(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری

ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/05
موضوعات
مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ اور تجدیدِ دعوت
بسااوقات قدرت کسی نحیف سے وجود کے ہاتھ میں ایسا چراغ تھما دیتی ہے کہ اس کی روشنی بستیوں، شہروں اور ملکوں سے ہوتی ہوئی برِّاعظموں تک جا پہنچتی ہے۔ مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ بھی شاید انھی لوگوں میں سے تھے۔ نہ کوئی تخت و تاج، نہ مال و دولت کے انبار، نہ ذرایع ابلاغ کا طمطراق اور نہ تنظیمی وسائل کی وہ ریل پیل جس کے بغیر آج دو قدم چلنا بھی محال سمجھا جاتا ہے۔ ایک دل تھا جس میں امت کا درد انگارے کی طرح دہکتا تھا؛ ایک زبان تھی جو دین کی طرف بلاتی تھی اور ایک فکر تھی کہ مسلمان مسجد، نماز، ذکر، علم اور دعوت سے دوبارہ جڑ جائے۔

پھر چشمِ زمانہ نے عجب منظر دیکھا۔ میوات کی خاک سے اٹھنے والی صدا قریہ قریہ، شہر شہر اور ملک ملک سفر کرنے لگی۔ وہ لوگ جو بازار و کاروبار کے ہنگاموں میں گم تھے، بستر باندھ کر مسجدوں کا رخ کرنے لگے۔ جن زبانوں پہ دنیا کے سود و زیاں کے قصے تھے، وہاں اللّٰہ اور رسول ﷺ کا ذکر ہونے لگا۔ کتنے ہی ایسے لوگ، جن کے لیے دین زندگی کے حاشیے پہ لکھی کوئی مدھم سی عبارت تھی، اسی دعوت کے طفیل اسے زندگی کا متن بنا بیٹھے۔ تبلیغی جماعت کے طریقِ کار، بعض تعبیرات یا ترجیحات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے؛ آخر انسانوں کا کوئی کام نقد سے بالاتر نہیں مگر یہ حقیقت کون جھٹلائے گا کہ دعوتِ دین کو عام مسلمان کے ہاتھ میں تھما کر گلی، کوچے اور بازار تک پہنچا دینے کا جو غیر معمولی کام مولانا الیاسؒ سے لیا گیا، اس کی مثال ہمارے عہد کی دینی تحریکوں میں ملنا آسان نہیں۔

انھوں نے نہ کوئی نئی کتاب دی، نہ کوئی نیا فلسفہ، بس ایک بھولا ہوا سبق تازہ کیا کہ دین صرف علما کے منبر کی چیز نہیں، ہر مسلمان کی فکر اور ذمہ داری بھی ہے۔ آدمی خود سنورے، پھر دوسرے کے دروازے پہ دستک دے۔ خود مسجد تک آئے، پھر اپنے بھائی کا ہاتھ تھام کر اسے بھی لے آئے۔ شاید تجدید ہمیشہ نئے چراغ بنانے کا نام نہیں ہوتی، کبھی پرانے چراغ کی بتی سیدھی کرکے اسے پھر سے روشن کر دینا بھی تجدید ہوتی ہے۔ مولانا الیاس کاندھلویؒ نے یہی کیا، اور پھر اس ایک چراغ سے نہ جانے کتنے چراغ جلتے چلے گئے!!

کالم نگار : ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری
| | |
48