'میں نامعلوم مقام پر اپنی بڑی بیٹی پر پیٹرول چھڑ۔ک کر آ۔۔گ لگا دوں گا۔ وہ خو۔۔د۔۔کشی کرے گی تو آپ لوگ وہ ویڈیو اعلیٰ حکام تک پہنچا دینا۔ وہ اپنا انٹرویو خود دے گی۔ خود ملز۔مان کے نام لے گی۔ پھر خو۔د کو آ۔۔گ لگائی گی یوں شاید انصاف مل جائے۔ اگر یہ انصاف دیں تو بہتر ہے اگر نہیں دیتے تو میں 10 سال بھی بیٹھ سکتا ہوں۔'
یہ کہنا ہے ان 8 بیٹیوں کے باپ ڈاکٹر روئداد خان کا جن کے اکلوتے بھائی کو کراچی منگھوپیر میں گھر کے اندر ق ت ل کیا گیا۔ آج ساتواں دن ہے اور یہ اپنے بیٹے کی میت لیے منگھوپیر تھانے کے ساننے دھرنا دیے ہوئے ہیں۔
واقعہ:
'میرے بیٹے کے جسم میں کیڑے بھی پڑ جائیں تو میں نے نہیں اٹھنا۔ مجھے میرا قا۔۔ تل دے دیں میں چلا جاؤں گا۔ میں اس قا۔۔ تل کو اپنے بیٹے کی ماں کے سامنے کھڑا کرنا چاہتا ہوں'
یہ الفاظ ہیں کراچی کے علاقے منگھوپیر میں حافظ قرآن بیٹا کھونے والے والد روئداد خان کے۔۔۔کراچی کے علاقے منگھوپیر میں ان کے گھر میں گھسنے والے ڈاکوؤں نے گھر کا واحد چراغ بجھا دیا اور آٹھ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سو گیا۔ روشم خان حافظ قرآن تھا، میٹرک پاس کرچکا تھا، پوزیشن ہولڈر طالب علم تھا اور اپنے خاندان کی آٹھ بہنوں کا بھائی تھا۔ چند لمحوں میں ڈاکوؤں کی گولی نے ایک ایسے نوجوان کی زندگی ختم کردی جس کے گھر والوں نے شاید اس کے لیے بڑے خواب دیکھ رکھے تھے۔
واقعہ منگھوپیر کے مہران سٹی، بلاک 6 کے علاقے میں پیر اور منگل کی درمیانی شب پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق مسلح ملزمان گھر میں ڈکیتی کی نیت سے داخل ہوئے اور اس دوران فائر۔۔نگ کی جس سے روشم خان جان سے چلے گئے۔ خاندان اور مقامی افراد کے مطابق ملزمان میں بعض ایسے افراد بھی شامل تھے جو مبینہ طور پر پولیس کی وردی پہنے ہوئے تھے۔
روشم کے ق ت ل کے بعد اہلخانہ اور علاقہ مکین لا۔۔ش لے کر منگھوپیر تھانے کے باہر پہنچ گئے اور قا۔۔تلو۔۔ں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج شروع کردیا۔ مقتو۔۔ل کے والد روائیداد خان نے یہاں تک اعلان کیا کہ جب تک ان کے بیٹے کے قا۔۔ تل گرفتار نہیں کیے جاتے، وہ اس کی تد۔ فین نہیں کریں گے۔
پولیس نے مقتول کے والد کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 528/2026 درج کیا۔ مقدمے میں ق ت ل، اقدام ق ت ل، گھر میں داخل ہونے، ڈکیتی اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں جبکہ نامعلوم ملزمان کے خلاف کارروائی شروع کی گئی۔ مقدمہ مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کیا گیا۔ آج غالباً ساتواں روز ہے۔ روئیداد خان اپنے بیٹے کی میت لیے منگھوپیر تھانے کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور آج تک کوئی اعلیٰ عہدیدار ان کی داد رسی کے لیے نہیں پہنچا۔
سوال یہ ہے کہ ایک گھر میں داخل ہو کر ایک کم عمر حافظ قرآن کو گو۔لی مارنے والے وہ لوگ کب گرفتار ہوں گے؟
اس سوال کا جواب اس وقت صرف یہ ایک خاندان نہیں مانگ رہا بلکہ منگھوپیر کے وہ شہری بھی مانگ رہے ہیں جو کئی روز سے تھانے کے باہر بیٹھے اپنے علاقے میں امن اور تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دھرنا کئی روز سے جاری ہے۔ یہاں تک کہ مقتو۔ل کے اہلخانہ نے تھانے کے باہر نماز جمعہ بھی ادا کی۔ پولیس افسران نے اہلخانہ سے مذاکرات کیے اور ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی لیکن خاندان کا مطالبہ واضح ہے کہ صرف یقین دہانی نہیں، قا۔۔تلو۔ں کی گرفتاری چاہیے۔۔۔کراچی میں ڈکیتی کے دوران شہریوں کا ق ت ل کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن ہر واردات کے بعد ہمیں یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ آخر شہری اپنے گھروں کے اندر بھی محفوظ کیوں نہیں؟ اگر ڈاکو گھر کی چار دیواری تک پہنچ جائیں، فائرنگ کرکے ایک حافظ قرآن نوجوان کو ق ت ل کردیں اور پھر کئی روز تک گرفتار نہ ہوں تو ریاست کیا کر رہی ہے؟ سندھ حکومت کیا کر رہی ہے؟
روشم خان واپس نہیں آسکتا۔ اس کے والدین کا نقصان کوئی گرفتاری بھی پورا نہیں کرسکتی لیکن قا۔۔تلو۔ں کی گرفتاری کم از کم یہ پیغام دے سکتی ہے کہ کراچی میں کسی شہری کی جان اتنی سستی نہیں کہ اسے ق ت ل کرکے قا۔۔تل آسانی سے غائب ہوجائیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ روشم کے والد کی یہ فریاد کب سنی جاتی ہے، اس کے قا۔۔ تل کب قانون کے کٹہرے میں آتے ہیں اور کیا منگھوپیر کے لوگوں کو واقعی یہ یقین دلایا جاسکے گا کہ ان کے گھروں میں داخل ہونے والے مسلح افراد سے ریاست انہیں تحفظ دے سکتی ہے؟