(+92) 319 4080233
کالم نگار

Sidra Naseem

Sidra Naseem

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/26
موضوعات
کسی کی پروفیںشنل پرائیوسی ڈسٹرب نہ کر یں
گزشتہ چند دنوں سے ایک بار پھر فیس بک پر موجود جاننے والوں کے ذریعے مجھے متعدد اسکرین شاٹس موصول ہو رہے ہیں۔ جن میں مختلف جعلی آئی ڈیز بنا کر کردار کشی، بہتان تراشی، نازیبا گفتگو اور ایسی ہی دیگر حرکات کی جا رہی ہیں۔

ذاتی طور پر شاید میں اب اس قسم کی حرکتوں کو نظرانداز کرنے کے قابل ہو چکی ہوں نہ ہی ان باتوں کی ٹینشن لیتی ہوں، مگر مجھ سے جڑے لوگ، عزیز و اقارب جب ایسی چیزیں دیکھتے ہیں تو فطری طور پر اسے اپنی ذات اور اپنی عزت سے جوڑ لیتے ہیں۔ نتیجتاً مجھے بھی بار بار قانونی معاملات، ثبوتوں، اسکرین شاٹس، رابطوں اور وضاحتوں کے ایک ایسے سلسلے میں شامل ہونا پڑتا ہے جس میں میرا وقت، ذہنی توانائی اور توجہ مسلسل ضائع ہوتی ہے۔

میرا مقصد کسی کو غیر ضروری اہمیت دینا نہیں، بلکہ اب یہ طے کرنا ہے کہ ایسے معاملات سے مستقل اور قانونی طریقے سے کیسے نمٹا جائے۔ ہر مرتبہ کسی عزیز یا ذاتی ذریعے کے ذریعے کام نکلوانے کے بجائے بہتر یہی ہے کہ ایک تجربہ کار اور پیشہ ورانہ قانونی ٹیم کی خدمات حاصل کی جائیں، مناسب فیس ادا کی جائے اور آئندہ ایسے معاملات کو باقاعدہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق ڈیل کیا جائے۔ کیونکہ جب ان حاسدین کے پاس دلیل، اور اخلاقی طاقت نہیں رہتی تو وہ عموماً دوسروں کی تضحیک، بہتان اور کردار کشی کو اپنا ہتھیار بنا لیتا ہے۔ ان میں سے کچھ توہمات اور جادو ٹونے کے چکروں میں پڑ جاتے ہیں اور اپنا دین و اپنی دنیا بھی خراب کرتے ہیں، اور ان میں جو سب سے نیچ درجے کے لوگ ہوتے ہیں وہ کردار پر حملہ کرتے ہیں۔ پھر کیا ہی مرد اور کیا خواتین کوئی ان سے محفوظ نہیں رہتا۔۔۔ لیکن ان کا آسان اور پسندیدہ ہدف خواتین ہی ہوتی ہیں۔

خاص طور پر سوشل میڈیا نے ایسے جاہلوں کو یہ غلط فہمی عطا کی ہے کہ جعلی شناخت کے پیچھے چھپ کر وہ کسی کی عزت، سکون اور زندگی میں مداخلت کر سکتے ہیں اور کبھی جواب دہ نہیں ہوں گے۔ یہ محض ایک غلط فہمی ہے۔ جعلی آئی ڈی، اسکرین شاٹس، پیغامات اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کسی بھی شخص کو ایسی جگہ پہنچا سکتے ہیں جہاں کا اس نے تصور بھی نہ کیا ہو۔۔ان کا انجام یہیں قانونی طور پر ہی انتہائی غضبناک ہوسکتا ہے۔۔۔کیونکہ محض حسد کی آگ بجھاتے ہوئے ان کا تصور بھی ان کو دھوکے میں ہی رکھتا ہے۔

اور ان میں سے ان لوگوں کے لیے ایک آخری بات جو شاید اب بھی سنبھل سکتے ہوں۔۔۔ کہ مسلسل جھوٹ، بہتان، گالم گلوچ اور جعلی شناخت کے ذریعے کسی دوسرے انسان کی عزت اور ساکھ کو وقتی نقصان تو پہنچایا جا سکتا ہے مگر یہ طرزِ عمل طاقت نہیں، کمزوری کی علامت ہے۔ کسی کے کردار پر کیچڑ اچھالنے سے اپنا کردار بلند نہیں ہوتا، بلکہ انسان خود اپنے اجداد کی اصلیت کا پوسٹر بن جاتا ہے۔ اور وہ اپنی ماں، اپنے باپ، اپنی بہن، اپنی بیٹی، کے کردار کا ہی تعارف کرواتا پھر رہا ہوتا ہے۔۔۔۔اس لیے آپ کے غلیظ کردار سے گزارش صرف اتنی ہے کہ اپنی توانائی کسی کی کردار کشی پر خرچ کرنے کے بجائے اپنے کردار کی تعمیر پر خرچ کریں۔ آج کسی کی کردار کشی کر کے جو ذہنی سکون آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ اپ کے مقدر میں نہیں ہونا کیونکہ کل کلاں پھر کسی کی ترقی نے آپ کے تن بدن میں آگ لگا دینی ہے اور آپ نے پھر یہی کچھ کرنا ہے۔

باقی تمام آڈینس آپ بھی کسی فرم یا فرد کو جانتے ہیں جو پروفیںشنل سروسز دیتے ہوں آپ یہ میسج ان کو وٹس ایپ یا میسنجر پر بھیج سکتے ہیں۔ براہ کرم نیچے کمنٹ میں مینشن نہ کریں تاکہ جانے انجانے میں ہم کسی کی پروفیںشنل پرائیوسی ڈسٹرب نہ کر دیں۔

کالم نگار : Sidra Naseem
| | |
63