مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ
پروفائل | تمام کالمزہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی توانائیاں اکثر دوسروں کی خامیوں کو اجاگر کرنے اور ان کا قد چھوٹا دکھانے میں صرف کر دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ کسی کی لکیر مٹانے سے ہماری اپنی لکیر بڑی نہیں ہو جاتی، بلکہ اس محنت میں ہم خود
مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ
اس نام کی آبرو رکھنا اور اپنی زندگی کے 60 قیمتی سالوں کو 'خدمت' کا مجسمہ بنا دینا استاد جی خادم حسین صاحب کا اپنا انتخاب تھا۔اللہ رب العزت استاد جی خادم حسین صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم
مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ
اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی زبانِ مبارک سے اس سے براءت کا اعلان کروایا۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو سادگی، فطری پن اور بے تکلفی کا حسین نمونہ تھا۔
مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ
مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ
صرِ حاضر کے فکری انتشار اور مذہبی منافرت کے خاتمے کے لیے ہمیں اسی نبوی نہج پر پلٹنا ہوگا جہاں گفتگو میں طنز کے نشتر نہیں بلکہ دلیل کی خوشبو ہوتی ہے۔ ایک محقق اور قلمکار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اسلوب میں اتنا انیس اور
مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ
صرِ حاضر کے فکری انتشار اور مذہبی منافرت کے خاتمے کے لیے ہمیں اسی نبوی نہج پر پلٹنا ہوگا جہاں گفتگو میں طنز کے نشتر نہیں بلکہ دلیل کی خوشبو ہوتی ہے۔ ایک محقق اور قلمکار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اسلوب میں اتنا انیس اور
مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