عہدِ رسالت سے عثمانی دور تک فتوحات، رحلت اور علمی تحرکات کا ایک جائزہ:
اسلامی تقویم کا ہر ماہ اپنے دامن میں عظیم الشان تاریخی تحرکات، عسکری حکمتِ عملی، اور جلیل القدر شخصیات کی یادوں کا سرمایا سمیٹے ہوئے ہے۔ ماہِ ربیع الثانی بھی اسلامی تاریخ کا ایک ایسا ہی باب ہے جو عزم و ہمت، فتح و نصرت اور علمی و سیاسی تبدیلیوں کی گواہی دیتا ہے۔ اگر تاریخ کے ان اوراق کو کھولا جائے تو عہدِ نبوی سے لے کر عثمانی سلطنت کے زوال تک متعدد ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جنہوں نے امت کے فکر و عمل کو نئے راستے دکھائے۔
عہدِ نبوی اور ابتدائی اسلامی دفاع:
عہدِ رسالت میں ماہِ ربیع الثانی اسلامی ریاست کے دفاعی و عسکری نظم کے استحکام کا دور رہا۔ 3ھ کے ربیع الثانی میں رسول اللہ ﷺ 300 صحابہ کے ہمراہ "بحران" کے مقام پر تشریف لے گئے، جسے غزوۂ بحران کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے بعد 6ھ کے ربیع الثانی میں بحران اور دفاعی تحرکات کے پیشِ نظر دو اہم سریے روانہ کیے گئے؛ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی قیادت میں 40 افراد کا دستہ "ذوالقصہ" بھیجا گیا اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو امیرِ سریہ بنا کر "جموم" کی طرف روانہ کیا گیا۔ یہ اقدامات مدینہ منورہ کے گرد و پیش میں امن و امان کی بحالی اور اسلامی ریاست کی سرحدوں کی حفاظت کا ذریعہ بنے۔
عہدِ خلفائے راشدین: استقامت اور حکمتِ عملی:
رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد، یکم ربیع الثانی 11ھ کو خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لشکرِ اسامہ کو "مؤتہ" کی جانب روانہ فرما کر نبوی فیصلے کی تعمیل کی، جس نے منکرینِ زکوٰۃ اور مرتدین کے فتنے کے دوران اسلامی ہیبت کو قائم رکھا۔
عہدِ فاروقی میں فتح و نصرت کی داستانیں مزید تابناک ہوئیں۔ 21 ربیع الثانی 15ھ کو اہل حمص نے جزیے اور امان کی شرط پر شہر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا۔ اسی تاریخ کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دور اندیشی اور بصیرت کا وہ تاریخی نمونہ سامنے آیا جب انہوں نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو ہدایت لکھی کہ شام میں فتوحات کا سلسلہ عارضی طور پر روک دیا جائے تاکہ حالاتِ واقعہ اور آئندہ کی حکمتِ عملی کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے.یہ قدم اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں جنگ محض زمین جیتنے کا نام نہیں بلکہ نظم و نسق اور امن کا قیام اس کا اصل مقصود ہے۔
اس حکمتِ عملی کے ثمر کے طور پر ربیع الثانی 16ھ میں فتحِ بیت المقدس کا عظیم واقعہ پیش آیا۔ اسقفِ یروشلم صفرونیوس (Sophronius) نے صلح نامے پر دستخط کیے اور بیت المقدس کی چابیاں خلیفۂ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیں۔ اس کے بعد 7 ربیع الثانی 20ھ کو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں مصر کے شہر بلبیس کی فتح اور پھر 15 ربیع الثانی 22ھ کو اسکندریہ میں سابق شاہِ مصر سائرس مقوقس کی موت نے شمالی افریقہ میں اسلامی اقتدار کی بنیادوں کو مزید پختہ کر دیا۔
علمی و فکری عظمت:
جہاں ربیع الثانی کا مہینہ عسکری تحرکات کا شاہد رہا، وہاں یہ علمی و فکری سرپرستی کا بھی امین ہے۔ 7 ربیع الثانی 179ھ کو مدینہ منورہ میں دارالہجرت کے امام، امام مالک رحمہ اللہ کا انتقال ہوا۔ امام مالک رحمہ اللہ کی ذاتِ بابرکات نے حدیث و فقہ کے میدان میں جو نقوش چھوڑے، وہ آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
سلاطینِ اسلام اور تاریخی تبدیلیاں:
تاریخ کا یہ دھارا جب قرونِ وسطیٰ تک پہنچتا ہے تو اندلس سے لے کر برصغیر اور عثمانی سلطنت تک اہم ترین سیاسی موڑ دکھاتا ہے:
اندلس میں تحویلِ اقتدار:
12 ربیع الثانی 172ھ کو اندلس میں اموی سلطنت کے بانی عبدالرحمٰن الداخل نے وفات پائی اور ان کے بیٹے ہشام نے باگ ڈور سنبھالی۔ بعد ازاں، ربیع الثانی 238ھ کو امیر عبدالرحمٰن ثانی کی وفات کے بعد ان کا بیٹا محمد تخت نشین ہوا۔
سلطان محمود غزنوی:
ربیع الثانی 421ھ میں محمود غزنوی رحمہ اللہ کا انتقال ہوا، جنہوں نے ہندو راجاؤں کو شکست دے کر پنجاب، سندھ اور سرحد کو اسلامی قلمرو میں شامل کیا اور 1026ء کی معرکہ آرائی میں سومنات کا محاصرہ توڑ کر تاریخ میں ایک لازوال باب رقم کیا۔
عثمانی سلطنت کی شاندار فتوحات:
23 ربیع الثانی 974ھ کو عظیم عثمانی حکمران سلطان سلیمان قانونی نے 46 سالہ شاندار دورِ حکومت کے بعد وفات پائی۔ ان کی وفات کے کچھ ہی عرصے بعد 8 ربیع الثانی 978ھ کو قبرص کا شہر لفکوسا (نکوشیا) اور 10 ربیع الثانی 979ھ کو ماغوسا (فاماگوستا) عثمانی بحریہ و فوج کے ہاتھوں فتح ہوئے، جس سے بحرِ روم میں مسلمانوں کا دبدبہ قائم ہوا۔
جدید دور کی تنبیہ:
تاریخ کے اسی مہینے (24 ربیع الثانی 1326ھ) میں فتنۂ قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد کی موت واقع ہوئی، جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اسلام کے بنیادی عقائد کی حفاظت کے لیے ملتِ اسلامیہ کا بیدار رہنا کس قدر ضروری ہے۔
حاصلِ کلام:
ماہِ ربیع الثانی کے یہ تاریخی واقعات محض ماضی کی کہانیاں یا اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمیں حکمتِ عملی، عزم و استقلال، علم کی پاسداری اور اپنے مقصد پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتے ہیں۔ تاریخ کا یہی سبق موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہماری رہنمائی کر سکتا ہے۔