(+92) 319 4080233
کالم نگار

ثناءاللہ حسین،صوابی

ثناءاللہ حسین،صوابی

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/26
موضوعات
قرآن نے ہمیں کچھ باتوں کو چھپانا کیوں سکھایا؟
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَىٰ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا"

"یعقوب نے کہا: اے میرے بیٹے! اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا، ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی فریب کاری کریں گے۔"

1.... یعقوب علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ "بیٹا! کسی پر بھروسا نہ کرنا"، اور نہ ہی یہ کہا کہ "سب لوگ تم سے حسد کرتے ہیں۔" بلکہ انہوں نے انسانی نفوس کی فطرت کو سمجھا، اپنے بچوں کی نفسیات کو جانا، اور یہ اندازہ لگایا کہ ایک مخصوص معلومات اگر ان تک پہنچی تو شاید ان کے اندر کوئی برائی بیدار کر دے۔ پھر فرمایا: "إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوٌّ مُبِينٌ"

"بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔"

2... یہاں ایک عظیم سبق ہے:
حکمت یہ نہیں کہ آپ ہر بات ظاہر کر دیں، بلکہ حکمت یہ ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ کیا کہنا ہے؟ کس سے کہنا ہے؟ اور کب کہنا ہے؟ہر دل اس قابل نہیں ہوتا کہ اس میں راز رکھے جائیں، ہر کان اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ آپ کے خواب سنے، اور ہر آنکھ اس قابل نہیں ہوتی کہ وہ آپ کی نعمتوں کی تفصیلات دیکھے۔ہو سکتا ہے کوئی شخص آپ سے محبت کرتا ہو، لیکن وہ آپ کو خود سے بہتر مقام پر نہ دیکھ سکتا ہو۔ ہو سکتا ہے وہ آپ کے قریب ہو، لیکن اندر ہی اندر آپ سے اپنا موازنہ کر رہا ہو۔

وہ آپ کی کامیابی پر مسکرا تو سکتا ہے، لیکن اندر سے اسے تکلیف ہو سکتی ہے؛ اس لیے نہیں کہ وہ برا ہے، بلکہ اس لیے کہ انسان بعض اوقات اپنے احساسِ کمتری اور موازنے کی کیفیت پر قابو نہیں پا سکتا۔ اسی لیے یعقوب علیہ السلام کی حکمت محض حسد کے خوف سے کہیں زیادہ گہری تھی؛ یہ معاملہ پیش آنے سے پہلے ہی نفوس کو پڑھ لینے کی بصیرت تھی۔

3... اپنے تعلقات میں سادہ لوح نہ بنیں:
حسنِ ظن کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ ہر ایک کو اپنے منصوبوں، مال، حکمتِ عملی، گھریلو مسائل، میاں بیوی کے اختلافات، بچوں کے راز، اپنی خواہشات، خدشات اور کل کے ارادوں کے بارے میں بتاتے رہیں۔اپنی خصوصیت اور راز داری برقرار رکھنا لوگوں کے بارے میں بدگمانی کرنا نہیں ہے۔ جس طرح اپنے گھر دروازہ بند کر لینا ہمیشہ کوئی بری بات نہیں ہوتی۔

4...ان دو باتوں میں بڑا فرق ہے:
"میں نہیں چاہتا کہ لوگ میرے بارے میں ہر بات جانیں۔" (یہ حکمت ہے)

"میں کسی پر بھروسا نہیں کرتا۔" (یہ نفسیاتی چوٹ یا ردِعمل ہو سکتا ہے)

4... یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا واقعہ:
غور کریں، تمام مسئلے کی شروعات صرف ایک معلومات سے ہوئی۔ پھر وہ معلومات ایک موازنے میں بدل گئی:

"لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ "

"یقیناً یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں، حالانکہ ہم ایک پورا گروہ ہیں۔"

پھر یہ موازنہ رشک و رقابت میں بدلا، اور رقابت شدید کینے اور حسد میں ڈھل گئی:

