ دونوں حلب کے بڑے علماء میں شمار ہوتے تھے۔ اس طرح شیخ نور الدین عترؒ نے دو نسلوں کے علماء کے علمی تجربات اور علوم کا خلاصہ حاصل کیا۔

⚘️ ۱۵۔ اولاد میں علم کی منتقلی: حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا کے ضمن میں قرآن کریم میں ارشاد ہے: ﴿يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا﴾ اس میں علم اور دین کی وراثت کی طرف بھی اشارہ ہے۔ اہلِ علم کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں تک علم منتقل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ہمارے ہر عالم اپنے بچوں میں سے صرف ایک بچے کو علمِ دین کے لیے وقف کردے تو ایک ایسی نسل تیار ہوسکتی ہے جو اپنے والدین کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ان کی جگہ علمی خدمت انجام دے۔

کالم نگار : تحریر: پروفیسر ڈاکٹر عبدالسميع الأنيس ترتیب و پیشکش: اسداللہ خان پشاوری
| | |
64