"اقْتُلُوا يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا"

"یوسف کو قتل کر دو یا اسے کسی (نامعلوم) زمین میں پھینک دو۔"

پھر وہ حسد ایک سازش بن گیا، اور بالآخر یوسف علیہ السلام کنویں کی گہرائی میں پہنچا دیے گئے۔

5... یہاں تھم کر سوچنے کی ضرورت ہے:
ہماری زندگی میں کتنے مسائل صرف ایک موازنے سے شروع ہوئے؟ کتنے لوگوں نے بھائی سے اپنا موازنہ کر کے تعلقات خراب کر لیے؟ کتنی عورتوں کو دوسری کی نعمت دیکھ کر تکلیف ہوئی؟ کتنے مردوں کا دل دوست کی کامیابی پر تنگ ہوا؟خطرناک بات صرف یہ نہیں کہ لوگ ہم سے حسد کریں، بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ دوسروں کی نعمتیں دیکھ کر ہمارے اپنے دل خراب ہو جائیں۔

اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:"آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو، اور اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔"

آپ ﷺ نے ان تمام بیماریوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا، کیونکہ حسد اگر دل میں رہے اور اس کا علاج نہ ہو تو وہ بغض، تعلقات کی قطع تعلقی، غیبت اور ظلم میں بدل جاتا ہے۔

6... حسد کا علاج:
علاج صرف یہ نہیں کہ کہا جائے "اپنی نعمت چھپاؤ"، بلکہ یہ بھی ہے کہ "اپنے دل کو پاک کرو۔"جب اپنے بھائی کے پاس کوئی نعمت دیکھیں تو کہیں: «اللہم بارک لہ، وارزقنی من فضلک» (اے اللہ! اس میں برکت دے اور مجھے بھی اپنے فضل سے عطا فرما)۔ یہ نہ کہیں کہ "اسے کیوں دیا اور مجھے کیوں نہیں؟" کیونکہ اللہ جب کسی کو دیتا ہے تو اس سے اس کے خزانے کم نہیں ہوتے:

وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِن فَضْلِهِ(ترجمہ: "اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو۔")

7... راز داری کا تناسب :
یوسف علیہ السلام نے خواب چھپایا، لیکن اپنے والد سے نہیں چھپایا۔ قرآن نے یہ نہیں کہا کہ "کسی کو نہ بتاؤ"، بلکہ فرمایا: "اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا"۔ یعنی چھپانا بھی انتخابی تھا۔ جو قابلِ اعتماد تھے (والد)، ان سے بات کی، اور جن سے اندیشہ تھا، ان سے چھپایا۔

8... تعلقات کے دائرے (Circles of Life):
حکمت یہ سکھاتی ہے کہ زندگی میں دائرے ہونے چاہئیں: عام لوگ: ان کے لیے صرف عام خبریں۔

صرف شناسا و دوست: ان کے لیے زندگی کا ایک مخصوص حصہ۔

قابلِ اعتماد لوگ: جو گہری باتیں سکت و ظرف کے ساتھ سن سکیں۔

ایک یا دو خاص افراد: جو آپ کے حقیقی راز جانتے ہوں۔

کچھ امور: جو صرف آپ کے اور اللہ تعالٰی کے درمیان رہیں۔

یہ منافقت نہیں، زندگی کا نظم ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:"وہ مومن جو لوگوں میں مل جل کر رہتا ہے اور ان کی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے، اس مومن سے بہتر ہے جو لوگوں سے ملتا جلتا نہیں اور نہ ان کی اذیتوں پر صبر کرتا ہے۔"

اسلام آپ کو الگ تھلگ نہیں دیکھنا چاہتا، لیکن آپ کو ہر ایک کے سامنے مکمل طور پر بے نقاب بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور مجھے سلامت رکھے، اور ہم سب کو قرآنِ کریم کا صحیح فہم اور ہدایتِ کاملہ عطا فرمائے۔ آمین!

کالم نگار : ثناءاللہ حسین،صوابی
| | |
47